YOUR INFO

Friday, 1 March 2013

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عِلم وزُہد کی چند مثالیں‌

0 comments

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عِلم وزُہد کی چند مثالیں‌
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تمہت لگائےجانے کے بعد جب آیت برات نازل ہو گئی جس واقعہ سے رسول اللہ اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے تمام اہل خانہ کو شدید صدمہ پہنچا تھا ، اس وقت جب سارے لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول برات کی بشارت دی تو حضرت عائشہ کے والدین نے ان سے فرمایا بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو بوسہ دو اور آپ کا شکریہ ادا کرو، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میں صرف اپنے رب کی شکرگزاربنوں گی جس نے میری برات نازل فرمائی ، اس کے علاوہ کسی کی شکرگزاری نہیں بنوں گی ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' عرفت الحق لاهلة '' انھوں نے حق کو صاحب حق کے لئے پہچان لیا ، اس ربانی خاتوں کے پاس کونسا علم تھا ؟ اور اس خاتون سے زیادہ کس کا علم و فضل گہرا ہو سکتا تھا کہ جس کی برات آُسان سے نازل ہو رہی ہے اور اسے اس کی بشارت دی جارہی ہے ، خوش خبری سنانا امر حسن ہے ، اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ اس کے قدم چومے اور اسکی ممنون ہو جس نے خوش خبری سنائی ہے تو وہ سمجھتی ہیں اس میں سارا فضل و احسان صرا اللہ تعالیٰ کا ہے اورکوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ، اور وہ کہتی ہیں ''میں صرف اللہ کی شکرگزاری بنوں گی '' اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ان کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں '' عرفت الحق لاهلة '' انہوں نے حق صاحب ھق کے لئے پہچان لیا ـ اور اسی کو علم حقیقی کہتے ہیں ، نہ کہ آج کل کا س سطحی علم جو ڈگریوں اور ملازمتوں کے لئے حاصل کیے جاتے ہیں تاکہ ان خواتین کو پاکیزہ پر برتری کا اظہار کیا جائے جو خانہ نشین ہیں ـ 

زُہد عائشہؓ صدیقہ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی وفات کے بعد ایک دن حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ نے ایک لاکھ اسی ہزار درہم بطور ہدیہ بھیجے ، وہ اس دن روزے سے تھیں چنانچہ انہوں نے اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا ، شام ہونے تک ایک درہم بھی باقی نہیں رہ گیا تھا ، افطار کے وقت باندی سے فرمایا: میرے افطار کا انتظام کرو، چنانچہ ایک روٹی اور تھوڑا تیل لے کر حاضرہوئی اور کہنے لگی آپ نے آج جو کچھ تقسیم کیا ہے اس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اس سے افطار کر لیتیں ، عائشہؓ نے فرمایا ناراض نہ ہو ، اگرتو مجھے یاد دلاتی تو شاید میں ایسا کر لیتی ـ

کرم عائشہؓ صدیقہ 
حضرت عروہ بن زبیرؓ جو عائشہؓ کے بھانجے ہیں ، فرماتے ہیں ، میں نے عائشہؓ کو سترہزاردرہم تقسیم کرتے دیکھا ہے جو کہ وہ خود پیوند لگا کپڑا استعال کرتی تھیں اور نیا نہیں پہنتی تھیں ـ 

خشیت عائشہؓ صدیقہ 
اسی طرح قاسم بن محمد حضرت عائشہؓ کے بھتیجے ہیں ، فرماتے ہیں "کہ میں روزانہ عائشہؓ کی خدمت میں سلام کرنے جاتا تھا ، ایک دن جب پہنچا تو دیکھا کہ وہ نماز میں اس آیت کو باربار پڑھ کر رو رہی ہیں
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ''(سورة الطور: 27) ـ 
'' سو اللہ نے ہم پر بڑا حسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا '' ،
چنانچہ میں وہاں کھڑے کھڑے تھک گیا اور اپنے کام سے بازار چلا گیا جب دوبارہ واپس آیا تو دیکھا کہ اسی طرح نماز پڑھ رہی ہیں اور اس میں زار و قطار رو رہی ہیں ـ 

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خاتون اسلام کا یہ علم اور زہد اور خوف و خشیت اور جودوکرم کے اعلیٰ نمونے ہیں ، تو ائے مسلمان بہن !
آپ کیوں نہیں اپنی ماں کی اس میں نقل و تقلید کرتیں ؟

المرأة المسلمة
تالیف :: ابوبکرالجزائری ، ترجمہ :: سعید احمد قمرالزماں 

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا



ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔

ولادت :
حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔

نام :
نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔

کنیت :
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو''۔
چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔

نکاح:
ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔

فضائل وکمالات:
حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ''عائشہ'' عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔ 
رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : 
''مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر''۔
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔ 
عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔ 
1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔ 
2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔
3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔
4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔
5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔
6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔
7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔
8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔

حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔
صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔

وفات :
سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

سیرت شیخ عبد القادر جیلانی

0 comments

سیرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ

تحریر : محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت )

خانوادہ تصوف میں جو مقام ومرتبہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کو حاصل ہے وہ شاید کسی اور کو نہیں ، اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ قبولِ عام اور یہ اعلیٰ مرتبت، اپنے فضل وکرم کے بعد آپکے اپنے علم وعمل ، ورع وتقویٰ ، اتباع کتاب وسنت اور شرک وبدعات سے براءت کے نتیجے میں عطا فرمایا

ولادت با سعادت
آپ کی ولادت با سعادت یکم رمضان المبارک 470 ھ کو جیلان کے ایک قصبہ نیف(NIFF) میں ہوئی ،جوکہ ایران میں بحر قزوین کے جنوب میں ایک پر فضا مقام ہے ،آپ کے والد کا نام ابو صالح(موسیٰ ) تھا ، آپ نہایت ہی متقی وپرہیز گار تھے ، اپنے وقت کے نہایت صالح بزرگ اور عالم دین حضرت عبد اﷲ صومعی کے باغ میں کئی سال ملازم رہے لیکن باغ کے کسی پھل کو کبھی چکھا تک نہیں ، ایک مرتبہ باغ کے مالک نے آپ سے میٹھا انار لانے کے لیے کہا تو آپ ایک ایسا انار توڑ لائے جو نہایت ہی کھٹّا تھا ، مالک نے کہا : تم اتنے دن سے ملازم ہو اور تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں کہ کونسا انار میٹھا ہوتا ہے اور کونسا کھٹا ؟ آپ نے سر جھکا کر جواب دیا : آپ نے تو مجھے باغ کی چوکیداری پر رکھا تھا ، پھلوں کے کھانے پر تو نہیں ، اﷲ کی قسم ! میں نے کبھی آپ کے باغ کے کسی پھل کو چکھا تک نہیں
حضرت عبد اﷲ صومعی کو اپنی بچی فاطمہ ام الخیر کے لیے کسی نیک رشتے کی تلاش تھی، انہوں نے دیکھا کہ جس کی تلاش میں وہ سرگردان ہیں وہ گوہر گراں مایہ خود انہی کے گھر میں موجود ہے ، آپ نے اپنی بچی سیدہ کا نکاح حضرت ابو صالح سے کردیا ، آپ کی والدہ ماجدہ بھی نہایت عالمہ فاضلہ اور صاحب ورع وتقویٰ خاتون تھیں ، آپ کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں جانب سے گیارہویں پشت پر سیدنا علی بن ابی طالب رضي الله عنه سے مل جاتا ہے ، آپ اپنے والد کی جانب سے حسنی اور والدہ ماجدہ کی جانب سے حسینی ہیں

تعلیم وتربیت
آپ کی پرورش علم کے گود میں ہوئی ، آپ کے نانا محترم وقت کے مشہور عالم دین اور زہد وتقویٰ کا مرقع تھے ، بچپن میں ہی آپ نے قرآن مجید حفظ کرلیا اور پھر نانا محترم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ، پندرہ سال کی عمر میں آپ نے علوم دینیہ کی تکمیل کرلی ، والد محترم بچپن میں ہی انتقال فرماگئے تھے ، اس لیے کسب معاش کی ذمہ داری بڑے بھائی اور آپ پر آن پڑی ، والد صاحب کی چھوڑی ہوئی زمین میں کچھ دن کھیتی باڑی کی ، لیکن دل برابر یہ کہہ رہا تھا کہ :” اے عبد القادر ! تو اس لیے نہیں پیدا ہوا ہے کہ ہل جوتے “۔ جب آپ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو یہ احساس اور شدت اختیار کرگیا ، پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آپ نے حصول علم کی غرض سے بغداد کے سفر کی والدہ محترمہ سے اجازت مانگی ، والدہ پہلے تو پریشان ہوگئیں ، اس لیے کہ ان کا لال جس عمر میں ان سے اجازت مانگ رہا ہے اس سے اس بات کی امید کم ہی نظر آرہی تھی کہ دونوں کی ملاقات پھر اس دار فانی میں ہو ، لیکن بیٹے کے علم کی تڑپ نے ماں کو مجبور کردیا ، اور ماں نے آپ کو بخوشی بغداد کی طرف رخت سفر باندھنے کی اجازت دی اوراپنی جمع پونجی نکالی تو اس میں اسّی دینار نکلے ، والدہ نے اپنا سارا سرمایہ بیٹے کے ہاتھ میں رکھ دیا ، لیکن آپ نے بڑے بھائی کا حصہ چالیس دینار واپس کردیا ،پھر والدہ نے اخراجات کے لیے چالیس دینار ایک تھیلی میں ڈال کر اسے اچھی طرح آپ کے کرتے میں بغل کے نیچے والے حصے میں سل دئے ، تاکہ چوروں اور لٹیروں کی نگاہ سے محفوظ رہے اور چلتے چلتے آخری نصیحت یہ فرمائی :” بیٹا ! حالات چاہے جیسے بھی ہوں ، کبھی جھوٹ نہ بولنا “۔ اور پھر باچشم نم اپنے نور نظر کو ” اﷲ حافظ “ کہا۔

پہلا امتحان اور پہلی کرامت
تجارتی قافلہ جیلان سے نکلا اور ہمدان تک کا سفر نہایت خوشگوار طے ہوا ہمدان میں کچھ دن پڑاؤ ڈال کر وہاں سے بغداد کے لیے روانہ ہوا ، پھر آگے کی روئیداد خود حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی زبانی سنئے ،فرماتے ہیں :
” میں نے اپنی زندگی کی شروعات ہی سچائی سے کی ، وہ اس طرح کہ میں حصولِ علم کی خاطر جیلان سے بغداد چل پڑا ، میری والدہ نے مجھے اخراجات کے لیے چالیس دینار دئے اور مجھ سے ہر حال میں سچ بولنے کا وعدہ لیا ، ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد ایک مقام پر ڈاکوؤں کی ایک جماعت نے گھیر لیا ، اور اعلان کردیا کہ جس کے پاس جو بھی نقدی اور سونا چاندی وغیرہ ہے وہ ہمارے حوالے کردے ،تاجروں کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی قیمتی اشیاءچھپا رہے تھے ، اور اﷲ کی قسمیں کھا کھا کر ڈاکوؤں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش میں لگے تھے کہ ان کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں ، وہ انہیں مار مار کر ان سے سچ اگلوا رہے تھے ،ایسے میں ایک ڈاکو میرے پاس آیا اور پوچھا : ” تیرے پاس کیا ہے ؟ میں نے کہا : ”میرے پاس چالیس دینار ہیں“ اس نے سمجھا میں اس کے ساتھ مذاق کررہا ہوں ،اس لیے کہ نہ تو مجھ میں تاجرانہ شان تھی اور نہ ہی مال ومتاع کی کوئی پہچان، میرا لباس معمولی اور میرے پاس کپڑوں کی ایک چھوٹی سی گٹھری کے سوا اور کچھ نہ تھا ، وہ مجھے چھوڑ کر نکل گیا، دوسرا آیا ، اس نے بھی وہی سوال کیا ، میں نے اسے بھی وہی جواب دیا : وہ مجھے لے کر اپنے سردار کے پاس آیا ، اس نے مجھ سے پوچھا ‘ تو میں نے وہی جواب دیا اور ساتھ ہی وہ جگہ بھی بتلادی جہاں یہ دینار سلے ہوئے تھے ، ڈاکوؤں کے سردار نے جس کا نام عبد اﷲ بدوی تھا،مجھ سے پوچھا : ” تم نے سچ کیوں کہا ؟ میں نے کہا :
” میری ماں نے چلتے وقت مجھ سے عہد لےا تھا کہ میں ہرحال میں سچ کہوں، اگر میں جھوٹ کہتا تو میری ماں کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خیانت ہوجاتی “ ۔
میری بات سن کر سردار پر رقّت طاری ہوئی ، اس نے اپنا سر پیٹ ليا ،کپڑے پھاڑ لیے اور چیخ کر کہا :
” ایک تو ہے کہ اپنی ماں سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتا ہے اور ایک میں ہوں کہ اﷲ تعالی کے عہد میں خیانت کرتے ہوئے نہیں ڈرتا ؟ “۔
پھر اس نے لوٹی ہوئی چیزوں کو واپس کرنے کا حکم دیا اور کہا :” میں آج سے اس پیشے سے آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں “
یہ دیکھ کر اس کے ساتھیوں نے کہا :” تو آج تک ڈاکے میں ہمارا سردار تھا اور آج توبہ میں بھی ہمارا سردار بن گیا “ غرضیکہ تمام ڈاکو سچائی کی برکت سے نکوکار بن گئے ۔( تربیة الاولاد فی الاسلام )

اور یہ بہت بڑی کرامت تھی جو نوخیزی کی عمر میں اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں جاری کرادیا کہ آپ کو وجہ سے ڈاکووں کو ہدایت ملی اور اہل قافلہ کو ان کا لوٹا ہوا سامان واپس مل گیا، اس لیے کہ ہداےت سے بڑی خےرات اس کائنات مےں اور کچھ نہےں ، جیسا کہ رسول اﷲ انے سیدنا علی بن ابی طالب صکو خیبر کے دن معرکہ پر بھیجتے ہوئے فرمایا : اگر اﷲ تعالیٰ تمہارے ذريعہ کسی ايک انسان کو ہدايت دے تو يہ تمہارے حق ميں سُرخ اونٹوں سے بھی کہيں زيادہ بہتر ہے ۔( متفق عليہ)

بغداد میں ورود با مسعود
بغداد میں آپ نے وقت کے معروف مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور وقت کے اساطین علم وعمل سے کسب فیض کیا ،چند ہی سال کے عرصے میں علوم اسلامیہ کے عالم بے بدل ہوگئے ، لیکن حدیث نبوی سے بے پناہ والہانہ لگاؤ تھا ، اسی لیے زندگی بھر بغداد میں درس حدیث دیتے رہے ۔

آپ تا دم زیست متبع کتاب وسنت ، توحید کے علم بردار اور شرک وبدعات سے بری اور بیزار رہے ، آپ کا نعرہ تھا : لا معبود الا اﷲ ولا دلیل الا رسول اﷲ یعنی اﷲ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور محمد ا کے سوا اور کوئی حجت اور دلیل نہیں “۔

جاہلوں اور نادانوں نے آپ کی زندگی میں ہی بہت سی کرامتوں کو آپ سے منسوب کردیا تھا ۔

آپ کی کرامتوں کی شہرت سے متاثر ہوکر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور سترہ سال آپ کی خدمت میں رہ کر علم وعمل سیکھتا رہا ، لیکن آپ کی زندگی میں وہ کرامتیں نہیں پائیں جن کی شہرت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا ، وہ مایوس ہوکر ایک دن اپنا بوریا بستر گول کررہا تھا کہحضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ وہاں پہنچ گئے اور فرمایا :” کہاں کا ارادہ ہے ؟“وہ کہنے لگا : ”حضرت ! آپ کی کرامتوں کی شہرت نے مجھے یہاں کھینچ لایا تھا ، لیکن سترہ سال کے عرصے میں میں نے کسی بھی کرامت کا مشاہدہ نہیں کیا ، اس لیے رخصت ہورہا ہوں “ آپ نے فرمایا : ”اس سترہ سال کے عرصے میں تم نے مجھے کوئی فرض چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے ؟کیا کوئی سنت مجھ سے رہ گئی ہے ؟ کسی منکر یا مکروہ کو بجا لاتے ہوئے دیکھا ہے ؟کسی معروف سے کنارہ کشی کا مشاہدہ کیا ہے ؟ “

وہ کہنے لگا :” حضرت ! اس طرح کی کوئی بات میں نے آپ میں نہیں دیکھی “آپ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے فرمایا : ” جا یہی میری سب سے بڑی کرامت ہے “۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ راہ ِ ہدایت پر استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ،مشہور مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  رحمه الله  لکھتے ہیں :

” حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی سب سے بڑی کرامت ، مردہ دلوں کو زندہ کرنا ، ان میں ایمان اور خشیت الٰہی کے بیج بونا اور مردہ دلوںمیں ایمانی حرارت پیدا کرناہے ، آپ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بے شمار انسانوں کو حیات ایمانی عطا فرمائی، آپ کے مواعظ حسنہ اور تربیت سے ایمان کی ایسی باد نسیم چلی کہ مردہ دلوں کو زندگی بخشی، بیمار دلوں کو شفا یابی بخشی اور آپ کے ذریعہ عالم اسلام میں ایمان ، تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی بہار آگئی۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو عالم اسلام کی دینی اور روحانی سربراہی عطا فرمائی، اپنی دعوت کی نشر واشاعت کے لیے آپ نے بغداد کو چنا ، جو اس وقت خلافت عباسیہ کا پایہ تخت ، عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل اور ساری دنیا میں سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا ، صرف اسی بات سے ہی اس شہر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے وعظ وارشاد کی مجلسوں میں ستّر ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوتے تھے “۔( تاریخ دعوت وعزیمت )

توحید کی دعوت
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ نے ساری زندگی توحید کا درس دیا اور ساری انسانیت کو شرک ، بت پرستی ، قبر پرستی اور غیر اﷲ سے استغاثہ اور استمداد سے روکتے رہے ، فرماتے ہیں :

(1) ” مخلوق کو خالق کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دے ، اور حق تعالیٰ کو یکتا سمجھ ، وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے ، اسی کے ہاتھ میں تمام اشیاءہیں، اے غیر اﷲ سے کسی چیز کے مانگنے والے ! تو بے وقوف ہے ، کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اﷲ کے خزانوں میں نہ ہو ؟ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :” کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں “ ( یعنی ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں ) “ ( فیوض یزدانی :مجلس نمبرا صفحہ 25)

(2) ”بہادر وہی ہے جس نے اپنے قلب کو ما سوا اﷲ سے پاک بنایا اور قلب کے دروازے پر توحید کی تلوار اور شریعت کی شمشیر لے کر کھڑا ہوگیا کہ مخلوق میں سے کسی کو بھی اس میں داخل ہونے نہیں دیتا ، اپنے قلب کو مقلب القلوب سے وابستہ کرتا ہے ، شریعت اس کے ظاہر کو تہذیب سکھاتی ہے اور توحید ومعرفت باطن کو مہذب بناتی ہے“
( فیوض یزدانی :مجلس نمبر31 صفحہ 88 )

(3) ”تو کب تک مخلوق کو شریک خدا سمجھتا اور ان پر بھروسہ کرتا رہے گا ؟ تجھ پر یہ جاننا واجب ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نہ تجھ کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان ، ان کا محتاج وتونگر اور معزز وذلیل سب برابر ہیں ، حق تعالیٰ کا آستانہ پکڑ لے ، نہ مخلوق پر بھروسہ کر اور نہ اپنے کسب پر اور طاقت وزور پر ، بس حق تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر ، اسی ذات پر بھروسہ کر جس نے تجھ کو کسب پر قدرت بخشی اور تجھ کو کمانا نصیب فرمایا ، پس تو جب ایسا کرے گا وہ تجھ کو اپنے ساتھ سیر کرائے گا اور اپنی قدرت وعلم ازلی کے عجائبات دکھائے گا، تیرے قلب کو اپنے تک پہنچائے گا “۔(فیوض یزدانی :مجلس نمبر48 صفحہ 85)

محترم قارئین !یہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کے وہ ملفوظات ہیں جو آپ نے اپنی مجلسوں میں حاضرین اور شاگردوں کے حلقوں میں دئیے ۔ذرادیکھئے آپ کے ان الفاظ میں خالص توحیدکی بوٹپکتی ہے ، عبادت اور بندگی کے تمام اقسام صرف اﷲ کے لیے خاص کردئیے گئے ہيں ، مشرکوں ، ملحدوں، غیر اﷲ کو پکارنے والوں ، مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔

غوثِ اعظم اﷲ ہے
لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی ان تعلیمات کو فراموش کردیا خود ان کو اﷲ کا شریک قرار دے کر انہیں ” غوث اعظم “ اور ” دستگیر “ وغیرہ جیسے خطابات دے ڈالا ، جو صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے ہی مخصوص ہیں اور پھر ان سے استمداد اور استغاثہ کرنے لگے ،ان سے رزق، اولاد ،برکتیں طلب کرنے لگے اورحاجت براری کی دہائی دینے لگے ، حالانکہ فریادصرف اﷲ تعالیٰ ہی سے کی جا سکتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری سن لی“(انفال : 10)

ایک حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت صسے مروی ہے کہ رسول اﷲ اہماری جانب نکلے تو سیدنا ابوبکرص نے صحابہ کرام ثسے کہا : اٹھو تاکہ ہم اس منافق کے خلاف رسول اکرم  صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں فریاد کریں “یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :” استغاثہ ( فریاد طلبی ) مجھ سے نہیں اﷲ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے “(مسند احمد : 21648) نیز آپ انے اپنی لخت جگر نور نظر سیدہ فاطمہ رضي الله عنها کو صبح شام یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا تھا:

” یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحمَتِکَ اَستَغِیثُ، اَصلِح لِی شَانِی کُلَّہُ ، وَلاَ تَکِلنِی اِلٰی نَفسِی طَرفَةَ عَینٍ“ (صحیح الترغیب والترھیب :661) ترجمہ : ” اے وہ جو کہ زندہ ہے ! اے ( زمین وآسمان کو ) قائم رکھنے والے ! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا طلبگار ہوں، میرے تمام معاملات کو میرے لیے درست کردے ، اور مجھے ایک پل کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ فرما “ ۔

بیماری اور وفات
جب آپ کی عمر 91 سال کی ہوئی تو ایک دن طبیعت میں کچھ گرانی محسوس فرمایا تو آپ کے لڑکے عبد الجبار نے پوچھا : ابّا جان! آپ کے جسم میں درد تو نہیں ؟ فرمایا ! میرے بچے ! میرے دل کے سوا سارے جسم میں درد ہے ، دل کو میں نے اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول کررکھا ہے ، پھر آپ کی زبان سے وعلیکم السلام ورحمة اﷲ وبرکاتہ کے الفاظ نکلے ، پھر آپ پر موت کی کیفیت طاری ہوئی اور زبان سے جو الفاظ نکلے ان کا ترجمہ یہ ہے :

” میں اس اﷲ تعالیٰ کی ذات سے مدد طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہی زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آتی اور نہ جسے موت کا خوف ہے ، اس کی ذات پاک ہے جس نے اپنی قدرت سے غلبہ حاصل کررکھا ہے اور جس نے موت کے ذریعے اپنے بندوں کو قابو میں کر رکھا ہے “۔

پھر زبان سے نکلا” لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ “ پھر تین بار” اﷲ اﷲ اﷲ“ اور پھر رفیق اعلیٰ سے جا ملے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون
آپ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے لیکن اکثر علماءنے آپ کی تاریخ وفات 11 ربیع الثانی 561 ھ قرار دیا ہے
آپ کی شان میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه الله  فرماتے ہیں :
” مشہور صوفیاءمیں حضرت جنید بغدادی رحمه الله اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمه الله کے متبعین شرعی احکامات کے سب سے زیادہ پابند ہیں ، بلکہ شیخ عبد القادر جیلانی  رحمه الله کا ساری تعلیمات شریعت کی اتباع ، محظور (بدعات وخرافات )سے دوری اور مقدور (قضاءوقدر سے لاحق ہونے والی تکالیف ) پر صبر کے گرد ہی گھومتی ہیں “۔  ( مجموع الفتاویٰ :10/507)

امام ابن تيميہ رحمہ اللہ ، مختصر تعارف

0 comments

بسم اللہ الرحمن الرحیم


شيخ الاسلام امام احمد ابن تيميہ رحمہ اللہ
مختصر تعارف

تحریر : ڈاکٹر حافظ اكرام الحق يٰسين 


شيخ الاسلام تقي الدين ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علي بن عبد اللہ ابن تيميہ نميرى ، حرانى، دمشقى ، حنبلى (ولادت 661 ہجری ـــ وفات 728 ہجری ) عہد مملوكى كے نابغہ روزگار علماء ميں سے تھے ۔ اللہ تعالى نے انہیں ايك مجدد كى صلاحيتوں سے نوازا تھا ۔

آپ نے عقائد ، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سياست سميت تقريبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اہل علم ميں منفرد مقام پایا ۔ آپ بہت فصيح اللسان اور قادر الكلام تھے ۔ علم وحكمت، تعبير وتفسير اور علمِ اصول ميں انہیں خاص مہارت حاصل تھی ۔اپنے والد كى وفات كے بعد دمشق كے دارالحديث السكرية كى مسندِ حديث پر جب آپ نے پہلا درس ديا، اس وقت آپ كى عمر بيس سال كے قريب تھی، اس ميں قاضي القضاة اور ديگر مشايخ زمانہ موجود تھے ۔آپ نے صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم كے بارے ميں اتنے نكات بيان كيے کہ سامعين دنگ رہ گئے ۔ شيخ الاسلام تاج الدين فزارى شافعى ( م 690 ہجرى) نے ان كا پورا درس حرف بحرف قلم بند كر كے دارالحديث السكرية كے كتب خانہ ميں محفوظ كروا ديا ۔

ذہانت اور بے پناہ علمى قابليت كے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی ۔ آپ نے اپنے دور كے كئى علماء كے ساتھ علمى مناظرے بھی کیے اور حكومتِ وقت كے ساتھ مل كر تاتاريوں اور باغيوں کے خلاف عملى جہاد ميں بھی حصہ ليا ۔

نفاذِ شريعت كى كوششوں كے سلسلہ ميں آپ كو كئى تجاويز وشكايات لے كر وفود كے ساتھ حكام كے پاس جانے كا موقع بھی ملا۔ آپ كا انداز محققانہ اور محتاط تھا ۔ايك مرتبہ آپ كو قاضى كا عہدہ بھی پیش كيا گیا مگر آپ نے حكومتى شرائط سے متفق نہ ہونے كى وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔

موصوف كى انسانيت دوستى كا يہ عالم تھا کہ شام كے جنگی قيديوں كى رہائی كے ليے تاتارى مسلمان بادشاہ غازان كے پاس جا پہنچے ۔ اس نے آپ کے احترام ميں صرف مسلمان قيديوں كى رہائی كا اشارہ ديا تو آپ اس پر راضى نہ ہوئے اور يہ کہہ كر سب قيديوں كى رہائی پر اصرار كيا كہ یہودی اور نصرانى بھی ہماری رعايا ہیں اور ان كے جان ومال كى حفاظت ہم پر ضرورى ہے چنانچہ سبھی كو رہا كر ديا گیا ۔

آپ بےباك اس قدر تھے كہ 27 ربيع الاول 699 ہجرى كو جب شام كے شہر حمص اور سلميہ کے درميان وادى خازندار ميں تاتارى سلطان غازان اور سلطانِ مصر ملك ناصر محمدبن قلاؤن كے درميان سخت لڑائی كے نتیجے میں بہت تباہی ہوئی ، مصرى اور شامى فوجوں كا بہت نقصان ہوا اور ملك ناصر بھی فرار ہو كر قاہرہ پہنچ گئے تو امام ابن تيميہ رحمہ اللہ مشائخ دمشق كو لے كر 3 ربيع الثاني 699 ہجری كو بعلبك كے قريب تاتارى بادشاہ غازان سے ملاقات كرنے پہنچ گئے ۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے بہت پُرجوش انداز ميں عدل وانصاف كى خوبياں بيان كيں اور اس كے آباؤ اجداد كے مظالم كے ساتھ ساتھ ان كے بعض اصولوں اور وفائے عہد كا تذكرہ كيا ۔ غازان اگرچہ اس سے قبل ہی مسلمان ہو چکا تھا مگر تاتارى اور غيرتاتارى كى لڑائی تسلسل سے جارى تھی ۔ آپ كى تقريريں اس قدر سخت اور جملے اس قدر تندوتيز تھے كہ پورے وفد كو آپ کے قتل ہو جانے كا يقين ہو چلا تھا ۔ غازان نے انہیں قتل كرنے كى بجائے اپنے امراء كے سامنے ان كى بےباكى اور شجاعت كى تعريف كى اور ان سے دعاؤں كى درخواست كى ۔امام ابن تيميہ رحمه اللہ نے اس كے ليے يہ دعا كى : 
" اے اللہ اگر تو جانتا ہے كہ غازان تيرا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑ رہا ہے اور وہ تيرى راہ ميں جہاد کے ليے نكلا ہے تو تو اس كى مدد كر ۔اور اگر تيرے علم ميں ہے کہ وہ مال ودولت حاصل كرنے كے ليے نكلا ہے تو اس كو اس كى پوری جزا عطا كر ۔"
غازان اس پوری دعا پر آمين كہتا رہا !

آپ كى حق گوئی اور بے نفسى كا يہ عالم تھا كہ غازان نے آپ كے وفد كے ليے دسترخوان لگوايا مگر آپ نے وہاں كھانے سے انكار كرديا اور كہا: "ميں یہ کھانا كيسے کھا سکتا ہوں جب كہ اس كو لوٹ کھسوٹ كے مال سے تيار كيا گیا ہے ؟" 

امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے كسى کے خوف اور دباؤ كی پرواہ كيے بغير اپنی منفرد علمى تحقيقات كى اشاعت كى ۔ اپنے بعض علمى مباحثوں اور فتووں كى وجہ سے آپ كو ايك مدت تك قيد وبند كى صعوبتيں بھی برداشت كرنا پڑیں، حتى كہ جب داعئ اجل كو لبيك كہنے كا وقت آيا تو آپ زندگی كى آخرى قيد برداشت كر رہے تھے اور آپ كا جنازہ جيل ہی سے نكلا ۔ آپ كى كل مدت قيد سوا چھ سال بنتى ہے ۔

خير الدين زركلى نے دُرر كے حوالہ سے لکھا ہے كہ آپ كى تصانيف چار ہزاراجزاء سے متجاوز ہیں ۔ فوات الوفيات ميں ان كى تعداد تين سو مجلد منقول ہے ۔ ان ميں سے آپ كا ايك مبسوط فتاوى ، الجوامع، السياسة الشرعية ، الجمع بين العقل والنقل، الصارم المسلول على شاتم الرسول، رفع الملام عن الأئمة الأعلام، مجموعة الرسائل والمسائل بھی ہیں ۔

آپ کے حالات زندگی پر ابن قدامہ نے العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام أحمد بن تيمية ، شيخ مرعى حنبلى نے الكوكب الدرية ، سراج الدين عمر البزار نے الأعلام العلية في مناقب ابن تيمية، عبدالسلام حافظ نے الإمام ابن تيمية ، شيخ محمد ابو زہرہ نے ابن تيمية ؛ حياته وعصره_ آراؤه وفقهه، اور اسى طرح شهاب الدين أحمد بن يحيى بن فضل الله العمري، ابو عبدالله محمد بن أحمد بن عبدالهادي الحنبلي، وغيره كئى اہل علم نے عليحدہ عليحدہ كتابيں لکھیں ۔اردو ميں آپ كى سوانح پرڈاکٹر غلام جيلانى برق كى كتاب امام ابن تيميہ، افضل العلماء محمد يوسف كوكن عمرى كى مبسوط كتاب امام ابن تيميہ، اور مولانا ابو الحسن على ندوى كى كتاب تاريخ دعوت وعزيمت جلد دوم بہت مفيد ہیں۔

نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے مابین رشتے داریاں

0 comments
نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے مابین رشتے داریاں

حلیہ مبارک

0 comments
حلیہ مبارک
از امام ابن حزم
رسول اللہ ﷺ نہ بہت لانبے تھے نہ پستہ قد ، بلکہ آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا ۔ رنگ کے اعتبار سے آپ نہ بالکل سفید تھے نہ گندم گوں ، بلکہ رنگ سفیدی کے ساتھ سرخی لیے ہوئے تھا۔ چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ، چمک دار، سر کے بال نہ بالکل سیدھے نہ بالکل پیچ دار بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی کے ساتھ گھونگھریالے تھے ۔ اعضاء کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی اور پر گوشت تھیں ۔ پلکیں سیاہ سرمگیں ۔ آنکھوں کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے ، دندان مبارک خوب صورت چمک دار۔ دہن اعتدال کے ساتھ فراخ یعنی تنگ نہ تھا ، ناک خوب صورت ، رفتا ر تیز تھی ، چلتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ڈھلواں زمین پر اتر رہے ہیں ۔ جب آپ توجہ فرماتے تو پورے بدن کے ساتھ فرماتے یعنی صرف گردن پھیر کر متوجہ نہیں ہوتے تھے ۔ نگاہ اکثر نیچی رہتی تھی ۔ ہتھیلیاں پر گوشت اور ملائم تھیں ۔ ایڑی میں گوشت کم تھا۔ ریش مبارک گھنی اور بال سیاہ تھے۔ آپ کے پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے ۔ سر کے بال زیادہ لانبے ہوتے تو کان کی لو تک یا شانے تک پہنچ جاتے تھےے ورنہ نصف کان کی لو تک یا شانے تک رہتے تھے ، آپ کے سر اور داڑھی کے بال بیس سے زیادہ سفید نہ تھے یعنی گنتی کے بال سفید تھے ۔
(جوامع السیرۃ : امام ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم م ۴۵۶ھ)
اقتباس : تجلیات نبوت از مولانا صفی الرحمن مبارک پوری

نبوی مسکراہٹیں

0 comments
نبوی مسکراہٹیں

دین سے وابستہ لوگوں اور دینی پیشواؤں کام نام آتے ہی عموما کسی خشک مزاج شخصیت کا خاکہ ذہن میں آتا ہے جس کے چہرے پر کسی نے مسکراہٹ دیکھی ہو، نہ وہ ہنستا ہو، نہ کسی کے ساتھ گھلتا ملتا ہو،لیکن رہبر کامل صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زندگی ان چیزوں سے پاک تھی۔ وہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم)اپنے صحابہ کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے، ہلکا پھلکا مزاح بھی فرما لیا کرتے تھے۔ عظیم کارنامے انجام دینے والی شخصیت کے لیے یہ ایک لازمی وصف ہے کہ وہ فرائض حیات کے بوجھ کو اپنے تبسم سے گوارا بنا دےاور ساتھیوں کے دلوں میں گھر کر لے۔ چنانچہ چہرہ مبارک پر ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔ توازن و اعتدال کے ساتھ مزاح فرماتے تھے اور مجلس میں شگفتگی کی فضا پیدا کر دیتے۔لیکن مزاح کا رنگ آٹے میں نمک کی طرح ہلکا رہتا اور اس میں بھی نہ تو خلاف حق کوئی بات شامل ہوتی، نہ کسی کی دلآزاری کی جاتی، نہ ٹھٹھے لگا کر ہنسنا معمول تھا، غنچوں کاسا تبسم ہوتا جس میں زیادہ سے زیادہ دانتوں کے کیلے دکھائی دیتے، حلق نظر نہ آتا۔ عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
ما رأيت أحداً أكثرَ تَبسماً مِن رَسولُ الله ُ صَلى الله عِليهِ وسَلَّم 
::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا 
(سنن ترمذی کتاب المناقب عن رسول اللہ باب فی بشاشۃ النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، تحقيق الألباني :صحيح مختصر الشمائل ( 194 ) ، المشكاة ( 5829 / التحقيق الثانى)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے عظیم الشان مقام کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مزاح فرما لیتے تھے ان کی یہ مبارک اور مہربان عادت دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہواتو عرض کیا 
::: """ یارسول الله إنك تداعبنا ::: اے اللہ کے رسول آپ ہمارے ساتھ مزاح بھی فرماتے ہیں ؟ """ 
تو اِرشاد فرمایا:
نعم غير أني لا أقول إلا حقاً ::: جی ہاں (میں مذاق کرتا ہوں ) لیکن میں حق (بات)کے علاوہ کچھ اور نہیں کہتا 
(سنن ترمذی کتاب البر و الصلۃ عن رسول اللہ باب ما جاء فی المزاح۔تحقيق الألباني :صحيح ، الصحيحة ( 1726 ) ، مختصر الشمائل المحمدیۃ للالبانی ص 125)
بسا اوقات ایسا واقعہ بیان فرماتے جس میں مزاح اور تربیت دونوں کی آمیزش ہوتی اور اپنی اثر انگیزی کی وجہ سے وہ سامعین کی یادداشت کا حصہ بن جاتا۔بطور مثال درج ذیل واقعہ ملاحظہ کیجیے جس میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ، اس کی رحمت و مغفرت کا بیان بھی ہے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آنے کا سامان بھی۔
ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
إني لأعلم أول رجل يدخل الجنة وآخر رجل يخرج من النار : يؤتى بالرجل يوم القيامة فيقال : اعرضوا عليه صغار ذنوبه ويخبأ عنه كبارها . فيقال له : عملت يوم كذا كذا وكذا وهو مقر لا ينكر وهو مشفق من كبارها فيقال : أعطوه مكان كل سيئة حسنة . فيقول : إن لي ذنوبا لا أراها ههنا :::
بے شک میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا اور اس شخص کو بھی جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا “اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو” اوراس کے بڑے گناہ اس سےاوجھل رکھ کر کہا جائے گا “فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیا تھا نا؟”۔ وہ اقرار کرے گا اور انکار نہیں کر سکے گا۔ اور بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا۔ پھر حکم ہو گا “ہر گناہ کے بدلے میں اسے ایک نیکی دے دو”۔ اس پر وہ بول اٹھے گا “ابھی تو میرے اور گناہ بھی باقی ہیں جنہیں میں یہاں دیکھ ہی نہیں رہا”۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه ::: میں نے دیکھا کہ (یہ بات بیان فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک ان کے (سامنے والےنوکیلے درمیانی دو داتنوں کے دائیں بائیں والے)دانت مبارک نُمایاں ہو گئے 
(مسند احمد بن حنبل/ مسند الانصار /حدیث ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ۔ مختصر الشمائل ٕالمحمدیہ للالبانی /ص 121)
بڑے بڑے کام کرنے والے لوگ بالعموم رابطہ عام کے لیے وقت نہیں نکال سکتے اور نہ ہر طرف توجہ دے سکتے ہیں۔ بعض بڑے لوگوں میں خلوت پسندی اور خشک مزاجی پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ تکبر کا شکار ہو کر اپنے لیے ایک عالم بالا بنا لیتے ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انتہائی عظمت کے مقام پر فائز ہو کر بھی اپنے ساتھیوں میں گھل مل جاتے تھے۔تکبر، علیحدگی پسندی کا شائبہ تک نہ تھایہاں تک کہ بچوں سے بھی مزاح فرما لیتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی ابوعمیر نےنعیر نامی پرندہ پال رکھا تھا جو مر گیا۔ ابوعمیر اس کے مرنے پر مغموم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انہیں بہلانے کے لیےبطور مزاح فرماتے جاتے تھے:
يا أبا عمير ما فعل النغير ::: اے ابو عمیر، کیا کیا نغیر نے”؟
(سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی الصلاۃ علی البسط۔ مختتصر الشمائل المحمدیہ للالبانی ص 125)
اس کا اصل لطف عربی عبارت میں ہی ہے۔ عمیر اور نغیر کے ہم قافیہ ہونے سے مزاح کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ 
بے تکلفی کا یہ عالم فقط قریبی احباب کے ساتھ ہی نہ تھا بلکہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شفقت اور محبت کا دائرہ اپنے ہر چھوٹے بڑےساتھی کو گھیرے میں لیے ہوا تھا۔ زاہر نامی ایک بدوی صحابی تھے جو دیہات سے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے مخلصانہ جذبے سے ہدیہ لایا کرتے تھے۔ پھر جب وہ واپسی کا ارادہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ان کے لیے کچھ سامان تیار کرا دیتے اور اظہار محبت کے طور پر فرماتے کہ “زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں”۔ یہ زاہر ایک دن بازار میں کچھ سامان بیچ رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو چپکے سے پیچھے جا کر آنکھوں پر ہاتھ دیے اور پوچھا “بتاؤ میں کون ہوں؟”وہ پہلے تو کچھ نہ سمجھے، پھر جب معلوم ہوا تو فرط اشتیاق میں نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سینے سے اپنے کندھے ملتے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (مزاحًا) فرمایا: “کوئی ہے جو اس غلام کو خریدتا ہو”۔زاہر کہنے لگے “اے اللہ کے رسول! مجھے جیسے ناکارہ غلام کو جو خریدے گا گھاٹے میں رہے گا”۔ فرمایا “تم اللہ کے ہاں ناکارہ نہیں ہو”۔( مختصرالشمائل المحمدیہ للالبانی )
الفاظ کی طرز ادائیگی بدلنے سےبعض اوقات مفہوم بھی بدل جاتا ہے جس کا بروقت اور برجستہ استعمال چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ لے آنے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔ اسوہ حسنہ سے ایسی ہی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ کیجیے: 
أن رجلا استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ::: انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سواری مانگی، تو (مزاحاً ) اِرشاد فرمایا ((((( إني حاملك على ولد ناقة ::: میں تمہیں اونٹی کے بچے پر سوار کروں گا ))))) تو ا س شخص نے کہا """ يا رسول الله ما أصنع بولد الناقة ؟ ::: اے اللہ رسول! اونٹی کے بچے کو لے کر میں کیا کروں گا؟""" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( وهل تلد الإبل إلا النّوق ؟ ::: ہر اونٹ کسی اونٹی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے))))) (سنن ترمذی کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ۔ باب ما جاء فی المزاح۔ مختصرالشمائل المحمدیہ للالبانی ص 126)
اسی طرح کی ایک دوسری مثال درج ذیل واقعے میں ملتی ہے:
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی “اے اللہ کے رسول! دعا کیجیے کہ اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( يا أم فلان إن الجنة لا تدخلها عجوز ::: اے فلاں کی ماں! جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت داخل نہیں ہو گی))))) وہ یہ سن کر رونے لگیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےحاضرین سے فرمایا:
((((( أخبروها أنها لا تدخلها وهي عجوز إن الله تعالى يقول """ إنا أنشأناهن إنشاء فجعلناهن أبكارا عربا أترابا ::: اسے بتاؤ کہ وہ اس حال میں جنت میں نہیں جائے گی کہ وہ بوڑھی ہو ( یعنی اللہ تعالیٰ جنتی عورتوں کو جوان کر کے اس میں داخل کرےگا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ہم نے اٹھایا ان (جنتی) عورتوں کو ایک اچھی اٹھان پر، پھر کیا انکو کنواریاں، پیار دلانے والیاں، ہم عمر))))) (الشمائل المحمدیہ للامام الترمذی باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ۔ مختصر الشمائل المحمدیہ للالبانی ص 128 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے لی گئی یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو معتدل ہوتا ہے۔ وہ دنیا کی رنگینیوں میں اس طرح نہیں کھو جا تا کہ آخرت کو فراموش کر دے تو دوسری جانب اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا خیال رکھتے ہوئےجائز تفریح اور خوش مجلسی سے بھی مستفید ہوتا ہے۔ انسانیت کا کوئی تصور ہم جذبات کو الگ رکھ کر نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ان نام نہاد بڑے لوگوں میں سے نہ تھے جو سنگ دل اور تغافل کیش ثابت ہوتے ہیں۔بعد کے لوگوں کو اس رنگ مزاح کا حال سن کر تعجب ہوتا ہے۔ کیونکہ اکثر متقیوں اور اللہ کی عبادت کرے والوں کی رونی صورتیں اور خشک طبیعتیں لوگوں کے سامنے رہی ہیں اور عموما دین و مذہب کے ساتھ خشک مزاجی کا تصور موجود رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا شوق عبادت، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کی خشیت اور رسالت کی بھاری ذمےد اریوں کا خیال کیا جائے تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس قدر مصروف ، اعلیٰ ترین اور مکمل ترین تقویٰ والی زندگی میں بھی ان مسکراہٹوں کے لیے کیسے جگہ پیدا فرمائی۔ ایسی ہمہ گیری اور توازن یقینًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بلند منصب ہی کے شایان شان ہو سکتا تھا۔ یہ واقعات جہاں ہمارے لیے مزاح کی جائز صورتوں کی وضاحت کرتے ہیں وہیں ان میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ متوازن زندگی کا ایک لازمی جز جائز تفریحات ہیں۔ یہ جز ساقط ہو جائے تو زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور جس نظام میں جائز تفریحات کی گنجائش نہ رکھی گئی ہو اسے کوئی معاشرہ زیادہ دیر تک نہیں اٹھا سکتا۔