YOUR INFO

Showing posts with label والدین کا احترام. Show all posts
Showing posts with label والدین کا احترام. Show all posts

Sunday, 3 March 2013

والدین کے حق

0 comments

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام ، خاندان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور اس کےدرمیان محبت و احترام کی تاکید کرتاہے اور اس خاندان کی اساس اور بنیاد والدین ہیں۔
اسی لئےاللہ تعالی کےہاں سب سےمحبوب اور افضل عمل والدین سے نیکی کرنا قرار پایا ۔ 
والدین سے نیکی ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور ان کا احترام اور ان کےسامنے تواضع اور ان کے لئےاحسان کر کےہوگی اور یہ کہ ان پرخرچ کیا جائے اور ان کے لئے دعا کی جائے اور ان کے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کی جائے اور ان کےدوست و احباب کی عزت و احترام کیا جائے ۔ 

اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے ‫: 
اورتیرے رب نےفیصلہ کردیاہےکہ اس کی عبادت کےعلاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کےساتھ احسان اوراچھا سلوک کرو
( سورة بني اسرآءيل : 17 ، آیت : 23 )

اور ان حقوق میں والدہ کاحق سب سے زیادہ اور عظیم ہے کیونکہ وہ دراصل والدہ ہی ہے جس نے اس کاحمل اٹھایا اور پھر وہی ہے جس نےاسے جنا اور وہی ہے جس نے اسےدودھ پلایا ۔ 

عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي قال ‏"‏ أمك ‏"‏‏۔‏ قال ثم من قال ‏"‏ أمك ‏"‏‏۔ قال ثم من قال ‏"‏ أمك ‏"‏‏۔ قال ثم من قال ‏"‏ ثم أبوك ‏"‏‏۔
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ‫:
یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟
آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : تمہاری ماں ہے۔
صحابی نے پھر پوچھا کہ : اس کے بعد کون ہے؟
آپ (صلى الله عليه وسلم) نے دوبارہ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
انہوں نے پھر پوچھا کہ : اس کے بعد کون؟
آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : تمہاری ماں ہے۔
انہوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون ہے؟
آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : پھر تمہارا باپ ہے۔

اطاعتِ والدین قرآن کی رو سے فرض ہے

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جمع و ترتیب ذیشان اکرم رانا
اطاعتِ والدین قرآن کی رو سے فرض ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَوَصَّيْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر تیرے والدین اس بات کے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کی حقیقت کا تجھے علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔
( العنكبوت:29 - آيت:8 )

اور سورہ لقمان میں فرمایا:
وَوَصَّيْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِير
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا

اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکیدی حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھایا اور دو سال تک دودھ پلایا۔ یہ کہ تو میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرے (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اور اگر والدین اس بات کے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کرنا۔ تاہم دنیوی امور میں ان کا اچھی طرح ساتھ دے۔
( لقمان:31 - آيات:14-15 )

ان آیات سے مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں :
1۔ ماں باپ سے حسنِ سلوک ہر حالت میں فرض ہے۔ خواہ والدین مشرک ہوں یا کافر ، جوان ہوں یا بوڑھے۔
2۔ اگر والدین اولاد کو شرک (یا اللہ کی معصیت کے دوسرے کاموں) پر مجبور کریں تو یہی ایک صورت ہے کہ ان کی پیروی نہ کی جائے۔ باقی سب حالتوں میں ان کی اطاعت لازم ہے۔ اس طرح اولاد اپنے والدین پر کوئی احسان نہیں کرتی بلکہ اپنا فرض ادا کرتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے بعد ساتھ ہی والدین کے شکر کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے لہذا اس کا شکر واجب ہوا اور والدین اولاد کے لیے واسطہ تربیت ہیں۔ لہذا اللہ کے بعد دوسرے نمبر پر ان کا شکر بھی واجب ٹھہرایا۔ یہ ہے مقامِ والدین !
کیا اطاعت کے بغیر والدین سے حسنِ سلوک ممکن ہے؟

اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بےشمار مقامات پر والدین سے حسنِ سلوک یا نیکی کے برتاؤ کی جو تاکید فرمائی ہے تو کیا یہ "اطاعتِ والدین" کے بغیر ممکن بھی ہے یا نہیں؟
اس بارے میں درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا
اور وہ (یعنی حضرت یحییٰ) اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے اور ان پر دباؤ ڈالنے والے یا نافرمان نہ تھے۔
( مريم:19 - آيت:14 )

معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے والدین کا ، خواہ وہ کسی عمر میں ہوں ، سرکش اور نافرمان ہو ، وہ والدین کے ساتھ "نیک سلوک کرنے والا" نہیں ہو سکتا۔ گویا حسنِ سلوک کے لیے دو باتیں ضروری ہیں :
1۔ نرمی
2۔ فرماں برداری
بڑھاپے میں بھی اطاعتِ والدین ضروری ہے

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل سے فرماتے ہیں:
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
تو جب حضرت اسماعیل اپنے باپ حضرت ابراہیم کے کاموں میں حصہ لینے کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے کہا:
اے میرے پیارے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ اب تم دیکھو کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟
حضرت اسماعیل نے کہا : اے میرے والد ، جو آپ کو حکم ہوا وہی کچھ کیجئے۔
( الصافات:37 - آيت:102 )

1۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم بوڑھے ہو چکے تھے۔
2۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب حضرت اسماعیل عاقل و بالغ ہو چکے تھے۔ ان میں کم از کم اتنا عقل وشعور آ چکا تھا کہ ان سے رائے لی جا سکے۔
3۔ اللہ کا حکم حضرت ابراہیم کو ہوا تھا ، حضرت اسماعیل کو نہیں ہوا تھا۔

ان سب باتوں کے باوجود حضرت اسماعیل نے والد کی اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی، نہ اس واقعہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے سے بھی انکار نہیں کیا۔
اور یہ نہیں سوچا کہ ۔۔۔
یہ تو خواب کی بات ہے
یا
یہ کہ (نعوذباللہ) اب باپ بوڑھا ہو گیا ہے جو اس طرح بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے
یا
یہ کہ باپ تو محض میری رائے پوچھ رہا ہے کوئی حکم تو نہیں دے رہا
یا
یہ کہ اگر خواب میں حکم ہوا ہے تو میرے باپ کو ہوا ہے مجھے تو نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
بلکہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ کی منشاء کے آگے سرتسلیم خم کر دیا۔
اور ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے فَلَمَّا أَسْلَمَا کہہ کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ :
حضرت اسماعیل کی اپنے باپ کی منشاء کی "اطاعت" بھی عین "اللہ کی اطاعت" تھی !!

کیا اس سے بڑھ کر بھی (بوڑھے) والدین کی اطاعت کے سلسلہ میں قرآن سے کوئی ثبوت درکار ہے؟

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

نتائج

تصریحاتِ بالا سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ بلوغت سے پہلے انسان ویسے ہی کافی حد تک والدین کی اطاعت پر مجبور ہوتا ہے۔ لہذا "اطاعتِ والدین" کا سوال خارج از بحث ہے کیونکہ اس عمر میں انسان شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا۔
2۔ بلوغت سے لے کر 40 سال کی عمر تک (یعنی پختگی عقل یا اصابت رائے کی عمر تک) جو چالیس سال کی عمر کے لگ بھگ ہوتی ہے ، انسان کو والدین کی اطاعت ضرور کرنی چاہئے۔ کیونکہ اس عمر میں جوانی کا جوش اور جذبات میں شدت انسان کی عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ لہذا وہ اپنا نفع نقصان بھی درست طور پر سوچنے کے قابل نہیں ہوتا اور اس کی اپنی عافیت بھی اسی بات میں ہوتی ہے کہ وہ بڑوں کی اطاعت کرے۔
3۔ چالیس سال کی عمر کے بعد اس کی عقل پختہ ہو جاتی ہے لیکن والدین کہولت کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ والدین خود ہی اولاد کے محتاج ہونے کی وجہ سے اپنا کوئی حکم اپنی اولاد کے سر تھوپ نہیں سکتے۔ تاہم اس عمر میں بھی اولاد اگر اپنے والدین کی مرضی کو مقدم رکھے تو یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ اگر کہیں اختلاف واقع ہو جائے ، پھر بھی اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سے بحث و جدال کرے یا ان کو دبائے۔ بلکہ حکم یہ ہے ایسی حالت میں بھی ان کو اُف تک نہ کہے ، اپنی بات نرمی سے پیش کر کے والدین کو بدلائل قائل کرنے کی کوشش کرے اور دنیوی امور میں یعنی ان کے قیام و طعام کے سلسلہ میں ان کی خدمت دل و جان سے کرے۔
4۔ اگر والدین اللہ سے شرک کرنے یا معصیت کے کاموں پر اولاد کو مجبور کریں یعنی اللہ کے مقابلے میں کوئی حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، خواہ یہ ان کی عمر کا کوئی دور ہو۔


بحوالہ :
آئینۂ پرویزیت
حصہ سوم : باب - اطاعتِ والدین
ص: 361-363

والدین کے حقوق

0 comments

بسم الله الرحمن الرحيم 

والدین کے حقوق 

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال 
رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يجزي ولد والده 
إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه 
( الأدب المفرد للبخاري : 10 / 
صحيح مسلم : 1510 ، العتق /
سنن أبو داؤد : 
5137 ، الأدب )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بیٹا [ یا بیٹی ] اپنے والد [ یا والدہ ] کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا ، مگر یہ کہ وہ اپنے باپ کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کردے ۔ 

انسان اس دنیا میں اپنے وجود کیلئے ذات باری تعالی کے بعد سب سے زیادہ محتاج والدین کا ہے کوئی بھی بچہ جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو گوشت و پوست کا ایک ننھا سا وجود ہوتا ہے جس میں نہ بولنے کی طاقت ہوتی ہے ، نہ چلنے پھرنے کی سکت ، اتنی طاقت بھی نہیں ہوتی کہ وہ کچھ کھاپی سکے ، ایسے وقت میں ماں کا وجود اسکے لئے ایک بڑی نعمت ہوتی ہے ، وہ ہر لمحے اسکی نگہبانی کرتی ہے اسے دودھ پلاتی اور اسکی پرورش و نگہداشت کا فریضہ سر انجام دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ باپ کی شفقت اسے زمانے کے سرد و غم سے بچاتی ہے اس کی محبت کی چھاوں اسے ہر سختی ، تکلیف اور رنج سے دور کردیتی ہے ، ان دونوں کی پرورش کے نتیجے میں جب وہ شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اسے صاف نظر آتا ہے کہ اسے اس مقام تک پہنچانے والے [ اللہ تعالی کے بعد ] اسکے والدین ہیں ۔ 

اسے اس مقام تک پہنچانے والے والدین نے اپنے فرض کو پورا کردیا ، اب انکے کچھ حقوق میں اور یہ حقوق اتنے اہم ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے حق عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا ہے 

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا 

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ۔ 

ماں باپ کے احسان کی فہرست تو بہت طویل ہے البتہ ان میں سے چند اہم حقوق یہ ہیں : 

[ 1 ] طاعت و فرمانبرداری : اگر والدین کسی ایسے کام کا حکم نہیں دے رہے ہیں جسمیں اللہ تعالی کی معصیت ہے یا کسی بندے پر ظلم اور اسکی حق تلفی ہےتو انکی اطاعت واجب ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے : 

وَإِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ( سورة لقمان )

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعۃ اللہ طاعۃ الوالد و معصیۃ اللہ معصیۃ الوالد [ الطبرانی / جمع الزوائد ، ج : 8 ، ص : 136 ، بروایت ابو ہریرہ ] ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تبارک و تعالی کی اطاعت کی تکمیل والد کی اطاعت میں ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی والد کی نافرمانی میں ہے ۔ 


[ 2 ] تعظیم و توقیر : قول و فعل کے ذریعہ والدین کی توقیر انکا واجبی حق ہے حتی کہ انکے سامنے " اُف " کر دینے میں انکی بے حرمتی اور انکے ساتھ بدسلوکی ہے ۔ 

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا....

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا .......

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.

اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما ( سورة الإسراء : 23،24 ) 


[ 3 ] خدمت : مالی اور بدنی دونوں ذریعہ حتی الامکان انکی مدد کرنا اور انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ، ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ میرے باپ میرا سارا مال لے لیتے ہیں [ میں کیا کروں ؟ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کاہے تمہاری سب سے پاک روزی تمہاری اپنے ہاتھ کی کمائی ہے اور تمہاری اولاد کا مال تمہاری کمائی میں داخل ہے ۔
[ احمد ، ج : 2 ، ص : 179 ، بروایت عبد اللہ بن عمر ] 

[ 4 ] دعا : والدین جب اس دنیا سے جاچکے ہوں بلکہ اگر وہ بقید حیات ہوں تو بھی اولاد کی دعا کے سخت محتاج ہیں ۔ " وقل وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا" .... دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما

ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ والدین کی وفات کے بعد انکا کیا حق میرے اوپر رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : انکے لئے دعا ئے مغفرت کرنا ، انکے کئے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا ، انکے دوست کی تعظیم کرنا اور وہ رشتہ داریاں جو والدین کے ذریعہ جڑتی ہیں انہیں باقی رکھنا ۔ 
[ سنن ابوداود ، الترمذی وغیرہ بروایت ابو اسید ] 

[ 5 ] متعلقین کے ساتھ حسن سلوک : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں سے تعلق جوڑ کر رکھے ۔ [ صحیح مسلم ]

اسم المقالة : والدین کے حقوق 

والدین کے ساتھ حسن سلوک

0 comments
والدین کے ساتھ حسن سلوک


کیا ہم آپنے ماں باپ کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جس کا دین ہمیں حکوم دیتا ہے ؟
کیا ہم ان کی فرمابرداری ایسے کرتے ہیں جن کہ وہ مستحق ہیں ؟
کیا ہم ان کو وہ خوشیاں دیتے جو انہوں نے ہمیں دی جس میں خلوص اور محبت تھی؟

آپ کا جواب آپ بخوب جانتے ہیں

ذرا دیکھیں ہمارا رب ہمیں کیا حکم دیتا ہے

{ وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا . وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا . رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِن تَكُونُواْ صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُورًا } الإسراء/23-25
 


ترجمہ



اگر وہ (یعنی ماں باپ )تیرے سامنے بڑاپے کو پہنچ جا يں چاہے ایک ان میں سے پہنچے یا دونوں تب بھی ان سے کبھی 'ہوں ' بھی مت کرنا اور نہ ان سے جھڑک کر بولنا ان سے خوب ادب سے بات کرنا ۔ اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے ہمارے پروردگار تو ان پر رحمت کر جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پلا ہے ۔ تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جانتا ہے اگر تم سعادتمند ہو تو وہ توبہ کرنیوالوں کی خطا یں بڑی کثرت سے معاف کرنیوالا ہے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر بے ادبی میں اف کہنے سے کوی ادنی درجہ ہوتا تو اللہ جل شانہ اس کو بھی حرام فرمادیتے ۔

حضرت عایشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوے ان کے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ میرے والد ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے آگے نہ چلنا ان سے پہلے نہ بیٹھنا ان کا نام لے کر نہ پکارنا اور ان کو برا نہ کہنا ۔


اگر وہ کوی بات تیری ناگواری کی کہیں تو ترچھی نگاہ سے ان کو مت دیکھ کہ آدمی کی ناگواری اول اسکی آنکھ سے ہی پہچانی جاتی ہے ۔




حضرت عایشہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ جس نے اپنے باپ کی طرف تیز نگاہ کرکے دیکھا وہ فرمابردار نہیں ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کا اپنے وقت پر پڑھنا ۔ میں نے عرض کیا اسکے بعد کونسا عمل ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔ میں نے عرض کیا اسکے بعد؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاد۔

ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے ۔



ماں باپ کے حقوق میں ہے کہ ایسی تواضع اور تملق کرے اور اداے خدمت کرے کہ وہ راضی ہوجایں جائز کاموں میں ان کی اطاعت کرے بےادبی نہ کرے تکبر سے پیش نہ اے۔
ان کی اطاعت حرام میں تو ناجا‎‎ئز ہے لیکن مشتبہ امور میں واجب ہے
اس لئے کہ مشتبہ امور سے احتیاط تقوی اور ان کی رضا جوئ واجب ہے ۔ اگر ان کا مال مشتبہ ہو اور وہ علیحدہ کھانے سے مکدر ہوں تو ان کے ساتھ کھانا چاہیے



حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کوی مسلمان ایسا نہیں جس کے والدین حیات ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو اس کے لئے جنت کے دروازے نہ کھل جاتے ہوں اور اگر ان کو ناراض کردے تو اللہ جل شانہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کو راضی نہ کرلے کسی نہ عرض کیا اگر وہ ظلم کرتے ہوں ابن عباس نے فرمایا اگرچہ وہ ظلم کرتے ہوں۔


حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوے اور جہاد میں شرکت کی درخواست کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ زندہ ہیں انہوں نے عرض کیا زندہ ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی خدمت کو مضبوط پکڑلو جنت ان کے پا‎ؤں کے نیچے ہے ۔


حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا جہاد کو بہت دل چاہتا ہے لیکن مجھ میں قدرت نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا تمہارے والدین میں سے کوی زندہ ہے انہوں نے عرض کیا والدہ زندہ ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو جب تم ایسا کرو گے تو تم حج کرنے والے بھی ہو ، عمرہ کرنے والے بھی ہو جہاد کرنے والے بھی ہو ، یعنی جتنا ثواب ان چیزوں میں ملتا اتنا ہی تمہیں ملے گا ۔


حضرت عایشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ رسلم سے دریافت کیا کہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کا ۔ میں نے پھر پوچھا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماں کا ۔

ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگوں کی عورتوں کے ساتھ عفیف رہو تمہاری عورتیں بھی عفیف رہیں گی ، تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کا برتا‎ؤ کرے گی۔


حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ میرے بہترین تعلقات کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ رسول اللہ نے فرمایا تمہاری ماں پھر دوبارہ سہ بارہ ماں ہی کو بتایا ۔ پھر فرمایا کہ باپ ، پھر دوسرے رشتہ دار الاقارب فالاقارب( جو جتنا قریب ہو اتنا مقدم ہے )


اس حدیث سے بعض علماء نے استنباط کیا ہے کہ حسن سلوک اور احسان میں ماں کا حق تین حصہ ہے اور باپ کا ایک حصہ اسلئے کہ رسول اللہ نے تین مرتبہ ماں کو بتا کر چوتھی مرتبہ باپ کو بتایا ،


اس کی وجہ علما بتاتے ہیں کہ اولاد کے لئے ماں تین مشقتیں برداشت کرتی ہے

1 حمل کی ،
2 جننے کی ،
3 دودھ پلانے کی ۔


اسی وجہ سے فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے کہ احسان اور سلوک میں ماں کا حق باپ پر مقدم ہے اگر کوی شخص ایسا ہو کہ وہ اپنی ناداری کی وجہ سے دونوں کے ساتھ سلوک نہیں کرسکتا تو ماں کے ساتھ سلوک کرنا مقدم ہے البتہ اعزاز اور ادب تعظیم میں باپ کا حق ماں پر مقدم ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے ماں احسان کی زیادہ محتاج ہوتی ہے اور ان دونوں کے بعد دوسرے رشتہ دار ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کی ابتداء کرو اسکے بعد باپ کے ساتھ ،پھر بہن کے ساتھ پھر بھای کے ساتھ الاقارب فالاقارب اور اپنے پڑوسیوں اور حاجتمندوں کو نہ بھولنا ۔

اللہ ہم سب کو اپنے والدین کی انکھوں کی ٹھنڈک بنا 

والدین کا احترام

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

عزیز دوستوں!۔
دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس بات پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرنا چاہئے ان کا ادب واحترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے اس بارے میں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنی آخری کتاب میں اس بات کی تعلیم اس ڈھنگ سے بیان فرمائی ہے جو اہم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ایک انفرادی اسلوب کی حامل ہے مثال کے طور پر جب کبھی اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت وبرمانبرداری کی طرف توجہ دلانا چاہا ہے تو اُس کے فورا بعد والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تعلیم دی ہے۔۔۔ جیسا کہ اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ۔۔۔

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ 
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور( آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے (لقمان ـ١٤)ــــ

یار رکھیئے کہ جس طرح سے اللہ کے حقوق ہم پر فرض ہیں بالکل اسی طرح انسانوں کے حقوق بھی ہم پر فرض ہیں اور اتنے ہی اہم ہیں انسانوں میں والدین کے حقوق سب سے بڑھ کر ہیں 

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ 
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا۔ اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (وتقویٰ) دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے)۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے (الاحقاف١٥ـ١٦)ـــ

والدین سے نافرمانی کرنے والوں کیلئے گھاٹا ہی گھاٹا ہےـــ ارشاد ربانی ہے کہ!ـ
وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتْ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ 
اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں اللہ کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ اللہ کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے (الاحقاف ١٧ـ١٨)ـــ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا کہ!ـ
صل امک ثم امك ثم امك ثم اباك ثم ادناك فادناك
تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو تم اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرو تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو پھر تم اپنے باپ کے ساتھ صلہ رحمی کرو، پھر تم اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو پھر اسکے بعد دور کے رشتداروں کے ساتھ کرو (مظہری)ـ

ماں کے ساتھ اس طرح کے خاص سلوک اور صلہ رحمی کا حکم اللہ تعالٰی نے کئی وجوہات کی بناء پردیا ہےـ

١ـ بچے کو اپنے پیٹ میں رکھنے کی تکلف اور پیدائش کے وقت کی تکلیف سہنے کی وجہ سےـ
٢ـ بچہ پیدا ہونے سے پہلے اور بچہ ہونے کے بعد بچے کی پرورش اور نشونما کے لئے اسکے بدن سے بچے کو غذا دی جاتی ہےـ
٣ـ ہر وقت بچے کو اپنے کاندھوں پر لادے رہنا اور دن رات اسکی ضرورتوں کے پیچھے لگے رہناـ
٤ـ ماں بچوں کو سکھاتی ہے اور انہیں تربیت دیتی ہے نفسیات کے ماہرین کاکہنا ہے کہ بچیں کی تعلیم وتربیت کا اثر بچے کی آگے کی زندگی پر پڑتا ہے دنیا کی تمام عظیم شخصیتیں اپنی عظیم ماوں کی وجہ سے عظیم کہلائیں ـــ

واضح ہے کہ ماں کے احسانات بہت زیادہ ہیں اسی لئے اللہ تعالٰی نے اسکے حقوق کو اتنی اہمیت دی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ کئی مائیں اللہ تعالٰی کی دی ہوئی فوقیت اور اہمیت کا غلط استعمال کرتی ہیں بہت ساری مائیں بچوں کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہیں اور باپ کو بچوں کے معاملات میں اپاہج بنا دیتی ہیں یہاں تک کہ ایسی مائیں بچوں کو گھریلو معاملات میں باپ کا مخالفت بنادیتی ہیں جس کی بناء پر اس گھر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ایسی مائیں اللہ کی دیگر ہدایات کو بھول کر ایسا کرئی ہیں ـــ اللہ وحدہ لاشریک کا بیان ہے ـــ 

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ 
مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں (النساء ٣٤)۔۔۔

اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں گھریلو زندگی کے متعلق سب سے زیادہ مفصل ہدایتیں دی ہیں اتنی ہدایتیں زندگی کے دوسرے شعبے کے متعلق نہیں ملتیں کیونکہ گھریلو سکون کی اہمیت اور بقا اللہ تعالٰی کی نظر میں بہت اہم ہے ایسی ماؤں کا اس طرح کا غیر اسلامی سلوک ان کے شوہروں کو انتہائی تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے اور بہت مسائل پیدا کردیتا ہے اللہ تعالٰی کی نظر میں ایسی ماؤں کا اجر کم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ خاوند کو اسکے مقام سے گرا کر اولاد کی مدد سے گھریلو سکون کو تباہ وبرباد کرتی ہیں کئی پیدا کئے ہوئے مسائل میں گھِر کر پریشان ہوجاتی ہیں لیکن پھر اس وقت نقصان کی تلافی انتہائی مشکل ہوجاتی ہے۔۔۔

حقیقت میں اگر میری چال کا نتیجہ اس چال کے چلنے والے پر ہی وارد ہوجاتا ہے۔۔۔ اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ!۔ 

وَلاَ يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلاَّ بِأَهْلِهِ 
اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (الفاطر ٤٣)۔۔۔

اسی طرح والدین کے ادب و احترام میں اللہ وحدہ لاشریک نے مزید ارشاد فرمایا کہ!۔

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِن تَكُونُواْ صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُورًا 
اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے (الاسرء ٢٣۔٢٥)۔۔۔

ان آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کے بعد دوبارہ والدین کے ادب واحترام کی بات کی ہے ان آیات میں اللہ تعالٰی نے ہمیں سمجھا دیا ہے کہ ہم بچپن میں کس طرح بےیار ومددگار تھے اور والدین نے ہمیں پالا پوسہ اور پروان چڑھایا، ہمارے والدین ہماری ہر خواہش پوری کرتے تھے مکمل خلوص اور محبت کے ساتھ، اسی لئے اولاد پر فرض ہے کہ وہ والدین کا احترام کرے اور ان سے اچھا سلوک کرے۔۔۔

اگرچہ عمر کے تمام حصوں میں والدین کا ادب واحترام کرنا چاہئے لیکن ان کی طرف زیادہ تر توجہ اس وقت ہونی چاہئے جب وہ بوڑھے ہوجائیں کیونکہ وہ بھی اسی طرح بےیارو مددگار ہوجاتے ہیں جیسے ہم بچپن میں تھے اللہ تعالٰی نے ان آیات میں مندرجہ ذیل ہدایت ہمیں دی ہیں۔۔۔

١۔ ان کے سامنے آواز کو بلند کرنے سے اجتناب برتیں۔۔۔
٢۔ والدین کو ان کی بے عزتی کے طور پر چھوتے سے چھوٹا لفظ بھی زبان سے ادا نہیں کرنا چاہئے۔۔۔
٣۔ انتہائی محبت بھرے لہجے اور ہمدردی کے انداز میں اپنے والدین سے مخاطب ہونا چاہئے۔۔۔
٤۔ والدین کے ساتھ ہر معاملہ انتہائی فرمانبرداری اور نرمی سے کرنا چاہئے انکے ساتھ رحمدلی کا معاملہ ہونا چاہئے اور دل کی گہرائیوں سے یہ سب کچھ ہونا چاہئے محض دکھانے کے لئے یا روایتی انداز میں نہیں ہونا چاہئے۔۔۔
٥۔ ہمیں والدین کے لئے دُعا کرنا چاہئے اے اللہ تعالی میرے والدین پر رحم کر بالکل اسی طرح جس طرح وہ لوگ بچین میں مجھ پر رحم کرتے رہے تھے یہ دُعا ان کی موت کے بعد بھی کرتے رہنا چاہئے ہمیں اس دُعا کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی نے خود یہ دُعا ہمیں سکھائی ہے اور اسکی تلقین بھی فرمائی ہے۔۔۔
٦۔ اللہ تعالٰی نے یہ بات بھی ہمارے دلاسے کے طور پر بیان کردی ہے کہ اگر کسی سے بھول چوک یا غلطی سے والدین کے متعلق کوئی نازیبا کلمات نکل جائیں جو لاپراوہی کی وجہ سے نہیں بلکہ سخت محنت کرتے ہوئے انجانے میں ہوجائے تو اس پر اللہ تعالٰی ہمیں سزا نہ دے گا بشرطیکہ ہم خلوص دل سے توبہ کر لیں اور معافی مانگ لیں اللہ تعالٰی ہمارے دلوں کی گہرائیوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔۔۔

اسی طرح والدین کے احترام کے بارے میں بہت ساری احادیث بھی موجود ہیں۔۔۔

ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ کونسا عمل ہے جو اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ پسند ہیں جوابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ وقت مقررہ پر عبادت کرنا پوچھنے والے نے پوچھا اسکے بعد کونسا عمل؟؟؟۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ حُسن سلوک (بخاری)۔۔۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ!۔
’’ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے والدین پر لعنت بھیجے ۔ آپ سے عرض کیا گیا والدین پر کوئی کیسے لعنت کر سکتا ہے آپ نے فرمایا وہ اس طرح کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کے جواب میں اس کے باب کو گالی دیتا ہے ایک شخص کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے نیتیجاً وہ اس کی ماں کو گالی دے گا ‘‘ (رواہ البخاری )

مکافات عمل کا دستور مسلمہ حقیقت ہے اور بدلہ لینے کا رجحان بھی غالب ہوتا ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو برائی سن کر بھلائی کریں ہر کوئی بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے اسی اصول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے ۔ صحابہ کرام نے یہ سن کر تعجب کیا کہ ایسا کون سا بد نصیب ہے جو اپنی ماں یا باپ کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے آج کے دور میں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اس لئے کہ لوگ والدین کے مقام کو پچانتے نہیں جائیداد یا کسی معمولی سی بات پر اپنے والدین کو برا بھلا کہتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو قتل بھی کردیتے ہیں مگر اس دور میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ کوئی انسان اپنے والدین پر لعنت کرے گا اسی تعجب کی بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ ایک انسان کسی سے ناراض ہو کر اسے اور اس کے والدین کو گالی دیتا ہے وہ اس غلیظ گفتگو کو سن کر اس کے بدلے میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اسی طرح کسی نے کسی کی ماں کو گالی دی جس کے عوض وہ اس کی ماں کو گالیاں دیتا ہے اس طرح وہ کسی کے والدین کو گالی دے کر اپنے والدین کو گالیاں نکالنے کا سبب بنتا ہے گویا کہ اس نے خود اپنے والدین کو گالی دی ہے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جو کام کسی گناہ کا سبب بنے اس سے بھی بچنے کی کوشش کی جائے ۔ تاکہ کوئی انسان ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا کا حق دار نہ بنے۔

عزیز دوستوں!۔
شیخ قرطبی نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ۔۔۔ 
ایک آدمی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور شکایت کی کہ میرے والد نے میری ساری جائیداد لے لی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا جاؤ اپنے والد کو لیکر آؤ اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جب اس شخص کے والد صاحب آئیں تو آپ ان سے اُن کے کلمات کے بارے میں پوچھنا جو انہوں نے اپنے دل ہی دل میں کہے تھے یہاں تک کہ اسکی آواز خود اُنکے کان میں بھی نہ جاسکی تھی جب وہ لڑکا اپنے باپ کو لیکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تمہارا بیٹا کیوں تمہاری شکایت لیکر آیا ہے کہ تم نے اس کا مال پڑپ کر لیا ہے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ خود میرے بیٹے سے ہی پوچھئے کہ میں تو یہ پیسہ صرف صرف اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں یا اسکی چاچی پر حضرت محمد صلی اللہ علییہ وسلم نے کہا ٹھیک ہے میں سب کچھ سمجھ گیا اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ وہ کونسے الفاظ تھے جو تم نے اتنے دھیرے کہے تھے کہ خود تمہارے کان تک نہ سُن سکے تھے؟؟؟۔۔۔ وہ آدمی یہ سنتے ہی حیرت میں ڈوب گیا اور کہنے لگا یہ تو ایک معجزہ ہے آخر آپ نے یہ کیسے جانا حقیقت میں، میں نے وہ الفاظ دل ہی دل میں کہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا وہ جملے سناؤ اس آدمی نے مندرجہ ذیل عربی کے اشعار سنائے اسکا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔۔۔

میں نے تجھے بچپن میں پالا پوسا تمہارے کھانے پینے کا انتظام کیا تمہاری ہر طرح سے مدد کی یہاں تک کہ تم جوان ہوگئے اس وقت تک تمام قسم کے خرچ میرے کاندھو پر تھے۔۔۔ میں رات بھر جاگتا اور بیتاب ہوجاتا کہ جب کھبی تو بیمار پڑتا مجھے ایسا لگتا کہ تیری بیماری میری بیماری ہے رات بھر یہی سوچ کر روتا رہتا۔۔۔

ہر وقت تیری موت کا ڈر میرے ذہنوں پر چھایا رہتا جب کہ میں جانتا ہوں کہ موت اپنے وقت پر آتی ہے نہ آگے ہوتی ہے نہ پیچھے۔۔۔جب تو اس جوانی کی عمر میں پہنچ گیا جسکی میں ہمیشہ خواہش کرتا تھا تو مجھ سے اکڑ کر باتیں کرتا ہے اور مجھے دُکھ دیتا ہے اور تمہارا رویہ ایسا ہے گویا تم مجھ پر احسان کر رہے ہو۔۔۔

افسوس اگر تو میرے حقوق ادا نہیں کر سکتا مجھے باپ کی طرح نہیں دیکھ سکتا تو پڑوسی کی طرح تو سلوک کر یا کم ازکم میں نے تجھ پر جو خرچ کیا ہے اُتنا ہی مجھ پر خرچ کر اور بخیلی سے کام نہ لے۔۔۔ 

عزیز دوستوں!۔
دل کو دہلادینے والی یہ نظم سُن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کی گردن پکڑی اور کہا تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔۔۔

انت ومالک لابیک
تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کی ملکیت ہے۔۔۔

آخر میں اپنی بات کو اس دُعا کے ساتھ انجام تک پہنچاتا ہوں کہ۔۔۔
اللہ ہمارے دلوں میں ہمارے والدین کے متعلق حقیقی محبت پیدا کردے اور ان دونوں پر اپنی رحمتیں انڈیل دے جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم کیا (آمین یارب العالمین)۔۔۔

والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔