YOUR INFO

Sunday, 24 February 2013

محمد صلى اللہ عليہ وسلم کاخاندان

0 comments

محمد صلى اللہ عليہ وسلم کاخاندان
ہم خاندان نبوت کو اچھی طرح یاد کرلیں تو یہودیوں کے پھیلائے ہوئے نفرت کے سائے اور تفرقے مٹ سکتے ہیں
1٭نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے پردادا ہاشم 2٭نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے دادا عبدالمطلب 3٭نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے والدعبداللہ
4٭نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی والدہ بی بی آمنہ 5٭پرورش کرنے دودھ پلانے والی حضرت حلیمہ سعدیہ
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی منہ بولی مائیں
آپﷺ نے فرمایا میری بعد یہ میری مائیں ہیں،حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہما،حضرت حلیمہ سعدیہ ،حضرت فاطمہ بنت اسد ۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو دودھ پلانے والی خواتین
والدہ ماجدہ بی بی آمنہ،ثوبیہ الاسلمیہ۔خولہ بنت المنذر،ام ایمن اور حلیمہ سعدیہ۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے رضاعی بھائی بہن
مسروح،حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ،بوسلمہ بن عبداللہ المخزومی،عبداللہ،انیسہ،خذ یفہ،خدافہ جن کا لقب شیماتھا،ضمرہ

نبی کریم ﷺکی ازواج مطہرات
1٭حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنما بنت خویلد 2٭حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ
3٭حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما 4٭حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہما 5٭حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما
6٭حضرت سودہ رضی اللہ عنہما بنت زمعہ 7٭حضرت حفضہ بنت عمرفاروق رضی اللہ عنہما 8٭حضرت ام سلمہ بن سہیل رضی اللہ عنہما
9٭حضرت جویریہ رضی اللہ عنہما بنت حارث 10٭حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہما 11٭حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما بنت حارث
12٭حضرت ماریہ قبطہ رضی اللہ عنہما 13٭حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہما بنت شمعون۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے بیٹے کس کس بیوی سے ہیں
1٭حضرت قاسم بن محمدؐ 2٭حضرت عبداللہ بن محمدؐ یہ دونوں بیٹے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہما سے پیدا ہوئے
3٭حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بن محمدؐ یہ بیٹا ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہما سے پیدا ہوا۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی بیٹیاں
1٭حضرت زینب بنت محمدؐ 2٭حضرت کلثوم بنت محمدؐ 3٭حضرت رقیہ بنت محمدؐ
4٭حضرت فاطمہ بن محمدؐ یہ سب بیٹیاں رضی اللہ عنہن حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہما سے پیدا ہوئیں۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے داماد
1٭زینب بنت محمدؐ زوجہ حضرت الوالعاص رضی اللہ عنہ 2٭کلثوم بنت محمدؐ(اول زوجہ)عثمان غنی رضی اللہ عنہ
3٭رقیہ بنت محمدؐ(ثانیہ)عثمان غنی رضی اللہ عنہ 4٭فاطمہ بنت محمدؐ زوجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم نے نواسے
1٭حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ عنہ 2٭ حضرت عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ 3حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ
4٭حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ 5٭حضرت محسن بن علی رضی اللہ عنہ
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی نواسیاں
1٭حضرت امامہ بن ابی العاص رضی اللہ عنہ زوجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ 2٭حضرت زینب بن علی رضی اللہ عنہ زوجہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم
3٭حضرت کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ زوجہ عمرفاروق رضی اللہ عنہم 4٭حضرت رقیہ بنت علی رضی اللہ عنہما بچپن مین دفات پائی۔

نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے چچا
رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کے دس چچا تھے جن کے نام یہ ہیں:
1٭ حضرت عباس رضی اللہ عنہ 2٭حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ 3٭ابوطالب 4٭ابولہب 5٭حارث 6٭قثم 7٭عبدالکعبہ 8٭زبیر 9٭ غیداق 10٭ضرار
ان دس میں سے دو نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے چچا مسلمان ہوئے، یعنی حضرت حمزہ بن عباس رضی اللہ عنہم 2٭ ابوسفیان رضی اللہ عنہ عبداللہ بن حارث بھی تایازاد تھے جو کہ مسلمان ہوئے۔
نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی پھوپھیاں
رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کی پھوپھیوں کے نام یہ ہیں۔
عاتکہ ، امیمہ ، بیضا ، برہ ، ارویٰ ، صفیہ ،
حضرت عاتکہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما حضرت زبیر بن عوام کی والدہ نے اسلام قبول کیا۔
(ماخوذ:مجلہ الحرمین)

امامِ حرم فضلیة الشیخ سعود الشریم حفظہ اللہ

0 comments

امامِ حرم فضلیة الشیخ سعود الشریم حفظہ اللہ
بشکریہ : مبصرالرحمن القاسمی (مصباح : کویت) . 

شیخ سعود بن ابراہیم بن محمد الشریم مسجد حرام میں امام وخطیب اور مکہ مکرمہ کی عدالت کے سابق جج ہیں، آپ کا تعلق نجد کے شہر شقراءکے مشہور قبیلے بنی زید سے ہے۔

شیخ سعود کے دادا محمد بن ابراہیم الشریم 1322 ھ سے 1325 ھ تک شقراءمیں امیر کے منصب پر فائز رہے ، عربی کے مشہور شاعر سلیمان بن شریم بھی آپ ہی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

شیخ سعود سن 1386ھجری میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم عرین اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد نموذجیہ سے مڈل اسکول پاس کیا۔ اور سن 1404 ھ میں سیکنڈری کی تعلیم سے فارغ ہوئے۔

آپ نے 1409ھ میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی سے عقیدہ اور معاصرمذاہب میں بیچلرس کی ڈگری حاصل کی۔

سن 1410ھ میں ہائیرانسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1413ھ میں امتیازی درجات سے ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔

اس کے بعد آپ نے سن 1416ھ میں ام القری یونیورسٹی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔

پی ایچ ڈی میں آپ کے مقالے کا عنوان (المسالک فی المناسک ) تھا۔ آپ نے پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ مملکت سعودی عرب کے مفتی عام شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کے زیر نگرانی لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا۔

امام شیخ سعود بن ابراہیم الشریم کو اپنے زمانے کے ماہرینِ فن اساتذہ سے براہ راست استفادے کا شرف حاصل ہے، ان کے اساتذہ میں شیخ عبداللہ بن جبرین رحمه الله ، شیخ عبدالعزیز بن باز رحمه الله،شیخ عبداللہ الغدیان رحمه الله، شیخ فہدالحمین، شیخ عبدالعزیز الراجحی، شیخ عبدالرحمن البراک ، شیخ عبدالعزیز بن عقیل اور شیخ صالح ابن فوزان الفوزان شامل ہیں۔

شیخ سعود نے تدریسی میدان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، سن 1410ھ میں آپ نے ہائیرانسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں اپنی تعلیمی لیاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ آپ کو اس انسٹی ٹیوٹ میں مدرس مقرر کیا گیا۔

سن 1412ھ میں حرم مکی میں امامت وخطابت کے لیے آپ کے تقرر کے سلسلے میں خادم حرمین شریفین مرحوم شاہ عبدالملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے فرمان جاری کیا۔ اور اس کے بعد سے اب تک آپ اس مقدس منصب پر فائز ہیں۔ حرم مکی میں منصب امامت پر فائز ہونے سے قبل شیخ سعود دارالحکومت ریاض کی ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ تاہم ریاض بھر کے ائمہ کرام میں شیخ سعود اپنی مسحور کن اور رقت آمیز تلاوت کے سبب انفرادی پہچان رکھتے تھے۔

حرم مکی میں منصب امامت پر فائز ہونے کے ایک برس بعد سن 1413ہجری میں ایک اورشاہی فرمان جاری ہوا جس کی رو سے شیخ سعود نے مسجد حرام میں مسند درس وتدریس کو زینت بخشی۔

حال میں شیخ سعود بن ابراہیم حرم مکی میں امامت وخطابت کے فرائض کے ساتھ ام القری یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی میں استاد فقہ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

قرآن کریم سے آپ کا لگاو

شیخ سعود کا عالم اسلام کے مایہ ناز قراءمیں شمار ہوتا ہے، آپ کی آواز میں درد وسوز ہے ، آپ قرآن کریم کو حفص کی روایت کے مطابق پڑھتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام اکابرین امت اسلام کی تعلیمات پرنہایت مضبوطی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ وقت کے ضیاع سے بچنے کی ہمیشہ تلقین کرتے ہیں تاکہ امت اسلامیہ کی نسلیں اپنے وقت کو صحیح اور اسلامی خطوط پر گزارکر دنیا میں اسلام کے پرچم کو بلندکرسکیں۔ شیخ شریم بھی ہمارے ان ہی اکابرین امت میں سے ہیں جنہوں نے وقت کی قدر کی ویسے ہی جیسے اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔

شیخ اپنے بارے میں خود کہتے ہیں کہ آپ نے نوجوانی کی عمر میں وقت ضائع نہیں کیا۔ آپ کے بقول ‘آپ نے راستے میں ٹریفک سگنل کے وقفوں پر گزرنے والے ان مختصر اوقات کو بھی آپ نے قرآن پاک کے حفظ میں استعمال کیا، آپ کے مطابق آپ نے ٹریفک سگنل کے ان اوقات میں سورہ نساءحفظ کی ہے۔

تصنیفی وتالیفی خدمات

آپ کے قلم سے دینی موضوعات پر 13 سے زائد قابل قدر کتابیں نکلی ہیں، حرم مکی میں دیئے گئے دروس پرمشتمل 5 مجموعوں کے علاوہ حرم مکی کے منبرومحراب سے پیش کئے گئے آپ کے خطبات کے متعدد مجموعے منظرعام پر آئے جو قرآن وحدیث کی نورانی ہدایتوں پر مشتمل ہیں۔

انبیا ء علیہم السلام کی دعایئں ۔

0 comments

ابراہیم علیہ السلام کی خاص دعا
رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر
(سورۃ الصافات ،آیت 100)
موسی علیہ السلام کی خاص دعا
رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى ﴿25﴾ وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى ﴿26﴾ وَٱحْلُلْ عُقْدَةًۭ مِّن لِّسَانِى ﴿27﴾ يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى ﴿28﴾
اے میرے رب میرا سینہ کھول دے اے میرے رب میرا سینہ کھول دے اور میری زبان سے گرہ کھول دے کہ میری بات سمجھ لیں
(سورۃ طہ،آیت 25تا28)
یوسف علیہ السلام کی خاص دعا
فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ
اے آسمانو ں اور زمین کے بنانے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے تو مجھے اسلام پر موت دے اور مجھے نیک بختوں میں شامل کر دے
(سورۃ یوسف،آیت 101)
آدم علیہ السلام کی خاص دعا
رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے
(سورۃ الاعراف ،آیت 23)
زکریا علیہ السلام کی خاص دعا
رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
اے میرے رب ،مجھے اپنی قدرت خاص سے پاکیزہ (نیک) اولاد عطا فرمائیے بے شک آپ ہی ہر ایک کی دعا سننے والے ہیں
(سورۃ آل عمران ،آیت38)
یونس علیہ السلام کی خاص دعا
أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے تھا
(سورۃ الانبیاء،آیت 87)

Saturday, 23 February 2013

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ

0 comments

;
 
حافظ ابن حجر کے مقبول کی کہانی انھی کی زبانی


ازقلم
أبو عبد الرحمان محمد رفيق الطاهر
مدرس جامعة دار الحديث المحمدية
ملتان

مكتبة أهل الأثر للنشر والتوزيع
ملتان پاكستان

حقوق الطبعة محفوظة

نام كتاب: حافظ ابن حجر کی اصطلاح "مقبول" کا معنٰی انھی کی زبانی


مؤلف :أبوعبدالرحمن محمد رفيق طاهر
اشاعت أولى :ذي الحجه 1430هـ
قيمت: 10 رو پے
ناشر: مكتبـه أهـل الأثر للنشـر والتوزیع
00923217302283
http://www.ahlalathr.net



حدیث کی تحقیق اور چھان بین کے معاملہ میں متقدمین اھل الحدیث اور متأخرین میں کافی حد تک اختلاف ہوا ہے، اور اس اختلاف کی مختلف وجوہ ہیں، جن میں ایک وجہ رواۃ پر متقدمین اہل علم کی الفاظ جرح وتعدیل کے معنیٰ کو سمجھنے میں کوتا ہی ہے۔ اس کی ایک مثال حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا کسی راوی کو 'مقبول' کو قرار دینا ، یعنی جب حافظ صاحب کسی راوی کا رتبہ لفظ 'مقبول' سے بیان فرماتے ہیں تو اس کاکیا معنیٰ ہے، متأخرین میں سے بہت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ابن حجر کے 'مقبول' کہنے کا معنیٰ یہ ہے کہ 'مقبول' راوی کی حدیث جب اس کی متابعت میں نہ ہو تو ضعیف ہی ہو تی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ حافظ صاحب اپنی مصطلحات کو خوب اچھی طرح سمجھنے والے تھے۔ انھوں نے جب خود ایک اصطلاح وضع کی ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں۔ جب ہم ابن حجر رحمہ اللہ کی اصطلاح کو انھی سے سمجھیں گے تو معاملہ بالکل واضح ہوجائے گا۔
میرے سامنے ایسی بے شمار دلیلیں موجود ہیں کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک راوی کو 'مقبول' قرار دیا ہے اور پھراس کی ایسی روایت --جس میں وہ متفرد ہے کو حسن یا صحیح قراردیا ہے، ان میں سے چند مثالیں پیش ِخدمت ہیں۔
۱۔           حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تغلیق التعلیق (۳۱۹/۳) میں فرمایا ہے کہ امام احمد نے (۳۸۸/۴) اور اسحاق بن راہویہ نے بطریق وکیع نا وبر بن ابی دلیلۃ شیخ من اھل الطائف عن محمد بن میمون بن مسیکۃ واثنی علیہ خیرا عن عمرو بن شرید عن ابیہ مرفوعاً یہ روایت بیان کی ہے : "لی الواجد یحل عرضہ وعقوبتہ" اور پھر اس کی تخریج کرتے ہوئے فرماتےہیں : "راوہ ابوداؤد والنسائی من حدیث ابن المبارک عن وبر وراہ النسائی وابن ماجہ من حدیث وکیع" اور پھر سند پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "وھو اسناد حسن"
حالانکہ محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکہ الطائفی کے بارہ میں تقریب (۴۹۰/۱) میں فرماتے ہیں: "مقبول من السادسۃ"
اور فتح الباری (۶۲/۵) میں ابوعبداللہ البخاری رحمہ اللہ الباری کے اس قول "ویذکر عن النبی ﷺ لی الواجد یحل عرضہ وعقوبتہ" کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "والحدیث المذکور وصلہ احمد واسحاق فی مسند بھما من حدیث عمرو بن الشرید بن اوس الثقفی عن ابیہ بلفظہ واسنادہ وذکرالطبرانی انہ لایروی الا بھذا الاسناد" اور یہی بات تلخیص الحبیر [۳۹/۳(۱۲۳۷)] میں بھی مذکور ہے۔
اسی طرح امام شمس الدین الذھبی رحمہ اللہ میزان الاعتدال فی نقدالرجال [۲۶/۶(۷۷۶۶)] میں رقمطراز ہیں: "محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکۃ الطائفی عن عمرو بن الشریدوعنہ وبر بن ابی دلیلۃ فقط" اور پھر مذکورہ بالا حدیث نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں: "رواہ نبیل وجماعۃ عن وبر"
یعنی اس کو روایت کرنے میں محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکۃ الطائفی متفرد ہے اور حافظ صاحب نے اس کو"مقبول" قرارد یا ہے اور اپنے اس "مقبول" کی روایت کو "حسن" قراردے رہے ہیں۔ جبکہ اس کی کوئی متابعت بھی نہیں ہے۔
۲۔          الاصابہ فی معرفۃ الصحابۃ (۶۴/۳) میں سعد بن ضمیرۃ بن سعد بن سفیان بن مالک بن حبیب کے بارہ میں فرماتے ہیں: "لہ عندابی داؤد حدیث فی قصۃ محلم بن جثامۃ اللیثی باسناد حسن"
اورا س کی حدیث ابوداؤد ،کتاب الدیات،باب الامام یامر بالعفو فی الدم (۴۵۰۳) بطریق محمد بن جعفر بن الزبیر از زیادہ بن سعد بن ضمیرۃ السلمی عن ابیہ مروی ہے۔
یعنی اس کی سند میں زیاد بن سعد بن ضمیرۃ السلمی متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی نہیں آتی ، نیز یہ کہ زیاد بن سعد سے اس کے علاوہ اور کوئی حدیث بھی مروی نہیں ہے۔
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب (۲۱۹/۱) میں اس کو "مقبول" قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے: "مقبول من الرابعۃ" تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمۃ اپنے اس "مقبول" کی روایت کی بھی "تحسین" فرمارہے ہیں ، جس سے ان کے "مقبول" کی روایت کی حیثیت ا ن کے نزدیک واضح ہوجاتی ہے۔
۳۔                   امام بخاری نے کتا ب الصوم، باب صوم یوم الجمعۃ ۔۔۔(۱۹۸۶) میں جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنھا کی روایت صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے کے بارہ میں نقل فرمائی ہے۔ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ فتح الباری (۲۳۴/۴) میں اسی حدیث کے تحت رقم طراز ہیں: "ولیس لجویریۃ زوج النبیﷺ فی البخاری من روایتھا سوی ھذا الحدیث ولہ شاہد من حدیث جنادۃ بن ابی امیۃ عندالنسائی باسناد صحیح بمعنی حدیث جویریۃ"
یعنی امام نسائی نے اپنی سنن کبریٰ [۱۴۵/۲(۲۷۷۳)] میں بیان شدہ روایت بطریق ربیع بن سلیمان ثنا وھب ثنی اللیث بن سعد وذکر آخر قبلہ یعنی ابن لھیعۃ عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر عن حذیفۃ البارقی عن جنادۃ الازدی انھم دخلوا علی رسول اللہﷺ ۔۔۔۔الحدیث" کو حافظ صاحب "صحیح الاسناد"قرارد ے رہے ہیں جبکہ اس کی سند میں حذیفہ البارقی ، جنادۃ الازدی سے روایت کرنے میں متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی موجود نہیں۔
حالانکہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے تقریب (۱۵۴/۱) میں اس کو "مقبول من الربعۃ" فرمایا ہے۔
تو اس دلیل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ کے نزدیک "مقبول" راوی کی حدیث کا درجہ صحت وحسن کے درمیان گھومنے والا ہے۔
اور حافظ صاحب رحمہ اللہ کی مراد کو سمجھنے کے لیے یہ تین دلائل ہی کافی ہیں، لیکن برسبیل تنزل چند ایک مزید دلائل بھی پیش کیے دیتے ہیں۔
۴۔                   جن روایات کو امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے تعلیقاً صیغہ ٔ تمریض سے ذکر کیا ہے ان کا حکم بیان کرتے ہوئے ھدی الساری (۱۸/۱) میں حافظ صاحب فرماتے ہیں: "فمنہ ماھو صحیح ولیس علی شرطہ ومنہ ما ھو حسن ومنہ ما ھو ضعیف بنوعیہ منجر ولا جابر لہ۔" اور پھر حسن کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "ومثال الحسن قولہ فی البیوع ویذکر عن عثمان رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال لہ اذا بعت فکل واذا ابتعت فاکتل؛ وھذا الحدیث قد رواہ الدارقطنی [۸/۳ (۲۳)] من طریق عبیداللہ بن المغیرۃ وھو صدوق عن منقذ مولی سراقۃ وقد وثق عن عثمان بن عفان بہ۔" انتھی۔
تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے عبیداللہ بن مغیرہ کی حدیث کو حسن حدیث کی مثال کے طور پر پیش فرمایا ہے۔
جبکہ عبیداللہ بن مغیر بن ابی بردہ الکنانی کے بارہ میں تقریب (۳۷۴/۱) میں "مقبول من الرابعۃ" کہا ہے۔
ملحوظہ:۔
اس حدیث کو عبد بن حمید نے (۵۲) ابن المبارک سے ، اور ابن ماجہ نے (۲۲۳۰) ابوعبدالرحمن المقریٔ سے، اور بزار نے حسن بن موسىٰ سے (۳۷۹) ، اور بىہقى نے کبرى (۳۱۵/۵) مىں سعىد بن ابى مرىم سے بطرىق ابن لھىعہ ازموسىٰ بن وردان ، اسى طرح سعىد بن مسىب سے بىان کىا ہے۔ اور ىہ رواىت ابن لھىعہ کى صحىح احادىث مىں سے ہے کىونکہ ىہ عبادلہ ثلاثہ کبراء (۱) ابن مبارک (۲) ابن وھب (۳) اور المقرئ کى مروىات سے ہے۔
ىعنى ا س حدىث کو رواىت کرنے مىں عبىداللہ بن مغىرہ متفرد نہىں بلکہ سعىد بن المسىب رحمہ اللہ ان کى متابعت فرمارہے ہىں اور اسى طرح امام احمد نے بھى(۶۲/۱) نقل فرماىا ہے، اور طحاوى نے شرح المعانى (۱۶/۳) مىں ذکر کىا ہے۔
۵۔                   حافظ صاحب نے تغلىق التعلىق (۴۳۶/۲) مىں ذکر کىا ہے "قال ابن ابى شىبۃ [۲۹۹/۱، (۳۴۲۱)] حدثنا ىزىد بن ہارون عن محمد بن عمرو عن ابى عمرو بن حماس عن مالک بن اوس بن الحدثان البصرى عن ابى ذر انہ دخل المسجد فاتى سارىۃ۔۔۔۔ الحدىث۔"
اور پھر فرماىا ہے: "والاسناد حسن"
جبکہ ابو عمروبن حماس اللىثى کے بارہ مىں تقرىب مىں فرماتے ہىں : "مقبول من السادسۃ"
۶۔          الإصابہ فى معرفۃ الصحابۃ (۱۴/۲) مىں فرماتے ہىں: "حبۃ ابن عامر الخزاعى وقىل العامرى أخو سواء بن خالد صحابى نزل الکوفۃ روى حدىثہ ابن ماجہ باسناد حسن من طرىق الاعمش عن ابى شرحبىل عن حبۃ وسواء ابنى خالد قالا دخلنا على النبى ﷺ وھو ىعالج شىئاً۔۔۔ الحدىث۔"
ىعنى وہ حدىث جس کو ابن ماجہ نے (۴۱۶۵) ، احمد نے (۴۶۹/۳) ، ھناد نے کتاب الزھد (۷۸۹) مىں ، ابن سعد نے الطبقات الکبرى (۳۳/۶) مىں ، بخارى نے الادب المفرد (۴۵۳) مىں مختصراً، ابن ابى عاصم نے الآحاد والمثانى (۱۳۸/۳) مىں، طبرانى نے الکبىر [۷/۴، (۳۴۷۹) اور ۱۳۷/۷، (۶۶۱۰)، (۶۶۱۱)] مىں اور مزى نے تہذىب الکمال [۳۵۵/۵، (۳۵۶)] مىں بطرىق اعمس از سلام بن شرحبىل ابو شرحبىل از حبۃ وسواء ابنى خالد نکالا ہے۔
اور ىہ حدىث غرىب ہے کىونکہ اس کو حبہ اور سواء ابنى خالد سے ابو شرحبىل سلام بن شرحبىل کے سوا اور کسى نے رواىت نہىں کىا ہے اور ابو شرحبىل سے اس کو رواىت کرنے مىں اعمش متفرد ہے اور حافظ صاحب علىہ الرحمہ نے عدم متابعت اور تفرد کے باوصف اس  کو حسن قرار دىا ہے۔
جبکہ ابو شرحبىل سلام بن شراحبىل کے بارہ مىں تقرىب (۲۶۱/۱) مىں فرماتے ہىں: "مقبول من الرابعۃ"
۷۔          فتح البارى (۳۱۳/۱) مىں فرماتے ہىں: "وروى ابوداؤد باسناد حسن عن انس ان النبى ﷺ شرب لبنا فلم ىتمضمض ولم ىتوضأ۔ "
اور اس حدىث کو ابوداؤد نے باىں سند نکالا ہے۔"عثمان بن ابى شىبۃ از زىد بن الحباب ازمطىع بن راشد از توبۃ العنبرى از انس۔۔۔ الحدىث
اور اسى طرح ابن شاہىن نے الناسخ والمنسوخ (۹۳) مىں اور بىہقى نے الکبرى ()۱۶۰/۱ اور ضىاء نے الاحادىث المختارہ (۱۵۸۲) مختلف طرق سے از زىب بن الحباب از مطىع بن راشد از توبۃ العنبرى از انس رضى اللہ عنہ بىان کىا ہے۔
ىعنى مطىع بن راشد البصرى اس کو رواىت کرنے مىں متفرد ہے ، جس کو حافظ صاحب تقرىب (۵۳۵/۱) مىں "مقبول من السابعۃ" فرمارہے ہىں اور اس کى حدىث کى تحسىن فرما ر ہے ہىں۔ جس سے حافظ صاحب کے ہاں "مقبول" راوى کے رواىت کا "درجہ" واضح ہوتا ہے۔
۸۔                   فتح البارى (۱۱۷/۳) مىں فرماتے ہىں: "وقد کان بعض السلف ىشدد فى ذلک حتى کان حذىفۃ اذا مات لہ المىت ىقول لا تؤذنو بہ احدا الى اخاف ان ىکون نعىا انى سمعت رسول اللہ ﷺ باذنى ھاتىن ىنھى عن النعى اخرجہ الترمذى وابن ماجہ باسناد حسن"
اور اس حدىث کو امام ترمذى نے اپنى جامع مىں ابواب الجنائز ، باب ماجاء فى کراھىۃ النعى (۹۸۶) مىں باىں سند نکالا ہے، "حدثنا احمد بن منىع ثنا عبدالقدوس بن بکر بن خنىس ثنا حبىب بن سلىم العبسى عن بلال بن ىحىٰ العبسى عب حذىفۃ بن الىمان ۔۔۔ الحدىث ۔
اور ابن ماجہ نے کتا ب الجنائز، باب النھى عن  النعى، (۱۴۷۶) از عمرو بن رافع از عبداللہ ابن مبارک از حبىب بن سلىم العبسى سابقہ سند سے ہى رواىت کىا ہے۔
اور اسى طرح اس کو احمد نے(۳۸۵/۵، ۴۰۶) مىں وکىع اور ىحىٰ بن آدم سےاور بىہقى نے کبرى (۷۴/۴) مىں مسلم بن قتىبہ سے اور مزى نے تہذىب الکمال (۳۷۶/۵) مىں ىحىٰ بن آدم سے اور ان تمام نے حبىب بن سلىم از بلال ابن ىحىٰ از حذىفہ رواىت کىا ہے۔
اور امام ترمذى نے کہا  ہے: "ھذا حدىث حسن صحىح۔"
تو ىہ رواىت بھى سابقہ رواىات کى طرح ہے کہ حافظ صاحب نے حبىب بن سلىم العبسى کے تفرد اور عدم متابعت کے باوجود اس رواىت کو فتح البارى مىں امام ترمذى نے اپن جامع مىں حسن صحىح قرار دىا ہے ۔ جبکہ حبىب بن سلىم کے بارہ مىں حافظ صاحب علىہ الرحمہ تقرىب (۱۵۱/۱) مىں فرماتے ہىں: "مقبول من السابعۃ"
حافظ صاحب علىہ الرحمہ نخبۃ الفکر (۱/۱) مىں فرماتے ہىں کہ : "فان جمعا [کقول الترمذى حسن صحىح] فللتردد فى الناقل حىث التفرد۔"
ىعنى امام ترمذى رحمہ اللہ جب کسى راوى کے بارہ مىں متردد ہو تے ہىں کہ ىہ تام الضبط ہے ىا خفىف الضبط اور وہ راوى اس کے بىان کرنے مىں متفرد ہو تا ہے تو اس کى حدىث کو "حسن صحىح" فرمادىتے ہىں۔
 جىسا کہ اس مثال مىں سے واضح ہو رہا ہے اور مثال نمبر ۴ مىں متفرد "مقبول" کى رواىت کو "صحىح" قرارد ىا ہے جس سے ہمارے مؤقف کى مزىد تائىد ہوتى ہے۔
۹۔          الاصابۃ فى معرفۃ الصحابۃ(۳/۲) مىں حازم بن حرملۃ بن مسعود الغفارى رضى اللہ عنہ کے بارہ مىں فرماتے ہىں: "لہ حدىث فى الاکثار من الحوقلۃ روى عنہ ابو زىنب مولاہ اخرجہ ابن ماجہ وابن ابى عاصم الوحدان والطبرانى وغىرھم کلھم فى الحاء المھملہ واسنادہ حسن ۔ "
ىعنى وہ حدىث جسے ابن ماجہ نے [کتاب الادب، باب ماجاء فى لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،حدىث: ۳۸۲۶] باىں سند نکالا ہے : "حدثنا ىعقوب بن حمىد المدنى ثنا محمدبن معن ثنا خالد بن سعىد عن ابى زىنب مولى حازم بن حرملۃ عن حازم بن حرملۃ قال مررت بالنبى ﷺ فقال لى ىا حازم ! اکثر من قول لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانھا من کنوز الجنۃ۔"
اسى طرح بخارى نے تارىخ کبىر [۱۰۹/۳، (۳۷۰)] ، ابن ابى عاصم نے الآحاد والمثانى (۳۷۵/۴)، طبرانى نے کبىر [۳۲/۴، (۳۵۶۵)] ، ابو احمد العسکرى نے تصحىفات المحدثىن (۵۳۶/۲)، ابو نعىم نے معرفۃ الصحابہ (۲۰۵۵) اور مزى نے تہذىب الکمال (۳۱۹/۵) مىں مختلف طرق سے از محمد بن معن بن نضلۃ الغفارى از خالد بن سعىد از ابى زىنب مولى حازم بن حرملہ از حازم بن حرمہ رضى اللہ عنہ رواىت کىا ہے۔
اور ىہ مدنى غرىب حدىث ہے اس کو حازم بن حرملہ سے اس کے مولى ابو زىنب کے علاوہ اور کسى نے رواىت نہىں کىا اور ابو زىنب سے رواىت کرنے مىں خالد بن سعىد بن ابى مرىم القرشى التمىمى المدنى مولى جدعان متفرد ہے۔
اور ابن حجر نے اس رواىت کو حسن قرار دىا ہے جبکہ اس کو رواىت کرنے مىں خالد بن سعىد متفرد ہے اور حافظ صاحب نے تقرىب (۱۸۸/۱)مىں  اس کو "مقبول من الرابعۃ" کہا ہے۔
۱۰۔         الاصابہ فى معرفۃ (۲۹۱/۱) مىں فرماتے ہىں: "بسر بن جحاش قرشى نزل حمص قال ابن مندہ : اھل العراق ىقولونہ بسر بالمھملۃ واھل الشام ىقولونہ بالمعجمۃ وقال الدارقطنى وابن زبر: لا ىصح بالمعجمۃ وکذا ضبطہ بالمھملۃ ابو على الھجرى فى نوادرہ، وقال مسلم وابن السکن وغىرھما: لم ىرو عنہ باسناد صحىح۔" انتھى
اور اس حدىث کو احمد نے (۲۱۰/۴) باىں سند رواىت کىا ہے: "حدثنا ابو النضر ثنا حرىز بن عثمان عن عبدالرحمن بن مىسرہ عن جبىر بن نضىر عن بسر بن حجاش القرشى ان النبى ﷺ بصق ىوما فى کفہ فوضع علىھا اصبعہ ثم قال قال اللہ تعالىٰ: ابن آدم۔۔۔ الحدىث
اور اسى طرح اس کو ابن ماجہ نے کتا ب الوصاىا، باب النھى عن الامساک فى الحىاۃ والتبذىر عند الموت (۲۷۰۷) ، ابن سعد نے طبقات (۴۲۷/۷)، ابن ابى عاصم نے الآحاد والمثانى [۱۴۹/۲، (۱۵۰)] ، طبرانى نے کبىر [۳۲/۲، (۱۱۹۳،۱۱۹۴)] و مسند الشامىن (۴۶۹)، ابن قانع نے معجم الصحابۃ (۷۶/۱) اور حاکم نے (۵۴۵/۲) ، ابو نعىم نے معرفۃ الصحابۃ (۱۱۴۵،۱۱۴۶)، بىہقى نے شعب الاىمان [۲۵۶/۳، (۳۴۷۲)] اور علامہ مزى نے تہذىب الکمال (۷۲/۴) مىں مختلف طرق سے از عبدالرحمن بن مىسرۃ از جبىر بن نضىر از بسر بن حجاش اسى طرح رواىت کىا ہے۔
اور ىہ حدىث شامى غرىب ، کىونکہ جبىر بن نضىر کے علاوہ اور کسى نے اس کو بسر بن حجاش سے رواىت نہىں کىا اور جبىر سے رواىت  کرنے مىں عبدالرحمن بن مىسرہ الحمصى متفرد ہے۔
اور ىہ حدىث تمام تر احادىث کى نسبت اپنے مفہوم پر زىادہ دلالت کرنے والى کہ حافظ صاحب علىہ الرحمہ نے تفر د عبدالرحمن بن مىسرہ اورعدم متابعت کے باوصف اس کو صحىح قرارد ىا ہے ، جبکہ عبدالرحمن بن مىسرہ ابو سلمہ الحمصى کے بارہ مىں تقرىب (۳۵۱/۱) مىں فرماتے ہىں: "مقبول من الرابعۃ"
ملحوظۃ:۔
عبدالرحمن بن مىسرہ ابو سلمہ شامى مشہور تابعى ہىں ، ثقہ ہىں اور کثىر الرواىۃ ہىں۔ صحابہ مىں سے ابو امامہ الباھلى ، مقدام بن معدى کرب وغىرہ سے علم حدىث سنا ہے اور ابوداؤد ، عجلى ، ابن حبان اور ذھبى نے انھىں ثقہ قرارد ىا ہے۔
تلک عشرۃ کاملۃ
ىہ دس مثالىں اس بات پر دلىل ہىں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدىک مقبول راوى کى رواىت اکثر وبیشتر حسن وصحت کے درمىان ہوتی  ہے ، خواہ اس کى متابعت موجود ہوىانہ ہو۔
اور واضع مصطلح ہى اپنى مصطلح کا حقىقى معنى زىادہ بہتر طور پر سمجھتاہے۔ ثم بحمد اللہ
ھذا ماعندى والعلم عنداللہ وعلمہ اکمل واتم ورد العلم الىہ اسلم
الراجى الى مغفرۃ ربہ الظاہر
ابو عبدالرحمن محمد رفىق الطاہر
مدرس جامعہ دارالحدىث المحمدىہ ملتان
۱۴۲۹/۴/۲ھ

گزشتہ قسط میں ہم نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ حافظ ابن حجر علیہ الرحمہ جس راوی کو "مقبول" قرار دیں ، اگر اس کی متابعت  نہ ہو تو اس کی روایت کو آنکھیں بند کرکے ضعیف قرار دینا درست نہیں۔بلکہ بسا اوقات مقبول کی روایت کا درجہ حافظ صاحب کے ہاں حسن و صحیح کے درمیان ہی رہتا ہے۔
ذیل میں ہم صحیحین کے چند ان رواۃ کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو حافظ صاحب علیہ الرحمۃ نے "مقبول" قرارد یا ہے۔ اور شیخین نے تفرد اور عدم متابعت کے باوجود ان کی روایات کو اصالۃ ً ذکر کیا فرمایا۔
اور اس سے یہ بات اور زیادہ نکھر کر سامنے آجائے گی کہ حافظ صاحب کا "مقبول" تفرد اور عدم متابعت کے "جرم" میں صرف "ضعیف" ہونے کی "سزا" کا  ہی حقدار نہ ہے۔
۱۔           عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی ابکر الصدیق التیمی المدنی:۔
                                امام بخاری رحمہ اللہ الباری کتاب الاشربہ، باب آنیہ الفضۃ (۵۶۳۴) میں فرماتےہیں: "حدثنا اسماعیل یعنی الاویسی ثنی مالک بن انس عن نافع عن زید بن عبداللہ بن عمر عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق عن ام سلمۃ ان رسول اللہ ﷺ قال : الذی یشرب فی اناء الفضۃ انما یجرجر فی بطنہ نار جہنم"
اسی طرح امام مسلم علیہ الرحمہ نے کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم استعمال اوالی الذھب والفضۃ فی الشرب (۲۰۶۵) میں متعدد طرق سے بطریق نافع عن زید بن عبداللہ عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر اور ایک دوسرے طریق سے از عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر عن خالتہ ام سلمہ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
تو یہ حدیث ان اوثق الاصول میں سے ہے جن پر شیخین نے اعتماد کیا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ ہر وہ شخص جس نے اس حدیث الذی یشرب فی انا ء الفضۃ۔۔۔ الحدیث" کو روایت کیا ہے اس کا معتمد اور مرجع عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر التیمی کی حدیث ہے کہ جن کو حافظ صاحب نے "مقبول" قرار دیا ہے ۔ تو تمام لوگ اس حدیث کو روایت کرنے میں نافع مولی ابن عمر کے محتاج ہیں جو کہ اس کو عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں اور یہ حدیث بھی اسی طریق سے ہی صحیح ہے۔
اور یہ حدیث اس بارے بھی "اصل" کا درجہ رکھتی ہے کہ ابن حجر رحمہ اللہ لفظ "مقبول" بول کر "ثقہ" مراد لیتے ہیں اور اس کی حدیث کو حجت مانتے ہیں اگرچہ وہ متفرد ہی کیوں نہ ہو۔
خود حافظ صاحب فتح الباری (۹۷/۱۰) میں فرماتےہیں: "عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق التمیمی ھو ابن اخت ام سلمۃ التی روی عنھا ھذا الحدیث امہ قریبۃ بنت ابی امیۃ بن المغیرۃ المخزومیۃ وھو ثقۃ مالہ فی البخاری غیر ھذاالحدیث۔"
تو لیجئے حافظ صاحب نے اس نص میں عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کو خود "ثقہ" قرار دیا ہے۔
اب اسی راوی کے بارہ میں ان کی تقریب [۳۱۰/۱(۳۴۲۵)] کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: "عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق التیمی ، مقبول من الثالثۃ"
تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمۃ قلیل الروایۃ ثقہ راوی کو بھی مقبول کہہ دیتے ہیں، اگرچہ وہ اپنی حدیث میں متفرد ہو اور اس کی متابعت بھی نہ ہو۔
یاد رہے کہ شیخین کے علاوہ اس حدیث کو امام شافعی نے اپنی مسند [۱۰/۱(۲۳)] میں ابن وھب نے جامع (۵۹۷)، طیالسی نے مسند (۱۶۰۱)، یحیی بن یحیی نے مؤطا (۱۷۱۷) ، محمد بن الحسن نے مؤطا (۸۸۱)، ابن ابی شیبہ نے [۱۰۳/۵(۲۴۱۳۶)]، احمد نے [۳۰۰/۶،۳۰۲،۳۰۴،۳۰۶] اسحاق بن راہویہ نے مسند (۱۲۴،۳۹)، ابو یعلی (۶۹۹۸،۶۹۱۴،۶۸۸۲) ، ابوعوانہ نے مسند [۲۱۶/۵، (۸۴۵۴)، ۲۱۸/۵،(۸۴۶۷)]، ابن حبان نے (۵۳41)، طبرانی نے کبیر 23/288، أوسط (3753)، مسند الشامیین (108)، ابن المقرئ نے معجم (1010)، تمام نے الفوائد (1660)، ابن عبدالبر نے التمہید 16/102، ابن حزم نے محلی 2/223، بغوی نے شرح السنۃ (3030)، مزی نے تہذیب الکمال 15/198 میں بطرق متعددہ عن نافع عن زید بن عبداللہ بن عمر عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق عن ام سلمہ روایت کیا ہے۔
نیز یہ کہ علامہ مزی نے تہذیب میں اگرچہ صرف ابن حبان کی توثیق پر ہی اکتفا کیا ہے(15/198،197)لیکن امام العجلی نے معرفۃ الثقات 2/44(۹۲۶)میں بھی اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ اور ابن خلفون نے بھی جیاس کہ اکمال مغلطای 2/288 میں ہے اور امام ذہبی نے الکاشف [1/567 (2816)] میں اس کی توثیق کی ہے۔ اسی طرح الحافظ الجھبذعلامہ ابن حجر نےفتح الباری 10/97 میں ان سب سے موافقت کی ہے۔
۲۔          معبد بن کعب بن مالک الانصاری السُلمی المدنی:۔
                                امام بخاری نے کتاب الرقاق (6512) میں بطریق اسماعیل ثنی مالک عن محمد بن عمرو بن حلحلۃ عن معبد بن کعب مالک عن ابی قتادۃ بن ربعی الانصاری اور (6513) بطریق مدد ثنا یحیی عن عبد ربہ بن سعید عن محمد بن عمرو بن حلحلۃ ثنی ابن کعب عن ابی کعب عن ابی قتادۃ اور امام مسلم نے کتاب الجنائز (950) میں بطریق قتیبہ بن سعید عن مالک بن انس عن محمد بن المثنی ثنا یحیی بن سعید (ح) ثنا اسحاق بن ابراہیم انا عبدالرزاق جمیعا عن عبداللہ بن سعید بن ابی ھند عن ممحمد بن عمرو عن ابن ٍ لکعب بن مالک عن ابی قتادۃ۔ حدیث مستریح او مستراح منہ۔۔۔ الحدیث روایت کی ہے۔
اور حافظ صاحب علیہ الرحمہ تقریب 2/199 میں فرماتے ہیں : "معبد بن کعب بن مالک الانصاری السلمی بفتحتین المدنی مقبول من الثالثۃ۔"
اگرچہ ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں اس کو ذکر کرنے کے بعد سکوت اختیار کیا ہے [8/279 (1279)] لیکن ابن حبان نے اس کو ثقات [5/432 (5569)] میں ذکر کیا ہے اور اپنی صحیح میں اس کی روایت کو جگہ دی ہے۔ اسی طرح امام العجلی نے معرفۃ الثقات 2/285 (1753)] میں مدنی تابعی ثقہ کہا ہے۔
تو یہ بھی اس بات کا واضح ترین بیان ہے کہ معبد بن کعب الانصاری جس کو ابن حجر علیہ الرحمہ نے "مقبول" قرار دیا ہے اور وہ ابوقتادۃ سے روایت کرنے میں متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی موجود نہیں ہے اور اس کو أئمہ حدیث نے ثقہ قراردیا ہے اور اپنی صحیحوں میں درف فرما کر اس امر کی وضاحت فرمائی ہے کہ "مقبول" کی جب متابعت نہ ہو تو بھی بسا اوقات حجت ہوتا ہے اور اس شخص کی تردید کی ہے جو مقبول کی عدم متابعت والی روایت کو رد کرنے پر مصر ہے۔
۳۔                   عوف بن حارث بن طفیل بن سخبرۃ بن جرثومۃ الازدی :۔
                                امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے کتاب الادب (6075) میں بطریق ابوالیمان انا شعیب عن الزھری ثنی عوف بن مالک بن الطفیل ھو ابن الحارث وھو ابن اخی عائشۃ حدثت ان عبدالزبیر قال بیع او عطاء اعطتہ عائشۃ واللہ لتنتھین عائشۃ اولا حجرن علیہا۔۔۔ الحدیث
امام احمد فرماتے ہیں: "شعیب عن الزھری ثنی عوف بن الحارث بن الطفیل وھو ابن اخی عائشۃ روج النبی ﷺ لامھا۔۔۔ الحدیث (4/327)
اور (4/327) میں ہی فرماتے ہیں : الاوزاعی ثنا الزھری عن طفیل بن الحارث وکان رجلا من ازد شنوءۃ وکان اخا عائشۃ لامھا ام رومان۔۔۔ الحدیث
اسی طرح عبدالرزاق نے [8/444 (15851)] ، اور اسی سے احمد (4/327) اور ابن حبان نے (5662) معمر سے اور بخاری نے الادب المفرد (397) او رطحاوی  نے مشکل الآثار (4240) دونوں نے عبدالرحمن بن خالد بن مسافر اور طبرانی نے کبیر 20/21، 23/24 میں معمر اور عبدالرحمن بن خالد اور عبیداللہ بن ابی زیادالرصافی سے اور بیہقی نے کبری 6/61) میں الرصافی سے تینوں۔ معمر ، ابن مسافر اور رصافی۔ نے زہری از عوف بن حارث بن الطفیل از عائشہ بیان کی ہے۔
یعنی زہری کے اصحاب نے زہری کے شیخ "ازدی" کے نام کے بارہ میں اختلاف کیا ہے اور معمر نے اس کا نام صحیح طور پر ضبط کیا ہے اور وہ زہری کی حدیث میں باقی تمام کی نسبت مقدم ہے۔ اس نے "عوف بن حارث بن طفیل" ہی کہا ہے۔ اور درست بات بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔
بہرحال حافظ ابن حجر علیہ الرحمۃ صحیح بخاری کے اس راوی کے بارہ میں بھی اپنی تقریب میں فرماتے ہیں: "مقبول من الثالثۃ" (1/433)
اور ذہبی نے "الکاشف" میں کہا ہے : "وُثق" (2/101)
اور بخاری اور ابن حبان کا اس کی روایت کو تفرد وعدم متابعت کے باوجود اپنی صحیح میں ذکر کرنا اس مقبول کی توثیق کے لیے مضبوط دلیل ہے۔
خاتمہ:۔
    یہ چند سطور رقم کرنے کا مقصد فقط ان لوگوں کے لیے دلائل مہیا کرنا تھا ۔ جو مقبول رواۃ کی احادیث کو فقط عدم متابعت کی پاداش میں رد کربیٹھے اور دیگر ائمہ ٔ جرح وتعدیل کی تصریحات کی طرف دھیان نہیں دیتے ۔
تو یہ چند حوالہ جات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب تقریب التھذیب میں جن رواۃ کو مقبول کہا گیا ہے وہ بسا اوقات ثقہ ثبت ہوتے ہیں اور حافظ صاحب علیہ الرحمہ فقط قلیل الحدیث ہونے کی وجہ سے ان کو مقبول قراردے دیتے ہیں جبکہ ان کی روایت تفرد و عدم متابعت کے باوصف حسن یا صحیح کے درجہ سے کم نہیں ہوتی ہے۔
ھذا واللہ تعالیٰ اعلم ورد العلم الیہ
اسلم والشکر والدعاء لمن نبہ ارشد وقوم
وکتبہ
ابو عبدالرحمن محمد رفیق الطاہرؔ
مدرس جامعہ دارالحدیث المحمدیہ
عام خاص باغ ملتان
7302283-
0321

ناصر الدین الألبانی کی خدمات حدیث

1 comments
ناصر الدین الألبانی کی خدمات حدیث
1999ء
 کا سال عالم اسلام کے لیے بالعموم، اور سلفی حضرات کے لیے بالخصوص عام الحزن ہے ۔ جس میں یکے بعد دیگرے نامور اسلامی شخصیات اس جہان فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گئیں ، اور عالم اسلام ان کے علم وفضل سے محروم ہو گیا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اسی سال داغ مفارقت دینے والے افراد میں حضرت شیخ مصطفی زرقا ، شیخ مناع قطان ، شیخ عطیہ سالم ، شیخ علی طنطاوی ، مولانا محمد عبدہ الفلاح ، شیخ محمد عمر فلاتہ ، شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی ، شيخ علامہ عبدالعزيز بن باز اور آخر ميں محدث العصر حضرت علامہ شيخ الباني رحمہم اللہ سر فہرست ہیں. ان حضرات نے دين حنيف كى جس قدرخدمات انجام ديں ، كتاب وسنت كى تعليمات كو پھیلانے اور مردہ د لوں کو نورایمان سے منور کرنے کی جو سعی بلیغ کی ، اس کی داستان نہایت طویل ہے۔ ان میں بالخصوص شیخ ابن باز اور شیخ البانی کی خدمات کا دائرہ تو اتنا وسیع ہے کہ سفینہ چاہئیے اس بحرِ بے کراں کے لیے زیر نظر تحرير ميں ہم مؤخر الذكر حضرت شيخ البانى ( رح) كے منہج اور حديث نبوي كے حوالے سے ان كے ايك موقف كى وضاحت كريں گے ۔ انہوں نے گو ایک سو سے زائد کتابيں تصنيف كى ہیں اور ہر كتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے نادر تحقيقات پر مشتمل ہے، مگر ان ميں زيادہ مشہور كتب سلسلة الاحاديث الصحيحة ، سلسلة الاحاديث الضعيفة ، ارواء الغليل ، صفة صلٰوة النبي صلى اللہ عليہ وسلم ، صحيح الجامع الصغير، ضعيف الجامع الصغير، تمام المنة، غایة المرام، احكام الجنائز ، تحذير الساجد، صحيح سنن ابي داود ،اور ضعيف سنن أبي داود وغيرہ ہیں. حديث وسنت كے باب ميں ان كى سب سے بڑی كاوش يہ ہے كہ انہوں نے اس رجحان كى آبيارى كى كہ احكام ومسائل ميں صحيح اور حسن حديث كا ہی اہتمام كيا جائے ۔اسى طرح فضائل ومستحبات ميں بھی ضعيف پر اعتماد نہ كيا جائے ۔ اسى بنا پر انہوں نے ذخيرہ احاديث ميں سے صحيح اور ضعيف روايات كو چھانٹ كر ركھ ديا ۔ سلسلة الأحاديث الصحيحة ، سلسلة الأجاديث الضعيفة ، صحيح الجامع الصغير ، ضعيف الجامع الصغير كے علاوه صحيح سنن أبي داود، ضعيف سنن أبي داود، صحيح الترمذي، ضعيف الترمذي، صحيح سنن النسائي، ضعيف سنن النسائي، صحيح سنن ابن ماجة ، صحيح الترغيب والترهيب، صحيح الادب المفرد، ضعيف الأدب المفرد، اور صحيح الكلم الطيب وغيرہ اسى سلسلة الذھب كى كڑياں ہیں ۔ ان كے صحت وضعف پر نقدو تبصرہ اہل علم كا حق ہے ، كيوں كہ شيخ البانى بھی انسان ہیں اور سہو وخطا سے كون انسان ہے جو محفوظ رہا ہو ؟ خود راقم الحروف نا چیز بھی كئى مقامات پر شیخ مرحوم سے متفق نہیں، ليكن اس كا يہ مطلب قطعا نہیں كہ چند ايسى خطاؤں كى بنا پر ان كى خدمات جليلہ كو ہدف تنقید بنا لیا جائے اور محض معاصرانہ چشمک ميں بات كا بتنگڑ بنا ديا جائے ۔ مثلا : یہی ديكھیے كہ شیخ ابو غدة ، شيخ ابو عوامہ وغيرہ كو الصحيحة اور الضعيفة كى تقسيم وتفريق ہی نہیں بھائی ، جس كى تفصيل " أثر الحديث الشريف في اختلاف الأئمة الفقهاء" لاأبي عوامة اور " حواشي ظفر الأمانى " لأبي غدة ميں ديكھی جا سكتى ہے۔ ہم یہاں اس مسئلے ميں شيخ البانى ( رح) كے موقف كى وضاحت كرنا چاہتے ہیں ، اور بتانا چاہتے ہیں كہ ان كا يہ موقف نيا نہیں ۔ امام بخاري (رح) ، اور امام مسلم (رح) وغيرہ كا بھی یہی موقف تھا ۔چناں چہ موصوف فرماتے ہیں : " ضعيف حديث پر مطلقا عمل نہ كيا جائے، نہ تو فضائل ومستحبات ميں اور نہ ان كے علاوہ كسى اور موقع پر ، كيوں كہ ضعيف حديث كے بارے ميں علماء كا اتفاق ہے كہ يہ ظن مرجوح كا فائدہ ديتى ہے ، لہذا جب اس كى يہ حيثيت ہے تو اس پر عمل كيوں كر جائز قرارد يا جاسكتا ہے ؟ كيوں كہ اللہ تعالى نے اپنی كتاب كى بہت سى آيات ميں ظن كى مذمت بيان كى، چناں چہ فرمايا ہے : " بے شك جہاں یقین چاہئیے وہاں کوئی ظن كام نہیں آتا " ۔ نيز فرمايا :" وہ تو محض ظن كى پیروی کرتے ہیں " ۔ اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے كہ " ظن سے بچو، كيوں کہ ظن بہت جھوٹی بات ہے ۔ " ( بخاري ومسلم، مقدمة ضعيف الجامع: 45) ضعيف حديث پر عمل نہ كرنے كى جو دليل اصولى طور پر علامہ البانى نے پيش كى ہے ، صحيح خبر واحد كو ظنى كہہ كر درخور اعتناء نہ سمجھنے والوں كے ليے باعث تامل ہے۔ ضعيف كى حيثيت تو ظن مرجوح كى ہے اور اس پر عمل بھى بقول حافظ ابن حجر اس شرط پر ممكن ہے كہ اس كے ثبوت كا اعتقاد نہ ہو، تا كہ نبي كريم صلی اللہ علیہ وسلم كى طرف ايسى چیز منسوب نہ ہو جائے جو آپ نے نہیں کی ، چناں چہ ضعيف حديث پر عمل کے لیے شروط ثلاثہ كا ذ كر كرتے ہوئے آپ تيسرى شرط يہی بيان كرتے ہیں : "ان لايعتقد عند العمل به ثبوته لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله ". "اس پر عمل كرتے وقت اس كے ثابت ہونے كا يقين نہ رکھا جائے ، تا كہ نبي اكرم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف كوئى ايسى بات منسوب نہ ہو جائے جو آپ نے نہیں فرمائى." (القول البديع: 258) بلكہ خود حافظ ابن حجر كے الفاظ اس بارے ميں انتہائی غور طلب ہیں، لكھتے ہیں : "يعنى شہر رجب كے بارے ميں اس كے كسى مخصوص دن روزہ ركھنے يا كسى رات قيام كى فضيلت ميں كوئى قابل استدلال روايت ثابت نہیں، ليكن مشہور ہے کہ اہل علم احاديث فضائل ميں تساہل سے کام لیتے ہیں ، اگر چہ وہ ضعیف ہی كيوں نہ ہوں ، الا يہ كہ وہ موضوع ہو ، ليكن اس كے ساتھ يہ شرط بھى ضرورى ہے كہ اس پر عمل كرنے والا اسے ضعيف سمجھے اور اسے شہرت نہ دے ۔ تا كہ كوئى شخص ضعيف پر عمل نہ كرے اور ايسے عمل كو مشروع نہ بنا لے جو شريعت نہیں ہے ، يا بعض بے خبر لوگ اسے سنت صحیحہ نہ سمجھنے لگیں ۔ اسى قسم كى تصريح استاد ابو محمد بن عبدالسلام وغيرہ نے بھی کی ہے اور انسان كو آں حضرت صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان کے تحت آ جانے سے بچنا چاہئیے کہ : " جو ميرى طرف سے حديث بيان كرتا ہے جسے وہ جھوٹی سمجھتا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے ۔" جب جھوٹی روایت بیان کرنے پر ايسى وعيد ہے تو جو اس پر عمل كرے گا اس كا كيا حال ہو گا ؟ اور احكام يا فضائل ميں حديث پر عمل كرنے ميں كوئى فرق نہیں جب كہ ان سب كا تعلق شريعت سے ہے ۔" (تبيين العجب: 8_9) حافظ ابن حجر كے ان الفاظ سے دو باتيں نكھر كر سامنے آتى ہیں : 1 _ دينى احكام كا تعلق احكام سے ہو یا فضائل سے وہ بہرنوع دين ہیں ۔ 2 _ ضعيف روايت پر عمل کو شہرت نہ دی جائے، تا كہ دين سے بے خبر لوگ اس پر عمل کو سنت نہ سمجھنے لگیں یا اس پر عمل كو شريعت نہ بنا ليں ۔ ۔۔۔سوال یہ ہے کہ ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل کر لینے کے موقف کو اپنانے کے بعد علمائے امت نے ان شرائط کو ملحوظ رکھا ؟ قطعا نہیں ۔ بلکہ اس کے دائرے کو اس قدر وسیع کر دیا کہ فضائل اعمال میں موضوع ( بناوٹی ( احادیث تک کو قبول کر لیا گیا ۔ چناں چہ ایک حدیث یوم عرفہ کی فضیلت میں ان الفاظ سے مروی ہے : أفضل الأيام يوم عرفة إذا وافق يوم الجمعة فهو أفضل من سبعين حجة ۔ " يوم عرفہ جمعہ كے روز ہو تو وہ سب دنوں سے افضل ہے ۔( اسے رزين نے روايت كيا ہے) . اسى روايت كے بارے ميں ملا على قارئ (رح) فرماتے ہیں : " اور يہ جو محدثين نے اس كى سند كے بارے ميں ذكر كيا ہے كہ وہ ضعيف ہے تو اسے صحيح تسليم كر لينے سے بھی مقصود پر کوئی حرف نہیں آتا ، کیوں کہ ضعيف حديث فضائل اعمال ميں معتبر ہے ۔" ( الاجوبہ الفاضلہ : 37) باعث تعجب ہے کہ علامہ لكھنوی نے بھی ملا على قارى كى خاموش تائيد ہی کی ہے ، حالاں كہ امر واقع یہ ہے کہ یہ روايت صرف ضعيف ہی نہیں، بلكہ باطل محض ہے ۔علامہ ابن قيم (رح) رقم طراز ہیں : وأما ما استفاض على ألسنة العوام بأنها تعدل سبعين حجة فباطل لا أصل له عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا عن أحد من الصحابة والتابعين ۔ " لوگوں كى زبان پر یہ جو مشہور ہے کہ جمعہ كا روز كا حج بہتَّر (72) حج كرنے كے برابر ہے تو یہ باطل ہے ، اس كى كوئى سند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلكہ كسى صحابى سے ، نہ ہی كسى تابعي سے اس كى كوئى بنياد ثابت ہے ۔" ( زاد المعاد: 65/1، مطبوعہ مؤسسہ الرسالہ) ملاحظہ فرمايا آپ نے، كہ اس بے اصل روايت كو بھی فضائل اعمال كے معروف اصول كى بنا پر قبول كر ليا گیا ۔ اس نوعيت کی روايات كو يہاں جمع كيا جائے تو يہ مختصر مضمون طويل ہو جائے گا ۔ بلا شبہ علامہ ابن ھمام (رح) اور انہی كى پیروى ميں بہت سے علماء نے كہا ہے كہ ضعيف حديث سے استحباب ثابت ہوتا ہے ، مگر قابل غور بات يہ ہے کہ کیا استحباب احكام شرعيہ ميں سے ہے یا نہیں ؟ علم اصول فقہ ميں احكام خمسہ يوں ہیں : فرض، مستحب، جائز، مكروہ اور حرام ۔۔۔ علامہ عبد الحي لكھنوی نے علامہ ابن ھمام كى رائے كے ساتھ ساتھ محقق جلال الدين الدوانى سے اس كے برعكس يہ بھی نقل کیا ہے : اتفقوا على أن الحديث الضعيف لا يثبت به الأحكام الخمسة الشرعية ۔ ( الأجوبة الفاضلة : 56) "سب كا اتفاق ہے كہ حديث ضعيف سے شريعت كے احكام خمسہ ثابت نہیں ہوتے ۔" اور ان ہی احكام خمسہ میں ايك مستحب بھی ہے ، لہذا جب استحباب كا درجہ بھی شريعت كے احكام ميں شامل ہے تو كيا اس كو ضعيف حديث سے ثابت كر لينا شرعوا لهم من الدين ما لم يأذن به الله...... (سورة الشورى : الآية 21) ( ترجمہ: وہ ان كے لیے ایسی چیزیں شریعت بنا دیتےہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی) كے زمرے ميں نہیں آتا ؟ اسی کے بارے میں حافظ ابن حجر نے فيشرع ما ليس بشرع کے الفاظ سے اشارہ كيا ہے ۔ ضعيف حديث پر عمل تو محض ظن مرجوح پر مبنى ہے ۔ ظن غالب يا ظن صحيح اس كى بنياد نہیں ۔ ايسى صورت ميں جب کہ كسی چیز كے ثبوت ميں اشتباہ ہو تو وہاں بھی اس عمل كو چھوڑ دينا راجح قرار ديتے ہیں ۔ اسى طرح جہاں ظن مرجوح اور شريعت كى تشريح كا پہلو ہو تو احتیاط كا تقاضا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے ۔ بالخصوص جب كہ اس اصول كى آڑ ميں بہت سی بے اصل روايات كو بھی قابل اعتناء سمجھا گیا ہو اور بہت سی بدعات کو اس سے سہارا دے دیا گیا ہو ۔ شيخ الاسلام حافظ ابن تيميہ (رح) اسى مسئلے كى وضاحت كرتے ہوئے لکھتے ہیں : " يہ جائز نہیں كہ شريعت ميں ضعيف احاديث پر اعتماد كيا جائے جو نہ صحيح ہیں اور نہ ہی حسن ہیں ۔ ليكن امام احمد (رح) وغيرہ نے کہا ہے کہ جب کسی حدیث کا جھوٹا ہونا ثابت نہ ہو اور اس كا صحيح ہونا بھی معلوم نہ ہو تو فضائل اعمال ميں اسے بيان كرنا جائز ہے ۔ يہ اس ليے كہ جب دليل شرعى سے كسى عمل كا مشروع ہونا ثابت ہو اور اس كى فضيلت ميں ايسى حديث ہو جو جھوٹی نہ ہو تو اس كا حق ہونا جائز ہے اور يہ تو کسی امام نے نہیں کہا کہ ضعيف حديث سے كسى چیز کو واجب اور مستحب قرار ديا جا سكتا ہے جس نے بھی یہ کہا ہے اس نے اجماع كى مخالفت كى ہے ۔" ( القاعده الجليلہ: 84) شيخ الاسلام ابن تيميہ نے ايك دوسرے مقام پر بڑی تفصيل سے اس مسئلے پر بحث كى ہے جو ان كے مجموع فتاوی كى (جلد 18، صفحہ 65_ 68) پر دیکھی جا سكتى ہے جس ميں انہوں نے فرمايا ہے كہ استحباب حكم شرعى ہے جو دليل شرعى سے ہی ثابت ہو سكتا ہے اور جو بغير دليل شرعى كے خبر ديتا ہے كہ اللہ تعالى كو فلاں عمل محبوب ہے تو وہ دين میں ايسا طريقہ مشروع قرارديتا ہے جس كى اجازت اللہ سبحانہ وتعالى نے نہیں دی ۔ شيخ البانى نے مقدمہ صحيح الترغيب والترھیب ( ص 28_ 31) ميں شيخ الاسلام كى يہ مكمل عبارت نقل كى ہے اور اس كے بعد علامہ ابو اسحاق شاطبى كى معروف كتاب الاعتصام ( ج1، ص 249) سے اس كى مزيد تائيد تفصيلا نقل كى ہے ، جس كا خلاصہ یہی ہے کہ بدعات كے رسیا ، ضعيف اور واہی احاديث سے اپنی بدعات کو سہارا دیتے ہیں کہ " فضائل اعمال ميں ضعيف احاديث قابل قبول ہیں " ۔ نيز حديث ضعيف سے استحباب ثابت نہیں ہوتا ، کیوں کہ استحباب احكام شرعيہ ميں سے ايك حكم ہے اور وہ صحيح حديث سے ہی ثابت ہوتے ہیں ضعيف سے نہیں ۔ شريعت ميں كوئى حكم ثابت ہو تو اس كى فضيلت ميں ترغيب وترہیب كے طور پر ضعيف روايات ميں تساہل قابل برداشت ہے ۔ يوں نہیں كہ شرعی حكم كى بنياد ہی ترغيب وترہیب پر رکھی جائے ۔ شيخ الاسلام ابن تيميہ اور علامہ شاطبى كے علاوہ امام يحيى ابن معين ، امام بخاري، امام مسلم ، علامہ ابن العربي، علامہ ابن حزم كا بھی يہی موقف ہے جيسا كہ جمال الدين القاسمى نے قواعد التحديث ( ص94) ميں نقل كيا ہے اور يہی موقف علامہ الباني كا ہے ۔ الباعث الحثيث (ص 101) كے حواشى ميں علامہ احمد شاكر نے بھی یہی موقف اختيار كيا ہے ، علامہ البانى نے اسى سلسلے ميں امام ابن حبان(رح) كا كلام ان كى كتاب المجروحين كے مقدمے سے تمام المنہ ( ص 33، 34) ميں اور امام مسلم كا كلام مقدمہ صحيح الترغيب والترہیب (ص 26) ميں درج كيا ہے ۔ امام ابو شامہ تو يہاں تك لكھتے ہیں : " اب كسى مسلمان عالم كے ليے درست نہیں كہ صحیح كے علاوہ ضعيف اور نا قابل اعتبار روايت ذكر كرے تا كہ كہیں وہ دونوں جہان میں اس رسوائی اور بد بختى كا مصداق نہ ہو جائے جو سيد الثقلين صلى اللہ عليہ وسلم نے بيان فرمائى ہے كہ جس نے بھی ميرى طرف سے ايسى حديث بيان كى جسے وہ جھوٹی خيال كرتا ہے تو وہ دو ميں سے ايك جھوٹا ہے "۔( الباعث على انكار البدع والحواد ث : 237) مولانا عبد الحي لكھنوی ( رح) نے الاجوبہ الفاضلہ اور ظفرالامانى ميں اس موضوع پر تفصيلا بحث كى ہے ، اور محقق جلال الدين الدوانى كا كلام ان كے رسالہ " انموذج العلوم " سے نقل كيا ہے جس سے ضعيف حديث سے استحباب كے ثبوت كى حيثيت واضح ہوجاتى ہے ، جس ميں خلاصہ كلام كے طور پر آخر ميں لكھتے ہیں : " فلم يثبت شيئ من الأحكام بالحديث الضعيف شبهة الاستحباب فصار الاحتياط أن يعمل بہ واستحباب الاحتياط معلوم عن قواعد الشرع" ۔انتھی ( الأجوبة: 59، ظفرالأماني: ص 193) " ضعيف حديث سے كوئى حكم ثابت نہیں ہوتا ، البتہ ضعيف حديث نے استحباب كا شبہ پیدا کیا ہے ، لہذا احتياط اسى ميں ہے كہ اس پر عمل كيا جائے ، كيوں كہ احتياطا استحباب پر عمل شريعت كے قواعد ميں معلوم ومعروف ہے ۔" گویا ضعيف حديث سے استحباب كا محض شبہ ہوتا ہے اور احتياطا اس پر عمل كو اختيار كيا گیا ہے ، مگر اس شبہے كا ازالہ علامہ البانى کے كلام ميں پہلے گزر چکا كہ ضعيف حديث پر عمل ظن مرجوح كى بنياد پر ہے ، جس كى پیروی كا ہمیں اللہ تعالی نے حكم ہی نہیں ديا اور يہاں شبہ استحباب پر احتياطا عمل كى بجائے دوسرا پہلو بھی برابر کا ہے كہ في الحقيقت يہ فضيلت نہ ہو تو ايسى صورت ميں يہ اپنی طرف سے ايك عمل شريعت بنا دينے كے مترادف ہے ، ان دونوں صورتوں ميں احتياط تو ترك ميں ہے نہ کہ اس پر عمل كرنے ميں جيسا كہ اس كى وضاحت ہم پہلے کر چکے ہیں ۔ سخت حيرت كى بات ہے کہ یہ اصول بنانے والوں نے تو اس سلسلے ميں ايك روايت ہی بنا ڈالی ، چناں چہ علامہ ابن حجر الہيثمى (رح) اس دعوى كہ" فضائل ميں ضعيف حديث پر عمل بالاتفاق جائز ہے " كے بعد فرماتے ہیں كہ ايك ضعيف حديث ميں ہے : "من بلغه عنى ثواب عمل فعمله حصل له أجر وإن لم أكن قلته أو كما قال" ۔( الأجوبة : ص 42) " جسے ميرى طرف سے كسى عمل پر ثواب ہونے كا علم ہو پھر وہ اس پر عمل کرے ، اسے اس عمل كا اجرو ثواب ملے گا ، اگر چہ ميں نے وہ بات کہی نہ ہو ۔" ليجيے اس موقف پر بلكہ كہئیے كہ فضيلت عمل میں ضعيف حديث پر عمل كے ليے ضعيف حديث بھی موجود ہے، لہذا اب اس كا انكار كيسے ؟ ۔۔۔۔۔حالانکہ ان الفاظ كے ساتھ ذخيرہ احاديث ميں كوئى حديث منقول نہیں ! حتى كہ كتب ضعفاء وموضوعات ميں بھی نہیں ! جيسا كہ اس كے حاشيے میں شيخ ابو غدہ (رح) نے وضاحت كر دى ہے ۔ مگر دیکھا آپ نے ؟ اسے ضعيف كہہ کر فضائل اعمال ميں اسے بھی قبول كر ليا گیا اور بہت سی بدعات اور مخصوص نمازيں اسى قسم كى ضعيف احاديث سے ہی رائج ہیں اور رائج رہی ہیں ۔ جيسا كہ علامہ شاطبى وغيرہ نے كہا ہے ، بلا شبہ اكثر اہل علم کی رائے یہی ہے ، مگر جس احتياط كى بنياد پر استحبابا عمل جائز قرار ديا گیا اس میں احتياط كا تقاضا تو اس پر عمل نہ كرنے کا ہے ۔ عمل كرنے کا نہیں ۔ اسى بنا پر علامہ البانى نے اس موقف كو اختيار كيا اور الصحيحہ اور الضعيفہ كى بنياد پر احاديث كى حيثيت بيان كرنے اور اس كى صحت وضعف كو واضح كرنے ميں عمرِ عزيز صرف كردى ۔ اللہ تعالى ان كى كوشش كو قبول فرمائے اور جوئندگان راہِ حق كے ليے مشعلِ راہ بنائے ۔ خود ان كا اپنا بیان ہے : إننا ننصح إخواننا المسلمين في مشارق الأرض ومغاربها أن يدَعوا العمل بالأحاديث الضعيفة مطلقا وأن يوجهوا همتهم إلى العمل بما ثبت منها عن النبي صلى الله عليه وسلم ففيها ما يغني عن الضعيفة ۔ الخ ( ضعيف الجامع:ج1، ص 51) يعنى : " ہم مشرق ومغرب میں بسنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ مطلقا ضعيف احاديث پر عمل كرنا چھوڑ دیں اور اپنی ہمت ان احاديث پر عمل كرنے کے ليے مرتكز ركھیں جو نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہیں ۔ وہ صحيح احاديث ہمیں ضعيف احادیث سے بے نیاز کر دیتی ہیں ۔" اسى جذبہ صادقہ نے امام بخاري (رح) كو الجامع الصحيح لکھنے پر مجبور کیا ۔ بعض ديگر محدثين نے بھی انہی کی پیروی کی اور انہی كے نقش قدم پر چلتے ہوئے علامہ محمد ناصر الدين البانى نے الصحيحہ اور الضعيفہ كو الگ الگ جمع كرنے کی کوشش کی ۔ الصحيحہ ميں صحيح، صحيح لغيرہ اور حسن ، حسن لغيرہ كا ، اور الضعيفہ ميں ضعيف ، ضعيف جدا ، شاذ ، منكر ، باطل ، موضوع ، لا أصل لہ ، لا يصح ، لا أصل لہ مرفوعا وغيرہ كا درجہ و مرتبہ با دليل بيان كيا ۔ ان كى اس تحقيق سے اختلاف ممكن ہے ، ليكن ان كى اس صائب فكر اور اس قابل قدر كوشش كو تنقيص كى نظر سے ديکھنا كوئى خدمت اور مستحسن رويہ نہیں ۔ بدعت كے اس دور میں سلامتى كى راہ وہی ہے جو علامہ البانى (رح) اور ان كے پیش رو حضرات نے اختيار كى ہے ۔ سنت كى پیروی بدعت ميں اجتہاد سے بہر نوع بہتر ہے ۔ اللہ تعالى ہمیں صحيح احاديث پر عمل كرنے كى توفيق بخشے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے ۔ آمين ۔ 


 ارشاد الحق اثری ( حفظہ اللہ ) الاعتصام 18 فرورى 2000ء 


شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری (رحمہ اللہ)

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، ہندوستان کی ان معروف دینی شخصیتوں میں سے ایک تھے جنہوں نے قرآن و سنت کی اشاعت و تبلیغ میں اپنی زندگی کا بیشتر وقت گزار دیا ۔ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث ، ھند کے سابق امیر رہ چکے ہیں ۔

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں حسین آباد میں 1360ھ (1942ء) میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے مبارکپور کے مدرسہ عربیہ دار التعلیم اور احیاء العلوم اور اعظم گڑھ کے مدرسہ فیض عام سے مولوی ، عالم اور فاضل کے علاوہ دیگر امتحانات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ اس کے بعد 28 سال تک آپ نے ہندوستان کے مختلف اسکول ، مدارس اور جامعات میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیں ۔ بعد ازاں جب آپ کو مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ کے ایک عہدے کی پیش کش ہوئی تو آپ برسہا برس تک جامعہ اسلامیہ کے شعبہ سیرت میں ایک محقق کے طور پر کام کرتے رہے ۔

مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کی شہرۂ آفاق تصنیف الرحیق المختوم ، سیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہے ۔ یہ کتاب عربی ، اُردو اور انگریزی کے علاوہ دنیا کی دیگر 13 زبانوں میں شائع ہو چکی ہے ۔ انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ سعودی عرب کے معروف و مقبول پبلشنگ ادارے دارالسلام نے The Sealed Nectar کے عنوان سے کیا ہے ۔

رابطہ عالم اسلامی ، مکہ المکرمہ نے 1396ھ (1976ء) میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عالمی سطح کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔ جملہ 171 مقالے اس ضمن میں متعلقہ ادارے کو وصول ہوئے جن میں 84 مقالے عربی زبان میں تھے ، 64 اُردو میں اور 21 انگریزی میں تھے ۔ پہلا انعام جو کہ 50 ہزار ریال پر مشتمل تھا ، شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی عربی تصنیف الرحیق المختوم کو عنایت کیا گیا ۔ محترم شیخ نے بعد میں اپنی اس تصنیف کو اُردو زبان میں خود ہی منتقل کیا تھا ۔

عربی اور اردو میں آپ کی بےشمار تصانیف منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ جن میں سے چند یہ ہیں :
اُردو :
تاریخِ آل سعود
انکارِ حدیث حق یا باطل
اسلام اور عدمِ تشدد
اہل تصوف کی کارستانیاں
تاریخِ مکہ
تاریخِ مدینہ
قادیانیت اپنے آئینے میں
صحفِ یہود و نصاریٰ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق بشارتیں
تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب
۔۔۔۔۔۔ وغیرہ ۔


عربی :
اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرام
ترجمہ و توضیح کتاب الاربعین للنووی
ترجمہ الکلم الطیب لابن تیمیہ
المصابیح فی مسالۃ التراویح للسیوطی
بہجۃ النظر فی مصطلح اہل الاثر
الفرقۃ الناجیہ و الفرق الاسلامیۃ الاخری
۔۔۔۔۔۔ وغیرہ ۔


اس کے علاوہ ۔۔۔
مجلہ محدث (ماہنامہ ، بنارس) کےادارتی فرائض آپ نے قریب پانچ سال تک انجام دیے ۔
تفسیر ابن کثیر کی تلخیص اور اردو ترجمۂ قرآن احسن البیان کی نظرثانی کا مبارک کام بھی شیخ محترم کے نمایاں کاز میں سے ہیں ۔

عالمِ اسلام کی یہ عظیم رہنما شخصیت ، مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری جمعہ یکم ڈسمبر 2006ء کو ہندوستان میں اپنے آبائی شہر مبارکپور (اتر پردیش) میں بعد نمازِ جمعہ انتقال فرما گئے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، عالمِ اسلام میں ایک محدث ، مورخ اور سیرت نگار کے طور پر عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے ۔ ان کی وفات اسلامی دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان کے برابر قرار دی گئ ہے ۔
فرمانِ نبوی ہے :
اللہ تعالیٰ (دین کا) علم بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ عالموں کو اٹھا کر علم کو اُٹھا لے گا ۔۔۔۔
(صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب كيف يقبض العلم ، حدیث نمبر 100 )

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بروز ہفتہ 2۔ڈسمبر 2006ء بعد نمازِ ظہر ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ نمازِ جنازہ مفتی یاصر صفی الرحمٰن نے پڑھائی ۔ نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے ۔ سٹی کمشنر کے علاوہ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔ سانحۂ ارتحال پر داعیانِ دین ، علماء و طلباء کی جانب سے رنج و ملال کے اظہار اور خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ شیخ حافظ عبدالکریم ، عبدالمالک مجاہد ڈائرکٹر دارالسلام ریاض ،جامعہ ام القریٰ کے ڈین دکتور سلمان عسیری ، مرکزِ دعوۃ کے ڈائرکٹر کیپٹن حمود السلفی ، کنگ سعود یونیورسٹی کے عبدالصبور ندوی ، معروف سعودی تاجر سعد الغامدی نے شیخ محترم کی دینی خدمات کو یوں خراج عقیدت پیش کیا کہ :

اہلِ حق کی عظیم نمائیندگی پر تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی ۔ عقیدے کی پختگی میں ان کی تقریروں کی تاثیر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ الرحیق المختوم ، سیرتِ طیبہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طلباء کے لیے نادر تحفہ ہے جس سے امت کے فرزند فیضیاب ہوتے رہیں گے ، انشاءاللہ ۔

علامہ ابن القيم رحمہ اللہ كا مختصر تعارف

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحيم
علامہ ابن القيم رحمہ اللہ كا مختصر تعارف
تحرير: سعيد احمد قمر الزمان الندوي

امام ابن القيم كى سوانح عمرى يا تعارف كے ليے چند اوراق ناكافى ہیں، تاہم يہاں طوالت سے صرف نظر كرتے ہوئے مختصرا آپ كى حيات مباركہ کے چند روشن اوراق پيش كرنے كى كوشش كرتے ہیں۔
آپ كا پورا نام محمد بن ابوبكر بن ايوب بن سعد حريز الزرعي الدمشقي شمس الدين المعروف بابن قيم الجوزيہ ہے۔ جوزيہ ايك مدرسہ كا نام تھا ، جو امام جوزى كا قائم كردہ تھا اس ميں آپ كے والد ماجد قيم يعنى نگران اور ناظم تھے اور علامہ ابن القيم بھی اس سے ايك عرصہ منسلك رہے۔
علامہ ابن القيم 691 ھ میں پيدا ہوئے اور علم وفضل اور ادب واخلاق كے گہوارے ميں پرورش پائى ، آپ نے مذكورہ مدرسہ ميں علوم وفنون كى تعليم وتربيت حاصل كى ، نيز دوسرے علماء سے استفادہ كيا جن ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ كا نام گرامى سب سے اہم اورقابل ذكر ہے۔ ان كے شاگرد رشي كى حيثيت سے زندگی بھر رفيق صادق ، قيد خانہ کے ساتھی، ميدان جہاد ميں ان کے دوش بدوش اور استاذ كے بعد ان كے علوم كو نہايت قيمتى اضافہ کے ساتھ بہترين اسلوب پر شائع كرنے والے تھے۔
متاخرين ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ كے بعد ابن القيم كے پائے كا كوئى محقق نہیں گزرا، آپ فن تفسير ميں اپنا جواب آپ تھے ۔حديث وفقہ ميں نہايت گہرى نظر ركھتے تھے، استنباط واستخراج مسائل ميں يكتائے روزگار تھے، آداب سحر گاہی سے آشنا اور نہايت عبادت گزار تھے ، مصيبتوں اور ابتلاؤں كو خندہ پيشانى سے برداشت كرتے تھے، صبر وشكر كے زيور سے آراستہ و پيراستہ تھے ، شعرو ادب كا اعلى اور عمدہ مذاق ركھتے تھے۔ آپ ايك ماہر طبيب بھی تھے۔
علمائے طب كا بيان ہے كہ علامہ موصوف نے اپنی كتاب "طب نبوى" ميں جو طبى فوائد، نادر تجربات اور بيش بہا نسخے پیش كيے ہیں ، وہ طبى دنيا ميں ان كى طرف سے ايك ايسا اضافہ ہیں کہ طب كى تاريخ ميں ہمیشہ ياد ركھے جائيں گے۔
قاضى برہان الدين كا بيان ہے كہ : " اس آسمان كے نیچے كوئى بھی ان سے زيادہ وسيع العلم نہ تھا ۔ "
علامہ کے رفيق درس حافظ ابن كثير رحمة اللہ عليہ فرماتے ہیں:
" ابن القيم رحمة اللہ عليہ نے حديث كى سماعت كى اور زندگی بھر علمى مشغلہ ميں مصروف رہے۔ انہیں متعدد علوم ميں كمال حاصل تھا ۔ خاص طور پر علم تفسير اور حديث وغيرہ ميں غير معمولى دستگاہ تھی ، چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ ميں يگانہ روزگار بن گئے ، وہ اللہ كى عبادت وانابت كى صفت سے اس قدر متصف تھے كہ شايد ہی ان دور ميں ان سے زيادہ كوئى عبادت گزار رہا ہو ۔استاذ محترم شيخ الاسلام ابن تيميہ كے علوم كے صحيح وارث اور ان كى مسند تدريس كے كما حقہ جانشين تھے۔"
چنانچہ علامہ موصوف نے اپنے استاذ گرامى كى علمى خدمات اور علمى كارناموں كى توسيع واشاعت ميں غير معمولى حصہ ليا، ان كى طرف دعوت ودفاع كا فريضہ سرانجام ديا اور اس كى تائيد كے ليے تحقيق و تنقيح كى پورى كوشش كى ، ان كى فقہی تحقيقات اور ان كے فتاوى و اصول كو بڑی عرق ريزى سے جمع كيا ، بلكہ مزيد تحقيق و محنت سے قرآن وسنت كے دلائل سے مدلل كيا۔
اس طرح علامہ محترم نے بہت بڑا علمى ذخيرہ چھوڑا ہے جو ايك طرف علامہ ابن تيميہ كے علم كا خلاصہ ہے اور دوسرى طرف استاذ كى تحقيقات كے نتائج وثمرات ميں علمى توجيہات كا بہترين لب لباب بھی۔ انہوں نے مختلف فنون و علوم پر قابل قدر كتابيں تصنيف كى ہیں جن ميں فكر كى گہرائى ، قوت استدلال ، حسن ترتيب، ار جوش بيان پورے طور پر نماياں ہے، ان كتابوں ميں كتاب وسنت كا نور اور سلف كى حكمت و بصيرت موجود ہے۔
ايك پہلو جو خاص طور پر ان کے كتابوں کے مطالعہ سے ان كى شخصيت اور عقيدے كے متعلق واضح ہوتا ہے ، وہ ہے سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سے ان كى محبت ، شيفتگی اور بدعت كى سخت مخالفت ، جو چيز انہیں سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كے مطابق نظر آتى ہے، اسے دل وجان سے قبول كر ليتے ہیں ، جو چيز سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كے خلاف نظر آتى ہے اسے جڑ سے اکھاڑ ڈالنے ميں اپنی پورى توانائى صرف كر ديتے ہیں۔ اس سلسلہ ميں وہ نہ كسى كے ساتھ رعايت كرتے ہیں، نہ مصالحت اور نہ روادارى ، ان كا دل حب رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سے سرشار تھا ليكن ان كى محبت حدود سے تجاوز نہیں كرتى تھی ۔ وہ كسى صورت اور كسى حيثيت ميں بھی حب رسول صلى اللہ عليہ وسلم كو جذبہ توحيد سے متصادم نہیں ہونے ديتے تھے۔ ان كى توحيد اتنى خالص اور واضح تھی کہ ان كے دشمنوں نے انہیں ہدف ستم بنانے ميں كوئى دقيقہ اٹھا نہیں رکھا تھا ، انہيں طرح طرح سے تكليفيں دیں گئیں، ان پر ناروا پابندياں عائد كى گئیں، نظر بندى و جلا وطنى كے مصائب سے دوچار كيا گيا، انہيں قيد و بند كى صعوبتوں سے گزارا گيا ليكن ان كے عزم واستقامت ميں ذرہ برابر فرق نہیں آيا۔
علامہ كى چند مشہور و مقبول تصانيف يہ ہیں:
1- تہذيب سنن ابي داود
2- اعلام الموقعين
3- مدارج السالكين
4- زاد المعاد
5- عدة الصابرين و ذخيرة الشاكرين
6- مفتاح السعادة
7- الفوائد
8- الوابل الصيب
9- تحفة المودود في احكام المولود
10- الصواعق المنزلة على الجهمية و المعطلة
11- حادي الأفراح
12- الصراط المستقيم
13- جلاء الأفہام في ذكر الصلاة و السلام على خير الأنام
14- شفاء العليل
ان كے علاوہ بھی كئى ايك گرانقدر تصنيفات ہیں جو زيور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔
آپ كى وفات 13 رجب 751 ھ ميں ہوئی اور دمشق كے باب صغير كے مقبرہ میں اپنے والد كے پہلو ميں دفن كئے گئے۔ اللہ تعالى آپ كو درجات عاليہ اور رحمت ابدى سے نوازے۔ آمين۔