YOUR INFO

Showing posts with label تاریخی اسلامی واقعات. Show all posts
Showing posts with label تاریخی اسلامی واقعات. Show all posts

Sunday, 14 April 2013

غزوہ حمراء الاسد

0 comments
غزوہ حمراء الاسد
سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم 
New New غزوہ ذات حمراء الا سد۔۔۔صفحہ نمبر 386

ادھر رسول اللہ ﷺ نے پوری رات جنگ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرتےہوئے گذاری ۔آپ ﷺ کا اندیشہ تھا کہ مشرکین نے سوچا کہ میدان جنگ میں اپنا پلہ بھاری رہتے ہوئے بھی ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو انہیں یقیناً ندامت ہو گی اور وہ راستے سے پلت کر مدینے پر دوبارہ حملہ کریں گے۔ اس لئے آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ بہرحال ان کے لشکر کا تعاقب کیا جانا چاہیے۔۔چنانچہ اہل سیر کا بیان ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے معرکہ احد کے دوسرے دن یعنی یک شنبہ 8 شوال سن 3 ھ کو علی الصباح اعلان فرمایا کہ دشمن کے مقابلے کے لئے چلنا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی آدمی چل سکتا ہے جو معرکہ احدمیں موجود تھا ۔تاہم عبد اللہ بن ابی نے اجازت چاہی کہ آپ ﷺ کا ہمرکاب ہو مگر آپ ﷺ نے اجازت نہ دی ۔ ادھر جتنے مسلمانان تھےاگر چہ زخموں سے چور غم سے نڈھال اور اندیشہ و خوف سے دو چار تھے لیکن سب نے بلا تردد سر اطاعت خم کردیا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی اجازت چاہی جو جنگ احد میں شریک نہ تھے ۔ حاضر خدمت ہوکر عرض پرداز ہوئے ۔۔۔ یار سول اللہ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ جس کسی جنگ میں تشریف لے جائیں میں بھی حاضر خدمت رہوں اور چونکہ (اس جنگ میں) میرےوالد نے مجھے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کے لئے گھر پر روک دیا تھا لہذا آپﷺ مجھے اجازت دے دیں کہ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلوں اس پر آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی پروگرام کے مطابق رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ہمراہ لےکر روانہ ہوئے اور مدینے سے آٹھ میل دور حمراء الا سد پہنچ کر خیمہ زن ہو ئے۔۔اثناء قیام میں معبد بن ابی معبد خزاعی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے شرک ہی پر قائم تھا لیکن رسو ل اللہ ﷺ کا خیر خواہ تھا۔کیونکہ خزاعہ اور بنو ہاشم کے در میان حلف( یعنی دوستی و تعاون کا عہد ) تھا بہر کیف اس نے کہا اے محمدﷺ۔۔۔! آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے رفقاء کو جوزک پہنچی ہے وہ واللہ ہم پر سخت گراں گزری ہے ہماری آرزو تھی کہ اللہ آپ ﷺ کو بعافیت رکھتا ۔۔ اس اظہار ہمدردی پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ابو سفیان کے پاس جائے اور اس کی حوصلہ شکنی کرے۔ادھر رسو ل اللہ ﷺ نے جو اندیشہ محسوس کیا تھا کہ مشرکین مدینے کی طرف پلٹنے کی بات سوچیں گے وہ بالکل برحق تھا ۔ چنانچہ مشرکین نے مدینے سے 36 میل دور مقام روحا پر پہنچ کر جب پڑاؤ ڈالا تو آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی کہنے لگے تم لو گوں نے کچھ نہیں کیا ۔ان کی شوکت و قوت توڑ کر ان کو یوں ہی چھوڑ دیا حالا نکہ ابھی ان کے اتنے سر باقی ہیں کہ وہ تمہارے لئے پھر درد سر بن سکتے ہیں لہذا واپس چلو اور انہیں جڑ سے صاف کردو۔۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سطحی راۓ تھی جو ان لوگون کی طرف سے پیش کی گئی تھی جنہیں فریقین کی قوت اور ان کے حوصلوں کا صحیح اندازہ نہ تھا اسی لئے ایک ذمہ دار افسر صفوان بن امیہ نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا لوگو۔۔! ایسانہ کرو ۔مجھے خطرہ ہے کہ جو ( مسلمان غزوہ احد ) نہیں آئے تھے وہ بھی اب تمہارے خلاف جمع ہو جائیں گے لہذا اس حالت میں واپس چلے چلو کہ فتح تمہاری ہے ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ مدینے پر پھر چڑھائی کر وگے تو گردش میں پڑ جاؤ گے لیکن بھاری اکثریت نے یہ رائے قبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ مدینے واپس چلیں ۔لیکن ابھی پڑاؤ چھوڑ کر ابو سفیان اور اس کے فوجی ہلے بھی نہ تھے کہ معبد بن ابی معبد خزاعی پہنچ گیا ۔ابو سفیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس نے پوچھا معبد پیچھے کی کیا خبر ہے؟ معبد نے ۔۔۔پروپیگنڈے کی سخت اعصابی حملے کرتے ہوئے کہا محمد ﷺ۔۔۔اپنے ساتھیوں کو لے کر تمہارے تعاقب میں نکل چکے ہیں ۔ان کی جمعیۃ اتنی بڑی ہے کہ میں نے ویسی جمعیۃ کبھی دیکھی ہی نہیں ۔۔سارے لوگ تمہارے خلاف غصے سے کباب ہوئے جارہے ہیں احد میں پیچھے رہ جانے والے بھی آگئے ہیں وہ جو کچھ ضائع کر چکے اس پر سخت نادم ہیں اور تمہارے خلاف اس قدر بھڑکے ہوئے ہیں کہ میں نے اس کی مثال دیکھی ہی نہیں ۔۔ابو سفیان نے کہا: ارے بھائی یہ کہا کہہ رہے ہو ۔۔؟ معبد نے کہا: واللہ میرا خیال ہے کہ تم کوچ کرنے سے پہلے پہلے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھ لو گےیا لشکر کا ہر اول دستہ اس ٹیلے کے پیچھے سے نمودار ہو جائے گا۔ ابو سفیان نے کہا اللہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر پلٹ کر پھر حملہ کریں اور ان کی جڑ کاٹ دیں معبد نے کہا: ایسا نہ کرنا میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں یہ باتیں سن کر مکی لشکر کے حوصلے ٹو ٹ گئے ان پر گھبراہٹ اور رعب طاری ہو گیا اور انہیں اسی میں عافیت نظر آئی کہ مکے کی جانب سے اپنی واپسی جاری رکھیں البتہ ابو سفیان نے اسلامی لشکر کے تعاقب سے باز رکھنے اور اس طرح سے بچنے کے لئے پرو پیگنڈے کا ایک جوابی اعصابی حملہ کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابو سفیان کے پاس سے قبیلہ عبد القیس کا ایک قافلہ گذرا ۔ابو سفیان نے کہا : کیا آپ لو گ میرا یہ پیغام محمد ﷺ کو پہنچا دیں گے۔؟ میرا وعدہ ہے کہ اس کے بدلے جب آپ لوگ مکہ آئیں گے تو عکاظ کے بازار میں آپ لوگوں کو اتنی کشمش دوں گا جتنی آپ کی یہ اونٹنی اٹھا سکے گی۔ان لوگوں نے کہا: جی ہاں ۔ابو سفیان نے کہا: محمد ﷺ کو یہ خبر پہنچا دیں کہ ہم نے ان کی اوران کے رفقاء کی جڑ کاٹ دینے کے لئے دوبارہ پلٹ کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بعد جب یہ قافلہ حمراء الاسد میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے ابو سفیان کا پیغام کہہ سنایا اور کہا کہ لوگ تمہارے خلا ف جمع ہیں ان سے ڈرو مگر ان کی باتیں سن کر مسلمانوں کے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا ۔ اور انہوں نے کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۔اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کا رساز ہے ( اس ایمانی قوت کی بادولت( وہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹے ۔انہیں کسی برائی نے نہ چھوا اور انہوں نے اللہ کی رضا مندی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اتوار کے روز حمراء الا سد میں تشریف لے گئے تھے ۔ دو شنبہ ،منگل اور بدھ یعنی 9۔10،11۔شوال سن 3 ھجری تک مقیم رہے اس کے بعد مدینہ واپس آئے ۔ مدینہ واپسی سے پہلے ابوعزہ جمحی آپ ﷺ کی گرفت میں آ گیا۔ یہ وہی شخص ہے جسے بدر میں گرفتار کئے جانے کے بعد اس کے فقر اور لڑکیوں کی کثرت کے سبب اس شر ط پر بلا عوض چھوڑ دیا 
دیا گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی سے تعاون نہیں کرے گا ۔لیکن اس شخص نے وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی اور اپنے اشعار کے ذریعہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف لوگو ں کے جذبات کو برانگیختہ کیا۔۔ جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے پھر مسلمان سے لڑنے کے لئے خود بھی جنگ احد میں آیا ۔جب یہ گرفتار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو کہنے لگا : محمد ﷺ میری لغزش کو در گزر کر و۔مجھ پر احسان کر دو اور میری بچیوں کی خاطر مجھے چھوڑ دو ۔ میں عہد کرتاہو ں کہ اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔نبی ﷺ نے فرمایا : اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم مکے جاکر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرو اور کہو کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دھوکہ دیا ہے ۔مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔اس کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ یا حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کی گردن مار دی۔اسی طرح مکے کا ایک جاسوس بھی مارا گیا اس کا نام معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص تھا اور یہ عبد الملک بن مروان کا نانا تھا ۔یہ شخص اس طرح زد میں آیا کہ جب احد کے روز مشرکین واپس چلے گئے تو یہ اپنے چچیرے بھائی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے آیا۔عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی ﷺ سے اس کے لئے امان طلب کی اور آپﷺ نے اس شرط پر امان دے دی کہ اگر وہ تین روز کے بعد پایا گیا تو قتل کر دیا جائے گا۔لیکن جب مدینہ اسلامی لشکر سے خالی ہو گیا تو یہ شخص قریش کی جاسوسی کےلئے تین دن سے زیادہ ٹھر گیا اور جب لشکر واپس آیا تو بھاگنے کی کوشش کی رسول اللہﷺ نے حضرت زیدبن حارثہ اور حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالی عنہی اللہ تعالی عنہما کو حکم دیا اور انہوں نے اس شخص کا تعاقب کر کے اسے تہ و تیغ کر دیا۔۔( غزوہ احد اور غزوہ حمراء الاسد کی تفصیلات اب ہشام 2۔60 زاد المعاد2۔91تا 108 فتح الباری مع صحیح بخاری 7۔345تا 377 مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص 242 تا 257 جمع کی گئی ہیں اور دوسرے مصادر کے حوالے متعلقہ مقامات ہی پر دے دیئے گئےہیں)
غزوہ حمراء الاسد کا ذکر اگرچہ ایک مستقل نام سے کیا جاتا ہے مگر یہ درحقیقت کوئی مستقل غزوہ نہ تھا بلکہ غزوہ احد ہی کا جزو و تتمہ اور اسی کے صفحات میں سے ایک صفحہ تھا۔

Sunday, 3 March 2013

کعبہ شریف میں چارمصلوں کی بدعت

0 comments
کعبہ شریف میں چارمصلوں کی بدعت
مولانا محمد یوسف جے پوری ـرحمہ اللہ ـ

ہرمذہب کا یہ دعوٰی ہے کہ وہ فرقہ ناجیہ خالص اسلام کا اہل سنت و والجماعت کا گروہ ہے اور بیشک یہ گروہ اس قول میں حق بجانب ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ اس تقلید ناسدید نے ان میں سے بھی اکثر کو ایک سیدھی شاہراہ محمدی سے چار مختف طریقوں میں متفرق کرکے باہمی مغائرت و منافرت پیدا کردی تھی ایسی کہ خانہ کعبہ میں قدیم سے صرف ایک مصلی ابراہیمی تھا جو وحدت اسلام اور واحد پرستی کا نشان تھا ـ 
مذاہب اربعہ کی تقلید کے بعد رفتہ رفتہ ان کے مقلدین بھی بڑھ گئے اور سلاطین کا میلان بھی تقلید کی طرف ہو گیا ـ ہر ایک بادشادہ اپنے ہم مذہب کوقاضی مقرر کرتا ، ہر ایک فرقہ اپنے مذہب کو فروغ اور دوسرے مذہب کو زیر کرنے کی تدبریں اور کوشش کرتا ـ اور ایک دوسرے پر حمہ آور ہوتا ، کبھی کوئی غالب ہو جاتا تو کوئی مغلوب ـ یوں ہی قضیئے ، جھگڑے ہوتے رہے ـ بالآخر الظاہیرالدین بیبرس کے زمانے میں 665 ھ میں چار مذہبوں کے قاضی مقرر ہوئے ـ چنانچہ '' خبئته الاکوان فی الافتراق الامم علی المذاهب والادیان '' مطبوعه مصر ص 234 میں ہے کہ :-جب حکومت سلطان ظاہر بیبرس بند قداری کا دور ہوا تو مصر و قاہرہ میں چار قاضی چاروں مذہبوں کے مقررہوئے ـ شافعی ، مالکی ، حنفی، حنبلی رحمہ اللہ ـ پھر یہی طریقہ 665 سے جاری ہو گیا ـ یہاں کہ تمام اسلامی ممالک میں ان کے علاوہ کوئی مذہب نہیں پہچانا جاتا ـ''
اب سے گویا سرکاری طور پر چاروں مذہب تسلیم کرلئے گئے ـ آخر سلطان فرح بن برقوق نے جواشرملوک چراکسہ کہا جاتا تھا ـ اول نویں صدی میں کعبہ شریف کے اندر علاوہ مصلے ابراہیمی کے چار مصلے اور قائم کردئیے ـ ایک دین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چلا آرہا تھا اس کے چار ٹکڑے ہوئے گئے ـ انا للہ وانا الیہ راجعون ، کسی عارفِ صادق نے اس موقع پر کیا ہی موزوں کہا ہے 
؀ دین حق را چار مذہب ساختند
رخنہ در دین نبی اندا ختند
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ''اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو،'' کا خوب حق اداکیا ـ کعبہ کا منظر کچھ اس طرح تھا کہ ایک مصلے پر نماز ہوتی تو تینوں مصلے والے بیٹھے ہوئے دیکھا کرتے تھے اور اسی طرح یکے بعد دیگرے چاروں مصلوں پر نماز ہوتی تھی اور حکم پر توجہ نہیں ہوتی تھی ـ بلکہ اب ان چار مصلوں کو داخل دین سمجھا جاتا تھا نہ مصلے ابراہیمی کو ـ الی اللہ المشتکی 
چاروں مصلے کا بدعت ہونا – ارشاد السائل الی دلیل المسائل صفحه101 میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :- 
'' کعبہ میں چار مصلے بدعت ہیں تمام مسلمانوں کے اجماع سے اوائل صدی میں بدترین بادشاہ چراکسہ نے اس بدعت کو جاری کیاـ جس کا نام فرح بن برقوق تھا ـ اس زمانے کے اہل علم نے اس پر انکار کیاـ''
تفسیر عزیزی میں ہے از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ـ (تحت آیت (البقرہ 73) 
وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿٧٤﴾'' اللہ تعالٰی بے خبر نہیں ہے کہ جو کچھ کہ یہ زمانہ آئندہ میں عمل کریں گئے ـ اطراف کعبہ میں بدعت کی وجہ سے ایک ایک طرف کو تقسیم کر لیں گئے اور جس طرف کو اختیار کریں گئے اس کی تفصیل و ترجیح کے لئے دلیلیں لائیں گئے ـ مثلا حنفیہ جہت جنوب کو اختیار کریں گئے اور ان کا امام کعبہ سے جانب شمال کھڑا ہو گا ـ اور فخر کے طور پر کہیں گئے کہ ہمارا قبلہ قبلہ ابراہیمی ہے ـ اس واسطے کہ جناب ابراہیم میزاب کی طرف منہ کیا کرتے تھے اور شافعیہ غربی سمت کو اختیار کریں گئے اور ان کا امام کعبہ سے شرق کی طرف کو کھڑا ہو گا ـ اور ٖفخر کے طور پر کہیں گئے کہ ہم باب کا استقبال کرتے ہیں ، ہمارا قبلہ قبلہء منصوصہ ہے ـ وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ اور اسی قیاس پر مختلف شہروں کے لوگ اپنی اپنی اختیار کی ہوئی جہات کی ترجیح میں اسی قسم کے نکتے پیدا کر لیں گئے ـ لیکن یہ تمام شاعرانہ نکتے ہیں ـ اوردین کے نزدیک قابل التفات نہیں ـ اللہ پاک کا حکم تو صرف اتنا ہی ہے کہ کعبہ کی طرف لازمی طور پر منہ کرو ـ اور اس کو سفر اور حضر اور ایک شہر سے دوسرے شہر کو جاتے ہوئے ہو ئے نہ چھوڑو ـ''
مولانا رشید احمد گنگوہی تحریر فرماتے ہیں :-
'' البتہ چار مصلے جو کہ مکہ معظمہ میں مقررکیے ہیں لاریب یہ امر زبون ہے کہ تکرار جماعات و افتراق اس سے لازم آ گیا ـ کہ ایک جماعت کے ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی ہے ـ اور ایک شریک جماعت نہیں ہوتی ـ اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں ـ مگر یہ تفرقہ آئمہ دین حضرات مجتہدین سے نہ علماء متقدمین سے ـ بلکہ کسی وقت میں سلطنت میں کسی وجہ سے یہ امر حادث ہوا ہے کہ اس کو کوئی اہل علم اہل حق پسند نہیں کرتا پس یہ طعن نہ علماء اہل حق مذہب اربعہ پر ہے بلکہ سلاطین پر ہے کہ مرتکب اس بدعت ہوئے ـ
ارشاد السائل الی دلیل المسائل صفحه102
اس موضوع پر مزید جاننے کے لئے یہاں ملاحظہ فرمائیں ۔ 
الحمد للہ ۔ شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ کے زمانے میں اس بدعت کا خاتمہ کر کے امت محمدیہ کو کعبہ شریف میں ایک مصلے پر جمع کیا گیا۔ اللہ انہیں اسکے بدلے میں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین ۔