YOUR INFO

Showing posts with label دستورِ سعودی عرب. Show all posts
Showing posts with label دستورِ سعودی عرب. Show all posts

Friday, 23 August 2013

شاہ عبدالعزیز کا اصلاحی کردار

0 comments

شاہ عبدالعزیز کا اصلاحی کردار
محمد سعد شویعر



سقوط خلافت اِسلامیہ عثمانیہ کے بعد 1343ھ؍بمطابق1926ء میں شاہ عبدالعزیز مکہ میں داخل ہوئے۔ جب مدینہ اورجدہ کے علاقے ان کی قیادت میں نئی حکومت کے حدود میں آگئے تو[b] ان کے خلاف کئی غیرملکی آوازیں اٹھیں اور اُنہوں نے ان پر کئی باتوں کی تہمت لگائی جن سے وہ بری ہیں۔ کسی نے کہاکہ وہ وہابی مذہب کے ماننے والے ہیں جوپانچواں مذہب ہے۔ اُنہوں نے حرمین شریفین کا تقدس پامال کیا، مسجد نبوی پر بم برسائے اور عزتیں لوٹیں۔ وہ نبی ﷺ سے محبت نہیں رکھتے اور آپ ﷺ پر درود نہیں بھیجتے۔ اس کے علاوہ دیگر کذب بیانیاں بھی کیں جو پہلے دہرائی جاچکی ہیں۔ اسی دوران علماے اہل حدیث کاایک گروپ آیا جس نے حج کیا، مسجد ِنبویؐ کی زیارت کی اور ان الزامات کو یکسر غلط پایا جو اُن پر لگائے جارہے تھے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیاجارہا تھا۔ یہ لوگ اپنے اطمینان کے بعد ہندوستان واپس آگئے تاکہ اتہامات کی تردید کریں اورآنکھوں دیکھی حقیقت حال بیان کریں۔ اُنہوں نے لکھنؤ اور دلّی کانفرنس کی تردید کے لئے دو کانفرنسیں منعقد کیں۔ اخباروں نے جن میں اخبار اہل حدیث، اخبار ِمحمدی اورروزنامہ زمیندار پیش پیش تھے، شاہ عبدالعزیز کی حقیقی کارگزاری بیان کی۔ اُنہوں نے حرمین شریفین میں جواصلاحات کیں اورحجاج کے آرام و راحت اور امن و سکون کے لیے جو اَقدامات کیے، ان کی تفصیلات شائع کیں۔ مزید برآں اُن کے عقیدے کی سلامتی اور اللہ کے دین کے لیے ان کی غیرت و حمیت کے جذبات کا حال لکھا۔ شاہ عبد العزیزرحمہ اللہ جس عقیدے پر مضبوطی سے قائم تھے۔ اس کی وضاحت کے لیے اُنہوں نے خطوط بھی لکھے اورہر سال حجاج کے وفود کے روبرو اپنےفکر و عمل کے اَحوال بھی بیان کرتے رہے. 
اس دوران شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ نے یکم ذی الحجہ 1347ھ بمطابق 11 مئی 1929ء کومکہ میں شاہی محل میں'یہ ہمارا عقیدہ ہے!' کے زیر عنوان ایک جامع تقریر کی۔ اس میں اُنہوں نے وضاحت سے کہا: لوگ ہمارا نام'وہابی' رکھتے ہیں اورہمارے مذہب کو پانچواں مذہب ٹھہرا کر'وہابی' کہتے ہیں، حالانکہ یہ ایک فاش غلطی ہے جو جھوٹے پروپیگنڈے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کی اِشاعت خود غرض لوگ کیا کرتے تھے۔ ہم کسی نئے مذہب یا نئے عقیدے کے ماننے والے نہیں۔ اورمحمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے، بلکہ ہمارا عقیدہ سلف صالحین ہی کا عقیدہ ہے ، ٹھیک وہی عقیدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں آیا ہے اورجس پر سلف صالحین کاربند تھے۔ہم اَئمہ اربعہ کا احترام کرتے ہیں ،امام مالک، شافعی، احمد اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مابین ہم کوئی تفریق نہیں کرتے، یہ سب ہماری نظر میں محترم و معظم ہیں۔ ہم فقہ میں مذہب حنبلی کو ترجیح دیتےہیں۔
یہ وہ عقیدہ ہے جس کی دعوت دینے کے لیے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اُٹھے اور یہی ہمارا بھی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ اللہ عزوجل کی توحید پر مبنی ہے۔ ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے۔ ہر بدعت سے منزہ ہے۔ یہی وہ عقیدہ توحید ہے جس کی ہم دعوت دیتے ہیں اوریہی عقیدہ ہمیں آزمائش و مصائب سے نجات دے گا۔
رہا وہ تجدد جس کا بعض لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں اورمسلمانوں کو فریب دیتے ہیں کہ اس تجدد میں ہمارے دکھوں کا علاج موجود ہے تو میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ یہ تجدّد دنیاوی اوراُخروی دونوں لحاظ سے ہر سعادت سے خالی ہے۔
یقیناً مسلمان جب تک کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی پابندی کرتے رہیں گے بھلائی میں رہیں گے۔ خالص کلمہ توحید کے بغیر ہم سعادتِ دارین حاصل نہیں کرسکتے۔ہمیں وہ تجدد ہرگز نہیں چاہیے جو ہمارا عقیدہ اوردین ضائع کردے۔ ہمیں اللہ عزوجل کی رضا چاہیے اور جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عمل کرے گا، اللہ اس کے لیےکافی ہے۔ وہ اس کا مددگار ہوگا۔ مسلمانوں کو ماڈرن بننے کی ضرورت نہیں، اُنہیں صرف سلف صالحین کے منہج کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ جو چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں آئی، اس پر مسلمانوں نے عمل نہیں کیا تو وہ گناہوں کی کیچڑ میں لت پت ہوگئے۔ اللہ جل شانہ نے اُنہیں ذلیل و خوار کیا۔ وہ ذلت و رسوائی کی اس حد کو پہنچ گئے جس پر آج آپ انہیں دیکھ رہے ہیں، اگر وہ کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھتے تو جن آزمائشوں اور گناہوں میں آج مبتلا ہیں، وہ اُنہیں لاحق نہ ہوتے ، نہ وہ اپنی عزت و سربلندی کو ضائع کرپاتے۔میرے پاس بے سروسامانی کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں اسی حالت میں نکلا، میرے پاس افرادی قوت بھی نہیں تھی۔ دشمن میرے خلاف اکٹھے ہوگئے تھے لیکن اللہ کے فضل اور اس کی قوت سے مجھے غلبہ حاصل ہوا اور یہ سارا ملک فتح ہوگیا۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج مسلمان مختلف مذاہب میں بٹ گئے ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ غیر مسلم پردیسی ہماری مصیبت کا سبب ہیں۔ سب کچھ ہمارا کیا دھرا ہے۔ اپنی مصیبتوں کا سبب ہم خود ہیں، غور فرمائیے ! ایک غیر مسلم پردیسی کسی ایسے ملک میں جاتاہے جہاں کروڑوں مسلمان ہوتے ہیں اوروہ تنہا اپنے کام میں لگا رہتا ہے تو کیا ایسا تن تنہا شخص لاکھوں کروڑوں اَفراد پر اَثرا انداز ہوسکتا ہے جب تک کہ مقامی لوگوں میں سے کچھ لوگ اپنے افکار و کردار سےاس سے تعاون نہ کریں؟
نہیں، ہرگز نہیں، غیروں کے یہی معاونین ہماری مصیبتوں اور آزمائشوں کا سبب ہیں۔ ایسے مددگار ہی دراصل اللہ کے اور خود اپنے نفس کے دشمن ہیں، لہٰذا قابل ملامت وہ کروڑوں مسلمان ہیں ، نہ کہ غیر مسلم پردیسی۔ کوئی تخریب کار ایک مضبوط محکم عمارت میں تخریب کاری کی جتنی چاہے کوشش کرلے جب تک عمارت میں شگاف نہ پڑے اور کدال گھسنے کی راہ ہموار نہ ہو، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہی حال مسلمانوں کا ہے۔ اگر وہ متفق و متحد اوریک جان رہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کی صفوں میں سوراخ کردے اوران کا کلمہ منتشر کردے۔
اس ملک میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو اسلامی جزیرہ نمائے عرب کو نقصان پہنچانے، اَندر ہی اَندر اس پر ضرب لگانے اور ہمیں تکلیف دینے کے لیے غیر مسلم تارکین وطن کی مدد کرتے ہیں، لیکن ان شاء اللہ جب تک ہماری نبض چل رہی ہے، ان کی یہ مذموم خواہش پوری نہیں ہوگی۔
مسلمان متفق ہوجائیں، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کریں، اس طرح وہ یقیناً کامیاب اور بہ عافیت رہیں گے۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ آگے بڑھیں، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی محمدﷺ کی سنت میں جو کچھ آیاہے، اس پر عمل کرنے اور توحید خالص کی دعوت دینے کے لیے آپس میں متحد ہوجائیں تو میں بھی اُن کی طرف قدم بڑھاؤں گا اور جو کام وہ کریں گے اور جو تحریک لے کر وہ اُٹھیں گے، میں ان کےدوش و بدوش رہ کر ان کا ساتھ دوں گا۔
اللہ کی قسم! مجھے حکومت پسند نہیں۔ یہ اَچانک میرے ہاتھ آگئی ہے۔ میں صرف رضائے اِلٰہی کا آرزو مند ہوں اور توحید کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔ مسلمان اسے مضبوطی سے پکڑنے کا عہد کریں اور متحد ہوجائیں۔ یوں میں ایک بادشاہ، لیڈریا ایک امیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خادم کی حیثیت سے ان کے شانہ بہ شانہ چلوں گا۔5
23 محرم 1348ھ بمطابق یکم جولائی 1929ء کو ایک تقریر میں اُنہوں نے فرمایا:
آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ بعض لوگ راہِ ہدایت سے الگ ہوگئے ہیں، صراطِ مستقیم سے ہٹ گئے ہیں اوران چالوں کی وجہ سے جو بعض مدعیانِ اسلام چلتےہیں اوراسلامی غیرت کا اعلان اور اظہار کرتے ہیں، شیطان کے پھندے میں پڑگئے ہیں۔ اللہ گواہ ہے کہ دین ان سے اور اُن کی کارستانیوں سے بَری ہے۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور برابر کہتا رہوں گا کہ جتنا خطرہ مجھے بعض مسلمانوں سے لاحق ہے، اتنا غیر مسلم تارکین وطن سے نہیں، کیونکہ ان کا معاملہ عیاں ہے، ان سے بچنا ممکن ہے، ان کےحملوں کو روکنے، ان کی چال بازیوں کا ناکام بنانے کے لیے تیاری ممکن ہے، یہ لوگ اسلام کے نام پر ہم سے جنگ کرنےکی طاقت نہیں رکھتے۔ رہے بعض مسلمان تو یہ لوگ اب تک نجد اور اہل نجد کے خلاف اسلام اور مسلمانوں کے نام پر چالیں چلتے ہیں اور اسلام کا نام لے کر اپنے مسلمان بھائیوں سے جنگ کرتے ہیں۔
حکومتِ عثمانیہ اسلامی حکومت کے دعویدار ہونے کی بنا پر لوگوں سے زیادہ قریب تھی۔ اس نے ہم سے اسلام اور مسلمانوں کے نام پر کئی شدید جنگیں کیں۔ ہر طرف سے ہمارا محاصرہ کرلیا۔ مدحت پاشانے قطیف اوراحساء کی جانب سے ہم سے جنگ کی، حجاز اوریمن کی طرف سے لشکرِ جرار کی چڑھائی کرادی، شمالی جانب سے عثمانی لشکر چڑھ آیا، ہمیں نیست و نابود کرنےاور اندر خانہ مارنے کے لیے ہر جانب سے محاصرہ کرلیا گیا۔ کیسی کیسی جھوٹی باتیں گھڑی گئیں، غلط باتوں کی کیسی دھول اُڑائی گئی۔ دعوت جس کو تحریک وہابیت کانام دیا گیا، اسے نیا مذہب بتایا گیا۔ امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ پر تہمت لگائی گئی کہ وہ تحریک وہابیت کی ایک نئی بدعت لے کر آئے ہیں اور وہابیوں سے جنگ کرنا فرض ہے، پھر خوبصورت الفاظ سے کانوں کو دھوکے دیئے گئے۔ ہم سے جنگ کی گئی۔ بھولے بھالے اورکم عقل عوام کو ہمارے خلاف بہکایا گیا۔ وہ دھوکا کھاگئے اور حکومت کی باتوں میں آکر ہم سے دشمنی کرنےلگے۔ لیکن ان تمام باتوں کی باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح و نصرت عطا فرمائی۔ اس دور میں اوروں نے بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کیا، ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا اوردین ہی کے نام پر ہمیں ختم کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان پر کامیابی عطا فرمائی اور اپنے کلمے کو بلند و بالا رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے قوت توحید سے جو دلوں میں ہے اور طاقت ایمان سے جو سینوں میں ہے، ہماری مدد فرمائی۔
دانائے قلوب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ توحید نے صرف ہماری ہڈیوں اور جسموں ہی پر قبضہ نہیں کیا بلکہ ہمارے دلوں اور اعضاء و جوارح پر بھی اس کا قبضہ اور غلبہ ہوگیا ہے۔ ہم نے توحید کو شخصی مقاصد پورا کرنے اورمال غنیمت کے حصول کا آلہ کار نہیں بنایا بلکہ ہم اسے مضبوط عقیدے اور قوی ایمان کےساتھ تھامے ہوئے ہیں تاکہ اللہ ہی کا کلمہ بلند رکھا جائے۔6



حوالہ جات 
5. دیکھیے المصحف والسیف ...جمع وترتیب: مجد الدین القابسی، ص :55، 56

6. دیکھیے المصحف والسیف، ص : 58، 59

بشکریہ ، محدث ۔ لاہور
(ماخوذ از کتاب: 'تاریخ وہابیت؛ حقائق کے آئینے میں' ، طبع دارالسلام، لاہور)

Thursday, 14 March 2013

مملک سعودی عرب

0 comments

مملک سعودی عرب


سعودی عرب کو اسکے 81 ویں یوم الوطنی پر مبارکباد 
مملکت سعودی عرب کا باقائدہ قیام 1932 بمطابق 1351 ہجری کو ہؤا





تاریخ
مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔

سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اور مجدد محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔

نجد کا سعودی خاندان انیسویں صدی کے آغاز میں جزیرہ نمائے عرب کے بہت بڑے حصے پر قابض ہو گیا تھا لیکن مصری حکمران محمد علی پاشا نے آل سعود کی ان حکومت کو 1818ء میں ختم کردیا تھا۔ سعودی خاندان کے افراد اس کے بعد تقریباً 80 سال پریشان پھرتے رہے یہاں تک کہ 20 ویں صدی کے اوائل میں اسی خاندان میں ایک اور زبردست شخصیت پیدا ہوئی جس کا نام عبدالعزیز ابن سعود تھا جو عام طور پر سلطان ابن سعود کے نام سے مشہور ہیں۔



ابن سعود انیسویں صدی کے آخر میں اپنے باپ کے ساتھ عرب کے ایک ساحلی شہر کویت میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے۔ وہ بڑے با حوصلہ انسان تھے اور اس دھن میں رہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آبا و اجداد کی کھوئی ہوئی حکومت دوبارہ حاصل کرلیں۔ آخر کار 1902ء میں جبکہ ان کی عمر تیس سال تھی، انہوں نے صرف 25 ساتھیوں کی مدد سے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی نجد بھی فتح کرلیا۔ 1913ء میں ابن سعود نے خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء پر جو عثمانی ترکوں کے زیر اثر تھا، قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد یورپ میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے دوستانہ تعلقات تو قائم رکھے لیکن ترکوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد شریف حسین نے خلیفہ بننے کا اعلان کردیا تو ابن سعود نے حجاز پر بھرپور حملة کردیا اور چار ماہ کے اندر پورے حجاز پر قبضہ کرلیا اور 8 جنوری 1926ء کو ابن سعود نے حجاز کا بادشاہ بننے کا اعلان کرد


اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لئے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔


1902ء میں عبدالعزیز نے حریف آل رشید سے ریاض شہرلیا اور اسے آل سعود کا دارالحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913ء سے 1926ء کے دوران الاحساء، قطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر شامل تھے) کو بھی فتح کرلیا۔ 8 جنوری 1926ء کو عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔ 29 جنوری 1927ء کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔ 20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ 1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔

مارچ 1938 میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا۔سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے

1992ء میں اختیار کئے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے


جغفرایہ
ویسے تو سعودی عرب کو پانچ منطقے میں تقسیم کیا جاتا ہے
1- منطقہ شرقیہ
2- منطقہ غربیہ
3- منطقہ وسطیٰ
4- منطقہ جنوبی
5- منطقہ شمالی 


لیکن سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جنکو عربی زبان میں مناطق (عربی واحد: منطقہ) کہتے ہیں

1 الباحہ
2 الحدود الشماليہ
3 الجوف
4 المدينہ
5 القصيم
6 الرياض
7 الشرقيہ
8 عسير
9 حائل
10 جيزان
11 الحجاز
12 نجران
13 تبوک

This image has been resized. Click this bar to view the full image. The original image is sized 1024x788.
---------------------------------
سعودے عرب : بادشاہوں کی فرہست

پہلے :‌ 
بانی سعودی عرب
عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود

مدت بادشاہت : 22 ستمبر 1932 سے 9 نومبر 1953


دوسرے : 
ابن سعود کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سعود بن عبدالعزیز تخت نشین ہوئے۔

شاہ سعود بن عبدالعزیز 
مدت بادشاہت :1953-1964 

تیسرے :
شاہ سعود کے بعد انکے بھائی شاہ فیصل تخت نشین ہوئے۔
شاہ فیصل بن عبدالعزیز السعود 
مدت بادشاہت : 1964-1975 
25 مارچ 1975ء کو ان کے بھتیجے نے شاہی دربار میں گولی مار کر انہیں شہید کردیا۔


چوتھے :
شاہ فیصل کے بعد ان کے بھائی خالد بن عبدالعزیز تخت پر بیٹھے۔
شاہ خالد بن عبدالعزیز السعود
مدت بادشاہت : 1975-1982 


پانچویں :
شاہ فہد اپنے بھائی شاہ خالد کی وفات کے بعد سعودی کے بادشاہ مقرر ہوئے
شاہ فہد بن عبدالعزیز السعود
مدت بادشاہت : 1982-2005


چھٹے (تاحال) :
یکم اگست 2005ء کو شاہ عبداللہ نے اپنے رضاعی بھا ئی شاہ فہد کی وفات کے بعد تخت سنبھالا.
شاہ بداللہ بن عبدالعزیز السعود 
مدت بادشاہت : 2005 تاحال


سعودی عرب کا قومی ترانہ

سعودی قومی ترانے کے الفاظ ابراہیم خفجی نے لکھے تھے اور اس کو 1984ء میں ترانہ کے طور پر اپنایا گیا۔اس کی موسیقی مصری موسیقار عبدالرحمن نے ترتیب دی تھی۔


سارعي للمجد و العلياء 
مجدي لخالق السماء
وارفعي الخفاق الاخضر
يحمل النور المسطر
رددي الله أكبر
يا موطني
موطني عشت فخر المسلمين
عاش الملك
للعلم والوطن


اردو ترجمہ :
شتابی کے وقار اور تفویق
خالق جنت کی خوبصورتی
سبز پرچم کو اٹھاو
روشنی کی صورت میں
دہرائیں. اللہ سب سے بڑا ہے
اے میرے وطن
میرے وطن جیو، مسلمانوں کا افتخار بن کر
اے بادشاہ لمبی عمر پاو
پرچم اور وطن کے لیے


انگریزی ترجمہ :
Hasten to glory and supremacy,
Glorify the Creator of the heavens!
And raise the green flag
Carrying the emblem of Light
Repeating: Allah is the greatest
O my country
My country, Live as the glory of Muslims
Long live the King
for the flag and the country


پرچم
سعودی عرب کا پرچم (جھنڈا) 15 مارچ 1973 سے استعمال کیا گیا 
This image has been resized. Click this bar to view the full image. The original image is sized 750x500.




قومی شعار (نشان)
قومی نشان کو سعودی 1950 میں اپنایا گیا



آبادی
2010 کی مردم شماری کے مطابق سعودی عرب کی کل آبادی 25,731,776 ہے
جن میں سے غیر سعودی 5,576,076 ہیں
31 فیصد خارجیوں (غیر سعودی) ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد بھارتیوں کی ہے (1.3 میلین) 

Thursday, 7 March 2013

دستورِ سعودی عرب کی اسلامی دفعات

0 comments


دستورِ سعودی عرب کی اسلامی دفعات

بموجب فرمانِ شاہی ۱؍۹۰ مجریہ ۲۷؍شعبان ۱۴۱۲ھ بمطابق یکم مارچ ۱۹۹۲ء

"المادة الأولی: المملکة العربیة السعودیة دولة عربیة إسلامیة، ذات سیادة تامة،دینھا الإسلام، ودستورھا کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسولﷺ،ولغتھا ھي اللغة العربیة، وعاصمتھا مدینة الریاض"

دفعہ 1: مملکت ِ سعودی عرب مکمل طور پر خود مختار عرب اسلامی ملک ہے، اس کا دین'اسلام' دستور 'کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ'، زبان 'عربی' اور دارالحکومت'الریاض' ہے۔

"المادة السادسة: یبایع المواطنون الملِک علی کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسولهﷺ،وعلی السمع والطاعة في العُسر والیسر والمنشط والمکره"

دفعہ6: ملک کے تمام شہری بادشاہ کی، کتاب اللہ اور سنت ِرسولﷺ پر، نیز تنگی و خوشحالی اور پسندوناپسند، ہرصورت میں سمع و طاعت پربیعت کریں گے۔

المادة السابعة: یستمد الحکم في المملکة العربیة السعودیة سلطته من کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسوله ﷺ، وھما الحاکمان علی ھٰذا النظام وجمیع أنظمة الدولة"

دفعہ 7: حکومت کے ملک میں جملہ اختیارات کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ سے ماخوذہوں گے،اور ان دونوں (کتاب و سنت) کو اس نظامِ حکومت اور ملک کے تمام قوانین پر بالادستی اور برتری حاصل ہوگی۔

المادة الثامنة: یقوم الحکم في المملکة العربیة السعودیة علیٰ أساس العدل والشورٰی والمساواة وفق الشریعة الإسلامیة"

دفعہ8: حکومت، شریعت ِاسلامی کے مطابق عدل و انصاف، شورائیت اور مساوات جیسے بنیادی اُصولوں پر قائم رہے گی۔

المادة التاسعة: الأسرة ھي نواة المجتمع السعودي... ویُربی أفرادھا علی أساس العقیدة الإسلامیة وما تقتضیه من الولاء والطاعة ﷲ ولرسوله ﷺ ولأولي الأمر... واحترام النظام وتنفیذہ وحب الوطن والاعتزاز به وبتاریخه المجید"

دفعہ9: سعودی معاشرے کی بنیاد 'خاندان' ہے جس کے افراد کی تربیت اسلامی عقیدے اور اس کے تمام تقاضوں ... مثلاً: اللہ اور اُس کے رسولﷺ اور اولوا الامر کی اطاعت وفرمانبرداری، نظامِ حکومت کا احترام اور اس کا نفاذ، وطن سے محبت پر اور اس کی شاندار تاریخ پر افتخار... کی اساس پرکی جائے گی۔

المادة العاشرة: تحرص الدولة علی توثیق أواصر الأسرة، والحفاظ علی قیمھا العربیة والإسلامیة، ورعایة جمیع أفرادھا، وتوفیر الظروف المناسبة لتنمیة ملکاتهم وقدراتهم"

دفعہ 10: حکومت، خاندان کے مابین تعلق کو مضبوط بنانے، اس کی عربی اور اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے، اس کے تمام افراد کی دیکھ بھال اور ان کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لیے مناسب ماحول مہیا کرنے میں انتہائی طور پر کوشاں رہے گی۔

المادة الحادیة عشرة: یقوم المجتمع السعودي علی أساس من اعتصام أفراده بحبل اﷲ،وتعاونهم علی البر والتقویٰ،والتکافل فیما بینهم، وعدم تفرقھم"

دفعہ11 :سعودی معاشرے کا قیام اس اساس پرہوگا کہ اس کے تمام افراد اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، نیکی اور پرہیزگاری کے اُصولوں پر ایک دوسرے سے تعاون کریں، باہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور تفرقہ سے اجتناب کریں۔

المادة الثانیة عشرة: تعزیز الوحدة الوطنیة واجب، وتمنع الدولة کل مایؤدي للفرقة والفتنة والانقسام"

دفعہ12: ملکی وحدت اور سا لمیت کی حفاظت ہر سعودی شہری کا فرض ہے اور حکومت ہر ایسی کوشش سے روکے گی جو فرقہ بندی، فتنہ فساد اور انقسام پر منتج ہو۔

المادة الثالثة عشرة: یهدف التعلیم إلی غرس العقیدة الإسلامیة في نفوس النشئ، وإکسابهم المعارف والمھارات، وتہیئتھم لیکونوا أعضاء نافعین في بناء مجتمعھم محبین لوطنھم معتزین بتاریخه"

دفعہ13:نئی نسل کے دلوں میں اسلامی عقیدے کی ترکیزو آبیاری، اسے علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے امداد مہیا کرنااور اس طرح تیار کرنا کہ وہ اپنے معاشرے کی تعمیر میں نفع بخش ثابت ہو، اپنے وطن سے محبت اور اپنی تاریخ پر فخر کرے، تعلیم کے اہداف ہوں گے۔

المادة السابعة عشرة: الملکیة ورأس المال والعمل مقومات أساسیة في الکیان الاقتصادي والاجتماعي،وھی حقوق خاصة تؤدي وظیفة اجتماعیة وفق الشریعة الإسلامیة"

دفعہ17: ملکیت، سرمایہ اورمحنت... ملک کے اقتصادی اور اجتماعی ڈھانچے کی بنیادیں ہیں۔ یہ خاص (انفرادی) حقوق ہیں جوشریعت ِاسلامیہ کے مطابق اجتماعی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔

المادة العشرون: لا تفرض الضرائب والرسوم إلا عند الحاجة، وعلی أساس من العدل، ولا یجوز فرضھا أو تعدیلھا أو إلغاؤھا أو الإعفاء منھا إلا بموجب النظام"

دفعہ 20: ٹیکس اور محصولات صرف ضرورت کے تحت اور منصفانہ بنیاد پر عائد کئے جائیں گے۔ ان کا عائد کرنا یا ان میں کوئی ترمیم، یا ان کو معاف کرنا وغیرہ صرف قانون کے مطابق عمل میں آئیں گے۔

المادة الحادیة والعشرون: تُجبی الزکاة وتنفق في مصارفھا الشرعیة"

دفعہ21: زکوٰۃ وصول کی جائے اور اسے اس کے شرعی مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔

المادة الثالثة والعشرون: تحمي الدولة عقیدة الإسلام۔۔۔وتطبق شریعته،وتأمر بالمعروف وتنھی عن المنکر،وتقوم بواجب الدعوۃ إلی اﷲ"

دفعہ 23: حکومت، عقیدۂ اسلام کی حفاظت اور شریعت ِ اسلامیہ کو نافذ کرے گی، اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دے گی اور دعوت الی اللہ کا اہتمام کرے گی۔

المادة الرابعة والعشرون: تقوم الدولة بـإعمار الحرمین الشریفین وخدمتھما... وتوفر الأمن والرعایة لقاصدیهما، بما یُمکن من أداء الحج والعمرة والزیارة بـیُسرٍ وطمأنینة"

دفعہ24: حکومت، حرمین شریفین کی تعمیر اور ان کی خدمت کافرض پوراکرے گی، ان کی طرف قصد کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی اور ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے گی تاکہ حج و عمرہ اورزیارتِ (مسجد ِنبویؐ) اطمینان و سکون سے انجام پاسکیں۔

المادة الخامسة والعشرون: تحرص الدولة علی تحقیق آمال الأمة العربیة والإسلامیة في التضامن وتوحید الکلمة ... وعلی تقویة علاقاتها بالدول الصدیقة"

دفعہ25: حکومت، عرب اور مسلم اُمت کے باہمی تعاون اور اتحاد کی آرزؤں کی تکمیل کے لیے انتہائی کوشاں رہے گی اور دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرے گی۔

المادة السادسة والعشرون: تحمي الدولة حقوق الإنسان وفق الشریعة الإسلامیة"

دفع26: مملکت شریعت ِاسلامیہ کے مطابق حقوقِ انسانی کی حفاظت کرے گی۔

المادة السابعة والعشرون: تکفل الدولة حق المواطن وأسرته في حالة الطواري والمرض والعجز والشیخوخة، وتدعم نظام الضمان الاجتماعي،وتشجع المؤسسات والأفراد علی الإسھام في الأعمال الخیریة"

دفعہ 27: ہنگامی حالت، بیماری، معذوری اوربڑھاپے میں حکومت سعودی شہری اور اس کے خاندان کے حقوق کی کفالت، 'سوشل سیکیورٹی' (تحفظ ِعامہ) کے نظام کی مالی امداد اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے والے اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

المادة الثالثة والثلاثون: تنشيء الدولة القوات المسلحة وتجھزھا، من أجل الدفاع عن العقیدة والحرمین الشریفین والمجتمع والوطن"

دفعہ33: حکومت مسلح افواج بنائے گی اور اُنہیں عقیدۂ اسلامیہ، حرمین شریفین، معاشرے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے تیارکرے گی۔

المادة الرابعة والثلاثون: الدفاع عن العقیدة الإسلامیة والمجتمع والوطن واجب علی کل مواطن،ویبـین النظام أحکام الخدمة العسکریة"

دفعہ34: عقیدہ اسلامیہ، معاشرے اور وطن کادفاع کرنا ملک کے ہر شہری پر لازم ہوگا۔ ایک الگ قانون فوجی خدمات کے دیگراَحکام کو واضح کرے گا۔

المادة الثامنة والثلاثون: العقوبة شخصیة ولا جریمة ولا عقوبة إلا بناء علی نص شرعي،أو نص نظامي،ولا عقاب إلا علی الأعمال اللاحقة للعمل بالنص النظامي"

دفعہ 38: سزا فرد کا شخصی معاملہ ہے۔کسی شرعی یا قانونی اساس کے بغیر کوئی فعل جرم قرار پائے گا نہ اس پر سزا دی جاسکے گی اور سزا اسی فعل پر دی جاسکے گی جو اس کے متعلق جاری ہونے والے قانون کے بعد مستوجب ِسزا قرار پائے گا۔

المادة الثالثة والأربعون: مجلس الملک ومجلس ولي العھد، مفتوحان لکل مواطن ولکل مَن له شکوٰی أو مظلمة، ومن حق کل فرد مخاطبة السلطات العامة فیما یعرض له من الشؤون"

دفعہ43: بادشاہ اور ولی عہد کے ایوان ہر شہری اور ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جسے کوئی شکایت ہو یا جس کا حق سلب کیا گیا ہو۔ نیز ہر شہری کو اپنے معاملات کے سلسلے میں متعلقہ حکام سے رجوع کرنے کا حق ہوگا۔

المادة الخامسة والأربعون: مصدر الإفتاء في المملکة العربیة السعودیة کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسول ﷺ،ویبین النظام ترتیب ھیئة کبار العلماء وإدارة البحوث العلمیة والإفتاء واختصاصاتها"

دفعہ45:مملکت میں فتویٰ دینے کا سرچشمہ کتاب اللہ اور سنت رسول1 ہے۔قانون کے ذریعے 'تنظیم کبارعلماء' اور'ادارۂ بحوثِ علمیہ' کی ترتیب اور ان دونوں کے فرائض کو بیان کردیا جائے گا۔

المادة السادسة والأربعون: القضاء سلطة مستقلة۔۔۔ولا سلطان علی القضاة في قضائھم لغیر سلطان الشریعة الإسلامیة"

دفعہ46:'عدلیہ' ایک آزاد اور بااختیار ادارہ ہوگا جس ۔۔۔پرشریعت ِاسلامیہ کی بالادستی و برتری کے علاوہ اور کوئی بالادستی نہیں ہوگی۔

المادة الثامنة والأربعون: تطبق المحاکم علی القضایا المعروضة أمامھا أحکام الشریعة الإسلامیة وفقًا لما دلّ علیه الکتاب والسنة، وما یصدره ولي الأمر من أنظمة لاتتعارض مع الکتاب والسنة"

دفعہ48:تمام عدالتیں پیش ہونے والے جملہ مقدمات میں شریعت ِاسلامیہ کے احکامات کے مطابق فیصلہ کریں گی جس طرح کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺسے ثابت ہیں۔ اور ولی الامر (امیر) کی طرف سے نافذ کردہ ان قوانین کے مطابق فیصلہ کریں گی جو کتاب اللہ اور سنت ِرسولﷺکے مخالف نہ ہوں۔

المادة السابعة والستون: تختص السلطة التنظیمیة بوضع الأنظمة واللوائح فیما یحقق المصلحة، أو یرفع المفسدة في شؤون الدولة، وفقًا لقواعد الشریعة الإسلامیة، وتمارس اختصاصاتها وفقًا لھذا النظام و نظامي مجلس الوزراء و مجلس الشورٰی"

دفعہ67: انتظامیہ کو شریعت ِاسلامیہ کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہوگا جو مصالح عامہ اور رفعِ مفاسد کے لیے معاون ثابت ہوں گے اور وہ اپنے اختیارات، اس دستور،مجلس الوزراء اور مجلس شوریٰ کے دساتیر کے مطابق استعمال کرے گی۔

نوٹ: سعودی عرب کے مکمل دستور کے اُردو ترجمہ کے لئے جو ۸۳ دفعات اور ۱۱ صفحات پر مشتمل ہے، محدث کا شمارہ بابت جنوری ۱۹۹۳ء (ص۲۱۰تا۲۲۰) مطالعہ کریں۔ یہ سعودی دستور۱۹۹۲ء میں نافذ کیا گیا اور تاحال بلاترمیم مملکت ِسعودی عرب میں نافذ عمل ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور۱۹۷۳ء ،۲۸۰ دفعات اور ۲۲۴ صفحات پر مشتمل ہے جس کی ذیلی دفعات بھی کافی طویل ہیں۔ جبکہ اس میں انہی دنوں ۱۸ ویں ترمیم منظور کی جاچکی ہے۔ علاوہ ازیں ایک ہی موضوع پر پاکستانی، سعودی اور ایرانی دساتیر کی دفعات کا تقابلی مطالعہ بھی دلچسپ ومفید ہوگا۔ (ادارہ
محمد اسحٰق زاہد