YOUR INFO

Sunday 17 February 2013

امام بیہقی رحمہ اللہ کے احوال و آثار

0 comments
امام بیہقی رحمہ اللہ کے احوال و آثار
جمع و ترتیب ذیشان اکرم رانا
امام بیہقی رحمہ اللہ کا نام و نسب 
آپ کا اسم گرامی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداللہ بن موسیٰ خسروجردی، بیہقی، خراسانی ہے۔آپ شعبان 384ھ میں خسرو جرد نامی بستی میں پیدا ہوئے جو بیہق(نیشاپور) کے نواح میں واقع ہے ۔ آپ نے بیہق میں پرورش پائی۔ بیہقی نیشاپور کے نواح کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو کہ اس وقت علم کاگہوارہ مانا جاتا تھا اور علمی شہرت کی وجہ سے ہر جگہ سے شائقین علم یہاں تحصیل علم کی خاطر آتے تھے ۔نیشاپور بھی ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا جہاں علم حدیث کے اساطین موجود تھے خصوصاً عالی اسناد کے اعتبار سے یہ علاقہ مصروف تھا حتیٰ کہ امام سخاوی اسے ’’دارالسنۃ والعوالی‘‘ کہتے تھے ۔نیشاپور کی علمی تحریک کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہاں بے شمار نابغہ روز گار علماء، فقہاء اور محدثین تیارہوئے جن کا تذکرہ امام ابو عبداللہ حاکم نے اپنی کتاب ’’تاریخ نیشاپور‘‘ میں کیا ہے ۔ ان علماء کی تعداد 1375 بتائی جاتی ہے ۔ 
تیسری صدی ہجری میں یہاں آنے والے علمائے کرام کی تعداد1135 ہے جو پانچویں صدی کی نسبت کم ہے جبکہ چوتھی صدی ہجری میں امام ابو عبداللہ حاکم کے شیوخ کی تعداد ایک ہزار تک پہنچتی ہے ۔نیشاپور کا دور اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ اسی طرح جاری ساری رہا۔ یہ مدارس کے قیام میں بغداد سے سبقت لے گیایہاں 14سے زائدعلمی دانشگاہیں قائم تھیں ۔ علمی تحریک کوپھیلانے اوربڑھانے میں مدارس کوبہت بڑی اہمیت حاصل تھی خصوصاعلم حدیث میں یہاں بہت زیادہ کام ہوا ہے حتی کہ چوتھی اورپانچویں صدی ہجری میں نیشاپورکوعلم حدیث میں بغدادسے بھی زیادہ اہمیت حاصل تھی البتہ خراسان کے دیگرشہروں مثلا ہمدان،اصبہان،رے،مرو،بلخ اورقزوین میں علمی سرگرمیاں نیشاپورکی نسبت کافی کم تھیں ۔ الارشاد از امام ابو یعلی خلیلی اور، تاریخ قزوین از امام رافعی میں کبار علماء کی کثیر تعداد کا ذکر ملتا ہے جو ان بلاد سے تعلق رکھتے تھے اس سے ان شہروں کی علمی نشاطات کا اندازہ ہوتا ہے ۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔