YOUR INFO

Showing posts with label مساجد کے مسائل. Show all posts
Showing posts with label مساجد کے مسائل. Show all posts

Friday, 8 March 2013

مساجد کي اہميت

0 comments

مساجد کي اہميت :

ارشاد باري تعالي ہے :
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}
خدا کي مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہيں جو خدا پر اور روز قيامت پر ايمان لاتے ہيں اور نماز پڑھتے

1 : اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم  مدينہ منورہ آنے کے بعد سب سے پہلئے مسجد کا کام شروع کيا ہے:
قباميں آپ چنددن ٹھرے اور وہاں مسجد کي بنياد رکھي ۔
پھر جب مدينہ منورہ منتقل ہوئے تو اپنے لئے گھر کي تعمير سے قبل مسجد کي بنياد رکھي ۔
اور صحابہ کے ساتھ آپ خود بھي اسکي تعمير ميں شريک رہے ۔

2 : مسجد کو شريعت ميں اللہ تعالي کا گھر کہا گيا اور اسکي نسبت اللہ کي طرف کي گئي :
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا{الجن18}
اور يہ کہ مسجديں (خاص) خدا کي ہيں تو خدا کے ساتھ کسي اور کي عبادت نہ کرو
ومااجتمع قوم في بيت من بيوت اللہ يتلون کتاب اللہ ۔۔۔۔ الحديث     
{ مسلم  عن ابي ھريرۃ}
اس حديث ميں مسجد کو اللہ کے گھر سے تعبير کيا گيا ہے ۔

3 : آپ صلي اللہ عليہ وسلم  لوگوں کو مساجد بنانے کا حکم ديتے :
امرنا رسول  ببناء المساجد في الدور وان تنظف وتطيب
{    احمد    ابوداود      عن عائشہ}
"ہميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے حکم ديا کہ ہم محلات ميں مسجد تعمير کريں اور اسے پاک وصاف اور معطر رکھيں " ۔
آپ کے پاس وفود آتے تو آپ انہيں بھي مساجد کي بناء کا حکم ديتے ۔
حضرت طلق بن علي بيان کرتے ہيں کہ

4 : کسي علاقے ميں مسجد کا نہ ہونا اور وہاں سے آذان کي آواز کا نہ آنا اس بات کي دليل تھي کہ يہ بستي مسلمانوں کي نہيں  ہے :
ان النبي صلي اللہ عليہ وسلم اذاغزا بنا قوم لم يکن يغزو بنا حتي يصبح وينظر اليھم فان سمع الآذان کف عنہم  وان لم يسمع اغار عليہم        الحديث        
                          { متفق عليہ عن انس}

5 : مساجد کا تاکيدي حکم :
مامن ثلاثۃ في ضربۃ ولاتقام فيہم الصلاۃ الا قد استحوذ عليہم الشيطان فعليکم با لجماعۃ فان الذئب ياکل من الغنم الفاصبۃ   
{احمد ابوداود  عن ابي الدرداء}

مسجد  کي فضيلت :

1- مسجد بنانے کي فضيلت :
من بنا للہ مسجدا  يبتغي بہ وجہ اللہ بني اللہ لہ بيتا في الجنۃ        
"جس نے اللہ تعالي کي رضا مندي چاہتے ہوئے مسجد کي تعمير کي اللہ تعالي اس کے لئے جنت ميں گھر کي تعمير فرماتا ہے "
{متفق عليہ عن عثمان}
2- مسجد صدقہ جاريہ ہے :
ان مما يلحق المئومن  من عملہ وحسناتہ بعد موتہ   علما علم ونشرہ   او ولد ا صالحا ترکہ اومصحفا ورثہ   اومسجدا بناہ  اوبيتالابن السبيل بناہ  اونہر ا  اجراہ   اوصدقۃ اخرجہا  من مالہ في صحتہ وحياتہ تلحق من بعد موتہ ۔
{ابن ماجہ ۔  ابن خزيمہ   عن ابي ھريرۃ}
++ مذکورہ حديث ميں وجہ استشہاد ہے کہ مسجد کي تعمير صدقہ جاريہ ميں سے ہے ۔

3- مسجد کي محبت عظيم نيکي ہے :
کيونکہ  مسجد سے محبت اللہ سے محبت کي دليل ہے اور اللہ سے محبت لاالہ الاللہ کے شرائط ميں سے ہے ،
سبعۃ يظلہم اللہ في ظلہ يو م لاظل  الاظلہ ، الامام العادل ، وشاب نشا في عبادۃ اللہ عزوجل ،ورجل قلبہ معلق بالمساجد۔۔۔    الحديث
{ البخاري   مسلم   عن ابي ھريرۃ}
+++ اس حديث سے مطلوب يہ کہ مسجد کي محبت دل ميں بسانے والے کے لئے قيامت والے دن عرش کا سايہ نصيب ہوگا ۔

4- مسجد کي طرف  جانا گويا  اللہ کي ضيافت ميں جانا ہے :
من غدا الي المسجد اوراح اعد اللہ لہ نزلا من الجنۃ کلماغدا  اوراح
" جو کوئي صبح يا شام  ميں مسجد کي طرف جاتا ہے تو اللہ تعالي اس کے لئے جنت کي مہماني تيار فرماتا ہے "
{    متفق عليہ    عن ابي ھريرۃ}

5- مسجد کا قصد کرنے والوں کي قيامت کے نرالي شان :
بشر المشائين في الظلم الي المساجد بالنور التام يوم القيامۃ
"خوشخبري ہو تاريکي ميں مسجد کي جانب چلنے والوں کے لئے قيامت کے دن مکمل روشني کي "
{   ابوداود، الترمذي  عن بريدۃ}

6- مسجد کي طرف جانا گناہ کاکفارہ اور درجات کي بلندي ہے:
صلاۃ الرجل في الجماعۃ تضعف علي صلاتہ في بيتہ وفي سوقہ خمساوعشرون درجۃ وذلک انہ اذا توضا فاحسن الوضوء ، ثم خرج الي المسجد لايخرجہ الا الصلاۃ لم يحط خطوۃ الا رفعت لہ درجۃ وحط عنہ بہا خطيئۃ ۔۔۔۔    الحديث   
{البخاري ،  مسلم     عن ابي ھريرۃ}
++ اس حديث کا وجہ ذکر يہ کہ مسجد کي طرف قدم بڑھانے والے کے گناہ معاف اور درجات بلند ہوتے ہيں ۔

7-مسجد ميں جانے والوں کي ايک اہم فضيلت :
بما تو طن رجل المساجد للصلاۃ والذکر الاتبشبش اللہ تعالي اليہ کمايتبشبش اھل الغائب بغائبہم اذا قدم عليہم ۔
" جو شخص بھي مسجدميں نماز اور ذکر کيلئے کوئي جگہ بناليتا ہے تو اللہ تبارک وتعالي اسکي آمد پر اسي طرح خشي اور استقبال کا اظہار کرتا ہے جس طرح کسي کا عزيز ايک مدت غائب رہنے کے بعد اسکے پاس آئے۔"   
                  { ابن ماجہ ،  ابن خزيمہ  عن ابي ھريرۃ}

8- مسجدميں چھاڑو دينے کي فضيلت :
 ان امرۃ سوداء ۔۔۔۔۔۔ {متفق عليہ    عن عائشہ}
مذکور ہ حديث ميں اس عورت کا ذکر ہے جو غريب اور کالي کلوٹي تھي اور مسجد نبوي کي صفائي کا اہتمام کرتي تھي ، اس کي وفات ہوجاتي ہے اور لوگ اس کي تدفين کا انتظام فرماديتے ہيں اور اس عورت کوغير اہم جانتے ہوئے اس کي اطلاع بھي نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو نہيں پہنچاتے ، بعدميں آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے استفسار پر اس عورت کي وفات کا علم ہوتا ہے ، آپ افسوس ظاہر کرتے ہوئے عدم اطلاع کي شکايت کرتے ہيں اور قبرستان پہنچ کر اس گمنام عورت کي نماز جنازہ ادا فرماتے ہيں ۔
اس واقعہ سے اس بات کي اہميت کا اندازہ لگايا جاسکتا ہے کہ مسجد نبوي کي صفائي کرنے والي ايک گمنام عورت کو آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس قدر اہميت دي اور اہميت کي اہم وجہ يہي تھي کہ وہ عورت مسجدکي صفائي کا خيال رکھتي تھي ۔
++ مذکوہ تمام احاديث سے ا س بات کي وضاحت ہوچکي ہوگي کہ اسلام ميں مساجد کي کيا اہميت ہے اور اس کي فضيلت کتني عظيم ہے ۔
وما علينا الا البلاغ المبين

مساجد کے مسائل

0 comments

:: :: مساجد کے مسائل :: ::
مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں: ‘‘«أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ»’’ ([1])
مسجد سے باہر نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں: ‘‘ «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ’’ ([2])
مسجد میں کچا پیاز، لہسن ، مولی کھا کر اور بدبودار جرابیں پہن کر اور سگریٹ وغیرہ پی کر آنا منع ہے۔([3])
رسول اللہﷺ نے گھروں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور ان کو پاک صاف کرنے اور خوشبودار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ([4])
مسجد میں دو رکعتیں پڑھے بغیر بیٹھنا منع ہے۔ ([5])
مسجد نبوی میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ باقی تمام مسجدوں کی نسبت ایک ہزار گنا فضیلت رکھتا ہے۔ ([6])
مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔([7])
مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے دفن کردیا جائے۔([8])
قبرستان،([9]) روڑی (گندگی کے ڈھیر)، بول وبراز (قضائے حاجت) کی جگہ اورکسی بھی قسم کی ناپاک جگہوں، ([10])اور اونٹوں کے باڑے([11]) میں نماز پڑھنا منع ہے۔
مسجد میں جہادی مشقیں کرنا جائز ہے۔([12])
مسجد میں خیمہ لگانا جائز ہے۔([13])
جو شخص مسجد میں غیر ذوی العقول گم شدہ چیز کا اعلان کرے، اسے یہ بددعا دیں: «لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ » ([14])
مسجد میں تجارت کرنے والے کےلیے یوں بد دعا کریں: ‘‘«لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ» ([15])
مسجد میں اچھے اشعار پڑھنا جائز ہے۔ ([16])

([1]مسلم۔ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا۔ باب ما یقول إذا دخل المسجد۔ ح: ۷۱۳
([2]شرح النووی علی مسلم۔ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا۔ باب ما یقول إذا دخل المسجد۔ تحت حدیث: ۷۱۳
([3]صحیح مسلم۔ کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ۔ باب نہی من أکل ثوما أو بصلا أو کرثا أو نحوہا مما لہ۔ ح: ۵۶۴
([4]جامع الترمذی۔ کتاب الجمعۃ عن رسول اللہﷺ ۔ باب ما ذکر فی تطییب المساجد۔ ح: ۵۹۴
([5]بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب ماجاء فی التطوع۔ ح: ۱۱۶۷
([6]صحیح بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ
([7]مسند أحمد۔ ح: ۱۵۶۸۵
([8]بخاری۔ کتاب الصلاۃ۔ باب کفارۃ البزاق فی المسجد۔ ح: ۴۱۵
([9]صحيح مسلم ۔ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ۔ باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ۔ح777 
([10]صحيح مسلم ۔ كتاب الطهارة ۔ باب وجوب غسل البول وغیرہ من النجاسات۔ح285 
([11]صحيح مسلم ۔ كتاب الحیض ۔ باب الوضوء من لحوم الإبل ۔ح360 
([12]بخاری۔ کتاب الصلاۃ۔ باب أصحاب الحراب في المسجد۔ ح: ۴۵۵
([13]بخاری۔ کتاب الصلاۃ۔ باب الخیمۃ فی المسجد للمرضی وغیرہم۔ ح: ۴۶۳
([14]مسلم۔ کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ۔ باب النہي عن نشد الضالۃ في المسجد۔ ح: ۵۶۸
([15]سنن ترمذی۔ ابواب البیوع ۔ باب النہي عن البیع فی المسجد۔ ح: ۱۳۲۱
([16]بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ذکر الملائکۃ۔ ح: ۳۲۱۲