YOUR INFO

Showing posts with label نماز کے مسائل. Show all posts
Showing posts with label نماز کے مسائل. Show all posts

Monday, 22 July 2013

کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے

0 comments


کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے اور اس کے متعلق کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟


عورت جماعت کروا سکتی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے:

(( وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَزُوْرُہَا فِیْ بَیْتِہَا وَ جَعَلَ لَہَا مُؤَذِّنًا یُؤَذِّنُ لَہَا وَاَمَرَہَا أَنْ تَؤُمَّ اَہْلَ دَارِہَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ فَأَنَا رَأَیْتُ مُؤَذِّنَہَا شَیْخًا کَبِیْرًا ))
[أبوداوٗد، باب إمامۃ النساء (۵۹۲)، قال الألبانی حسن]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں زیارت کے لیے جاتے تھے اور آپ نے اس کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا جو اس کے لیے اذان کہتا اور آپ نے ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرائے۔ عبدالرحمن بن خلاد انصاری کہتے ہیں میں نے اس کے مؤذن کو دیکھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (۳/۸۹، ح : ۱۶۷۶) اور امام ابن الجارود (۳۳۳) نے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ نیموی حنفی نے آثار السنن (۵۱۳) میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔
بعض لوگوں نے اس کی سند پر اعتراض کرتے ہوئے عبدالرحمن بن خلاد کو مجہول قرار دیا ہے، لیکن ابن خزیمہ اور ابن الجارود نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے توثیق کردی ہے، اسی طرح ابن حبان نے بھی اس کی توثیق کی ہے، لہٰذا اس کی جہالت ختم ہو جاتی ہے اور لیلیٰ بنت مالک نے اس کی متابعت بھی کر رکھی ہے۔
عورت کی امامت کے حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر کی خواتین کو ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرض نماز کی امامت کرواتی تھیں۔
[عبد الرزاق (۵۰۸۶)، بیھقی (۳/۱۳۱، ح : ۵۳۵۵)، آثار السنن (۵۱۴)، ابن أبی شیبۃ (۲/۸۹)]
ظفر احمد تھانوی نے اعلاء السنن (۴/۲۴۳) میں اس کی سند کو صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے صف کے درمیان میں کھڑے ہو کر عصر کی نماز عورتوں کو پڑھائی تھی۔ [عبدالرزاق (۵۰۸۲)، الأوسط لابن المنذر (۴/۲۲۷) ابن أبی شیبۃ (۲/۸۸)، بیھقی (۳/۱۳۱، ح : ۵۳۵۷)]
بعض لوگ عورتوں کی امامت کے قائل نہیں ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت پیش کرتے ہیں:
(( لَا خَیْرَ فیْ جَمَاعَۃِ النِّسَائِ اِلَّا فِیْ مَسْجِدٍ اَوْ فِیْ جَنَازَۃِ قَتِیْلٍ )) [طبرانی أوسط (۹۳۰۵)، مسند أحمد (۶/۶۶، ح : ۲۴۸۸۰)]
’’مسجد اور کسی شہید کے جنازہ کے علاوہ عورتوں کی جماعت میں خیر نہیں ہے۔‘‘
اس کی سند میں عبداللہ بن لہیعہ مختلط و مدلس ہے اور اس کے قدیم شاگردوں نے اس سے یہ روایت بیان نہیں کی۔ یہ روایت الوازع بن نافع کی سند سے طبرانی اوسط (۸/۶۴،ح : ۷۱۲۶) اور طبرانی کبیر (۱۲/۳۱۷) میںبھی موجود ہے لیکن الوازع بن نافع متروک راوی ہے۔ لہٰذا عورت کی جماعت کی ممانعت پر کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ 
عورت اگر عورتوں کی جماعت کروانا چاہے تو درمیان میں کھڑی ہو کر نماز پڑھا سکتی ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

Sunday, 14 July 2013

ركوع سے اٹھنے كے بعد ہاتھ كہاں ركھے جائيں

0 comments

ركوع سے اٹھنے كے بعد ہاتھ كہاں ركھے جائيں ؟

ركوع سے اٹھ كر ہاتھ كہاں ركھے جائيں گے ؟ ميں نے بعض لوگوں كو سينہ پر ہاتھ ركھے ہوئے اور بعض كو ہاتھ چھوڑے ہوئے ديكھا ہے.


الحمد للہ:

ركوع سے اٹھ كر ہاتھ ركھنے كى كيفيت ميں صحيح يہ ہے كہ داياں ہاتھ بائيں بازو پر ركھا جائے، اور ہاتھ نہ چھوڑے جائيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ظاہر يہ ہوتا ہے كہ سنت يہ ہے داياں ہاتھ بائيں بازو پر ركھا جائے، كيونكہ سھل بن سعد الثابت رضى اللہ تعالى عنہ كى بخارى شريف ميں عمومى حديث ہے جس ميں بيان ہوا ہے كہ:

" لوگوں كو حكم ديا جاتا تھا كہ وہ نماز ميں اپنا داياں ہاتھ بائيں بازو پر ركھيں "

چنانچہ اگر آپ اس حديث كے عموم كو ديكھيں كہ " نماز ميں " يہاں يہ بيان ہوا ہے نماز ميں اور يہ نہيں كہا گيا كہ " قيام ميں " تو آپ كے ليے يہ واضح ہو گا ركوع كے بعد اٹھ كر بھى ہاتھ باندھنے مشروع ہيں؛ اس ليے كہ نماز ميں ركوع كى حالت ميں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر اور سجدہ كى حالت ميں زمين پر، اور بيٹھنے كى حالت ميں دونوں رانوں پر، اور قيام كى حالت ميں ـ يہ ركوع سے قبل اور ركوع كے بعد دونوں كو شامل ہے ـ انسان اپنا داياں ہاتھ بائيں بازو پر ركھے.

صحيح يہى ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 3 / 146 ).

واللہ اعلم .

Wednesday, 10 July 2013

عورت کے لیے با جماعت نماز ادا کرنے کا حکم

0 comments


عورت کے لیے با جماعت نماز ادا کرنے کا حکم
جمع و تدوین ذیشان اکرم رانا
ہمارے ہاں عورت کا مسجد میں جاکر نماز باجماعت اداکرنے کے بارے میں مختلف لوگوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں لہذا ان تمام آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کے دلائل کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غیرجانبدرانہ موقف کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہذا درخواست یہ ہے کہ اس کوشش کو تقلیدی ذہن یا تعصب کی وجہ سے رد کرنے کی بجائے سوچ وبچار کی اگر زحمت کی جائے گی تو ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔

عورتوں کے لیے با جماعت نمازکی ادائیگی کے حوالے سے دو مسئلے سامنے آتے ہیں :
1- عورتوں کا مسجد میں با جماعت نماز کی ادائیگی کا حکم
2- عورتوں کا گھرمیں نمازکی ادائیگی کے لیے جماعت کا حکم
عورتوں کا مسجد میں با جماعت نماز کی ادائیگی کا حکم
عورتوں کاجامع مسجد میں با جماعت نماز کی ادائیگی کے لیے گھروں سے نکلنے کےبارے میں جائز ناجائزکاحکم لگانے سے پہلےفقہائے کرام کی رائے اور ان کے نقطۂِ نظر کا اجمالی خاکہ پیش خدمت ہے:
فقہائے کرام کی ایک جماعت عورت کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوے یہ تفریق کرتی ہے کہ عورت بوڑھی عمر رسیدہ ہے یا جواں سال اور اگر بوڑھی ہےتوفقہاء کی ایک جماعت اسے با جماعت نمازکی ادائیگی کے لیے مسجد جانے کی اجازت دیتی ہے۔ اور اگر جوان ہے تو اسے جانے کی اجازت نہیں۔ بلکہ بعض فقہاء نے تو بوڑھی عورت کو بھی مسجد جانے کی اجازت نہیں دیتے۔اور فقہائے کرام کی ایک جماعت عورتوں کو مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کی حجاب اور آداب شریعت کو مد نظر رکھ کر نکلنے سے مشروط اجازت دیتے ہیں ۔
در اصل اس اختلاف کے پیچھے عورت کے گھر سے نکلنے سے پیدا ہونے والے مفاسد کا انسداداور کسی فتنہ کے جنم لینے سے پہلے حفظ ماتقدم کا جذبہ کارفرماہے۔
فقہائے کرام کے نقطۂِ نظرکے اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلاقول: فقہائے احناف جوان عورت کوکلی طور پرمسجد جانے سےبالاتفاق منع کرتے ہیں ۔لیکن اگرعورت بوڑھی ہے تو صاحبین کے نزدیک تمام نمازیں اور امام ابو حنیفہ ﷫کے نزدیک صرف نماز ظہر ،عصر اور جمعہ مسجدمیں ادا کرسکتی ہے ۔( )
دوسرا قول: فقہائے مالکیہ کہتے ہیں کہ بڑی عمرکی عورت جس میں مردوں کے لیےدلچسپی اور آرزو نہیں رہی وہ مسجد جا سکتی ہے، اگر مردوں کے لیے اس میں کوئی آرزو اور دلچسپی باقی ہے تو وہ وقتا فوقتا جاسکتی معمول نہیں بنا سکتی اور جوان عورت اگر زیب و زینت کا اظہارنہیں کرتی تو مسجد جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے اولی یہ ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھے اور اگروہ زیب و زینت کا اظہار کرتی تو اس کے لیےمسجد جانا جائزنہیں۔( )
تيسرا قول: فقہائے شوافع کہتے ہیں کہ عورتوں پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا فرض ہے نہ فرض کفایہ لیکن بوڑھی عورتوں کے لیے مردوں کی جماعت کے ساتھ مسجدمیں نماز ادا کرنا مستحب ہے اور نوجوان عورتوں کے لیے مکروہ ہے اور مزید اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ عمررسیدہ اور ایسی عورتوں کے لیےمسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے جن کی شخصیت پر کشش نہ ہو کہ وہ مردوں کےلیےکسی میلان کا باعث بنیں ،لیکن اگر وہ کسی توجہ کا مرکز بنتی ہیں تو پھر ان کانماز کر لیے گھروں سے نکلنااور اس کو معمول بنا لینا مکروہ ہے ۔ ( )
بعض فقہاء عیدین کی نمازوں کے علاوہ بقیہ تمام نمازوں کے لیے نوجوان عورت کامسجد جانا مکروہ جانتے ہیں۔ ( )
چوتھا قول: اور فقہائے حنابلہ کے مشہور مذہب کے مطابق نوجوان عورت کے لیے مسجد میں با جماعت نماز پڑھنا مکروہ اور بوڑھی عورت کے لیے جائز ہے، ایک روایت کے مطابق بغیر کسی امتیاز اور تقسیم کے تمام عورتوں کے لیےمساجد میں با جماعت نماز پڑھنا مباح ہے ۔( )
عورتوں کا مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے بارے میں فقہاء کا درجہ بالا نقظۂِ نظرسے ایک چیز قدرے مشترک ہے کہ اگر عورت بوڑھی ہے تو اس کے لیے نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد جانا جائز ہے اور اگر وہ جوان ہے تو اس کے لیے مسجد جانا مکروہ ہے۔فقہاء نے جن اپنے مذکورہ موقف کو جن دلائل سے استدلال کیا ہے،درج ذیل ہیں:

1- عن ابن عُمَرَ رضي الله عنهما عن النبي صلي الله عليه وسلم قال إذا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إلى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ. ( )
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رسو ل اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : جب تم سے تمہاری عورتیں رات کے وقت مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انھیں اجازت دے دو۔‘‘
2- عن أبي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ الله صلي الله عليه وسلم قال لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ الله مَسَاجِدَ الله وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ( )
’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺے فرمایا: اللہ کی لونڈیوں کو مسجدوں سے نہ روکو لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو کے بغیر نکلیں۔‘‘
3- عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلاَ تَمَسَّ طِيبًا ( )
’’حضرت زینب زوجہ عبداللہ روایت کرتی ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے ہم سےفرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجدآنے کا ارادہ کرے تو وہ خوشبو نہ لگائے ۔‘‘
4- عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فلا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ( )
’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو عورت خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو۔‘‘
5- عن بن عُمَرَ رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ. ( )
’’حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : اپنی عورتوں کو مسجدوں میں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔‘‘
6- عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رضي الله عنها زَوْجَ النَّبِىِّ تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِى إِسْرَائِيلَ.قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَنِسَاءُ بَنِى إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ قَالَتْ نَعَمْ. ( )
’’عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عائشہ سے سنا آپ فرماتی تھیں اگر رسو ل اللہ ﷺدیکھ لیتے جو عورتوں نے (زیب وزینت خوشبو اور زرق برق کپڑے )ایجاد کر لیے ہیں تو وہ ضرور ان کو مسجدوں سے منع کر دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔میں نے عمرہ سے کہا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجدوں سے روک دیا گیا تھاتو انھوں کہا: ہاں۔‘‘
7- عن عَائِشَةَ رضي الله عنها عَنِ النبي صلي الله عليه وسلم قال لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ الله مَسَاجِدَ الله وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلاَتٍ قالت عَائِشَةُ : وَلَوْ رَأَى حَالَهُنَّ الْيَوْمَ مَنَعَهُنَّ( )
’’ام المومنین عائشہ نبی کریم ﷺسے بیان کرتی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : اللہ تعالی کی بندیوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکو، اور انہیں بھی چاہیے کہ وہ بغیر خوشبو کے (گھروں سے) نکلیں، حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اگر رسول اللہ ﷺآج ان کا حال دیکھتے تو انہیں (مسجدوں میں جانے سے) منع فرماتے۔‘‘
8- عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلي الله عليه وسلم « لاَ تَمْنَعُوا النِّسَاءَ مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ ». فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ لاَ نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً. قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ الله صلي الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ نَدَعُهُنَّ. ( )
’’حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : عورتوں کو رات کے وقت مسجدمیں جانے سے نہ روکو ۔ عبداللہ بن عمر کے بیٹے نے کہا کہ ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہ نکلیں اور کو فتنہ فساد پیدا کریں۔راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر نے ان کو ڈانٹ پلائی اور کہا کہ میں کہتا ہوں کہ رسو ل اللہ ﷺنے کہا اور تو کہتا ہے کہ ہم انھیں ضرور روکیں گے۔ ‘‘
درجہ بالا احاديث كو جمع اور تطبیق دی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتی ہیں
1- عورتوں کے اولیاء اور ذمہ دران کو حکما کہا گیاہے کہ جب خواتین سےکسی قسم کی خوشبو کی مہک محسوس نہ ہورہی تم انہیں مسجد جانے سے نہ روکویہاں تک کہ اگر وہ نمازعشاء کی ادائیگی کے لیے بھی جانا چاہیں تو تم انہیں منع نہ کرو۔
2- جہاں رسول اللہ ﷺنے خواتین کے ذمہ دران کو انہیں مسجد جانے سے منع کرنے سے روکا ہے وہاں خواتین کو بھی یہ ارشادکر دیا ہے (وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ)کہ ان کا گھروں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے ۔
اسی طرح اگر ایک طرف خواتین کے ذمہ دران کو انہیں مسجد جانے سے منع کرنے سے روکا ہے تو دوسری طرف خواتین کو بھی مسجد جانے کے آداب کی ہدایت اورتعلیمات دےدی ہیں کہ اگروہ مسجد جانا چاہیں تو خوشبواستعمال نہ کریں،اور اگر وہ خوشبو سےمعطر ہیں تو مسجد جانے سے گریزکریں ،لیکن اگر خوشبو استعمال کر چکی ہوں اور مسجد بھی جانا چاہتی ہوں تو ان پر واجب ہے کہ وہ غسل جنابت کی طرح کا غسل کرکے مسجد جائیں ۔
رسول اللہ ﷺکی رحلت کے کچھ عرصہ بعد جب مختلف فتنوں نے جنم لیا تو ام المؤمنین عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر آج رسول اللہﷺ ہوتے تو جن اسباب(زیب وزینت ، خوشبو کا استعمال اور کپڑوں کی نمائش وغیرہ) کی وجہ سے بنی اسرائیل کی عورتوں کو مساجد جانے سے منع کیا گیا تھا ان کی بنا پر ہماری عورتوں کو بھی مسجد جانے سےمنع فرما دیتے ۔اور شاید اسی وجہ سے حضرت بلال کا اپنے باپ حضرت عبد اللہ بن عمر سے تکرار ہو گیا، حضرت عبد اللہ بن عمر نے چونکہ رسول اللہﷺ سے براہ راست کسب فیض کیا تھا ، رسول اللہ ﷺنے اگر کوئی عورت مسجد جاناچاہے تو اسے روکنے سےمنع فرمایا لیکن کچھ عرصہ بعدجب مختلف فتنوں نے سر اٹھایا تو حضرت بلال بن عبد اللہ نے حلفا کہا کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے۔
اور جہاں تک فتنہ و فساد کی علت کو بنیاد بناکر عورتوں کو مسجد جانے سے روکا جاتا ہے ، لیکن اس اصول کو حضرت علقمہ بن وائل کندی کی روایت (کہ جس میں ایک عورت نماز فجر ادا کرنے لیے مسجد نبوی جا رہی تھی کہ راستے میں ایک نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ) ( )یا اس کے علاوہ ذخیرہ حدیث میں سے کوئی ایسی روایت نہیں ملتی کہ آپؐ نے زنا بالجبر ہونے والی عورت یا اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کو مسجدمیں نماز پڑھنے سے منع کیا ہو۔ جہاں آپؐ سے عورتوں کے گھر میں نماز پڑھنے کی فضلیت ثابت ہے وہاں صحابیات کا رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی ثابت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپؐ نے عورتوں کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے آنے جانے کے آداب کی تعلیم بھی ثابت ہے اور صحابہ کو ان کے مسجد آنے سے منع کرنے سے بھی روکا ہے۔
فقہائے کرام کا نقطۂِ نظر جاننے کے بعد جو چیز بطور خاص عیاں ہوتی ہے وہ فقہ اسلامی کا اصولی اور بنیادی قاعدہ ہے :
درء المفاسد أولی من جلب المصالح .مفاسد کا دفع کرنا مصلحت کے حصول سے اولی ہے۔
لہذا اگر کسی قسم کے فتنے کا ڈر ہو تو ان کا گھروں میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ بصورت دیگر اگر وہ عام حالات میں مسجدجانا چاہیں تو انہیں روکا نہ جائے او ر انہیں بھی چاہیے کہ وہ زرق برق کپڑوں کی نمائش ، زیب و زینت کے اظہارخوشبواورزیورات یا اس کے علاوہ کوئی ایسی آواز جس کی وجہ سے ان کا راہ چلتے لوگوں کی توجہ کامرکز بننے کا اندیشہ ہو تو ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ اور اگر وہ مکمل شرعی آداب کا لحاظ رکھتے ہوے مسجد جاتی ہیں تو اجازت ہے۔
نوٹ:جہاں تک حضرت عائشہ کے بارے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا تو اس کا سادہ سے جواب یہ ہے کہ شریعت میں نسخ کا اختیار نبی کے پاس بھی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی کی طرف سےآتا ہے تو جب نبی اپنی طرف سےنسخ یا تبدیلی احکام نہیں کر سکتا تو نعوذ باللہ بعد میں کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ شرعی احکام میں تبدیلی یا نسخ کا حکم جاری کر سکے۔اس لیے یہ سراسر حضرت عائشہ پر بہتان ہے کہ انہوں نے منسوخ کر دیا تھا اور جس نے بھی اس قول کا اظہار کیا ہے وہ بالکل شرعی علوم سے ناواقف معلوم ہوتا ہے ورنہ ایسی بات نہ کی جاتی۔
اللہ تعالی حق کو قبول کرنے توفیق دے اور پھر اس پر عمل کی بھی توفیق عنایت فرمائیں۔آمین

ِِِِ۔


( ) مختصر اختلاف العلماء ، الطحاوي 1/231، البحر الرائق 1/380، حاشية ابن العابدين 1/566
( ) شرح مختصر خليل 2/35، التمهيد 23/402، الاستذكار 2/469
( ) المجموع4 / 170،171، روضة 1 / 340.
( ) المجموع 4 /405 ،روضة 1لطالبین 1/ 340 ،مغنی المحتاج 1 / 230 ،الوسیط2 / 226.
( ) الإنصاف 2/212،
( ) صحيح بخاري كتاب الصلاة ‘ باب خُرُوجِ النِّسَاءِ إلى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ وَالْغَلَسِ، حديث: (865)، صحيح مسلم، كتاب الصلاة، بَاب خُرُوجِ النِّسَاءِ إلى الْمَسَاجِدِ إذا لم يَتَرَتَّبْ عليه فِتْنَةٌ وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً، حديث (442)
( ) سنن ابی داؤد کتاب الصلاة بَاب ما جاء في خُرُوجِ النِّسَاءِ إلى الْمَسْجِدِ (565)، مسند احمد 2 / 438 (9643)
( ) صحيح مسلم‘كتاب الصلاة ‘بَاب خُرُوجِ النِّسَاءِ إلى الْمَسَاجِدِ إذا لم يَتَرَتَّبْ عليه فِتْنَةٌ وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً (444)،سنن النسائي : (5129) ، صحيح ابن حبان : (2215)
( ) صحيح مسلم‘كتاب الصلاة ‘بَاب خُرُوجِ النِّسَاءِ إلى الْمَسَاجِدِ إذا لم يَتَرَتَّبْ عليه فِتْنَةٌ وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً (444)،سنن ابي داؤد (4175).
( ) سنن ابو داؤد ، كتاب الصلاة ، باب ما جاء فى خروج النساء إلى المسجد ، (567)،مسند احمد 2 / 76 ، 77 (5471) ، المستدرك على الصحيحين ، 1 / 327 (755)
( ) متفق عليه صحيح بخاري كتاب الأذان ، باب انتظار الناس قيام الإمام العالم ، (869)،مسلم كتاب باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة وأنها لا تخرج مطيبة .(445)
( ) مسند احمد 6 / 69،70 (24910)
( ) متفق عليه صحيح بخاری کتاب الأذان ،باب خروج النساء إلی المساجد بالليل و الغلس ، (865)،مسلم کتاب الصلاة باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة وأنها لا تخرج مطيبة(442)
( ) جامع الترمذي، كتاب الحدود، بَاب ما جاء في الْمَرْأَةِ إذا اسْتُكْرِهَتْ على الزنى، حديث: (1454).سنن أبي داود، كتاب الحدود، بَاب في صَاحِبِ الْحَدِّ يَجِيءُ فَيُقِرُّ، حديث:(4379).

Thursday, 14 March 2013

مرد اور عورت کی نماز میں کیا فرق ھے؟؟؟؟

1 comments


مرد اور عورت کی نماز میں کیا فرق ھے؟؟؟؟


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز کی کیفیت و ہییت بیان فرمائی ہے اس کی دائیگی میں مرد و عورت برابر ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ھو

(بخاری مع فتح الباری ۲/۱۱۱، مسند احمد۵/۵۲، ارواء الغلیل حدیث نمبر ۲۱۳١٣)

یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک مردوں اور عورتوں کی نماز ہیئت ایک جیسی ہے سب کیلئے تکبیر تحریمہ قیام، ہاتھوں کا باندھنا، دعاء استفتاح پڑھنا، سورہ فاتحہ، آمین، اس کے بعد کوئی اور سورت، پھر رفیع الیدین رکوع، قیام ثانی، رفع یدین، سجدہ ، جلسہ استراحت ، قعدہ اولیٰ ، تشہد، تحریک اصابع، قعدہ اخیرہ ، تورک، درود پاک اور اس کے بعد دعا، سلام اور ہر مقام پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں سب ایک جیسی ہی ہیں عام طور پر حنفی علماء کی کتابوں میں جو مردوں اور عورتوں کی نماز کا فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک ، مر دحال قیام میں زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ، حالت سجدہ میں مرد اپنی رانیں پیٹ سے دور رکھیں او ر عورتیں اپنی رانیں پیٹ سے چپکا لیں یہ کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں ۔

چنانچہ امام شوکافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

اور جان لیجئے کہ یہ رفع یدین ایسی سنت ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں اور ایسی کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی جوان دونوں کے درمیان اس کے بارے میں فرق پر دلالت کرتی ہو ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حدیث وارد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقتدار پر دلالت کرتی ہو اور احناف سے مروی ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں تک کیونکہ یہ اس لئے زیادہ سا تر ہے لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ''۔

( نیل الا وطار ۲/۱۹۸)

شارح بخاری امام حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ شمس الحق عظیم آابادی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں

مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کیلئے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ۔

(فتح الباری۲٢/۲۲۲، عوں المعبود ۱/۲۶۳)

مردوں اور عورتوں کے حال قیام میں یکساں طور پر حکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر باندھیں خاص طور پر عورتوں کیلئے علیحدہ حکم دینا کہ وہ ہی صرف سینے پر ہاتھ باندھیں اور مرد ناف کے نیچے باندھیں اس لئے حنفیوں کے پاس کوئی صریح و صحیح حدیث موجود نہیں ۔

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ترمزی کی شرح میں فرماتے ہیں کہ

پس جان لو کہ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ مرد نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھے اور عورت سینہ پر امام بو حنیفہ اور آپ کے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی اور قول مروی نہیں ہے ۔

(تحفہ الا حوذی ۱/۲۱۳)

محدث عصر علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں

اور سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے اور اس کے خلاف جو عمل ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا پھر بے اصل ہے ۔

(صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم /۸۸)

حالت سجدہ میں مردوں کا پانی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوعورتوں کے پاس گزر ے جو نماز پڑے رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سجدہ کر وتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسانہیں ۔

علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں

روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں امام ابو داؤد نےا سے مراسیل میں یزید بن ابی حبیبت سے روایت کیا ہے مگر یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی سالم محدثین کے نزدیک متورک بھی علامہ ابن التر کمانی حنفی نے الجوھر النقی علی السنن الکبری للبیھقی ۲٢/۲۲۳پر تفصیل سے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ۔

اس بارے میں حنفی علماء ایک اور روایت پیش کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے اس طرح کہ اس کیلئے زیادہ سے زیادہ پردہ کا موجب ہو ۔ یہ روایت السنن الکبری للبیہقی ٢۲/ ۲۲۲۔ ۲۲۳ میں موجود ہے لیکن اس روایت کے متعلق خود امام بیہقی نے صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی ضعیف روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک اثر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ

قنوت نازلہ شرعیت اسلامیہ اور فقہ حنفیہ کی نظر میں "وہ اپنی عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ نماز میں چار زانوں بیٹھے"۔ مگر اس کی سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہے۔(تقریب ۱۸۲) پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں

مگر اس طریقہ کے خلاف رسول اللہ کے متعد ارشاد مروی ہیں چند ایک یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔
'' تم سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے دونوں بازے کتے کی طرح نہ بچھائے''

سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازہ کتے کی طرح نہ بچھائے ۔

غرض نماز کے اند رایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح ہوں۔ امام بن قیمہ فرماتے ہیں ـ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑ کی طرح اِ دھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرف افتراش یا کتے کی طرح اقعاء کو ے کی طرح ٹھونگیں مار نا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع نہیں ۔

پس ثابت ہو اکہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ ہی اپنے پہلوؤں سے ملاتے تھے ۔

بخاری مع فتح الباری ۲٢/ ۳۰۱، سنن ابو داؤد مع عون۱/۳۳۹، السنن الکبری للبیہقی۲/۱۱۶، شرح السنہ للبغوی
(۵۵۷)

قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وار دہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیئت نماز کا مفرق مروی نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم کے عہدِ رسالت سے جملہ اُمہات المومنین ، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ کا ہوتا تھا ۔ چنانچہ امام بخاری نے بسند صحیح اُم درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے

وہ نما ز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں ۔

( تاریخ صغیر للبخاری ٩٠)

چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے

'' تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔''

ا س حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔

پانچویں بات یہ ہے کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین محدثین اور صلحائے اُمت میں سے کوئی بھی ایسامرد نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عوتوں کی نماز میں فرق کیا ہو

بلکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے استاذ کے استاذ امام ابرہیم نحعی سے بسند صحیح مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں

نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ۱/۷۵/۲)

جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کیلئے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا قیام میں ہاتھ سینہ پر باندھنا اور سجدہ میں زمین کے چاتھ چپک جانا موجب ستر بتایا ہے۔ وہ دراصل قیاس فاسد کی بناء پر ہے کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن وسنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر از خود دین میں اضافہ کرے۔ البتہ نماز کی کیفیت وہیئت
کے علاوہ چند مرد و عورت کی نماز مختلف ہیں ۔

عورتوں کیلئے اوڑھنی او پر لے کر نماز پڑحنا حتی کہ اپنی ایڑیوں کو بھی ڈھکنا ضروی ہے۔ اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔

(ابن ماجہ (۶۵۵)۱/۲۱۵، ابوداؤد (۶۴۱) ، مسند احمد۶/۱۵۰،۲۱۸،۲۵۹)

لیکن مردوں کیلئے کپڑا ٹخنوں سے اوپر ہونا چہائے کیونکہ بکاری شریف میں آتا ہے ہے کہ

کپڑے کا ٹخنے سے نیچے ہونا باعث آگ ہے۔

عورت جب عورتوں کی امامت کرائے تو اس کے ساتھ پہلی صف کے وسط میں کھڑی ہو جائے مردوں کی طرح آگے بڑھ کر کھڑی نہ ہو ۔ امام ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور امام حاکم نے سیدنا عطاء سے بیان کیا ہے کہ

سیدہ عائشہ عورتوں کی امامت کراتی تھیں اور ان کے ساتھ صف میں کھڑی ہوتی تھیں ۔

اور اُ م سلمہ کی روایت میں آتا ہے کہ

انہوں نے عورتوں کی امامت کرائی اور ان کے درمیان میں کھڑی ہوئیں ۔

( مزید تفصیل کیلئے عون المعبود۲/۲۱۲ ملاحظہ فرمائیں )

امام جب نماز میں بھول جائے تو ا سے متنبہ کرنے کیلئے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے

'' مردوں کیلئے سبحان اللہ اور عورتوں کیلئے تالی ہے ''

(بخاری ٢۲/۶۰، مسلم۲/۲۷، ابو داؤد (۹۳۹) ، ابن ماجہ۱/۲۲۹، نسائی۳/۱۱، مسند احمد۲/۲۶۱١،۳۱۷،۳/۳۴۸)

۴ مرد کو نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں لیکن عورت کو حالتِ حیض میں فوت شدہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، دارمی اور مسند احمد میں موجود ہے۔

اسی طرح عورتوں کی سب سے آخری صف ان کی پہلی صف سے بہتر ہوئی ہے ۔

مسلم کتاب الصلوٰۃ ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد۲/۴۸۵،۲۴۷،۳/۳،۱۶ میں حدیث موجو دہے ۔

یہ مسائل اپنی جگہ پر درست اور قطعی ہیں مگر ان میں تمام تصریفات منصوصہ کو مروجہ تصریفات غیر منصوصہ کیلئے ہر گز دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہ تفریقات علماء احناف کی خودساختہ ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔


Friday, 8 March 2013

رفع الیدین کے مواقع

0 comments

رفع الیدین کے مواقع
تکبیر تحریمہ ، رکوع جاتے ہوئے ، رکوع سے اُٹھتے ہوئے دوسری رکعت سے اُٹھ کر، تکبیرات جنازہ وعیدین پر رفع الیدین کرنا رسول اللہﷺ سے مأثور ومنقول ہے اور اس کے علاوہ اورکسی موقع پر رفع الیدین کرنا خلاف سنت ہے۔ جس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
تکبیر تحریمہ ، عند الرکوع وبعدا لرکوع رفع الیدین:۔
۱۔       عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ:
"كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه "
[صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:‏739]
"جب نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اُٹھاتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں سے اُٹھتے تو پھر بھی رفع الیدین فرماتے۔"
۲۔       عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا :
"إذا قام في الصلاة رفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه ، وكان يفعل ذلك حين يكبر للركوع ، ويفعل ذلك إذا رفع رأسه من الركوع ، ويقول : سمع الله لمن حمده ، ولا يفعل ذلك في السجود "
[صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا كبر وإذا ركع وإذا رفع، حديث:‏736]
"جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے حتی کہ وہ دونوں کندھوں کے برابر ہوجاتے اور یہی کام آپ اس وقت بھی فرماتے جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب  اپنا سر رکوع سے اُٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو بھی اسی طرح کرتے اور یہ کام سجدوں میں نہ فرماتے۔"
          عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت تو تمام لوگ ہی رفع الیدین کرتے ہیں لیکن رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اُٹھتے ہوئے اور دوسری رکعت سے اُٹھ کر عموماً رفع الیدین کرنے کا خیال نہیں رکھا جاتا اور ان لوگوں کے دو گروہ ہیں ۔ ایک تو وہ جو سرے سے ہی مذکورہ رفع الیدین کے منکر ہیں ۔ ان کے دلائل اور ان کا محاکمہ ہم بعد میں ذکر کریں گے (ان شاء اللہ) اور دوسرے کچھ ایسے ہیں جو سنی سنائی پر یقین کرکے اور دیکھا دیکھی ان مواقع پر رفع الیدین کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ عام طور پر جب وہ تمام تر رکعات امام کے ساتھ پالیتے ہیں یا منفرداً نماز ادا کرتے ہیں تو ان مواقع پر رفع الیدین کرتے ہیں لیکن جب ان کی ایک رکعت رہ جائے تو پھراس رفع الیدین کے احکام سے ناآشنائی کی وجہ سے تقصیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو امام کی اقتداء والی احادیث سے دلیل پکڑتے ہوئے ان مواقع پر رفع الیدین ترک کردیتے ہیں جبکہ وہ انھی احادیث غور نہیں کرتے ۔
مثلاً:۔    رسول اللہ ﷺ کا فرمان : " إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام "
[جامع الترمذي  ،أبواب الجمعة،باب ما ذكر في الرجل يدرك الإمام وهو ساجد كيف يصنع،  حديث:‏591]
"جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام جس حلات میں بھی ہو وہ ویسے ہی کرے جس طرح سے امام کررہا ہے۔"
اس حدیث کے ذریعہ رکوع جاتتے ہوئے رفع الیدین کو ترک کردیتے ہیں جب امام کو رکوع کی حلات میں پاتے ہیں جبکہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہیں اور تکبیر بھی کہتے ہیں۔ یا للعجب!!!
کیونکہ اگر " فليصنع كما يصنع الإمام "سے رکوع جانے کی تکبیر اور رفع الیدین کی نفی مانی جائے تو تکبیر تحریمہ اور اس کے رفع الیدین کی نفی بھی ماننا پڑے گی اور وہ مقتدی جو اس وقت آیا جب امام رکوع کی حالت میں تھا اس کو " فليصنع كما يصنع الإمام " کے تحت بغیر تکبیر تحریمہ و تکبیر رکوع کہے اور رفع الیدین کیے سیدھا رکوع میں چلے جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ تکبیر تحریمہ کہتا اور رفع الیدین کرتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب بھی نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر تحریمہ کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اس طریقہ کار کو اپنائے بغیر وہ نماز میں شامل نہیں ہوسکتا ، بعینہ رسول اللہ ﷺ جب بھی رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے ۔ لہٰذا وہ شخص جو اس وقت نماز میں شامل ہوا جب امام رکوع کی حالت میں تھا اس کو " فليصنع كما يصنع الإمام " کے حکم کے تحت فوراً رکوع میں ہی جانا چاہیے لیکن رکوع میں پہنچنے کے لیے طریقہ اپنی طرف سے نہ گھڑے بلکہ وہ طریقہ اپنائے جو رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے ، یعنی پہلےتکبیر تحریمہ کہے اور رفع الیدین کرے اور پھر فوراً دوبارہ تکبیر رکوع کہے اور رفع الیدین کرے اور پھر رکوع میں جائے۔
کیونکہ تکبیر تحریمہ و رفع الیدین کے بغیر نماز کاآغاز کرنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہ ہے اور تکبیر ورفع الیدین کے بغیر رکوع میں جانا بھی سید الأنبیاء ﷺ سے ثابت نہ ہے۔
یاد رہے کہ وہ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ نہیں باندھے گا بلکہ فوراً دوسری تکبیر، تکبیر رکوع اور رفع الیدین برائے رکوع کرے گا کیونکہ رسول اللہﷺ ہاتھ قیام میں باندھا کرتے تھے۔
نیز یہ بھی کہ جب کوئی شخص اس وقت پہنچا جب امام رکوع سے سر کو اُٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ چکا ہو تو وہ تکبیر تحریمہ ورفع الیدین کےبعد " فليصنع كما يصنع الإمام " والے اصول کے تحت دونوں ہاتھوں کو چھوڑ کر کھڑا ہوجائے گا اور ربنا لک الحمد کہتے ہوئے امام کے ساتھ ملے گا کیونکہ سمع اللہ لمن حمدہ کہنا اور اس کے ساتھ رفع الیدین کرنا صرف اس شخص کے لیے ہے جو رکوع سے اُٹھے اس نے نہ تو رکوع کیا ہے اور نہ ہی یہ رکوع سے اُٹھ رہا ہے لہٰذا اس کے لیے تسمیع کہنا یا رفع الیدین کرنا مشروع نہیں ہے۔ اسی طرح جو شخص امام کو سجدہ کی حالت میں پائےوہ تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے چلا جائے لیکن سجدہ میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا نہ بھولے کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب بھی سجدہ میں جاتے تو تکبیر  کہتے یعنی یہ شخص پہلے تکبیر تحریمہ کہے گا اور رفع الیدین کر ے گا اور اس کے فوراً بعد دوبارہ سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے گا۔ (اس موضوع کی مزید تفصیل "اقتداء کے مسائل" میں بیان کی جائے گی۔ ان شاء اللہ )
دوسری رکعت سے اُٹھ کر رفع الیدین:۔
اسی طرح وہ رفع الیدین جو دورکعات کو مکمل کرکے تیسری رکعت کےلیے کھڑے ہو کر رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے ، عموماً لوگوں نے اس کو تشہد کے ساتھ جوڑ دیا ہے کہ جب بھی تشہد سے اُٹھتے ہیں تو اگلی رکعت کے لیے رفع الیدین کر لیتے ہیں جبکہ ایسا کرنا خلاف سنت ہے کیونکہ رسول اللہﷺ جب بھی تشہد سے اُٹھتے تو رفع الیدین فرماتے ، جیسا کہ آغاز میں ذکر کردہ حدیث کے الفاظ سے واضح ہے۔
اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مسبوق جس کی ایک رکعت رہ گئی جب امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور رفع الیدین کرتا ہے تو یہ بھی امام کے ساتھ ہی رفع الیدین کر لیتا ہے جبکہ اس کی ابھی ایک رکعت ہوئی ہوتی ہے۔ (امام کی اقتدا ء کن چیزوں میں اور کن چیزوں میں نہیں ، یہ بات دلائل سمیت "اقتداء کے مسائل" میں بیان ہوگی)جبکہ رفع الیدین کرنے میں امام کی اقتداء کرنا ثابت نہ ہے اور پھر جب اس کی دو رکعتیں مکمل ہوتی ہیں یعنی جب امام چوتھی رکعت اور یہ مسبوق تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو یہ موقع اس کے رفع الیدین کرنے کا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب بھی دو رکعتوں سے اُٹھتے تو رفع الیدین فرماتے ، لیکن اس موقع پر یہ رفع الیدین نہیں کرتا اور جب امام اپنی چاروں رکعات مکمل کرکے سلام پھیر دیتا ہے اور یہ مسبوق اپنی چوتھی رکعت کے لیے تین رکعتیں مکمل کرکے اُٹھتا ہے تو پھر رفع الیدین کردیا ہے، جبکہ تیسری رکعت سے اُٹھ کر رفع الیدین کرنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔
اسی طرح جب عموماً تین وتر ایک سلام سے اکٹھے پڑھے جاتے ہیں تو بھی ننانوے فیصد لوگ دوسری رکعت سے اُٹھتے ہوئے رفع الیدین نہیں کرتے کیونکہ ذہن یہ بن چکا ہے کہ جب تشہد سے اُٹھ کر اگلی رکعت شروع کریں گے تو رفع الیدین کرنا ہے ۔ جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے کا " ما أنزل اللہ بھا من سلطان" اور دوسری رکعت سے اُٹھنے پرصحیح بخاری کی حدیث سے دلیل پیش کی جاچکی ہے۔
لہٰذا جب بھی نمازی دوسری رکعت سے اُٹھے اور تیسری رکعت کا آغاز کرے تو وہ سنت نبوی ﷺ کے مطابق رفع الیدین کرے ، خواہ دوسری رکعت کے آخر میں تشہد ہو خواہ نہ ہو۔ اور پہلی ، تیسری ، چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں اور آٹھویں رکعت سے اُٹھتے ہوئے رفع الیدین نہ کیا جائے کیونکہ اس موقع پر رفع الیدین کرنا امام الأنبیاء سے ثابت نہیں ہے۔
تکبیرات عیدین:۔
اسی طرح کچھ لوگ تکبیرات عیدین اور تکبیرات جنازہ پر رفع الیدین نہیں کرتے حالانکہ ان مواقع پر رفع الیدین کرنا رسول اللہﷺ سے ثابت ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے رفع الیدین کے مواقع بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں: "ويرفعهما في كل تكبيرة يكبرها قبل الركوع حتى تنقضي صلاته "
[سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة، حديث:‏722، سنن الکبری للبيهقی 2/83 (2374)، 3/292 (5983)]
"اور (رسول اللہ ﷺ) ان دونوں (ہاتھوں) کو ہر اس تکبیر میں اُٹھاتے تھے جو تکبیر آپﷺ رکوع سے قبل کہتے تھے۔"
اور یہ حدیث نماز عیدین کے سوا اور کسی جگہ پر صادق نہیں آتی کیونکہ نماز عیدین کے علاوہ رکوع سے قبل تکبیر تحریمہ کے علاوہ اور کوئی تکبیر ثابت ہی نہیں۔ لہٰذا تکبیرات عیدین پر رفع الیدین کرنا سنت مصطفوی ﷺ ہے اور اس کے تارکین مخالفین سنت ہیں۔
تکبیرات جنازہ پر رفع الیدین:۔
                   اور اسی طرح تکبیرات جنازہ پر رفع الیدین کرنے کےبارہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: "أن النبی  صلى الله عليه وسلم کان إذا صلی علی جنازة رفع يديه فی کل تکبيرة وإذا انصرف سلم"
[علل دارقطني13/22 (2908)]
"یقیناً رسول اللہ ﷺ جب نماز جنازہ پڑھتے تو ہر تکبیر پر رفع الیدین فرماتے اور جب مکمل کرلیتے تو سلام پھیرتے ۔"
مذکورہ بالاحدیث تکبیرات جنازہ پر رفع الیدین کے سنت ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔ لہٰذا اس سنت کو ترک کرکے استخفاف ِسنت کے فتنے میں داخل نہ ہوا جائے بلکہ اس پر عمل کرکے سنت سے سچی محبت کا ثبوت دیاجائے۔
رفع الیدین عند السجود:۔
اسی طرح کچھ لوگ سجدہ میں جاتے ہوئے اور اُٹھتے ہوئے رفع الیدین کے قائل ہیں کہ کبھی کبھی کرلینی چاہیے ۔ اور کبھی کبھی کر لینے کی بات انھوں نے ان احادیث کو صحیح سمجھتے ہوئے بطور تطبیق کہی ہے جن میں عندالسجود رفع الیدین کا ذکر ہے۔ جبکہ حقیقت ِحال اس کے برعکس ہے یعنی جن روایات میں رفع الیدین عندالسجود کا ذکر ہے ان میں سے کوئی بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ ان تمام روایات میں سے سب سے زیادہ جس روایت کو پیش کیا جاتا ہے وہ مالک بن الحویرث والی روایت ہے جس کو امام نسائی نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے: " رأى النبي صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته ، وإذا ركع ، وإذا رفع رأسه من الركوع ، وإذا سجد ، وإذا رفع رأسه من السجود حتى يحاذي بهما فروع أذنيه"
[سنن نسائى  ،  كتاب التطبيق،  باب رفع اليدين للسجود ، حديث:‏108۵‏]
مالک بن الحویرث فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی نماز کے آغاز میں، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اُٹھتے ہوئے، سجدہ میں جاتے ہوئے اور سجدے سے اُٹھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کوکانوں کی لو تک اُٹھایا۔
اور حافظ ابن حجر علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو یہ کہتے ہوئے ذکر کیا ہے " وأصح ما وقفت علیہ من الأحادیث فی الرفع فی السجود مارواہ النسائی من روایۃ سعید بن ابی عروبۃ عن قتادۃ۔۔۔ الخ"
[فتح الباری 2/223]
"رفع الیدین عندالسجود والی روایات میں جس صحیح ترین حدیث پر میں مطلع ہوا ہوں وہ روایت ہے جس کو امام نسائی نے سعید بن ابی عروبۃ عن قتادہ کی سند سے بیان کیا ہے ۔۔۔ الخ
          حافظ ابن حجر علیہ الرحمۃ کی اس عبارت کو بطور ددلیل وہ لوگ پیش کرتے ہیں کہ دیکھو حافظ صاحب نے بھی اس حدیث کو صحیح ترین کہہ دیا ہے ،جبکہ ان علم کے دشمنوں کو بات کی سمجھ ہیں نہی آئی ۔ حافظ صاحب تو اس جملہ میں اس موضوع سے متعلق تمام تر روایات کو ضعیف ترین کہہ گئے ہیں، کیونکہ اس کی سند میں سعید بن ابی عروبہ مختلط ومدلس راوی ہے اور اسی طرح قتادہ بھی مدلس راوی ہے جبکہ دونوں بیان بھی صیغۂ عن سے کررہے ہیں۔ یعنی یہ روایت تدلیس سعید، اختلاط سعید او ر تدلیس قتادہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور باقی روایات اضعف ہیں۔
یاد رہے کہ کسی ضعیف حدیث کو کسی محدث کا اصح شیئ فی ھذالباب کہنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس موضوع کی تمام تر روایات ضعیف ہیں۔ لیکن ان روایات میں سے یہ روایت سب سےکم ضعف والی ہے۔ نہ کہ روایت صحیح، (کما زعمہ بعضھم) تو جس روایت کو حافظ صاحب اصح کہہ رہے ہیں جب اس روایت کا یہ حال ہی اتنا پتلا ہے تو باقی مرویات کے بارہ میں خود سمجھ لیں کہ ان کے ضعف کا عالم کیا ہوگا۔
ذیل میں چند روایات کا بطور نمونہ ذکر کیے دیتے ہیں۔
۱۔       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ: "کان یرفع یدیہ حذو منکبیہ حین یکبر ویفتتح الصلاۃ وحین یرکع وحین یسجد۔"
[مسند احمد (6128)]
اس روایت کو اسماعیل بن عیاش الحمصی نے عبدالرحمن بن ھرمز الاعرج المدنی سے روایت کیا ہے اور اہل علم کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیین سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
۲۔      عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ "کان یرفع یدیہ عند التکبیر للرکوع وعند التکبیر حین یھوی ساجداً"
[معجم الاوسط للطبرانی 1/10(16)]
اس روایت کا سُقم اتنا ہی کافی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں "ولا یفعل ذلک فی السجود" کےا لفاظ منقول ہیں۔
۳۔      عبداللہ بن زبیر کے بارہ میں میمون مکی کہتے ہیں وہ ان کو نماز پڑھاتے اور "یشیر بکفیہ حین یقوم وحین یرکع وحین یسجد وحین ینھض للقیام۔۔۔ الحدیث
[مسند احمد(2308)، (3622)، سنن ابی داؤد (739)]
اس کی سند میں ابن لھیعہ مختلط راوی ہے اور میمون مکی (ابن زبیر سےبیان کرنے والا) مجہول ہے۔
۴۔      انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ "کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود۔
[مسند ابی یعلی 6/399، مصنف ابنی ابی شیبہ 1/235(3752)]
اس سند میں حمید الطویل مدلس ہے اور صیغہ  "عن" سے روایت کر رہا ہے۔ لہٰذا یہ روایت تدلیس حمید کی وجہ سے غعیف ہے۔ نیز عبدالوہاب الثقفی مختلط ہے۔
یہ چند روایات بطور مثال ذکر کی ہیں اور باقیوں کا حال بھی اسی طرح ہے۔
جبکہ سجدوں میں رفع الیدین نہ کرنے کی صراحت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی صحیح بخاری والی روایت سے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ سجدوں میں رفع الیدین کرنا رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
ھذا ماعندی واللہ تعالیٰ اعلم وردالعلم الیہ اسلم وعلمہ اکمل واتم والدعاء لمن بنہ وارشد وقوم
الراجی الی عفو ربہ الظاہر
ابوعبدالرحمن محمد رفیق الطاہر
مدرس جامعہ دارالحدیث المحمدیہ
عام خاص باغ ملتان

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم

0 comments
نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین ، أما بعد:
متواتر حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھتے تھے۔ دیکھئے نظم المتناثر (ص ۹۸ حدیث:۶۸)
اس کے سراسربرعکس مالکیوں کی غیر مستند کتاب "المدونہ" میں لکھا ہوا ہے:
      "وقال مالک فی وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ قال: لا اعرف ذلک فی الفریضۃ وکان یکرھہ ولکن فی النوافل اذا طال القیام فلاباس بذلک یعین بہ نفسہ"
(امام) مالک نے نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں کہا: "مجھے فرض نماز میں اس کا ثبوت معلوم نہیں" وہ اسے مکروہ سمجھتے تھے، اگر نوافل میں قیام لمبا ہوتو ہاتھ باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس طرح وہ اپنے آپ کو مدد دے سکتا ہے۔ (المدونہ ۷۶/۱)
تنبیہ: مدونہ ایک مشکوک اور غیر مستند کتاب ہے۔دیکھئے القول المتین فی الجہر بالتامین(ص ۷۳)
اس غیر ثابت قول کے مقابلے میں موطا امام مالک میں باب باندھا ہوا ہے:
"باب وضع الیدین احداھما علی الاخری فی الصلوٰۃ" (۱۵۸/۱)
اس باب میں امام مالک سیدنا سہل بن سعد t والی حدیث لائے ہیں:
"کان الناس یؤمرون أن یضع الرجل الیدالیمنیٰ علی ذراعہ الیسریٰ فی الصلوٰۃ"
لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھے۔
(۱۵۹/۱ح ۳۷۷والتمہید  ۹۶/۲۱،  والاستذکار: ۳۴۷ والزرقانی: ۳۷۷)
ابن عبدالبر نے کہا:
"وروی ابن نافع وعبدالمالک ومطرف عن مالک أنہ قال: توضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ فی الفریضۃ والنافلۃ ، قال : لا باس بذلک ، قال ابو عمر: وھو قول المدنیین من اصحابہ"
ابن نافع، عبدالمالک اور مطرف نے (امام ) مالک سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: "فرض اور نفل (دونوں نمازوں) میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا چاہیے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ابو عمر (ابن عبدالبر) نے کہا: اور ان (امام مالک) کے مدنی شاگردوں کا یہی قول ہے۔"   (الاستذکار: ۲۹۱/۲)
"مدونہ" کی تقلید کرنے والے مالکی حضرات ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں، اگر کسی مقلد مالکی سے ہاتھ چھوڑنے کی دلیل پوچھی جائے تو وہ کہتا ہے کہ :
" میں امام مالک کا مقلد ہوں، دلیل ان سے جاکر پوچھو،مجھے دلائل معلوم ہوتے تو میں تقلید کیوں کرتا؟"     (تقریر ترمذی ص ۳۹۹)
شیعہ اور مقلد مالکیوں کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے کہ ہر نماز میں حالت ِ قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں۔اور دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھنا چاہیے۔
ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ، اہل حدیث کے نزدیک نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔
سیدنا ہلب الطائی t فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ (نماز میں) یہ (ہاتھ) اپنے سینے پر رکھتے تھے۔ (مسند احمد ۲۲۶/۵، وسندہ حسن)
امام بیہقی لکھتے ہیں: "باب وضع الیدین علی الصدر فی الصلوٰۃ من السنۃ"
باب : نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔   (السنن الکبری للبیہقی ۳۰/۲)
اس کے برعکس حنفی وبریلوی و دیوبندی حضرات یہ کہتے ہیں کہ
"نماز میں ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے چاہییں۔"
حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
وقال الثوری وأبو حنیفۃ واسحاق : أسفل السرۃ، ورویٰ ذلک عی علی وابی ھریرۃ والنخعی ولا یثبت ذلک عنھم وھو قول أبی مجلز۔"
ثوری، ابو حنیفہ اور اسحاق (بن راہویہ) کہتے ہیں کہ ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے چاہییں(!) اور یہ بات علی (t)اور ابو ہریرہ (t)اور (ابراہیم )نخعی سے مروی ہے مگر ان سے ثابت نہیں ہے اور ابو مجلز کا یہی قول ہے۔    (التمہید ۷۵/۶۰)
سعودی عرب کے مشہور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین کی تقدیم و مراجعت سے چھپی ہوئی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ : "الصواب: السنۃ وضع الید الیمنیٰ علی الیسریٰ علی الصدر" صحیح یہ ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ، سینے پر رکھنا سنت ہے۔
(القول المتین فی معرفۃ ما یہم المصلین ص ۴۹)
امام اسحاق بن راہویہ اپنے دونوں ہاتھ ، اپنی چھاتیوں پر یا چھاتیوں سے نیچے (سینے پر) رکھتے تھے۔          (مسائل الامام احمد واسحاق ص ۲۲۲ وصفۃ صلوٰۃ النبی ﷺ ص ۶۱)
اس کے برعکس دیوبندی وبریلوی حضرات یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ
"غیر مقلدین کہتے ہیں کہ ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں۔"         (حدیث اور اہل حدیث ص۲۷۹)
دیوبندیوں وبریلویوں کا یہ دعویٰ ہے کہ "مردتو ناف سے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ہاتھ باندھیں " حالانکہ اس دعویٰ کی کوئی صریح دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ بریلویوں ودیوبندیوں کے ساتھ اہل حدیث کا اصل اختلاف عقائد اور اصول میں ہے ۔ دیکھئے القول المتین فی الجہر بالتامین ص ۸ تا ۱۸
      جو شخص کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوتا ہے اس پر نماز کی ادائیگی فرض ہوجاتی ہے۔
دیکھئے سورۃ النساء آیت نمبر ۱۳۰، نیز ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:
]قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ Oالَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ O [
یقینا فلاح پائی اہل ایمان نے جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں۔      (المؤمنون: ۱،۲)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ (چیزوں) پر رکھی گئی ہے:
۱۔   اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمدارسول اللہ۔
۲۔   نماز قائم کرنا                  ۳۔   زکوٰۃ ادا کرنا
۴۔   حج کرنا                  ۵۔   اور رمضان کے روزے رکھنا
(ھذا حدیث صحیح متفق علی صحتہ، شرح السنۃ للبغوی ج ۱ ص۱۷، ۱۸ ح۶، البخاری:۸، مسلم: ۱۶)          
قیامت کے دن انسان سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔    (سنن ابن ماجہ: ۱۴۲۶ وسندہ صحیح وصححہ الحاکم علیٰ شرط مسلم  ۲۶۲/۱، ۲۶۳ ووافقہ الذہبی ولہ شاہد عنداحمد ۶۵/۴، ۱۰۳،۳۷۷/۵)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ((صلوا کما رایتمونی اصلی))
      نماز اسی طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔       (صحیح بخاری ۸۹/۲ ح۶۳۱)
نماز میں ایک اہم مسئلہ ہاتھ باندھنے کا ہے ، ایک گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
دلیل نمبر ۱:
سہل بن سعد tنے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھیں [یہ حدیث مرفوع ہے] (مؤطا امام مالک ۱۵۹/۱ ح۳۷۷، صحیح بخاری مع فتح الباری ۱۷۸/۲ح ۷۲۰)
دلیل نمبر۲:
نمازمیں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کی احادیث متعددصحابہ سے صحیح یا حسن اسانید کے ساتھ مروی ہیں، مثلاً:
۱۔   وائل بن حجر t  (مسلم: ۴۰۱ وابوداؤد: ۷۲۷)
۲۔   جابر t           (احمد ۳۸۱/۳ح ۱۵۱۵۶ وسندہ حسن)
۳۔   ابن عباس r  (صحیح ابن حبان ، الموارد: ۸۸۵ وسندہ صحیح)
۴۔   عبداللہ بن جابر البیاضی t
      (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی ۱۶۱۰/۳ ح۴۰۵۴وسندہ حسن واوردہ الضیاء فی المختارۃ ۱۳۰/۹ح۱۱۴)
۵۔   غضیف بن الحارث t       (مسند احمد ۱۰۵/۴، ۲۹۰/۵ وسندہ حسن)
۶۔   عبداللہ بن مسعود t         (ابوداؤد: ۷۵۵ وابن ماجہ: ۸۱۱ وسندہ حسن)
۷۔  عبداللہ بن زبیر t           (ابوداؤد: ۷۵۴ واسنادہ حسن واوردہ الضیاء المقدسی فی المختارۃ ۳۰۱/۹ح ۲۵۷)
یہ حدیث متواتر ہے۔     (نظم المتناثر من الحدیث المتواتر ص۹۸ ح ۶۸)
دوسرا گروہ کہتا ہے نما ز میں ارسال کرنا چاہیے (ہاتھ نہ باندھے جائیں)
اس گروہ کی دلیل
      المعجم الکبیرللطبرانی میں معاذ بن جبل t سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں ارسال یدین کرتے تھے اور کبھی کبھار دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے تھے۔    (مجمع الزوائد۱۰۲/۲)
اس دلیل کا جائزہ
اس رویات کی سند کا ایک راوی خصیف بن جحدر ہے۔       (المعجم الکبیر للطبرانی ۷۴/۲۰، ح۱۳۹)

امام بکاری ، ابن الجارود، الساجی شعبہ ، القطان اور ابن معین وغیرہ نے کہا: کذاب (جھوٹا) ہے۔           (دیکھئے لسان المیزان ۴۸۶/۲)
حافظ ہیثمی نے کہا: کذاب ہے۔       (مجمع الزوائد ۱۰۲/۲)
معلوم ہوا کہ یہ سند موضوع (من گھڑت) ہے لہٰذا اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔
تقلید پرستی کا ایک عبرتناک واقعہ
حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی فرماتے ہیں:
      "ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک مرتبہ تین عالم (حنفی ، شافعی اور حنبلی) مل کر ایک مالکی کے گھر گئے اور پوچھا کہ تم ارسال کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ : میں امام مالک کا مقلد ہوں دلیل ان سے جاکر پوچھو، مجھے دلائل معلوم ہوتے تو تقلید کیوں کرتا ، تو وہ لوگ ساکت ہوگئے۔"   (تقریر ترمذی ص۳۹۹ مطبوعہ کتب خانہ مجیدیہ ملتان)
معلوم ہوا کہ تقلید کرنے والا دلیل کی طرف دیکھتا ہی نہیں اور نہ دلیل سنتا ہے ، یاد رہے کہ امام مالک سے ارسال یدین قطعاًٍ ثابت نہین ہے۔ مالکیوں کی غیر مستند کتاب "مدونہ" کا حوالہ مؤطا امام مالک کے مقابلے میں مردود ہے۔
  اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے۔ اور نمازمیں ہاتھ نہ باندھنا خلاف سنت ہے