YOUR INFO

Showing posts with label امام اعظم. Show all posts
Showing posts with label امام اعظم. Show all posts

Friday, 23 August 2013

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک

0 comments
Thread Bst رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک

١: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا۔
( صحیح بخاری: ٣٥٤٩، صحیح مسلم٩٣/٢٣٣٧ و دار السلام : ٦٠٦٠)

٢: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چاند جیسا (خوبصورت اور پر نور ) تھا۔

( صحیح بخاری : ٣٥٥٢)

٣: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ ایسے چمک اٹھتا گویا کہ چاند کا ایک ٹکڑا ہے ۔
( صحیح بخاری: ٣٥٥٦ ، صحیح مسلم: ٢٧٦٩،دار السلام : ٧٠١٦)

٤: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی ( خوبصورت) دھاریاں بھی چمکتی تھیں۔
( صحیح بخاری: ٣٥٥٥، صحیح مسلم: ١٤٥٩، دار السلام : ٣٦١٧)
٥: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ سورج اور چاند کی طرح (خوبصورت،ہلکا سا) گول تھا۔
( صحیح مسلم :١٠٩/٢٣٤٤ ، دار السلام : ٦٠٨٤)

٦: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ ، پر ملاحت چہرے ، موزوں ڈیل ڈول اور میانہ قد وقامت والے تھے ۔ ( صحیح مسلم:٢٣٤٠)

٧: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ نہ تو چونے کی طرح خالص سفید تھا اور نہ گندمی کہ سانولا نظر آئے بلکہ آپ کا رنگ گورا چمک دار تھا۔ ( صحیح بخاری: ٣٥٤٧،صحیح مسلم: ٢٣٤٧)

٨: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا سورج کی روشنی آپ کے رخ انور سے جھلک رہی ہے ۔

( صحیح ابن حبان ، الاحسان : ٦٢٧٦ دوسرا نسخہ : ٦٣٠٩ وسندہ صحیح علیٰ شرط مسلم)

٩: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرمگیں، دل پسند مسکراہٹ اور خوشنما گولائی والا چہرہ تھا ۔ آپ کی داڑھی نے آپ کے سینے کو پر کر رکھا تھا۔
( شمائل الترمذی : ٤١٢ وسندہ صحیح)

١٠: آپ کے چچا ابو طالب فرماتے تھے :
''وأبیض یستسقی الغمام بو جھہ ثمال الیتامٰی عصمۃ للأرامل''
وہ گورے مکھڑے والا جس کے روئے زیبا کے ذریعے سے ابرِ رحمت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ وہ یتیموں کا سہارا، بیواؤں اور مسکینوں کا سرپرست ہے ۔
( صحیح بخاری: ١٠٠٨ ، آئینہ جمال نبوت مطبوعہ دار السلام ص ٣٤ ح ٣٢)
١
١: آپ کی آنکھیں ( خوبصورت ) لمبی اور سرخی مائل ( ڈوروں والی) تھیں ۔(صحیح مسلم : ٢٣٣٩ دار السلام: ٦٠٧٠)
١
٢: اہلِ ایمان کے نزدیک سب چہروں سے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہے۔(صحیح البخاری: ٤٣٧٢)

Monday, 17 June 2013

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ

0 comments

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ

سوال : تفصیل سے واضح کریں کہ سیّد الانبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تھایا نہیں ؟

جواب : سیّد الانبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے برگزیدہ نبی اور انسان تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلسلہ انسانیت سے پیدا کیا تھا اور انسان ہونے کے اعتبار سے یہ بات عیاں ہے کہ انسان کا سایہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے ایک مقام پر فر ما یا ہے کہ :

’’اور جتنی مخلو قا ت آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی اور نا خوشی سے اﷲ تعالیٰ کے آگے سجدہ کر تی ہیں اور اْن کے سائے بھی صْبح و شام سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘(رعد :۱۵)

ایک اور مقام پر فرمایا :

’’کیا اْنہوں نے اﷲکی مخلوقات میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اْس کے سائے دائیں اور بائیں سے لوٹتے ہیں ۔ یعنی اﷲ کے آگے ہو کر سر بسجود ہوتے ہیں۔‘‘(النحل : ۴۸)
اِن ہر دو آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ آسمان و زمین میں اﷲ نے جتنی مخلوق پیدا کی ہے اْن کا سایہ بھی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اﷲ کی مخلوق ہیں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سا یہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں جیسا کہ :
سیّدنا اَنس رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور بالکل نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ اچانک آگے بڑھایا مگر پھر جلد ہی پیچھے ہٹالیا ہم نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافِ معمول نماز میں نئے عمل کا اضافہ کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔بلکہ بات یہ ہے کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت پیش کی گئی میں نے اِس میں بہترین پھیل دیکھے تو جی میں آیا کہ اِس میں سے کچھ اْچک لوں مگر فوراً حکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ میں پیچھے ہٹ گیا پھر مجھ پر جہنم پیش کی گئی۔
((حَتّٰی رَأَیْت ظِلِیّ وَظِلِیّ وَظِلَّلکْمْ)) اِس کی روشنی میں میں نے اپنا اور تمہارا سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ (مستدرک حاکم ۴ / ۴۵۶)
امام ذہبی نے تلخیص مستددک میں فرمایا : ھزا حدیث صحیح یہ حدیث صحیح ہے ۔اِسی طرح مسند احمد ۶/۱۳۲‘۶/۳۳۸طبقات الکبریٰ ۸/۱۲۷‘مجمع الزوائد۴/۳۲۳ پر ایک حدیث میں مروی ہے کہ سیدّہ زینب رضی اللہ عنہا اورسیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں‘ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک اْونٹ تھا اور وہ بیمار ہو گیا جب کہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس دو اونٹ تھے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایک زائد اونٹ صفیہ رضی اللہ عنہا کو دے دو تو اْنہوں نے کہا میں اْس یہودیہ کو کیوں دوں ؟ اِس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے ۔ تقریباً تین ماہ تک زینب رضی اللہ عنہا کے پاس نہ گئے حتیٰ کہ زینب رضی اللہ عنہا نے مایوس ہو کر اپنا سامان باندھ لیا۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
’’اچانک دیکھتی ہوں کہ دوپہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک آرہا ہے ۔‘‘
عقلی طور پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ سایہ مرئیہ فقط اْس جسم کا ہوتا جو ٹھوس اور نگر ہو نیز سورج کی شعاعوں کوروک ہی نہیں سکتا تو اِس کا سایہ بلاشبہ نظر نہیں آتا ۔ مثلاً صاف اور شفاف شیشہ اگر دھوپ میں لایا جائے تو اْس اک سایہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اِس میں شعاعوں کو روکنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔ بخلاف اِس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر نہایت ٹھوس اور نگر تھا اْس کی ساخت شیشے کی طرح نہیں تھی کہ جس سے سب کچھ ہی گزر جائے۔
لا محالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا ۔ اگر جسم اطہر کا سایہ مبارک نہ تھا تو کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لباس پہنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبلوسات کا بھی سایہ نہ تھا اگر وہ کپڑے اتنے لطیف تھے کہ اْن کا سایہ نہ تھا تو پھر اِن کے پہننے سے ستر وغیرہ کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی؟
منکرینِ سایہ یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ اِس لیے نہیں تھا کہ اگر کسی کا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ پر قد م آجا تا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی اِس لیے اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ پیدا ہی نہیں کیا ۔ جہاں تک پہلی بات کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ‘ سراسر غلط ہے۔ نوریوں کا سایہ صحیح حدیث سے ثابت ہے جب سیّد نا جابر رضی اللہ عنہہ کے والد عبداﷲ رضی اللہ عنہہ غزوئہ اْحد میں شہید ہوگئے تو اْن کے اہل و عیال اْن کے گرد جمع ہوکر رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کہ جب تک تم انہیں یہاں سے اْٹھا نہیں لیتے اْس وقت سے فرشتے اِس پر اپنے پرّوں کا سایہ کیے رکھیں گے۔‘‘(بخاری کتاب الجنائز ۲ / ۱۵)
اور دوسری بات بھی خلافِ واقع ہے کیونکہ سایہ پاؤں کے نیچے آہی نہیں سکتا جب کبھی کوئی شخص سائے پر پاؤں رکھے گا تو سایہ اْس کے پاؤں کے اْوپر ہوجائے گا نہ کہ نیچے ۔ لہٰذا ان عقلی اور نقلی دلائل کہ خلاف یہ بے عقلی کی اور بے سند باتیں حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔

Sunday, 14 April 2013

غزوہ حمراء الاسد

0 comments
غزوہ حمراء الاسد
سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم 
New New غزوہ ذات حمراء الا سد۔۔۔صفحہ نمبر 386

ادھر رسول اللہ ﷺ نے پوری رات جنگ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرتےہوئے گذاری ۔آپ ﷺ کا اندیشہ تھا کہ مشرکین نے سوچا کہ میدان جنگ میں اپنا پلہ بھاری رہتے ہوئے بھی ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو انہیں یقیناً ندامت ہو گی اور وہ راستے سے پلت کر مدینے پر دوبارہ حملہ کریں گے۔ اس لئے آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ بہرحال ان کے لشکر کا تعاقب کیا جانا چاہیے۔۔چنانچہ اہل سیر کا بیان ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے معرکہ احد کے دوسرے دن یعنی یک شنبہ 8 شوال سن 3 ھ کو علی الصباح اعلان فرمایا کہ دشمن کے مقابلے کے لئے چلنا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی آدمی چل سکتا ہے جو معرکہ احدمیں موجود تھا ۔تاہم عبد اللہ بن ابی نے اجازت چاہی کہ آپ ﷺ کا ہمرکاب ہو مگر آپ ﷺ نے اجازت نہ دی ۔ ادھر جتنے مسلمانان تھےاگر چہ زخموں سے چور غم سے نڈھال اور اندیشہ و خوف سے دو چار تھے لیکن سب نے بلا تردد سر اطاعت خم کردیا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی اجازت چاہی جو جنگ احد میں شریک نہ تھے ۔ حاضر خدمت ہوکر عرض پرداز ہوئے ۔۔۔ یار سول اللہ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ جس کسی جنگ میں تشریف لے جائیں میں بھی حاضر خدمت رہوں اور چونکہ (اس جنگ میں) میرےوالد نے مجھے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کے لئے گھر پر روک دیا تھا لہذا آپﷺ مجھے اجازت دے دیں کہ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلوں اس پر آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی پروگرام کے مطابق رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ہمراہ لےکر روانہ ہوئے اور مدینے سے آٹھ میل دور حمراء الا سد پہنچ کر خیمہ زن ہو ئے۔۔اثناء قیام میں معبد بن ابی معبد خزاعی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے شرک ہی پر قائم تھا لیکن رسو ل اللہ ﷺ کا خیر خواہ تھا۔کیونکہ خزاعہ اور بنو ہاشم کے در میان حلف( یعنی دوستی و تعاون کا عہد ) تھا بہر کیف اس نے کہا اے محمدﷺ۔۔۔! آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے رفقاء کو جوزک پہنچی ہے وہ واللہ ہم پر سخت گراں گزری ہے ہماری آرزو تھی کہ اللہ آپ ﷺ کو بعافیت رکھتا ۔۔ اس اظہار ہمدردی پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ابو سفیان کے پاس جائے اور اس کی حوصلہ شکنی کرے۔ادھر رسو ل اللہ ﷺ نے جو اندیشہ محسوس کیا تھا کہ مشرکین مدینے کی طرف پلٹنے کی بات سوچیں گے وہ بالکل برحق تھا ۔ چنانچہ مشرکین نے مدینے سے 36 میل دور مقام روحا پر پہنچ کر جب پڑاؤ ڈالا تو آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی کہنے لگے تم لو گوں نے کچھ نہیں کیا ۔ان کی شوکت و قوت توڑ کر ان کو یوں ہی چھوڑ دیا حالا نکہ ابھی ان کے اتنے سر باقی ہیں کہ وہ تمہارے لئے پھر درد سر بن سکتے ہیں لہذا واپس چلو اور انہیں جڑ سے صاف کردو۔۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سطحی راۓ تھی جو ان لوگون کی طرف سے پیش کی گئی تھی جنہیں فریقین کی قوت اور ان کے حوصلوں کا صحیح اندازہ نہ تھا اسی لئے ایک ذمہ دار افسر صفوان بن امیہ نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا لوگو۔۔! ایسانہ کرو ۔مجھے خطرہ ہے کہ جو ( مسلمان غزوہ احد ) نہیں آئے تھے وہ بھی اب تمہارے خلاف جمع ہو جائیں گے لہذا اس حالت میں واپس چلے چلو کہ فتح تمہاری ہے ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ مدینے پر پھر چڑھائی کر وگے تو گردش میں پڑ جاؤ گے لیکن بھاری اکثریت نے یہ رائے قبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ مدینے واپس چلیں ۔لیکن ابھی پڑاؤ چھوڑ کر ابو سفیان اور اس کے فوجی ہلے بھی نہ تھے کہ معبد بن ابی معبد خزاعی پہنچ گیا ۔ابو سفیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس نے پوچھا معبد پیچھے کی کیا خبر ہے؟ معبد نے ۔۔۔پروپیگنڈے کی سخت اعصابی حملے کرتے ہوئے کہا محمد ﷺ۔۔۔اپنے ساتھیوں کو لے کر تمہارے تعاقب میں نکل چکے ہیں ۔ان کی جمعیۃ اتنی بڑی ہے کہ میں نے ویسی جمعیۃ کبھی دیکھی ہی نہیں ۔۔سارے لوگ تمہارے خلاف غصے سے کباب ہوئے جارہے ہیں احد میں پیچھے رہ جانے والے بھی آگئے ہیں وہ جو کچھ ضائع کر چکے اس پر سخت نادم ہیں اور تمہارے خلاف اس قدر بھڑکے ہوئے ہیں کہ میں نے اس کی مثال دیکھی ہی نہیں ۔۔ابو سفیان نے کہا: ارے بھائی یہ کہا کہہ رہے ہو ۔۔؟ معبد نے کہا: واللہ میرا خیال ہے کہ تم کوچ کرنے سے پہلے پہلے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھ لو گےیا لشکر کا ہر اول دستہ اس ٹیلے کے پیچھے سے نمودار ہو جائے گا۔ ابو سفیان نے کہا اللہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر پلٹ کر پھر حملہ کریں اور ان کی جڑ کاٹ دیں معبد نے کہا: ایسا نہ کرنا میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں یہ باتیں سن کر مکی لشکر کے حوصلے ٹو ٹ گئے ان پر گھبراہٹ اور رعب طاری ہو گیا اور انہیں اسی میں عافیت نظر آئی کہ مکے کی جانب سے اپنی واپسی جاری رکھیں البتہ ابو سفیان نے اسلامی لشکر کے تعاقب سے باز رکھنے اور اس طرح سے بچنے کے لئے پرو پیگنڈے کا ایک جوابی اعصابی حملہ کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابو سفیان کے پاس سے قبیلہ عبد القیس کا ایک قافلہ گذرا ۔ابو سفیان نے کہا : کیا آپ لو گ میرا یہ پیغام محمد ﷺ کو پہنچا دیں گے۔؟ میرا وعدہ ہے کہ اس کے بدلے جب آپ لوگ مکہ آئیں گے تو عکاظ کے بازار میں آپ لوگوں کو اتنی کشمش دوں گا جتنی آپ کی یہ اونٹنی اٹھا سکے گی۔ان لوگوں نے کہا: جی ہاں ۔ابو سفیان نے کہا: محمد ﷺ کو یہ خبر پہنچا دیں کہ ہم نے ان کی اوران کے رفقاء کی جڑ کاٹ دینے کے لئے دوبارہ پلٹ کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بعد جب یہ قافلہ حمراء الاسد میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے ابو سفیان کا پیغام کہہ سنایا اور کہا کہ لوگ تمہارے خلا ف جمع ہیں ان سے ڈرو مگر ان کی باتیں سن کر مسلمانوں کے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا ۔ اور انہوں نے کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۔اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کا رساز ہے ( اس ایمانی قوت کی بادولت( وہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹے ۔انہیں کسی برائی نے نہ چھوا اور انہوں نے اللہ کی رضا مندی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اتوار کے روز حمراء الا سد میں تشریف لے گئے تھے ۔ دو شنبہ ،منگل اور بدھ یعنی 9۔10،11۔شوال سن 3 ھجری تک مقیم رہے اس کے بعد مدینہ واپس آئے ۔ مدینہ واپسی سے پہلے ابوعزہ جمحی آپ ﷺ کی گرفت میں آ گیا۔ یہ وہی شخص ہے جسے بدر میں گرفتار کئے جانے کے بعد اس کے فقر اور لڑکیوں کی کثرت کے سبب اس شر ط پر بلا عوض چھوڑ دیا 
دیا گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی سے تعاون نہیں کرے گا ۔لیکن اس شخص نے وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی اور اپنے اشعار کے ذریعہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف لوگو ں کے جذبات کو برانگیختہ کیا۔۔ جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے پھر مسلمان سے لڑنے کے لئے خود بھی جنگ احد میں آیا ۔جب یہ گرفتار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو کہنے لگا : محمد ﷺ میری لغزش کو در گزر کر و۔مجھ پر احسان کر دو اور میری بچیوں کی خاطر مجھے چھوڑ دو ۔ میں عہد کرتاہو ں کہ اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔نبی ﷺ نے فرمایا : اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم مکے جاکر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرو اور کہو کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دھوکہ دیا ہے ۔مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔اس کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ یا حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کی گردن مار دی۔اسی طرح مکے کا ایک جاسوس بھی مارا گیا اس کا نام معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص تھا اور یہ عبد الملک بن مروان کا نانا تھا ۔یہ شخص اس طرح زد میں آیا کہ جب احد کے روز مشرکین واپس چلے گئے تو یہ اپنے چچیرے بھائی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے آیا۔عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی ﷺ سے اس کے لئے امان طلب کی اور آپﷺ نے اس شرط پر امان دے دی کہ اگر وہ تین روز کے بعد پایا گیا تو قتل کر دیا جائے گا۔لیکن جب مدینہ اسلامی لشکر سے خالی ہو گیا تو یہ شخص قریش کی جاسوسی کےلئے تین دن سے زیادہ ٹھر گیا اور جب لشکر واپس آیا تو بھاگنے کی کوشش کی رسول اللہﷺ نے حضرت زیدبن حارثہ اور حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالی عنہی اللہ تعالی عنہما کو حکم دیا اور انہوں نے اس شخص کا تعاقب کر کے اسے تہ و تیغ کر دیا۔۔( غزوہ احد اور غزوہ حمراء الاسد کی تفصیلات اب ہشام 2۔60 زاد المعاد2۔91تا 108 فتح الباری مع صحیح بخاری 7۔345تا 377 مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص 242 تا 257 جمع کی گئی ہیں اور دوسرے مصادر کے حوالے متعلقہ مقامات ہی پر دے دیئے گئےہیں)
غزوہ حمراء الاسد کا ذکر اگرچہ ایک مستقل نام سے کیا جاتا ہے مگر یہ درحقیقت کوئی مستقل غزوہ نہ تھا بلکہ غزوہ احد ہی کا جزو و تتمہ اور اسی کے صفحات میں سے ایک صفحہ تھا۔

Thursday, 7 March 2013

سیرتِ محمد رسول اللہ ص

0 comments

سیرتِ محمد رسول اللہ ص؛ ایک عالمگیر و دائمی نمونۂ عمل


سید سلیمان ندوی نے 1884ء میں پٹنہ کے ایک سادات خاندان میں آنکھ کھولی، آپ دار العلوم ندوۃ العلما کے تعلیم یافتہ، سیرت نگار، صحافی، مصنف اور مقرر تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور آزادی ہند کی تحریکوں میں حصہ لیا۔آپ ترکی کے مسئلہ پر 1920ء میں یورپ جانے والے تین رکنی وفدِ خلافت میں شامل تھے۔ علامہ اقبال اور سر راس مسعود کے ہمراہ افغانستان کی دعوت پر وہاں گئے اور تعلیمی تجاویز دیں۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ آپ ریاست بھوپال کے چیف جسٹس بھی رہے۔

حضراتِ گرامی! وہ سیرت یا نمونۂ حیات جو انسانوں کے لیے ایک آئیڈیل سیرت کا کام دے، اس میں چار شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:

تاریخیّت کاملیّت جامعیّت اور عملیّت

a تاریخیّت

اس سے مقصود یہ ہے کہ ایک کامل انسان کے جو حالاتِ زندگی پیش کیے جائیں، وہ تاریخی لحاظ سے مستند ہوں، ان کی حیثیت قصوں اور کہانیوں کی نہ ہو۔ خیالی اور مشتبہ سیرتیں خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں پیش کی جائیں، طبیعتیں ان سے دیرپا اور گہرا اثر نہیں لیتیں اوران پر کوئی انسان اپنی عملی زندگی کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔

سب سے قدیم ہونے کا دعویٰ ہندوؤںکو ہے مگر ان میںسے کسی کو 'تاریخی' ہونے کی عزت حاصل نہیں ہے۔ رامائن کی زندگی کے کن واقعات کو تاریخ کہہ سکتے ہیں؟ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ واقعات کس زمانہ کے ہیں۔

قدیم ایرانی مجوسی مذہب کا بانی زرتشت جوآج بھی لاکھوں لوگوں کا مرکز ِعقیدت ہے، اس کے حالات ِ زندگی محققین کی متضاد آرا سے اتنے مشکوک ہیں کہ کوئی انسان ان کے بھروسے پر اپنی زندگی کی بنیاد قائم نہیںکر سکتا۔

قدیم ایشیا کے سب سے وسیع مذہب بدھ کا ہندوستان میں برہمنوں اور وسطی ایشیا میں اسلام نے خاتمہ کیا تھا۔ایشیاے اقصیٰ میں بدھ مت کی حکومت ، تہذہب اور مذہب قائم ہیں۔ لیکن یہ چیزیں بدھ کی سیرت کو تاریخ میں محفوظ نہ رکھ سکیں۔ چین کے کنفیوشس کی ہمیں بدھ سے بھی کم واقفیت ہے، حالانکہ ان کے پیروکارکروڑوں میں ہیں۔

سامی قوم کے سینکڑوں پیغمبروں کے ناموں کے سوا تاریخ کچھ نہیں بتاتی۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت اسمٰعیل، حضرت اسحق، حضرت یعقوب، حضرت زکریااور حضرت یحییٰ علیہم السلام کی سیرتوں کے چند حصوں کے علاوہ ان کی زندگیوں کے ضروری اجزا تاریخ سے گم ہیں۔ قرآن کے سوا، یہودیوں کے اَسفار میں ان پیغمبروں کے درج حالات کی نسبت محققین کو شکوک ہیں۔ ان شکوک سے صرف ِ نظر کرنے کے باوجود ان بزرگوں کی مقدس زندگیوں کے ادھورے اور نامربوط حصے ایک کامل انسانی زندگی کی پیروی کا سامان نہیں کر سکتے۔

b کاملیّت

عزیزو!کسی انسانی سیرت کے دائمی نمونۂ عمل بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تمام حصے روزِ روشن کی طرح دنیا کے سامنے ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی سیرت کہاں تک انسانی معاشرہ کے لیے ایک آئیڈیل زندگی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج بدھ کے پیروکار دنیا کی چوتھائی آبادی پر قابض ہیں، مگر تاریخی حیثیت سے بدھ کی زندگی صرف چند قصوں اور کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ اگر اسے تاریخ کا درجہ دے کر بدھ کی زندگی کے ضروری اجزا تلاش کریں تو ہمیں ناکامی ہوگی۔ یہی حال زرتشت کا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (گیارہواں ایڈیشن) کے آرٹیکل زراسٹر کے مضمون نگار نے لکھا ہے:

''اس کی جائے پیدائش کی تعیین سے متعلق شہادتیں متضاد ہیں... زرتشت کے زمانے سے ہم قطعاً ناواقف ہیں۔''

انبیاے سابقین میں سب سے مشہور زندگی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ موجودہ تورات کے مستند یا غیر مستند ہونے سے قطع نظر، تورات کی پانچوں کتابوں سے ہمیں ان کی زندگی کے کس قدر اجزا ملتے ہیں؟ تورات کی پانچویں کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصنیف نہیںہے۔ دنیاآپ کے اس سوانح نگار سے واقف نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ۱۲۰ سال عمر پائی۔ اس طویل سوانح کے ضروری اجزا ہمارے پاس کیا ہیں: پیدائش، جوانی میں ہجرت، شادی اور نبوت پھر چند لڑائیوں کے بعد۱۲۰ برس کی عمر میں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی سوسائٹی کے عملی نمونہ کے لیے جن اجزا کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اخلاق و عادات اور طریقِ زندگی ہیں، اور یہی اجزا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری سے گم ہیں۔

اسلام کے سب سے قریب العہد پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو آج یورپین مردم شماری کے مطابق تمام دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے زیادہ ہیں۔مگر اسی پیغمبرکے حالاتِ ِزندگی تمام دوسرے مشہوربانیانِ مذاہب کے سوانح سے سب سے کم معلوم ہیں۔ انجیل کے مطابق آپ کی زندگی ۳۳ برس تھی۔ موجودہ انجیلوں کی روایتیں اوّلاً تو نامعتبر ہیں اور جو کچھ ہیں، وہ آپ کے آخری تین سالوں کی زندگی پر مشتمل ہیں۔ آپ پیدا ہوئے، پیدائش کے بعد مصر لائے گئے، لڑکپن میں ایک دو معجزے دکھائے، اس کے بعد وہ غائب ہو جاتے ہیں اورپھر اچانک تیس برس کی عمر میں بپتسمہ دیتے اور پہاڑوں اور دریائوں کے کنارے ماہی گیروں کو وعظ کہتے اوریہودیوں سے مناظرے کرتے نظر آتے ہیں، یہودی اُنہیں پکڑوا دیتے ہیں اور رومی عدالت اُنہیں سولی دے دیتی ہے۔ تیسرے دن ان کی قبر ان کی لاش سے خالی نظر آتی ہے۔ تیس برس اور کم از کم پچیس برس کا زمانہ کہاں اور کیسے گزرا؟ دنیا اس سے ناواقف ہے اور رہے گی...!

c جامعیّت

میرے دوستو! کسی سیرت کے عملی نمونہ بننے کے لیے تیسری ضروری شرط جامعیت ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ مختلف طبقات ِ انسانی یاایک فرد ِ انسان کو اپنی ہدایت اور ادائیگی فرائض کے لیے جن مثالوں اور نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ سب اس 'آئیڈیل زندگی' میں موجود ہوں۔اللہ اور بندے اور بندوں کے مابین فرائض اور واجبات کو تسلیم اور اُنہیں ادا کرنے کا نام 'مذہب' ہے۔ہر مذہب کے پیروؤں پر فرض ہے کہ وہ ان حقوق و فرائض کی تفصیلات اپنے اپنے بانیوں کی سیرتوں میں تلاش کریں۔

جو مذاہب خدا کو تسلیم ہی نہیں کرتے ،جیسے بدھ مت اور جین مت کے متعلق کہا جاتا ہے، تو ان کے بانیوں میں محبت ِ الٰہی اور توحید پرستی وغیرہ کی تلاش ہی بیکار ہے۔ جن مذاہب نے خدا کو کسی نہ کسی رنگ میں تسلیم کیا ہے، ان کے بانیوں کی زندگیوں میں بھی خدا طلبی کے واقعات مفقود ہیں۔ توحید اور اس کے احکام اور قربانی کی شرائط کے علاوہ تورات کی پانچوں کتابیں یہ نہیں بتاتیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلقات ِ قلبی، اطاعت و عبادت اوراللہ کی صفات ِ کاملہ کی تاثیر ان کے قلب اَقدس میں کہاں تک تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کاآئینہ انجیل ہے۔ انجیل میں ایک مسئلہ کے علاوہ کہ خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تھا، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ اس دنیاوی زندگی میں باپ اور بیٹے میں کیا تعلقات تھے؟

اب حقوق العباد کو لیجئے، بدھ اپنے اہل و عیال، دوست اور حکومت وسلطنت کے بارِ گراںکو چھوڑ کر جنگل چلے گئے۔ اسی لیے بدھ کی زندگی اس کے ماننے والوں کے لیے قابلِ تقلید نہیں بنی، ورنہ چین، جاپان، سیام، وانام، تبت اور برماکی سلطنتیں، صنعتیں اور دیگر کاروباری مشاغل فوراً بند ہوجاتے اور بجاے آباد شہروں کے صرف سنسان جنگل رہ جاتے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں جنگ و سپہ سالاری کا پہلو نمایاں ہے۔اس کے علاوہ ان کے پیروکاروں کے لیے دنیاوی حقوق و فرائض کا کوئی نمونہ موجود نہیں ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغمبرانہ طرز ِ عمل یقینا ہر حرف گیری سے پاک ہوگا، مگر ان کی موجودہ سیرت کی کتابیں ان اَبواب سے خالی ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ تھیں، انجیل کے مطابق ان کے بھائی بہن بلکہ مادی باپ تک بھی تھا۔ مگر اُن کی سیرت اِن رشتہ داروں سے آپ کا طرزِ عمل اور سلوک نہیں بتاتی۔ دنیا ہمیشہ انہی تعلقات سے آباد رہی ہے اور رہے گی۔ آپ نے محکومانہ زندگی بسر کی، اس لیے ان کی سیرت حاکمانہ فرائض کی مثالوں سے خالی ہے۔

d عملیّت

'آئیڈیل لائف' کا آخری معیارعملیت ہے۔یعنی بانی ٔ مذہب جو تعلیم دیتا ہے، اس پر خود عمل کرکے اس تعلیم کو قابلِ عمل ثابت کیا ہو۔ انسانی سیرت کے کامل ہونے کی دلیل اس کے نیک اَقوال و نظریات نہیں بلکہ اس کے اعمال و کارنامے ہوتے ہیں۔

عزیزو!جس نے اپنے دشمن پر قابو نہ پایا ہو، وہ معاف کرنے کی عملی مثال کیسے دکھا سکتا ہے۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو، وہ غریبوں کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔ جو بیوی بچے اور عزیز واحباب نہ رکھتا ہو، وہ انہی تعلقات سے آباد دنیا کے لیے مثال کیونکر بن سکتا ہے۔ جسے دوسروں کو معاف کرنے کا موقع نہ ملا ہو، اس کی زندگی غصہ آور لوگوں کے لیے نمونہ کیسے بنے گی۔ اس معیار پر بھی سیرت ِ محمدی 1کے سوا کوئی دوسری سیرت پوری نہیں اتر سکتی۔ آئیڈیل اور نمونۂ اتباع شخصیت کی سیرت میں یہ چار باتیں پائی جانی چاہئیں:

تاریخیّت، جامعیّت، کاملیّت اور عملیّت

میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی سیرتیں اِن خصوصیات سے خالی تھیں، بلکہ اُن کی سیرتیں جو عام انسانوں تک پہنچیں، وہ اِن خصوصیات سے خالی ہیں۔ ایسا ہونا مصلحت ِ الٰہی کے مطابق تھا تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ انبیا محدود زمانہ اور متعین قوموں کے لیے تھے، اس لیے ان کی سیرتوں کو آئندہ زمانہ تک محفوظ رکھنا ضروری نہیں تھا۔ صرف حضرت محمد1 تمام اقوام کے لیے اور دائمی نمونۂ عمل بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی سیرت کوہر حیثیت سے مکمل اور ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کی ضرورت تھی۔یہی 'ختم نبوت' کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔

آئیے! اب اِن چاروں معیاروں کے مطابق پیغمبر اسلام حضرت محمد 1کی سیرتِ مبارکہ پر نظر ڈالیں:

a سیرتِ محمدی1کی تاریخیت

سب سے پہلی چیز 'تاریخیت' ہے۔ مسلمانوں نے اپنے پیغمبراور ہر اس چیز اور اس شخص کی جس کا ادنیٰ سا تعلق بھی آپ1 کی ذات ِ مبارک سے تھا، جس طرح حفاظت کی ہے اس پر دنیا حیرت زدہ ہے۔آپ 1 کے اقوال، افعال اور متعلقاتِ زندگی پر مشتمل سرمایۂ روایت ضبط ِتحریر ہو چکا تو اسے روایت کرنے والے صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور بعد کے چوتھی صدی ہجری تک کے راویوں کے نام، حالات اور اخلاق و عادات کو بھی لکھا گیا۔جن کی تعداد جرمن ڈاکٹر اسپرنگر کے نزدیک پانچ لاکھ ہے۔

حیات ِ نبوی 1کے آخری سال حجۃ الوداع میں حاضر صحابہ کرامؓ کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی جن میںسے گیارہ ہزار کے نام و اَحوال آج تحریری شکل میں محفوظ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے آنحضرت 1کے اقوال و افعال اور واقعات میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دوسروں تک پہنچایا ہے۔ ہزاروں صحابہؓ نے جو کچھ دیکھا اور جانا، وہ سب دوسروں کو بتایا۔ صحابہ کرامؓ کے بعد فوراً ہی دوسری نسل اِن معلومات کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو گئی۔

پیغمبر ِاسلام 1نے اپنی احادیث دوسروں تک پہنچانے کی تاکید کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کر دی تھی کہ ''جو کوئی میرے متعلق قصداً جھوٹ منسوب کرے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔''اس اعلان کا اثر تھا کہ بڑے بڑے صحابہؓ روایت ِحدیث کرتے وقت کانپتے تھے۔

عربوں کا حافظہ تیز تھا۔یہ فطری قاعدہ ہے کہ جس قوت سے جتنا کام لیا جائے، اتنا ہی وہ ترقی پاتا ہے۔ صحابہؓ اور تابعین نے قوت ِ حفظ کو معراجِ کمال تک پہنچایا۔ایک ایک محدث کو کئی کئی ہزار اور کئی کئی لاکھ احادیث یادتھیں۔

ابتدا میں صحابہؓ نے احادیث کولکھنابوجوہ مناسب نہ سمجھا، مثلاً:

a آغاز میں رسول اللہ 1 نے قرآن کے علاوہ کچھ اور لکھنے سے منع فرمایا تھا تاکہ قرآن اور غیر قرآن آپس میں مل نہ جائیں۔ ازاں بعد قرآن مکمل محفوظ ہونے پر احادیث لکھنے کی اجازت مل گئی۔

b صحابہ کرام کواس بات کا اندیشہ تھا کہ تحریری مجموعہ پاس ہونے سے لوگ حفظ کرنے سے جی چرانے لگیں گے۔

c عربوں میں ابھی تک کوئی واقعہ لکھ کر محفوظ رکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وہ کوئی چیز تحریر کر بھی لیتے تھے تو اسے چھپائے رکھتے تھے۔

حضرات! عہد ِ نبوی ہی میں احادیث کا تحریری سرمایہ جمع ہونا شروع ہو چکا تھا۔ فتح مکہ پر رسول اللہ 1 کا خطبہ لکھا گیا۔آپ نے مختلف حکمرانوں کو تحریری خطوط روانہ کیے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے خود آپ سے سن کر احادیث لکھی تھیں ۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزمؓ اور متعدد اشخاص کے پاس زکوٰۃ کے احکام لکھے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ کے پاس ایک صحیفہ تھا۔رسول اللہ1نے عمرو بن حزمؓ جو یمن کے گورنر تھے، اُنہیں میراث، صدقات اور دِیت سے متعلق ہدایات لکھ کر دیں۔ حضرت وائل بن حجر ؓ اپنے وطن واپس ہوئے تو آپ1 نے اُنہیں ایک تحریر لکھوا دی جس میں نماز، روزہ، سود، شراب اور دیگر احکام تھے۔ غالباً ملکِ یمن سے حضرت معاذبن جبل ؓنے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریری جواب دیا کہ سبزیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر حضرت ضحاک ؓ نے بتایا :رسول اللہ 1 نے ہمیں لکھوایا کہ شوہر کی دِیت میں بیوی کا حصہ ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایات کا ایک تحریری مجموعہ اہل طائف کے پاس تھا۔ حضرت جابر ؓ سے روایتوں کا ایک مجموعہ وہب نے اور دوسرا سلیمان بن قیس نے تیار کیا تھا۔ حضرت سمرۃ بن جندبؓ سے اُن کے بیٹے ایک نسخہ روایت کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ حافظِ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ تھے۔ حضرت انسؓ دوسرے صحابی ہیں جن سے بکثرت احادیث مروی ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ رسول اللہ 1 کے غلام ابورافع ؓسے آپ کے کارنامے لکھا کرتے تھے۔آپ کے خادم حضرت ا بن مسعودؓ یہ کہتے تھے کہ لوگ اُن سے سنتے اور پھر جا کر اسے کر لکھ لیتے ہیں۔ ان کے بیٹے عبدالرحمن ایک کتاب لائے اور قسم کھا کر کہا کہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے خود لکھی ہے۔

دوستو! اگر تحریر ہی قابلِ وثوق ہے تو عہدِ نبوی میں صحابہ ؓ نے احادیث لکھیں ۔ صحابہؓ ہی کی زندگی میں زہریؒ، ہشامؒ، قیسؒ، عطاؒ، سعید بن جُبَیرؒ اور سینکڑوں تابعین نے یہ تمام روایات تحقیق کرکے ہمیں فراہم کر دیں۔ صرف امام زہریؒ ہی کا تحریری مواد اتنا تھا کہ کتابیں جانوروں پر لاد کر لائی گئیں۔ بطورِ مثال امام زہریؒ نے اتنی محنت سے احادیث ِ نبوی جمع کیں کہ وہ مدینہ کے ایک ایک شخص حتی کہ پردہ نشین خواتین سے جا کر رسول اللہ 1 کے اقوال و حالات پوچھتے اور اُنہیں قلمبند کرتے تھے۔

یہ غلط ہے کہ تدوین و تحریرِ حدیث کا کام ایک سو برس بعد تابعین نے شروع کیا۔ تابعین وہ شخصیات ہیں جنہیں رسول اللہ 1 سے ملاقات نصیب نہیں ہوئی مگروہ صحابہ کرام ؓ سے مستفید ہوئے، خواہ وہ آنحضرت 1 کے زمانہ میں ہوں یا آپ کی رحلت (۱۱ھ) کے بعد پیدا ہوئے، وہ سب تابعین ہیں۔ آپ کی زندگی ہی میں تابعین کا عہدکم از کم ۱۱ہجری سے شروع ہو گیا تھا۔ لہٰذا جو کام ۱۱ھ میں شروع ہوا، کہا جا سکتا ہے کہ اس کا آغاز تابعین نے کیا۔

مسلمانوں کے فن سیرتِ نبوی کا پہلا اُصول یہ تھا کہ واقعہ اس شخص کی زبان سے بیان ہو جو خود شریکِ واقعہ تھا، ورنہ شریکِ واقعہ تک تمام درمیانی راویوں کے نام بالترتیب بتائے جائیں۔ یہ بھی تحقیق کی جائے کہ وہ کون تھے، ان کے مشاغل اور چال چلن کیسی تھی، ثقہ تھے یا غیر ثقہ، نکتہ رس تھے یا سطحی الذہن اور عالم تھے یا جاہل؟ ہزاروں محدّثین نے اپنی عمریں اس کام میں کھپا دیں، ہزاروں میلوں کا سفر کیا اور لاکھوں لوگوں سے ملے۔

پھر عقلی اعتبارسے روایات پرکھنے کے اُصول الگ ترتیب دئیے۔راویوں کی چھان بین میں اتنی دیانتداری دکھائی کہ وہ واقعات اسلام کا فخر ہیں۔ راویوں میں بڑے بڑے حکمران اور اُمرا بھی تھے مگر محدّثین نے بلاخوف سب کو وہی درجہ دیا جو اُنہیں مل سکتا تھا۔ وکیع ؒ کے والد سرکاری خزانچی تھے مگر جب وکیع ؒان سے روایت کرتے تو اُن کی تائید میں ایک اور راوی کو ضرور شامل کرلیتے، یعنی تنہا اپنے باپ کی روایت تسلیم نہ کرتے۔ معاذؒ بن معاذکو دس ہزار دینار پیش کیے گئے کہ وہ ایک شخص کے متعلق خاموش رہیں اور اسے معتبر یا غیر معتبر کچھ نہ کہیں۔ معاذؒ نے اَشرفیوں کا توڑا حقارت سے ٹھکرا دیا۔

محدّثین نے جھوٹی اور ضعیف روایتیں بھی محفوظ کیں تاکہ مخالفین یہ کہہ نہ سکیں کہ مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی کمزوریاں چھپانے کے لیے کئی روایتیں غائب کر دیں۔ محدّثین نے اپنے نبی 1کی طرف منسوب صحیح و غلط سارا مواد لا کر سامنے رکھ دیا اور اُصول مقرر کرکے ان دونوں کے درمیان فرق بتا دیا۔ یہ تمام روایات آج بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں اور انہی اصولوں کے تحت ہر واقعہ پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔

عزیز جوانو! اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات وواقعات پرمواد کے مآخذ کیا تھے۔سیرتِ پاک 1کا سب سے اہم، سب سے مستند اور صحیح ترین ماخذ خود قرآن ہے جس کی صحت و معتبری میں دشمن بھی شک نہ کر سکے۔قبل از نبوت کی زندگی، یتیمی، غربت، تلاشِ حق، نبوت، وحی، اعلان و تبلیغ، معراج، مخالفین کی دشمنی، ہجرت، لڑائیاں اور اخلاق سب قرآن میں موجود ہیں۔

دوسرا ماخذ ایک لاکھ کے قریب احادیث ہیں۔ صحاحِ ستہ ہیں جن کا ایک ایک واقعہ تولا اور پرکھا ہوا ہے۔مسانید ہیں جن میں ضخیم ترین امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۴ھ) کی المُسْنَد ہے۔مسانید میں ہر صحابی کی روایتیں الگ الگ ہیں۔

تیسرا ماخذ مغازی ہیںجو زیادہ تر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور لڑائیوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً مغازی عروہ بن زبیرؒ (م ۹۴ھ)، مغازی زہریؒ (م۱۲۴ھ)، مغازی ابن اسحقؒ (م۱۵۰ھ) اور مغازی واقدیؒ(م ۲۰۷ھ) وغیرہ۔

سیرت ِ محمدی کا چوتھا ماخذ کتب ِتاریخ ہیں۔ ان میں طبقات ابن سعدؒ(م۲۰۷ ھ)، تاریخ صغیر و کبیر امام بخاریؒ (م ۲۵۶ھ) اور تاریخ طبریؒ(م ۳۱۰ھ) وغیرہ ہیں۔ رسول اللہ1کے معجزات اور روحانی کارناموں پر مشتمل کتبِ دلائل النبوت ہیں،مثلاً ابن قتیبہؒ (م ۲۷۶ھ)، بیہقی ؒ (م۴۵۸ھ) اور ابونعیم اصفہانیؒ(م۴۳۰ھ) وغیرہ کی کتب۔پھر آپ کے اخلاق اور معمولاتِ زندگی پر لکھی گئی کتب ہیں،مثلاً امام ترمذیؒ (م۲۷۹ھ)، ابوالعباس مستغفریؒ (م ۴۳۲ھ) اور قاضی عیاضؒ (م۵۴۴ھ) کی کتابیں۔پھر مکہ اور مدینہ پر کتابیںہیں جن میں مقامی حالات اور مقامات کے نام و نشان ہیں جنہیں آپ 1 سے کوئی تعلق ہے، مثال کے طور پر ازرقی (م ۲۲۳ھ) کی اخبارِ مکہ اور ابن زبالہؒ کی اخبارِ مدینہ وغیرہ۔

عہدِ رسالت سے آج تک ہر زمانہ، ہر ملک اور ہر زبان میں آپ 1 پر لاتعداد کتب لکھی گئیں۔ ہر مصنف نے سینکڑوںاور ہزاروں اشخاص سے سن اور پڑھ کر سیرت ِ محمدی کو دوسروں تک پہنچایا۔حدیث کی پہلی کتاب المَوطأ کو اس کے مصنف امام مالکؒ (م ۱۷۹ھ) سے ۶۰۰ لوگوں نے سنا جن میں حکمران، فقہا، علما، اُدبا اور صوفیا سب ہی تھے۔ امام بخاری ؒ (م ۲۵۶ھ) کی تصنیف الجامع الصحیح کو انکے صرف ایک شاگرد فربری ؒسے ساٹھ ہزار لوگوں نے سنا۔

بتاؤ! کس شارع یا بانیٔ دین کی سوانح عمری اس احتیاط اور اہتمام کے ساتھ مرتب ہوئی؟ یہ تاریخیّت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کس کے حصہ میں آئی؟

مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں نے بھی سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر مارگیولیوتھ بھی اپنی کتاب 'محمد'(۱۹۰۵ء) میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہواکہ

''محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوانح نگاروں کا ایک نہ ختم ہونے والا طویل سلسلہ ہے، لیکن اس میں جگہ پالینا قابلِ عزت ہے۔''

جان ڈیون پورٹ ۱۸۷۰ء میں اپنی کتاب 'اپالوجی فار محمد اینڈ دی قرآن' ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:

''بلا شبہ تمام قانون سازوں اور فاتحین میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے حالات ِ زندگی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وقائع عمری سے زیادہ مفصل اور سچے ہوں۔''

b سیرتِ محمدی 1کی کاملیّت

حضرات! کوئی انسانی زندگی خواہ کتنی ہی تاریخی ہو، وہ جب تک کامل نہ ہو ہمارے لیے نمونہ نہیں بن سکتی، کسی زندگی کی کاملیّت اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتی جب تک اس کے تمام اجزا ہمارے سامنے نہ ہوں۔ پیغمبر اسلام 1 کی ولادتِ مبارک سے لےکر رحلت تک زندگی کا مختصر لمحہ بھی تاریخ کی آنکھ سے اوجھل نہیںہے۔

بطورِ مثال امام ترمذیؒ کی 'شمائلِ ترمذی'، قاضی عیاض ؒ کی 'الشفاء' اور حافظ ابن قیمؒ کی 'زادالمعاد' کے ابواب سے اندازہ لگالیں کہ آپ 1 کے جزئی واقعات بھی کس طرح قلم بند کیے گئے۔ مثلاً آپ کی شکل و صورت،اسماے گرامی، عمر،بال، کنگھی،خضاب، سرمہ، لباس،عمامہ، پائجامہ، موزے، پاپوش، انگوٹھی، خاموشی، گفتگو، تبسم، مزاح، خوشبو، تلوار، زرہ، خود، رفتار، نشست، تکیہ و بستر، وضو، پیالہ، کیا اور کیسے کھاتے پیتے، رات کو باتیں کرنے، سونے اور عبادت کرنے کے طریقے، گریہ، اخلاق، حجامت، خواب،خطبہ، سواری،سفر، جہاد، معمولاتِ عیادت و ملاقات، مجالس، اپنے اور دوسروں کے گھروں میں جانے کا انداز اور طریقہ، یادِ ِ الٰہی، اللہ پر توکل ، صبر و شکر، استقامتِ عمل، حسن معاملہ، عدل و انصاف، سخاوت، ایثار، مہمان نوازی، تحفے قبول کرنا، احسان نہ قبول کرنا، عدمِ تشدد،مساوات، شرم وحیا، اپنے ہاتھ سے کام کرنا، ایفاے عہد، دشمنوں سے عفو و درگزر، غلاموں اور قیدیوں سے سلوک،اہل کتاب، منافقین اورغیرمسلموں سے برتاؤ، غریبوں سے محبت، بچوں پر شفقت، عورتوں سے برتاؤ، اولاد سے محبت، نکاح، بیویوں سے سلوک، ازدواجی تعلقات کا طریقہ، خرید و فروخت ،حوائجِ ضروری کے آداب اور جانوروںسے سلوک اور اُن پر رحم وغیرہ۔

اس اجمالی تفصیل سے اندازہ لگالیں کہ جب ان جزئیات کو محفوظ رکھا گیا ہے تو بڑی اور اہم باتوں کی کیا کچھ تفصیل ہو گی۔

میرے دوستو! بڑے سے بڑا انسان جس کی ایک ہی بیوی ہو، یہ ہمت نہیں کر سکتا کہ بیوی کو یہ اجازت دے کہ تم میری ہر بات اور ہر حالت سب کو کہہ دو۔ رسول اللہ1 کی نو بیویوں کو عام اجازت تھی کہ خلوت اور رات کی تاریکی میں مجھ میں جو دیکھو، وہ جلوت اور دن کی روشنی میں سب کو برملا بیان کر دو۔مسجدِنبوی کے چبوترہ پر رہنے والے صحابہؓ دن رات آپ کے حالات دیکھنے اور اُنہیں دوسروں کو بیان کرنے میں مصروف رہتے۔ دن میں مدینہ کی تمام آبادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر اَدا کا مشاہدہ کرتی۔ جنگوںمیں ہزارہا صحابہ ؓ نے آپ کے شب و روز دیکھے۔ حجۃ الوداع میں تقریباً ایک لاکھ صحابہؓ نے آپ کی زیارت کی۔ ہر شخص کو حکم تھا کہ آپ کی ہر حالت و کیفیت منظر عام پر لائی جائے۔اس اخلاقی اعتماد کی مثال کہیں اور مل سکتی ہے؟

رسول اللہ 1ہمیشہ اپنے پیروکاروں ہی کے درمیان نہیں رہے۔ آپ نے نبوت سے پہلے چالیس اور نبوت کے بعد تیرہ برس قریشِ مکہ میںگزارے جنہوں نے آپ کو صادق اور امین کا خطاب دیا۔ وہ آپ کے دعواے نبوت پر برہم ہوئے، گالیاں دیں، نجاستیں ڈالیں، پتھر پھینکے، قتل کی سازشیں کیں، ساحر، شاعر اور مجنون کہا، مگر کوئی آپ کے اخلاق و اعمال کے خلاف ایک حرف بھی نہ کہہ سکا۔

رسول اللہ 1پر ابتدا میں ایمان لانے والے کوئی مچھیرے یا غلام قوم کے نہیں بلکہ ایک ایسی آزاد قوم کے لوگ تھے جو اپنی عقل و دانش میں ممتازتھی۔ جو کبھی کسی کے محکوم نہیں ہوئے تھے۔ان کی تجارت دنیا میں دُور دُور تک پھیلی ہوئی تھی۔ بھلا ایسے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حال چھپا رہ سکتا تھا؟

سیرت ِ محمدی کے آئینہ میں دیکھ کر ہر شخص اپنے جسم و روح، ظاہر و باطن، قول و عمل اور آداب و رسوم کی اصلاح کر سکتا ہے۔ کوئی اور انسانی زندگی اس کاملیّت کے ساتھ دنیا کے سامنے موجود نہیں ہے ،اس لیے تمام انسانوں کے لیے یہی ایک کامل نمونہ ہے!

c سیرتِ محمدی 1 کی جامعیّت

حضرات! محبت ِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے ہر مذہب یہی بتاتا ہے کہ اس کے بانی کی نصیحتوں پر عمل کیا جائے۔ اسلام نے ایک بہتر تدبیر بتائی ۔ اس نے اپنے پیغمبر کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا اور اللہ کی محبت اس عملی نمونہ کی پیروی سے مشروط کر دی۔

کسی مذہب کے حلقہ ٔ اطاعت میںشامل اشخاص مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں حکمران، رعایا، سپہ سالار، سپاہی، فاتح ، مفتوح، جج ، مفتی، غریب ، دولتمند، عابد، زاہد، مجاہد، اہل وعیال، دوست و احباب، تاجر ، خریدار، امام، مقتدی، اُستاد ، شاگرد، جوان ، بچے، شوہر اور باپ سب شامل ہیںجنہیں عملی نمونہ کی ضرورت ہے۔ اسلام اُنہیں اتباعِ سنّت ِ نبوی کی دعوت دیتا ہے۔ پیغمبر ِ اسلام 1 کی سیرت میں ہر انسان کے لیے نمونے اور مثالیں ہیں ۔

انسان مختلف لمحوں میں مختلف افعال کرتا ہے: چلنا، پھرنا، اُٹھنا ، بیٹھنا، کھانا ، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا ، رونا، پہننا ، اُتارنا، نہانا، دھونا، لینا ، دینا، سیکھنا ، سکھانا، مرنا ، مارنا، مہمان بننا، میزبانی کرنا، عبادت ، کاروبار ، راضی ہونااور ناراض ہونا، خوش اور غمزدہ ہونا، کامیاب اور ناکام ہونا، شجاعت، بزدلی،غصہ، رحم،سخت گیری، نرم دلی،انتقام،معافی، صبر، شکر، توکل، رضا، قربانی و ایثار،عزم وا ستقلال، قناعت واستغنا، تواضع وانکساری، نشیب و فراز اور بلند و پست وغیرہ ان تمام افعال ِ انسانی اور احساسات ِ قلبی کی راہنمائی کے لیے ایک عملی نمونہ کی ضرور ت ہے۔ ایک ایسا عملی نمونہ جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صرف شجاعانہ قوتیںیا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا صرف نرم اخلاق ہی نہ ہو بلکہ یہ دونوں صفات معتدل حالت میں موجود ہوں۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت سلیمان، حضرت داؤد، حضرت ایوب، حضرت یونس حضرت یوسف اور حضرت یعقوب علیہم السلام سب کی زندگیاں سمٹ کر حضرت محمد 1 کی سیرت میں سما گئی ہیں۔

ï دوستو!دنیا میں دو طرح کی تعلیم گاہیں ہیں: ایک وہ جہاں صرف ایک فن جیسے میڈیکل، انجینئرنگ، آرٹ، تجارت، زراعت، قانون یا عسکری تعلیم دی جاتی ہے۔ دوسری یونیورسٹیاں ہیں جو ہر قسم کی تعلیم کا انتظام کرتی ہیں ۔ صرف ایک ہی فن اور علم جاننے والوں سے انسانی سوسائٹی مکمل نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ان سب کے مجموعہ سے کمال کو پہنچتی ہے۔

آؤ! اب اس معیار سے مختلف انبیاے کرام کی سیرتوں پر غور کریں۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی تعلیم گاہ میں صرف فوج کے افسرو سپاہی، قاضی اور کچھ مذہبی عہدیدار ملتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے مکتب میں چند زاہد فقرا فلسطین کی گلیوں میں ملیںگے۔

لیکن محمد رسول اللہ 1 کے ہاںاصمحہ حبشہ کا نجاشی بادشاہ، عامر بن شہرؓ ہمدان کا رئیس، بلالؓ جیسے غلام اور سمیّہؓ جیسی لونڈیاں سب ہیں۔ ملکوں کے فرمانروا ، دنیا کے جہانبان ، عقلاے روزگار اور اسرارِ فطرت کے محرم اس درسگاہ سے تعلیم پا کر نکلے ہیں۔ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ ہیں جن کی مشرق سے مغرب تک فرمانروائی اور عدل و انصاف کے فیصلے ایرانی دستور اور رومی قانون کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ خالد بن ولیدؓ، سعدبن ابی وقاصؓ، ابوعبیدہ بن جراح ؓ اور عمرو بن العاصؓ دنیا کے فاتح اعظم اور سپہ سالار اکبر ثابت ہوتے ہیں۔ عمرؓ، علیؓ، ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، عبداللہؓ بن عمرو بن العاص،عائشہؓ، اُمّ سلمہؓ، اُبی بن کعبؓ، معاذ بن جبلؓ اور زید بن ثابتؓوغیرہ جیسے فقہا نے دنیاکے قانون سازوں میں بلند درجہ پایا۔

ستر صحابہؓ پر مشتمل اہل صفہ جن کے پاس مسجدِنبوی کے چبوترہ کے سوا کوئی اورجگہ نہیں تھی، دن کو مزدوری کرتے اور رات عبادت میں گزارتے تھے۔ ابوذر غفاریؓ نے دربار ِ رسالت سے 'مسیحِ اسلام' کا خطاب پایا۔ سلمان فارسیؓ زہد و تقویٰ کی تصویر ہیں۔ بہادر کارپردازوں اور مدبّرین میں طلحہؓ، زبیرؓ، مغیرہؓ، مقدادؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ ہیں۔ سمیّہؓ، یاسرؓ اور خبیبؓ جیسے بے گناہ مقتول ہیں جنہوں نے جانیں قربان کر دیں مگر حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔ بلالؓ، خبابؓ، عمارؓ، زبیرؓ، سعیدؓ بن زید جیسے بھی ہیں جنہوں نے کفارِ مکہ کے مظالم برداشت کیے۔

میرے عزیزو! درسگاہیں اپنے شاگردوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ تعلیم انسانی کی ان درسگاہوں کا جن کے اساتذہ انبیا کرام ہیں، جائزہ لیں تو کہیں دس بیس، کہیں ساٹھ ستر، کہیں سو دوسو، کہیں ہزار دوہزار اور کہیں پندرہ بیس ہزار طالب علم آپ کو ملیں گے۔ جب مدرسہ نبوت کی آخری تعلیم گاہ کو دیکھیں گے تو ایک لاکھ سے زیادہ طلبا بیک وقت نظر آئیں گے۔ دوسری نبوت گاہوں کے طلبہ کہاں کے تھے، کون تھے،اُن کے اخلاق وعادات و دیگر سوانح زندگی کیا تھے؟ اس کا کوئی جواب نہیں مل سکتا۔ لیکن محمد رسول اللہ 1 کی درسگاہ کے ہر طالب علم کی ہر چیز معلوم ہے۔ اس درسگاہ کے بانی کی دعوت جامع اور عالمگیر تھی کہ نسلِ آدم کا ہر فرزند اور ارضِ خاکی کا ہر باشندہ اس میں داخل ہوا یا داخلہ کے لیے اسے آواز دی گئی۔

تورات کے انبیا عراق یا شام یا مصر سے آگے نہیں بڑھے۔ عربوں کے قدیم انبیا بھی اپنی قوموں سے باہر نہیں گئے۔ حضرت عیسیٰ ؑکے مکتب میں بھی غیر اسرائیلی طالب علم کا وجود نہیں تھا۔ ہندوستان کے داعی آریہ ورت سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اگرچہ بدھ کے پیروؤں نے بدھ مت دوسری قوموں تک پہنچایا مگر یہ عیسائیوں کی طرح بعد کے پیروؤں کا فعل تھا۔

اب ذرا محمد رسول اللہ 1 کی درسگاہ دیکھیں: ابوبکرؓو عمرؓ ، عثمانؓ و علیؓ مکہ کے، ابوذرؓ اور انسؓ تہامہ کے، ابوہریرہؓ اور ابوموسیٰ ؓاور معاذ ؓ یمن کے، منذرؓ بحرین کے، عبیدؓ و جعفرؓ عمان کے، فردہؓ شام کے، بلالؓ حبشہ کے، صہیبؓ روم کے اورسلمانؓ ایران کے رہنے والے ہیں۔ پیغمبر اسلام ۶ھ ؁ میں تمام قوموں کے سلاطین اور حکمرانوں کے نام دعوت ِ اسلام کے خطوط بھیجتے ہیں۔ درسگاہ ِ محمدی میں یہ جامعیّت نمایاں ہے کہ اس میں داخلہ کے لیے رنگ، وطن، نسل اور زبان شرط نہیں ہے بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے داخلہ کھلاہے۔

دوستو! آپ نے درسگاہ ِ محمدی کی پوری سیر کر لی جس میں آپ نے ہر رنگ اور ہر ذوق کے طالب علم دیکھے۔ آپ نے کیا فیصلہ کیا ؟ اس کے سوا کیا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اکرم1کی ذات انسانی کمالات اور صفات ِ حسنہ کا کامل مجموعہ تھی۔ آپ کا وجودِ مبارک ایک ابرِ باراں تھا جو پہاڑ، جنگل، میدان، کھیت، ریگستان اور باغ ہر جگہ برستا تھا اور ہر ٹکڑا اپنی اپنی استعداد کے مطابق سیراب ہو رہا تھا اورقسم قسم کے درخت اور رنگارنگ پھول اور پتے اُگ رہے تھے۔

d سیرتِ محمدی 1 کی عملیّت

عزیز جوانو! یہ انبیاے کرام اور بانیانِ مذاہب کی موجودہ سیرتوں کا وہ باب ہے جو تمام تر خالی اور سادہ ہے، لیکن حضرت محمد1 کی سیرت کا یہی باب سب سے بڑا اَور ضخیم ہے۔ سیرتِ محمدی کا روشن ترین پہلو یہ ہے کہ آپ نے بطورِ پیغمبراپنے پیروکاروں کو جو نصیحت فرمائی، اس پر پہلے خود عمل کرکے دکھادیا۔

عام پیروکاروں کو دن میں پانچ وقتوں کی نمازوں کا حکم تھا، مگر آپ 1نے آٹھ وقت نماز پڑھی۔ عام مسلمانوں پرروزو شب میں سترہ رکعتیں فرض ہیں، مگر آپ ہر روز کم و بیش پچاس ساٹھ رکعتیں اَدا فرماتے تھے۔پنجگانہ نمازیں فرض ہونے کے بعدنمازِ تہجد مسلمانوں کو معاف ہو گئی تھی مگر آپ اسے تمام عمر ہر شب اَدا فرماتے رہے۔مکہ میںکئی دفعہ دشمنوں نے دورانِ نماز آپ پر حملہ کیا۔ دشمنوں کے خلاف معرکوںحتی کہ مرض الموت میں بھی آپ کی نماز ترک نہ ہوئی۔ ساری زندگی میں صرف دو مرتبہ نماز قضا ہوئی۔

آپ1 نے روزہ کا حکم دیا۔ مسلمانوں پر سال میں تیس روزے فرض ہیں، مگر آپ کا کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ جاتا تھا۔ آپ دو دو تین تین دن بغیر کھائے پیئے متصل روزہ رکھتے تھے۔

آپ نے زکوٰۃ اور خیرات کا حکم دیا تو پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ جو کچھ آیا، سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔ فتح خیبر کے بعد سال بھر کا غلّہ ازواجِ مطہرات کو دے دیا جاتا تھا مگر سال ختم ہونے سے پہلے وہ ختم ہو جاتا،اس لیے کہ اس کا بڑا حصہ اہل حاجت کی نذر کر دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ بحرین سے خراج کامال آیا۔ فرمایا: مسجد میں ڈال دو۔ صبح نماز کے بعد ڈھیر کے پاس بیٹھ گئے اور تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ جب سب ختم ہو گیا تو دامن جھاڑ کریوں کھڑے ہوگئے کہ یہ گویا غبار تھا جو دامن پر پڑ گیا تھا۔ ایک دفعہ نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد خلافِ معمول فوراً تشریف لے گئے او ر پھر باہر آئے۔ پوچھنے پر فرمایا: ''مجھے نماز میں یاد آیا کہ سونے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا گھر میں پڑا ہے، خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ رات آ جائے اور وہ محمد کے گھر پڑا رہ جائے۔''

آپ نے زہد و قناعت کی تعلیم دی تو پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ فتوحات کی وجہ سے جزیہ، زکوٰۃ، عشر او رصدقات کے خزانے لدے چلے آتے تھے مگر آپ کے گھر میں وہی فقر و فاقہ تھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہ 1رحلت فرماگئے مگرآپ کو دو وقت بھی سیر ہو کرکھانا نصیب نہ ہوا۔ آپ کی رہائش ایک کمرہ تھی جس کی دیوار کچی اور چھت کھجور کے پتوں اور اونٹ کے بالوں سے بنی تھی۔ آپ کا کپڑا کبھی تہہ کرکے نہیں رکھا جاتا تھا، یعنی جو بدنِ مبار ک پر کپڑا ہوتا تھا، اس کے سوا کوئی اور کپڑا ہی نہیں تھا جو تہہ کیا جاتا۔

آپ نے مساوات کی تعلیم دی۔ آپ نے خود مساوات، اخوتِ انسانی، اور جنسِ انسانی کی برابری کی یہ عملی مثال پیش کی کہ ایک غلام کو اپنا فرزندِ متبنٰی بنایا، اپنی پھوپھی زاد بہن کو ایک غلام سے بیاہا اور مطلّقہ عورتوں سے شادی کی۔

آپ نے ایثار کی تعلیم دی توایثار میں بھی اپنا نمونہ پیش کیا۔آپ کے پاس چادر نہیں تھی۔ ایک صحابیہؓ نے چادر لاکر پیش کی۔کسی نے کہا: کتنی اچھی چادرہے۔ آپ نے چادر فوراً اُتار کر اسے دے دی۔

عزیزو! آؤ دشمنوں کو پیار کرنے کی عملی مثال پیغمبر اسلام 1میں آپ کو دکھاؤں۔ مکی حالات چھوڑتا ہوں کہ محکومی، بیکسی اور معذوری، عفوودرگذر اور رحم کے ہم معنی نہیں ہوتے۔ ہجرت کے وقت سو اُونٹ کے لالچ میں محمد 1کاتعاقب کرنے والے سراقہ ؓ کی جان بخشی کر دی۔ کفار کے سرغنہ ابو سفیانؓ ہند کو فتح مکہ کے دن معافی مل گئی۔ سب سے بڑے دشمن ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ آئے تو فرمایا: ''اے مہاجر سوار! تمہارا آنا مبارک۔''یہ اسے کہاگیا جس نے آپ 1 پر نجاست ڈلوائی، حالت ِنماز میں آپ پر حملہ کیااور آپ کے گلے میں چادر ڈال کر قتل کرنا چاہا۔ پیغمبر اسلام کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کے قاتل ہبار بن الاسود کو معاف کر دیاگیا۔ زہر بجھی تلوار سے قتل کے لیے آنے والا عمیر بن وہب گرفتار ہونے پر رہا کر دیاجاتا ہے۔ آپ 1نے آپ پر پتھر برسانے والوں ، آپ کادانت شہید اور چہرہ خون آلود کرنے والوں کے لیے دعاکی۔

آپ کو جھٹلانے، گالیاں دینے، راستے میں کانٹے بچھانے اور غریب و بیکس مسلمانوں کو ستانے والے سردارانِ قریش فتحِ مکہ کے دن صحنِ حرم میں سرجھکائے سامنے بیٹھے تھے۔ پیچھے دس ہزار خون آشام تلواریں محمد رسول اللہ 1 کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں، لیکن وہ سب معاف کر دیئے گئے۔

میرے دوستو!کیا پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ 1کے سوا،انسانی تاریخ میں ایسی عملی ہدایتوں اور کامل مثالوں کا کوئی اور نمونہ کہیں نظر آتا ہے؟

ہستیٔ بے مثال

0 comments


اسرار احمد سہاروی

ہستیٔ بے مثال ﷺ

حسنِ یوسف، دمِ عیسی یدِ بیضا داری!
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری!

یہ شعر وصفِ نبی ﷺ کے بارے میں انتہائی بلیغ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی مدحتِ رسول کا قرار واقعی حق ادا نہیں کرتا۔ کیونکہ رسالت مآب کی بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتیں اسے آپ آنحضرت ﷺ کی بے مثالیت کہہ لیں یا کچھ اور نام دے دیں۔ بہرحال یہ ہیں آپ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص۔ کہیں اور آپ کو یہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ گویا فضیلت نبوت کی آپ معراج کمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے ''تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ'' یعنی رسولوں میں بھی ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اس اعلان کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک نبی ایسا بھی ہونا چاہے کہ جس پر کسی کو فضیلت حاصل نہ ہو اور ایسے نبی محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔ ہمارے اس دعوے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء بھی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آیا اور نہ قیامت تک آئے گا گویا آپ کی ذات میں تکمیل نبوت ہو گئی۔ ہر کمال کے بعد زوال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحت نے نبوت کو زوال سے بچانے کے لئے اسے ابدالاباد تک کے لئے معدوم قرار دے دیا تاکہ زوال کے عیب سے بے نیاز ہو جائے۔ چنانچہ اس کمالِ دین اور منتہائے نبوت کے بارے میں ارشاد فرمایا ''اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا'' یعنی آج کے دن دینِ انسایت مکمل کر دیا گیا اور یہ نعمتِ عظمیٰ اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ ظاہر ہو گئی اور انسان کے لئے اسلام دین کے طور پر اللہ تعالیٰ نے پسند فرما لیا۔ کیا ہم نبوت کی تاریخ میں کوئی ایسا نہیں پاتے ہیں جس کو ساری انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہو اور جس پر نبوت کا خاتمہ کیا گیا ہو۔ اور جس کو خود اللہ تعالیٰ نے یہ سند دی ہو کہ آج دین کی نعمت کی تکمیل کر دی اور اب اس میں ابد تک کوئی اضافہ نہ کیا جائے گا۔ حضرت یعقوب یہود کے لئے مبعوث ہوئے۔ حضرت موسیٰ بھی یہود کے نبی مقرر ہوئے۔ حضرت عیسیٰ کی ملت بھی مخصوص رہی۔ ایک خاص علاقے کے لئے تھے اور ایک مخصوص دور کے لئے۔ ان حضرات کی نبوت زمان و مکان کی حدود میں مقید تھی لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت قید زمان و مکان سے ماورا ہے۔ اب وہ ہر ملک، ہر ملت اور ہر دور کے لئے راہنما ہے، یہ نبی کریم ﷺ کی عدیم المثالی ہے۔

اب دوسری مثال معجزے کی لے لیں۔ دوسرے تمام انبیاء کو جو معجزات دیئے گئے وہ وقتی تھے اور غالباً اس کی مصلحت یہ تھی کہ ان کا مشن بھی وقتی تھا اور خاص حلقے کے لئے تھا ہر دور اور ہر ملّت کے لئے نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ید بیضا کا معجزہ عطا ہوا یا ان کا عصا سانپ بن گیا یا دریائے نیل ان کے لئے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ سب وقتی چیزیں تھیں جن کا اثر وقوعے کے بعد ختم ہو گیا۔ یہی حال حضرت عیسیٰؑ کے معجزات کا تھا کہ اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کر دینا حضرت عیسیٰؑ کی زندگی تک تھا اور خاص حلقے تک محدود تھا ان کے بعد ان چیزوں کا اثر ختم ہو گیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کو کتابیں بھی دی گئیں لیکن یہ کتابیں معجزہ بنا کر پیش نہیں کی گئیں۔ نہ تو خود ان کتابوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری حیثیت ایک معجزے کی ہے اور نہ ان انبیاء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہماری یہ کتابیں معجزے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن نبی کریم ﷺ کو جو معجزہ عطا ہوا وہ قرآنِ کریم ہے ایک تو یہ کہ قرآن ابدی کتاب ہے خود خدا نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے فرمایا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَه لَحَافِظُوْنَ یعنی ہم نے ہی یہ ''ذکر'' نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔'' اس کے علاوہ بھی کئی دوسری آیات میں یہ ذمہ لیا گیا ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج تک قرآن میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی ممکن نہیں ہو سکی ہے اور دوست و دشمن سب اس قرآنی خصوصیت کو تسلیم کرتے ہیں اور یہی اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ یہ کتاب آخری کتاب اور اس کی شریعت آخری شریعت اور اس کا حامل نبی آخری نبی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود قرآن نے یہ دعوےٰ کیا ہے کہ میں ایک معجزے کی حیثیت سے نازل ہوا ہوں اگر کسی میں ہمت ہے تو میری مثال پیدا کر کے دکھائے فرمایا: فَأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِنْ مِّثْلِه وَادْعُوْا شُھَدَاءَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنِ یعنی اگر تم خیال کرتے ہو کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے تو تم سب مل کر ایک سورت ہی ایسی لکھ لاؤ۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ قرآن کا یہ چیلنج آج بھی ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے بعد اسی طرح اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسیلمہ اور متنبی وغیرہ نے کوشش کی لیکن خود ان کے حامیوں نے ہی ان کی ہفوات کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور آج ان کا کہیں نام بھی سننے میں نہیں آتا۔ صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ گویا معجزہ بھی آپ کو لاثانی ہی عطا فرمایا گیا۔

اُمت کے لحاظ سے اگر آپ نبی کریم کی ذات پر نظر ڈالیں تو فوراً احساس ہوتا ہے کہ اس باب میں بھی کوئی آپ کا مد مقابل نہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس امت کا دین کامل اور اکمل ہے۔ دوسرے یہ کہ ابدی ہے اب اس میں کسی بنیادی تبدیلی کا امکان نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا شرف ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کی دو بڑی خصوصیات بیان کی ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ امت اپنی نوعیت اور کیفیت کے لحاظ سے ''امت وسط'' ہے یعنی اس کی زندگی کے اصول و قوانین درمیان کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں افراط و تفریط سے بچاتے ہیں اس کے مقابلے میں دنیا کے جتنے ادیان پر آپ نظر ڈالیں فوراً یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اکثر معاملات میں وہاں افراط و تفریط کی قباحت نظر آتی ہے یعنی توازن و اعتدال غائب ہے مثلاً عیسائیت کہتی ہے کہ زندگی مردود ہے اسے ترک کرو اور رہبانیت اختیار کرو کیوں کہ اس کی ابتداء ہی گناہ سے ہوئی ہے لیکن اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ زندگی گناہ کا ثمرہ نہیں۔ حضرت آدمؑ و حواؑ کا گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا تھا بلکہ رسول کریم ﷺ نے واضح طور پر فرما دیا۔ ''لَا رَھْبَانِيَّةَ فِيْ الْاِسْلَامِ'' یعنی اسلام میں رہبانیت اور ترکِ دنیا کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اگر ترکِ دنیا اور ترکِ حیات کا جواز ہوتا زندگی پیدا ہی کیوں ہوتی پھر تو تخلیقِ کائنات ایک عبث فعل ہو جاتا ہے۔ اسلام نے دین و دنیا میں توازن اور اعتدال قائم کیا ہے۔ دنیا کو مزرعۃ الآخرت کہا۔ خود کشی اور خود آزاری کو حرام قرار دیا۔ بلکہ قرآنِ کریم میں جو بہترین دعا شمار کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ: ''رَبَّنَا اٰتِنَا فِيْ الدُّنْيَا حَسَنَةً وفي الْاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار'' یعنی اسے رب ہمارے ہمیں دنیا کا بھی حسن عطا فرما اور دین کا بھی گویا حسنِ زندگی کے حصول کے بارے میں دین و دنیا کو ہم پلّہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ رسول کریم نے اپنی ایک حدیث میں اسی میانہ روی اور اعتدال کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ''خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا'' یعنی کام میانہ روی اختیار کرنے سے بہترین طریقے پر انجام پاتے ہیں۔ اسی قسم کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اختصار کی خاطر نظر انداز کرتے ہیں۔ دوسری خصوصیت اللہ تعالیٰ نے اس امت کی یہ بیان کی کہ یہ بہترین امت ہے اور اس کا سب یہ بیان فرمایا کہ یہ دنیا میں نیکی کی علمبردار ہے اور لوگوں کو برائی سے روکتی ہے۔ ''كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلْنَّاسِ تَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ'' گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کا فرض قرار پایا۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ بہترین امت ہونا غیر مشروط نہیں اگر یہ اپنا فریضہ ادا کرے گی تو بہترین امت قرار پائے گی اور اس کی افادیت سے سرفراز ہو گی لیکن اگر اپنا فریضۃ انجام نہیں دیتی تو سنتِ خداوندی یہی ہے کہ ''لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی'' یعنی انسان کو وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ امت فرض سے روگردانی کرے۔ بد اعمال اور کم حوصلہ ہو۔ نہ اعلائے کلمۃ الحق کرے اور نہ امر بالمعروف کا فریضہ انجام دے اور خدا کے نزدیک پھر بھی بہترین امت اور اس کی محبوب بنی رہے۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ تصور یہودیوں کا تو ہے لیکن اسلام کا تصورِ امت یہ نہیں ہے۔ قرآنِ کریم نے صاف کہہ دیا ہے کہ تم بہترین اُمّت ضرور ہو لیکن صرف اس وقت تک جب کہ اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتے رہو۔ اور فرائض انسان قرآن کریم نے بنیادی طور پر تین ہی مقرر فرمائے ہیں۔ یعنی عبادت، خلافت اور اعمالِ صالحہ ان سے بے نیازی تباہی کی علامت ہے۔

اب آخر چند جملے اس انقلاب کے بارے میں عرض کر دوں جو نبی کریم نے انسانی معاشرے میں برپا کر دیا تاکہ اندازہ ہو جائے کہ اب اس ضمن میں بھی لاثانی ہی قرار پاتے ہیں۔ انقلاب کا اندازہ کرنے کے لئے اس سے پہلے کے حالات زیرِ نظر ہونا ضروری ہیں۔ مختصراً یہ کہ دنیا میں ہر جگہ ہر مذہب میں شرک کا دور دورہ تھا۔ اخلاقی اقدار ختم ہو چکی تھیں۔ شراب، جوا، بدکاری، غارت گری شرافت کا معیار بن گئی تھیں۔ علاموں کو ذبح کر دینا، بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دینا۔ آپس میں لڑا کر مروا دینا ایک کھیل تماشہ تھا۔ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا ایک عام رواج تھا۔ وحشیانہ جنگ و جدال۔ انتقام کا نہ ختم ہونے والا چکر روز مرہ کا معمول تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی تلقین نے آناً فاناً ان تمام عیوب کو پہلے عرب معاشرے سے ختم کر دیا اور بعد میں یہ روشنی اسلام کے مجاہدوں اور جانبازوں نے تمام دنیا میں پھیلا دی۔ عرب سے کم از کم ان تمام برائیوں کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں آپ دوسرے انبیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہودی صدیوں تک اپنے انبیاء کو پریشان ہی کرتے رہے بلکہ اکثر کو قتل کر دیا اور ہمیشہ کتابوں میں تحریف کرتے رہے۔ اخلاقی اور معاشرتی قوانین سے بغاوت ہی کرتے رہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ ان کے قسیس اور رہبانوں نے جو کچھ کیا وہ سب کو معلوم ہے۔ یہاں تک ان کے ایک حواری نے ہی ان کو گرفتار کرا دیا۔ اور عیسائیت کی تبلیغ بھی حضرت عیسیٰؑ کے صدیوں بعد ہی ممکن ہو سکی۔ چنانچہ یہ دعویٰ غلط نہیں کہ نبوت کے لحاظ سے آپ کی کوئی مثال نہیں۔

آفاقہا گر دیدہ ام مہرِ بتاں ورزیدہ ام

بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری

Friday, 1 March 2013

نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے مابین رشتے داریاں

0 comments
نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے مابین رشتے داریاں

حلیہ مبارک

0 comments
حلیہ مبارک
از امام ابن حزم
رسول اللہ ﷺ نہ بہت لانبے تھے نہ پستہ قد ، بلکہ آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا ۔ رنگ کے اعتبار سے آپ نہ بالکل سفید تھے نہ گندم گوں ، بلکہ رنگ سفیدی کے ساتھ سرخی لیے ہوئے تھا۔ چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ، چمک دار، سر کے بال نہ بالکل سیدھے نہ بالکل پیچ دار بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی کے ساتھ گھونگھریالے تھے ۔ اعضاء کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی اور پر گوشت تھیں ۔ پلکیں سیاہ سرمگیں ۔ آنکھوں کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے ، دندان مبارک خوب صورت چمک دار۔ دہن اعتدال کے ساتھ فراخ یعنی تنگ نہ تھا ، ناک خوب صورت ، رفتا ر تیز تھی ، چلتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ڈھلواں زمین پر اتر رہے ہیں ۔ جب آپ توجہ فرماتے تو پورے بدن کے ساتھ فرماتے یعنی صرف گردن پھیر کر متوجہ نہیں ہوتے تھے ۔ نگاہ اکثر نیچی رہتی تھی ۔ ہتھیلیاں پر گوشت اور ملائم تھیں ۔ ایڑی میں گوشت کم تھا۔ ریش مبارک گھنی اور بال سیاہ تھے۔ آپ کے پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے ۔ سر کے بال زیادہ لانبے ہوتے تو کان کی لو تک یا شانے تک پہنچ جاتے تھےے ورنہ نصف کان کی لو تک یا شانے تک رہتے تھے ، آپ کے سر اور داڑھی کے بال بیس سے زیادہ سفید نہ تھے یعنی گنتی کے بال سفید تھے ۔
(جوامع السیرۃ : امام ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم م ۴۵۶ھ)
اقتباس : تجلیات نبوت از مولانا صفی الرحمن مبارک پوری

نبوی مسکراہٹیں

0 comments
نبوی مسکراہٹیں

دین سے وابستہ لوگوں اور دینی پیشواؤں کام نام آتے ہی عموما کسی خشک مزاج شخصیت کا خاکہ ذہن میں آتا ہے جس کے چہرے پر کسی نے مسکراہٹ دیکھی ہو، نہ وہ ہنستا ہو، نہ کسی کے ساتھ گھلتا ملتا ہو،لیکن رہبر کامل صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زندگی ان چیزوں سے پاک تھی۔ وہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم)اپنے صحابہ کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے، ہلکا پھلکا مزاح بھی فرما لیا کرتے تھے۔ عظیم کارنامے انجام دینے والی شخصیت کے لیے یہ ایک لازمی وصف ہے کہ وہ فرائض حیات کے بوجھ کو اپنے تبسم سے گوارا بنا دےاور ساتھیوں کے دلوں میں گھر کر لے۔ چنانچہ چہرہ مبارک پر ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔ توازن و اعتدال کے ساتھ مزاح فرماتے تھے اور مجلس میں شگفتگی کی فضا پیدا کر دیتے۔لیکن مزاح کا رنگ آٹے میں نمک کی طرح ہلکا رہتا اور اس میں بھی نہ تو خلاف حق کوئی بات شامل ہوتی، نہ کسی کی دلآزاری کی جاتی، نہ ٹھٹھے لگا کر ہنسنا معمول تھا، غنچوں کاسا تبسم ہوتا جس میں زیادہ سے زیادہ دانتوں کے کیلے دکھائی دیتے، حلق نظر نہ آتا۔ عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
ما رأيت أحداً أكثرَ تَبسماً مِن رَسولُ الله ُ صَلى الله عِليهِ وسَلَّم 
::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا 
(سنن ترمذی کتاب المناقب عن رسول اللہ باب فی بشاشۃ النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، تحقيق الألباني :صحيح مختصر الشمائل ( 194 ) ، المشكاة ( 5829 / التحقيق الثانى)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے عظیم الشان مقام کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مزاح فرما لیتے تھے ان کی یہ مبارک اور مہربان عادت دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہواتو عرض کیا 
::: """ یارسول الله إنك تداعبنا ::: اے اللہ کے رسول آپ ہمارے ساتھ مزاح بھی فرماتے ہیں ؟ """ 
تو اِرشاد فرمایا:
نعم غير أني لا أقول إلا حقاً ::: جی ہاں (میں مذاق کرتا ہوں ) لیکن میں حق (بات)کے علاوہ کچھ اور نہیں کہتا 
(سنن ترمذی کتاب البر و الصلۃ عن رسول اللہ باب ما جاء فی المزاح۔تحقيق الألباني :صحيح ، الصحيحة ( 1726 ) ، مختصر الشمائل المحمدیۃ للالبانی ص 125)
بسا اوقات ایسا واقعہ بیان فرماتے جس میں مزاح اور تربیت دونوں کی آمیزش ہوتی اور اپنی اثر انگیزی کی وجہ سے وہ سامعین کی یادداشت کا حصہ بن جاتا۔بطور مثال درج ذیل واقعہ ملاحظہ کیجیے جس میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ، اس کی رحمت و مغفرت کا بیان بھی ہے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آنے کا سامان بھی۔
ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
إني لأعلم أول رجل يدخل الجنة وآخر رجل يخرج من النار : يؤتى بالرجل يوم القيامة فيقال : اعرضوا عليه صغار ذنوبه ويخبأ عنه كبارها . فيقال له : عملت يوم كذا كذا وكذا وهو مقر لا ينكر وهو مشفق من كبارها فيقال : أعطوه مكان كل سيئة حسنة . فيقول : إن لي ذنوبا لا أراها ههنا :::
بے شک میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا اور اس شخص کو بھی جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا “اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو” اوراس کے بڑے گناہ اس سےاوجھل رکھ کر کہا جائے گا “فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیا تھا نا؟”۔ وہ اقرار کرے گا اور انکار نہیں کر سکے گا۔ اور بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا۔ پھر حکم ہو گا “ہر گناہ کے بدلے میں اسے ایک نیکی دے دو”۔ اس پر وہ بول اٹھے گا “ابھی تو میرے اور گناہ بھی باقی ہیں جنہیں میں یہاں دیکھ ہی نہیں رہا”۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه ::: میں نے دیکھا کہ (یہ بات بیان فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک ان کے (سامنے والےنوکیلے درمیانی دو داتنوں کے دائیں بائیں والے)دانت مبارک نُمایاں ہو گئے 
(مسند احمد بن حنبل/ مسند الانصار /حدیث ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ۔ مختصر الشمائل ٕالمحمدیہ للالبانی /ص 121)
بڑے بڑے کام کرنے والے لوگ بالعموم رابطہ عام کے لیے وقت نہیں نکال سکتے اور نہ ہر طرف توجہ دے سکتے ہیں۔ بعض بڑے لوگوں میں خلوت پسندی اور خشک مزاجی پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ تکبر کا شکار ہو کر اپنے لیے ایک عالم بالا بنا لیتے ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انتہائی عظمت کے مقام پر فائز ہو کر بھی اپنے ساتھیوں میں گھل مل جاتے تھے۔تکبر، علیحدگی پسندی کا شائبہ تک نہ تھایہاں تک کہ بچوں سے بھی مزاح فرما لیتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی ابوعمیر نےنعیر نامی پرندہ پال رکھا تھا جو مر گیا۔ ابوعمیر اس کے مرنے پر مغموم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انہیں بہلانے کے لیےبطور مزاح فرماتے جاتے تھے:
يا أبا عمير ما فعل النغير ::: اے ابو عمیر، کیا کیا نغیر نے”؟
(سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی الصلاۃ علی البسط۔ مختتصر الشمائل المحمدیہ للالبانی ص 125)
اس کا اصل لطف عربی عبارت میں ہی ہے۔ عمیر اور نغیر کے ہم قافیہ ہونے سے مزاح کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ 
بے تکلفی کا یہ عالم فقط قریبی احباب کے ساتھ ہی نہ تھا بلکہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شفقت اور محبت کا دائرہ اپنے ہر چھوٹے بڑےساتھی کو گھیرے میں لیے ہوا تھا۔ زاہر نامی ایک بدوی صحابی تھے جو دیہات سے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے مخلصانہ جذبے سے ہدیہ لایا کرتے تھے۔ پھر جب وہ واپسی کا ارادہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ان کے لیے کچھ سامان تیار کرا دیتے اور اظہار محبت کے طور پر فرماتے کہ “زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں”۔ یہ زاہر ایک دن بازار میں کچھ سامان بیچ رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو چپکے سے پیچھے جا کر آنکھوں پر ہاتھ دیے اور پوچھا “بتاؤ میں کون ہوں؟”وہ پہلے تو کچھ نہ سمجھے، پھر جب معلوم ہوا تو فرط اشتیاق میں نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سینے سے اپنے کندھے ملتے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (مزاحًا) فرمایا: “کوئی ہے جو اس غلام کو خریدتا ہو”۔زاہر کہنے لگے “اے اللہ کے رسول! مجھے جیسے ناکارہ غلام کو جو خریدے گا گھاٹے میں رہے گا”۔ فرمایا “تم اللہ کے ہاں ناکارہ نہیں ہو”۔( مختصرالشمائل المحمدیہ للالبانی )
الفاظ کی طرز ادائیگی بدلنے سےبعض اوقات مفہوم بھی بدل جاتا ہے جس کا بروقت اور برجستہ استعمال چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ لے آنے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔ اسوہ حسنہ سے ایسی ہی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ کیجیے: 
أن رجلا استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ::: انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سواری مانگی، تو (مزاحاً ) اِرشاد فرمایا ((((( إني حاملك على ولد ناقة ::: میں تمہیں اونٹی کے بچے پر سوار کروں گا ))))) تو ا س شخص نے کہا """ يا رسول الله ما أصنع بولد الناقة ؟ ::: اے اللہ رسول! اونٹی کے بچے کو لے کر میں کیا کروں گا؟""" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( وهل تلد الإبل إلا النّوق ؟ ::: ہر اونٹ کسی اونٹی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے))))) (سنن ترمذی کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ۔ باب ما جاء فی المزاح۔ مختصرالشمائل المحمدیہ للالبانی ص 126)
اسی طرح کی ایک دوسری مثال درج ذیل واقعے میں ملتی ہے:
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی “اے اللہ کے رسول! دعا کیجیے کہ اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( يا أم فلان إن الجنة لا تدخلها عجوز ::: اے فلاں کی ماں! جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت داخل نہیں ہو گی))))) وہ یہ سن کر رونے لگیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےحاضرین سے فرمایا:
((((( أخبروها أنها لا تدخلها وهي عجوز إن الله تعالى يقول """ إنا أنشأناهن إنشاء فجعلناهن أبكارا عربا أترابا ::: اسے بتاؤ کہ وہ اس حال میں جنت میں نہیں جائے گی کہ وہ بوڑھی ہو ( یعنی اللہ تعالیٰ جنتی عورتوں کو جوان کر کے اس میں داخل کرےگا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ہم نے اٹھایا ان (جنتی) عورتوں کو ایک اچھی اٹھان پر، پھر کیا انکو کنواریاں، پیار دلانے والیاں، ہم عمر))))) (الشمائل المحمدیہ للامام الترمذی باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ۔ مختصر الشمائل المحمدیہ للالبانی ص 128 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے لی گئی یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو معتدل ہوتا ہے۔ وہ دنیا کی رنگینیوں میں اس طرح نہیں کھو جا تا کہ آخرت کو فراموش کر دے تو دوسری جانب اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا خیال رکھتے ہوئےجائز تفریح اور خوش مجلسی سے بھی مستفید ہوتا ہے۔ انسانیت کا کوئی تصور ہم جذبات کو الگ رکھ کر نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ان نام نہاد بڑے لوگوں میں سے نہ تھے جو سنگ دل اور تغافل کیش ثابت ہوتے ہیں۔بعد کے لوگوں کو اس رنگ مزاح کا حال سن کر تعجب ہوتا ہے۔ کیونکہ اکثر متقیوں اور اللہ کی عبادت کرے والوں کی رونی صورتیں اور خشک طبیعتیں لوگوں کے سامنے رہی ہیں اور عموما دین و مذہب کے ساتھ خشک مزاجی کا تصور موجود رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا شوق عبادت، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کی خشیت اور رسالت کی بھاری ذمےد اریوں کا خیال کیا جائے تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس قدر مصروف ، اعلیٰ ترین اور مکمل ترین تقویٰ والی زندگی میں بھی ان مسکراہٹوں کے لیے کیسے جگہ پیدا فرمائی۔ ایسی ہمہ گیری اور توازن یقینًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بلند منصب ہی کے شایان شان ہو سکتا تھا۔ یہ واقعات جہاں ہمارے لیے مزاح کی جائز صورتوں کی وضاحت کرتے ہیں وہیں ان میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ متوازن زندگی کا ایک لازمی جز جائز تفریحات ہیں۔ یہ جز ساقط ہو جائے تو زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور جس نظام میں جائز تفریحات کی گنجائش نہ رکھی گئی ہو اسے کوئی معاشرہ زیادہ دیر تک نہیں اٹھا سکتا۔