YOUR INFO

Showing posts with label خلفائے راشدین. Show all posts
Showing posts with label خلفائے راشدین. Show all posts

Friday, 22 March 2013

حضرت علی رضی اللہ عنہ

0 comments

حضرت علی رضی اللہ عنہ



علی بن ابی طالب بن ہاشم بن عبدمناف
آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ اور آپ کا لقب حیدر ہے۔
آپ کی پیدائش بعثتِ نبوی سے دس سال قبل کی ہے۔
اہل سنت و الجماعت اس بات پر متفق ہیں کہ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب سے افضل صحابی ہیں۔ آپ خلفائے راشدین میں سے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کی مدت چار سال نو ماہ اور کچھ دن ہے۔ آپ نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی اور داماد تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اپنی لاڈلی دختر کا نکاح علی بن طالب (رضی اللہ عنہ) سے کرنا ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بلند ترین اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک علی بن طالب رضی اللہ عنہ اس قدر اہم شخص تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک دفعہ فرمایا :
لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
تم میرے نزدیک وہی مقام رکھتے ہو جو مقام موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک ہارون (علیہ السلام) کا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ : آن لائن ربط

مومنین کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ کیونکہ اُن سے محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے۔ کوئی شخص مومن کہلانے کا اُس وقت تک حقدار نہیں ہے جب تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہ رکھے۔
خود حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمانِ پاک یوں پیش فرماتے ہیں :
وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَيَّ أَنْ " لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق " .
اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کے پھاڑا اور ہر جاندار چیز کو پیدا فرمایا کہ نبی اُمی نے مجھ سے تاکیداً کہا تھا کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور منافق کے سوا اور کوئی مجھ سے بغض نہیں رکھے گا۔
صحیح مسلم ، کتاب الایمان : آن لائن ربط

سیدنا علی بن ابی طالب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عظیم مقام ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بااعتماد رفیق ہیں۔ اسی لیے فرامینِ نبوی میں درج ہے :
إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ , وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي
علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا دوست ہے۔
ترمذی ، کتاب المناقب : آن لائن ربط
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
جس شخص کے ساتھ میں دوستی رکھتا ہوں ، اس سے علی بھی دوستی رکھتا ہے۔
ترمذی ، کتاب المناقب : آن لائن ربط

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کشادہ دل اور کشادہ ذہن تھے۔ آپ نے کھلے دل سے اپنے ساتھیوں کی فضیلت بیان کی ہے۔ جب آپ کو پتا چلا کہ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا:
والذي فلق الحبة وبرأ النسمة‏!‏ لا يحبهما إلا مؤمن فاضل، ولا يبغضهما ولا يخالفهما إلا شقي مارق، فحبهما قربة وبغضهما مروق، ما بال أقوام يذكرون أخوي رسول الله صلى الله عليه وسلم ووزيريه وصاحبيه وسيدي قريش وأبوي المسلمين‏؟‏ فأنا بريء ممن يذكرهما بسوء وعليه معاقب‏.‏
اس ذات کی قسم جس نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ! ان دونوں سے وہی محبت کرے گا جو فاضل مومن ہوگا ، اور ان دونوں سے وہی بغض و عداوت رکھے گا جو بدبخت اور مارق (بدمذہب) ہوگا ، کیونکہ ان دونوں کی محبت تقرب الٰہی کا سبب ہے اور ان سے بغض و نفرت رکھنا دین سے خارج ہونے کی علامت ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بھائیوں ، اور دو وزیروں ، اور دو ساتھیوں اور قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو باپوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں؟ میں ان لوگوں سے لاتعلق ہوں جو ان دونوں کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں ، اور اس پر انہیں سزا دوں گا۔
کنزالعمال : آن لائن ربط

ونیز ۔۔۔
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے عراق والوں سے کہا تھا :
اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ أَوْ أَمُوتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي
جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے ، اب بھی کیا کرو ، کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اسی وقت تک کہ سب لوگ جمع ہو جائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں۔
ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ :
يَرَى أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ الْكَذِبُ
عام لوگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایات (شیخین کی مخالفت میں) بیان کرتے ہیں وہ قطعاً جھوٹی ہیں۔
صحیح بخاری ، فضائل اصحاب النبی : آن لائن ربط

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات اوصافِ حمیدہ کا مجموعہ تھی۔ آپ کے اندر ساری اچھی خوبیاں مثلاً امانت و دیانت ، زہد و تقویٰ وغیرہ موجود تھیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لسانِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے شہید کا درجہ بھی عطا کیا گیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ حراء کی ایک چٹان پر تھے کہ چٹان نے حرکت کی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اسْكُنْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ
آرام سے رہو ، کیونکہ تم پر نبی ، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔
صحيح مسلم ، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ : آن لائن ربط

سیدنا علی المرتضیٰ 17 رمضان المبارک سن 40 ھجری کو صبح کے اوقات میں بدبخت ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

0 comments

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

عثمان بن عفان بن ابی العاص ابن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف
ابو عبداللہ اور ابوعمر کنیت
والد ماجد کا نام عفان اور والدہ ماجدہ کا نام ارویٰ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ پانچویں پشت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نانی بیضاء ام الحکیم عبداللہ بن عبدالمطلب کی سگی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس لیے حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) ماں کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں۔
بحوالہ : فتح الباری ، کتاب المناقب : آن لائن ربط

امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ امت نے حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کو متفق علیہ طور پر اپنا امام اور پیشوا بنایا تھا۔ آپ خلافتِ راشدہ کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ آپ (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کی مدت 12 سال ہے۔ مستند تاریخی واقعات سے ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ممالک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فتح کئے گئے۔ دنیائے اسلام میں سیدنا عثمان (رضی اللہ عنہ) سے بڑا حکمران پیدا ہی نہیں ہوا۔

یہ ایک عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی بعض امتیازی فضیلتوں اور حیثیتوں میں کائینات کا کوئی دوسرا فرد شریک نہیں ہے !
اور وہ امتیازی خصوصیت اور فضیلت یہ ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں ان کے نکاح میں دی ہیں۔ یہ اتنا بڑا شرف ہے کہ اس شرف میں کائینات کا کوئی دوسرا فرد و بشر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہمسر نہیں ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں ان سے عظیم کوئی نہ تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیٹی کے فوت ہو جانے کے بعد دوسری بیٹی کا رشتہ بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ہی دیا ہے جو ان کے عظیم سے عظیم تر ہونے کی دلیل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کے سبب ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذو النورین (دو نوروں والا) کا لقب حاصل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جنتی ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک باغ میں تھے اور باغ کے دروازے پر حضرت ابوموسیٰ موجود تھے تب وہاں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم آئے جنہیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جنتی ہونے کی بشارت دی۔
پھر راوی ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ۔۔۔
پھر دروازے پر ایک اور شخص آیا اور اس نے بھی اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ
اجازت دے دو اور اسے جنت کی بشارت بھی سنا دو ، اور اسے آگاہ کرو کہ اس پر ایک مصیبت نازل ہوگی۔
راوی ابوموسیٰ اشعری آگے کہتے ہیں کہ ۔۔۔ میں نے دیکھا تو وہ عثمان تھے !
صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ : آن لائن ربط

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپ رضی اللہ عنہ کو "شہید" قرار دیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ احد پہاڑ پر چڑھے تو وہ کانپنے لگا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا پاؤں اس پر مارتے ہوئے فرمایا :
اثْبُتْ أُحُدُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدَانِ
احد ٹھہر جاؤ ! کیونکہ تجھ پر ایک پیغمبر ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں !!
صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خصوصیات میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ اس قدر باحیا تھے کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔
نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپ (رضی اللہ عنہ) ہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا :
أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ
کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ؟
صحيح مسلم ، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ : آن لائن ربط

مشرکینِ مکہ کے غیض و غضب سے لاچار ہو کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اشارہ پر اور حق و صداقت کی محبت میں وطن اور اہلِ وطن کو چھوڑ کر حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ رقیہ (رضی اللہ عنہا) کے ساتھ جلا وطن ہوئے۔ اس جلاوطنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا :
ان عثمان اول
میری امت میں عثمان پہلا شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کو لے کر جلا وطن ہوا۔
بحوالہ : الاصابہ : آن لائن ربط

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور ہے کہ آپ احد اور بدر کی جنگوں میں اور بیعتِ رضوان میں بھی حاضر نہیں تھے۔ اہلِ حق جب اس کی وجوہات جاننے کی جستجو کرتے ہیں تو صحیح بخاری میں درج حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی وضاحت سامنے نظر آتی ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔۔۔
قریب آؤ ، اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاؤں گا۔
احد کی لڑائی والی لغزش کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے (بحوالہ : سورہ آل عمران ، آیت:155)
بدر کی لڑائی میں غیر حاضری کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صاحبزادی رقیہ (رضی اللہ عنہا) ان کے نکاح میں تھیں اور وہ سخت بیمار تھیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا تھا:
ان لک اجر
تمہیں جنگِ بدر میں ایک شریک کے برابر ثواب اور مالِ غنیمت سے حصہ ملے گا۔
اور جہاں تک بیعتِ رضوان سے ان کے غیر حاضر ہونے کا تعلق ہے تو اگر مکہ میں عثمان (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ کوئی اثر و رسوخ والا ہوتا تو (قریش سے گفتگو کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے۔ پس رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عثمان (رضی اللہ عنہ) کو بھیجا۔ اور بیعتِ رضوان ان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی۔ اس موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا :
هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ (یہ عثمان کا ہاتھ ہے)
اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا :
هَذِهِ لِعُثْمَانَ (یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے !)
صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا۔ اس دوران ایک آدمی سر پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
ھذا
یہ شخص فتنہ کے دنوں میں ہدایت پر ہوگا۔
حدیث کے راوی نے جب اس شخص کو سامنے سے دیکھا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی نے حضرت عثمان کا چہرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب پھیرتے ہوئے پوچھا :
ان کے بارے میں ہی آپ یہ فرما رہے ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً کہا : ہاں !
مسند احمد : آن لائن ربط

تقریباً یہی روایت طبرانی اوسط میں بھی ان زائد الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اتبعوا
اس شخص اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ دینا۔
راوی حضرت مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : میں اس شخص کی طرف ہو لیا۔ وہ عثمان (رضی اللہ عنہ) تھے۔ میں نے انہیں پکڑا اور ان کا چہرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف کرتے ہوئے عرض کیا :
اے
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسی شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ہاں !
طبرانی : آن لائن ربط

گویا فتنہ کے دَور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حق بجانب قرار دیا بلکہ ان کا ہمنوا بننے اور ان کی تابعداری کا بھی حکم دیا تھا !!

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ماہ ذی الحجہ سن 35 ھجری میں جمعہ کے دن شہید کیا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
تُقْتَلُ وَأَنْتَ مَظْلُومٌ ، وَتَقْطُرُ قَطْرَةٌ مِنْ دَمِكَ عَلَى فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 137
سیدنا عثمان مظلوم قتل ہوئے ، تلاوت کے دوران جب انہیں شہید کیا گیا تو آپ کے خون کے قطرے اس آیت مبارکہ پر ٹپکے :
فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ
اسد الغابہ : آن لائن ربط

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

0 comments

 عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوئی
عمر نام ، ابوحفص کنیت ، فاروق لقب
والد ماجد کا نام خطاب اور والدہ ماجدہ کا نام ختمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ آٹھویں پشت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔

تمام اہل سنت و الجماعت اس بات پر متفق ہیں کہ ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کے بعد عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) سب سے افضل صحابی ہیں اور وہی ان کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، ہجرتِ نبوی سے 40 برس پہلے پیدا ہوئے۔ زمانۂ جاہلیت میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ، ان میں سے ایک سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔
بحوالہ : الاستيعاب في معرفة الأصحاب ، تذکرہ عمر رضی اللہ عنہ

کتبِ سیرت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی ہمشیرہ پر ظلم کیا اور پھر انہی کی طرف سے قرآن سننے کے بعد اسلام لے آئے۔ اس ضمن میں ایک روایت خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی زبانی ہے کہ ۔۔۔ 

انہوں نے مسجد حرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران سورۃ الحاقہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور وہ قرآن کریم کے نظم و اسلوب سے حیرت زدہ ہو گئے۔ مکمل سورت کی تلاوت سن کر بالآخر انہیں محسوس ہوا کہ اسلام ان کے دل میں پوری طرح گھر کر گیا ہے۔
بحوالہ : الوسيط في تفسير القرآن المجيد ، سُورَةِ الْفَاتِحَةِ : آن لائن ربط

مورخین اسلام کی رائے کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے ساتویں سال میں ایمان لے آئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی کہ ۔۔۔
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ : بِأَبِي جَهْلٍ , أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
اے اللہ ! ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آپ کو زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کر کے آگے کہتے ہیں کہ :
وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ .
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں میں سے عمر (رضی اللہ عنہ) زیادہ محبوب تھے۔
سنن ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب المناقب : آن لائن ربط

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ۔۔۔
مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ
عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب سے اسلام قبول کیا تب سے ہماری طاقت و قوت میں اضافہ ہوتا گیا۔
صحیح بخاری ، کتاب المناقب : آن لائن ربط

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دین میں اس قدر پختہ تھے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان بھی ان کے مقابلے میں آنے سے کتراتا تھا۔
اسی حقیقت کے متعلق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی ہے کہ ۔۔۔

إِيهًا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ
اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب کبھی شیطان کا سرِ راہ تم سے سامنا ہوتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چل دیتا ہے۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل الصحاب النبی : آن لائن ربط

یہ بات بھی بہت مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو موقف اختیار کرتے تھے تو اس کی تائید میں قرآن مجید نازل ہو جاتا تھا۔
جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ۔۔۔
مقام ابراہیم کو مستقل جائے نماز بنانے کی رائے
امہات المومنین کو حجاب کا حکم دینے کی رائے
بدر کے قیدیوں سے متعلق رائے
کے ذریعے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے رب سے موافقت کی تھی۔
صحيح مسلم ، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ : آن لائن ربط

اسی موضوع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں ۔۔۔

إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ
بےشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور ان کے دل پر حق رکھ دیا ہے۔
جامع الترمذي ، كِتَاب الدَّعَوَاتِ ، أبوابُ الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

اور ۔۔۔
لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ
تم لوگوں سے پہلی امتوں میں محدثون (الہامی) لوگ ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے۔
صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

اسی طرح ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کچھ ایسی ہی گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔۔
جب بھی لوگوں کو کوئی مسئلہ پیش آتا جس میں آراء مختلف ہوتیں اور عمر (رضی اللہ عنہ) کوئی اور رائے پیش کرتے تو قرآن کریم انہی کی رائے کی تائید میں نازل ہو جاتا۔
مسند احمد : آن لائن ربط

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف اشارہ ایک حدیث سے یوں ملتا ہے ۔۔۔
دوران خواب میں نے اپنے آپ کو ایسے کنویں پر پایا جس کی منڈیر نہیں تھی ، اس میں ایک ڈول تھا۔ میں نے اس کنویں سے جتنے اللہ تعالیٰ نے چاہے ڈول کھینچے پھر اس ڈول کو ابن قحافہ (ابوبکر) نے تھام لیا۔ انہوں نے اس کنویں سے ایک یا دو ڈول کھینچے ، ان کے کھینچنے کی کمزوری کو اللہ معاف فرمائے ، اس کے بعد ڈول بڑے ڈول میں تبدیل ہو گیا اور اس کو ابن الخطاب نے پکڑ لیا۔ میں نے انسانوں میں کوئی مضبوط طاقتور شخص نہیں دیکھا جو عمر کی طرح ڈول کھینچتا ہو۔ اس نے اتنے ڈول کھینچے کہ سب لوگ جانوروں اور زمین سمیت سیراب ہو گئے۔
صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

یہ حدیث سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کی واضح دلیل ہے کہ ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کے بعد وہی خلیفہ راشد قرار پائیں گے۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خود بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مداح تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر (رضی اللہ عنہ) کیلئے اُس وقت دعا کر رہے تھے جب آپ کو چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ اچانک میرے پیچھے سے ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھی اور یوں دعا کی :
{اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید تھی کہ وہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی جمع کر دے گا، کیونکہ میں اکثر و بیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سنا کرتا تھا کہ ۔۔۔۔ "میں ، ابوبکر اور عمر تھے، میں ابوبکر اور عمر نے یوں کیا، میں ابوبکر اور عمر گئے" ۔۔۔ تو اسی لیے مجھے (پہلے سے) امید تھی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ہی اکٹھا کر دے گا۔}
ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ علی (رضی اللہ عنہ) تھے جو یہ دعا کر رہے تھے۔
صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ : آن لائن ربط

دس سالہ خلافت کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک بدبخت فیروز ابولولو کے ہاتھوں شہید ہوئے اور یکم محرم سن 24ھ کو اپنا رخت سفر باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہمیشہ کی نیند سو گئے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ

0 comments
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ

عبداللہ بن عثمان بن عامر وبن کعب بن سعد

عبداللہ نام ، ابوبکر کنیت ، صدیق اور عتیق لقب
والد ماجد کا نام عثمان ابوقحافہ اور والدہ ماجدہ کا نام سلمٰی ام الخیر
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ چھٹی پشت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔

امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اسلام کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور جان و مال سے شجرِ اسلام کی حفاظت کی ہے۔ بالغ مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی شخصیت آپ ہی کی تھی۔ ہجرت کے سفر میں بھی آپ اکیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔

ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچپن ہی سے خاص انس اور خلوص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقۂ احباب میں داخل تھے۔ تجارت کے اکثر سفروں میں بھی انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔
بحوالہ : کنز العمال

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی لسانِ مبارک سے سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے احسانات کا اعتراف فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں :

" أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا ، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " .

اللہ تعالیٰ نے تمہارے رفیق کو (اپنا) خلیل بنایا ہے۔ جتنا فائدہ مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے اتنا فائدہ کبھی کسی کے مال نے نہیں پہنچایا اور اگر میں کسی کو خلیل بنانا چاہتا تو ابوبکر کو بناتا۔ خبردار تمہارا صاحب اللہ کا خلیل ہے۔
ترمذی ، کتاب المناقب : آن لائن ربط

ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

" إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ " .

میرا ساتھ نبھانے اور مال خرچ کرنے میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے ، اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو خلیل بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا ، لیکن اسلامی بھائی چارہ اور اس کی محبت ہی کافی ہے۔ مسجد کے تمام دروازوں کو بند رکھا جائے سوائے بابِ ابوبکر کے۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل الصحابہ : آن لائن ربط

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ان سب سے افضل ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔۔۔

" كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان سیدنا ابوبکر ، پھر عمر اور پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی : آن لائن ربط

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی متواتر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا ۔۔۔
أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ  أَبُو بَكْرٍ  : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ، قَالَ : ثُمَّ  عُمَرُ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین شخص ابوبکر اور پھر ان کے بعد عمر ہیں۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی : آن لائن ربط

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو بشارت دی تھی کہ :

وَقَالَ : هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ " .

آپ کو جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا کہ آپ جنت میں آ جائیں۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی : آن لائن ربط

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ۔۔۔
ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ ، وَأَخَاكِ ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ ، وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى ، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضِ وفات میں فرمایا کہ اپنے باپ ابوبکر اور اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو میرے پاس بلاؤ ، تاکہ میں انہیں تحریر لکھوا دوں ، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ (خلافت کی) تمنا کرنے والے تمنا کریں گے اور کہنے والا کہے گا کہ میرے سوا اور کوئی نہیں۔ جبکہ اللہ اور تمام مومنین ابوبکر کے علاوہ سب کا انکار کرتے ہیں۔
صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ : آن لائن ربط

علم و یقین اور ایمان و تقویٰ کی یہ عظیم شخصیت خلافتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عظیم منصب پر سوا دو سال تک براجمان رہی اور اسلام کے لیے آپ رضی اللہ عنہ نے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئے کہ جو کبھی فراموش نہ کئے جا سکیں گے۔
63 برس کی عمر میں جمادی الاول سن 13 ھجری کے اواخر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہو کر دائمی رفاقت کے لیے جنت میں پہنچ گئے۔