YOUR INFO

Showing posts with label نماز استخارہ. Show all posts
Showing posts with label نماز استخارہ. Show all posts

Monday, 29 July 2013

نماز استخارہ

0 comments

نماز استخارہ
ميں نماز استخارہ كے متعلق مزيد معلومات حاصل كرنا چاہتا ہوں، مثلا اس ميں تلاوت كيا كروں، اور كونسى دعاء كروں، ركعات كى تعداد كتنى ہے اور اس كا اجروثواب كيا ہے؟
اور كيا حنبلى، اور شافعى اور حنفى مسلك ميں نماز كا يہى طريقہ ہے ؟


الحمد للہ :
اگر كوئى شخص كوئى كام كرنا چاہے اور وہ اس ميں متردد ہو تو اس كے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز استخارہ مشروع كى ہے اور يہ سنت ہے، نماز استخارہ كے متعلق ان سطور ميں درج ذيل آٹھ نقاط ميں بحث كى جائے گى:
1 - نماز استخارہ كى تعريف.
2 - نماز استخارہ كا حكم
3 - اس كى مشروعيت كى حكمت كيا ہے.
4 - نماز استخارہ كا سبب كيا ہے.
5 - استخارہ كب كيا جائے گا.
6 - استخارہ كرنے سے قبل مشورہ كرنا.
7 - نماز استخارہ ميں كيا پڑھا جائے گا.
8 - استخارہ كى دعاء كب كى جائے گى.
نماز استخارہ كى تعريف:
استخارہ كى لغوى تعريف: كسى چيز ميں سے بہتر كو طلب كرنا، كہا جاتا ہے: استخر اللہ يخر لك، اللہ تعالى سے استخارہ كرو وہ تمہارے ليے بہتر اختيار كر دے گا.
استخارہ كى اصطلاحى تعريف:
اختيار طلب كرنا. يعنى نماز يا نماز استخارہ ميں وارد شدہ دعاء كے ساتھ اللہ تعالى كے ہاں جو بہتر اور اولى و افضل ہے اس كى طرف پھرنے اور وہ كام كرنا طلب كرنا.
نماز استخارہ كا حكم:
نماز استخارہ كے سنت ہونے ميں علماء كرام كا اجماع ہے، اور اس كى مشروعيت كى دليل بخارى شريف كى مندرجہ ذيل حديث ہے:
جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے ہميں سارے معاملات ميں استخارہ كرنے كى تعليم اس طرح ديا كرتے تھے جس طرح ہميں قرآن مجيد كى سورۃ كى تعليم ديتے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرماتے:
" جب تم ميں سے كوئى ايك شخص كام كرنا چاہے تو وہ فرض كے علاوہ دو ركعت ادا كر كے يہ دعاء پڑھے:
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ [ واصرفه عني ] وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "
اے اللہ ميں ميں تيرے علم كى مدد سے خير مانگتا ہوں اور تجھ سے ہى تيرى قدرت كے ذريعہ قدرت طلب كرتا ہوں، اور ميں تجھ سے تيرا فضل عظيم مانگتا ہوں، يقينا تو ہر چيز پر قادر ہے، اور ميں ( كسى چيز پر ) قادر نہيں، تو جانتا ہے، اور ميں نہيں جانتا، اور تو تمام غيبوں كا علم ركھنے والا ہے، الہى اگر تو جانتا ہے كہ يہ كام ( جس كا ميں ارادہ ركھتا ہوں ) ميرے ليے ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے ميرے مقدر ميں كر اور آسان كر دے، پھر اس ميں ميرے ليے بركت عطا فرما، اور اگر تيرے علم ميں يہ كام ميرے ليے اور ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے برا ہے تو اس كام كو مجھ سے اور مجھے اس سے پھير دے اور ميرے ليے بھلائى مہيا كر جہاں بھى ہو، پھر مجھے اس كے ساتھ راضى كردے.
اور وہ اپنى ضرورت اور حاجت يعنى كام كا نام لے.
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1166 ) يہ حديث كئى ايك جگہ ميں امام بخارى رحمہ اللہ نے ذكر كي ہے.
نماز استخارہ كى مشروعيت كى حكمت:
استخارہ كى مشروعيت ميں حكمت يہ ہے كہ اللہ تعالى كے حكم كے سامنے سر خم تسليم كيا جائے، اور طاقت و قدرت سے نكل كر اللہ تعالى كى طرف التجاء كى جائے، تا كہ وہ دنيا و آخرت كى خير و بھلائى جمع كر دے، اور اس كے ليے اس مالك الملك سبحانہ وتعالى كا دروازہ كھٹكھٹانے كى ضرورت ہے، اور اس كے ليے نماز اور دعاء سے بڑھ كر كوئى چيز بہتر اور كامياب نہيں كيونكہ اس ميں اللہ تعالى كى تعظيم اور اس كى ثناء اور اس كى طرف قولى اور حالى طور پر محتاجگى ہے، اور پھر استخارہ كرنے كے بعد اس كے ذہن ميں جو آئے وہ اس كام كو سرانجام دے.
استخارہ كا سبب:
( جن ميں استخارہ كيا جاتا ہے ) اس كا سبب يہ ہے كہ: مذاہب اربعہ اس پر متفق ہيں كہ استخارہ ان امور ميں ہوگا جن ميں بندے كو درست چيز كا علم نہ ہو، ليكن جو چيزيں خير اور شر ميں معروف ہيں اور ان كے اچھے اور برے ہونے كا علم ہے مثلا عبادات، اور نيكى كے كام اور برائى اور منكرات والے كام تو ان كاموں كے ليے استخارہ كرنے كى كوئى ضرورت نہيں.
ليكن اگر وہ خصوصا وقت كے متعلق مثلا دشمن يا فتنہ كے احتمال كى صورت ميں اس سال حج پر جائے يا نہ اور حج ميں كس كى رفاقت اختيار كرے تو اس كے ليے استخارہ ہو سكتا ہے.
تو اس بنا پر كسى واجب، يا حرام يا مكروہ كام ميں استخارہ نہيں كيا جائے گا، بلكہ استخارہ تو مندوب اور جائز اور مباح كاموں ميں كيا جائے گا اور پھر مندوب كام كے اصل كے ليے استخارہ نہيں كيونكہ وہ كام تو اصل ميں مندوب ہے بلكہ استخارہ اس وقت ہو گا جب تعارض ہو، يعنى جب اس كے پاس دو كاموں ميں تعارض پيدا ہو جائے كہ وہ كونسے كام سے ابتداء كرے يا دونوں ميں سے پہلے كام كونسا كرے؟ ليكن مباح كام كے اصل ميں بھى استخارہ كيا جاسكتا ہے.
استخارہ كب كيا جائے؟
استخارہ اس وقت كيا جائے جب استخارہ كرنےوالا شخص خالى الذہن ہو اور كسى معين كام كو سرانجام دينے كا عزم نہ ركھے، كيونكہ حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:
" جب اسے كوئى كام درپيش ہو " اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ استخارہ اس وقت ہو گا جب ابھى اس كے دل ميں كوئى كام آيا ہو، تو پھر نماز اور دعاء استخارہ كى بركت سے اس كے ليے اس كام كى بہترى ظاہر ہو گى.
بخلاف اس كے كہ جب اس كے نزديك كوئى كام كرنا ممكن ہو اور وہ اسے سرانجام دينے پر پختہ عزم اور ارادہ كر چكا ہو، تو پھر وہ اپنے ميلان اور محبت كى طرف ہى جائے گا، تو اس سے خدشہ ہے كہ اس كے ميلان اور پرعزم كے غلبہ كى بنا پر اس سے بہترى كى راہنمائى مخفى رہے.
اور يہ بھى احتمال ہے كہ حديث ميں ھم يعنى درپيش سے مراد عزم ہو كيونكہ ذہن ثابت اور ايك پر نہيں ٹھرتا، تو وہ ايسا ہى نہيں رہے گا الا يہ كہ جب اسے سرانجام دينے كا عزم ركھنے والا شخص بغير كسى ميلان كے سرانجام دے، وگرنہ اگر وہ ہر حالت اور ذہن ميں استخارہ كرے گا تو پھر وہ ايسے كاموں ميں بھى استخارہ كرتا پھرے گا جس كا كوئى فائدہ نہيں تو اس طرح وہ وقت كے ضياع كا باعث ہو گا.
استخارہ كرنے سے قبل مشورہ كرنا:
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
استخارہ كرنے سے قبل كسى ناصح اور شقفت اور تجربہ كار اور دينى اور معلوماتى طور پر بااعتماد شخص سے اس كام ميں مشورہ كرنا مستحب ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
﴿اور معاملے ميں ان سے مشورہ كرو﴾.
اور مشورہ كرنے كے بعد جب اسے يہ ظاہر ہو كہ اس كام ميں مصلحت ہے تو پھر وہ اس كام ميں اللہ تعالى سے استخارہ كرے.
ابن حجر الھيتمى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
حتى كہ تعارض كے وقت بھى ( يعنى پہلے مشورہ كرے ) كيونكہ مشورہ دينے والے كے قول پر اطمنان نفس سے زيادہ قوى ہے، كيونكہ نفس پر نصيب غالب ہوتے اور ذہن بكھرا ہوتا ہے، ليكن اگر اس كا نفس مطمئن اور سچا ارادہ ركھتا ہو اور خالى الذہن ہو تو پھر استخارہ كو مقدم كرے.
نماز استخارہ ميں كيا پڑھا جائے گا:
- نماز استخارہ ميں قرآت كے متعلق تين قسم كى آراء ہيں:
ا ـ احناف، مالكى اور شافعى حضرات كہتے ہيں كہ سورۃ فاتحہ كے بعد پہلى ركعت ميں " قل يا ايہا الكافرون" اور دوسرى ركعت ميں " قل ھو اللہ احد " پڑھى جائے.
امام نووى رحمہ اللہ تعالى نے اس پر تعليق ذكر كرتے ہوئے كہا ہے:
ان دونوں سورتوں كو پڑھنا اس ليے مناسب ہے كہ يہ نماز ايسى ہے جس سے رغبت ميں اخلاص اور صدق اور اللہ تعالى كے سپرد اور اپنى عاجزى كا اظہار ہے، اور انہوں اس كى بھى اجازت دى ہے كہ: ان سورتوں كے بعد قرآن مجيد كى وہ آيات بھى پڑھ لى جائيں جن ميں خيرو بھلائى اور بہترى كا ذكر ہے.
ب ـ بعض سلف حضرات نے مستحسن قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ نماز استخارہ كى پہلى ركعت ميں سورۃ الفاتحہ كے بعد مندرجہ ذيل آيات تلاوت كى جائيں:
﴿ وَرَبُّك يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ﴾ .
اور تيرا رب جو چاہتا ہے پيدا كرتا اور اختيار كرتا ہے.
﴿ مَا كَانَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ .
ان كے ليے كوئى اختار نہيں اللہ تعالى پاك اور بلند و بالا ہے اس چيز سے جو وہ شرك كرتے ہيں.
﴿وَرَبُّك يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ﴾ .
اور تيرا رب جانتا ہے جسے ان كے سينے چھپاتے ہيں اور جو ظاہر كرتے ہيں.
﴿ وَهُوَ اللَّهُ لا إلَهَ إلا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ "
اور وہ ہى اللہ ہے، اس كے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں، پہلے اور آخر ميں اسى كى تعريفات ہيں، اور اسى كے ليے حكم ہے اور اسى كى طرف لوٹائے جائيں گے.
اور دوسرى ركعت ميں يہ آيات پڑھے:
﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا﴾
جب اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كسى امر ميں فيصلہ كر ديں كو كسى مومن مرد اور مومن عورت كو اپنے معاملہ ميں كوئى اختيار باقى نہيں رہتا، اور جو كوئى اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى نافرمان كرے گا وہ واضح گمراہى ميں جا پڑا.
ج ـ ليكن حنابلہ اور بعض دوسرے فقھاء نے نماز استخارہ ميں معين قرآت كرنے كا نہيں كہا.
دعاء استخارہ پڑھنے كى جگہ:
احناف، مالكى ، شافعى اور حنابلہ حضرات كا كہنا ہے كہ:
استخارہ كى دعاء دو ركعت كے بعد پڑھى جائيگى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت شدہ حديث كى نص كے موافق بھى يہى ہے.
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 3 / 241 ).
شيخ الاسلام ابن تيميہ كا كہنا ہے:
دعائے استخارہ كے متعلق مسئلہ:
كيا دعاء نماز ميں مانگى جائيگى يا كہ نماز سے سلام پھيرنے كے بعد؟
جواب:
نماز استخارہ اور دوسرى نماز ميں سلام سے قبل دعاء كرنى جائز ہے، اور سلام كے بعد بھى، اور سلام پھيرنے سے قبل دعاء كرنى افضل ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ كى اكثر دعائيں سلام پھيرنے سے قبل ہوا كرتى تھيں اور سلام سے قبل نمازى نماز سے فارغ نہيں ہوتا تو يہ بہتر ہے.
ديكھيں: فتاوى الكبرى ( 2 / 265 ).
واللہ اعلم .
الاسلام سوال وجواب

استخارہ كيا ليكن كچھ بھى محسوس نہيں ہوا

0 comments

استخارہ كيا ليكن كچھ بھى محسوس نہيں ہوا
آپ شادى كرنے والے مرد و عورت كو كيا نصيحت كرتے ہيں، ان دونوں نے استخارہ كيا اور صرف عورت كو خواب نظر آيا ہے مرد كو نہيں، عورت نے ديكھا كہ وہ اور اس كا خاوند سعادت كى زندگى بسر كر رہے ہيں، اور اللہ تعالى كہتا ہے كہ دونوں كے ليے يہى صحيح اختيار ہے، ليكن مرد نے كوئى بھى علامت يا احساس يا خواب نہيں ديكھى اسے كيا كرنا ہو گا؟
ان دونوں كيا كرنا چاہيے، اور استخارہ كے ليے كتنى مدت مقرر ہے ؟ بعض كہتے ہيں كہ تين دن اور بعض سات دن تك استخارہ كرنے كا كہتے ہيں، آپ كو اللہ تعالى جزائے خير دے.


الحمد للہ :
استخارہ كرنے كى دليل مندرجہ ذيل بخارى وغيرہ كى حديث جو جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے ميں پائى جاتى ہے، اس حديث كى شرح اور حديث كے فوائد آپ سوال نمبر ( 2217 ) اور ( 410 ) كے جواب ميں ديكھ سكتے ہيں.
اور بعض لوگوں كا يہ كہنا كہ: " پھر اسے وہ كام كرنا چاہيے جس پر اس كا دل راضى اور شرح صدر ہو"
ابن سنى كى روايت كردہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جب آپ كو كوئى كام درپيش ہو تو سات بار اپنے رب سے استخارہ كرو پھر اسے ديكھو جو تمہارے دل ميں آئے كيونكہ اسى ميں خير ہے"
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس كى سند غريب ہے، اس ميں ايسے راوي ہيں جنہيں ميں نہيں جانتا. اھـ
ديكھيں: الاذكار للنووى صفحہ نمبر ( 132 ).
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اگر يہ ثابت ہو جائے تو پھر قابل اعتماد يہى ہے، ليكن اس كى سند بہت ہى كمزور ہے. اھـ
ديكھيں: فتح البارى ( 11 / 223 ).
حافظ عراقى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
اس ميں ايسا راوى ہے جو شديد ضعف سے معروف ہے، اور وہ ابراہيم بن البراء ہے..
تو اس بنا پر يہ حديث بہت ہى ضعيف ہے. اھـ
ديكھيں: الفتوحات الربانيۃ ( 3 / 357 ).
اور صحيح اور درست يہ ہے كہ:
معاملے ميں آسانى ـ تقدير اور دعاء كى قبوليت كے بعد ـ اللہ تعالى كى جانب سے ہے، جو كہ كام كرنے كى بہترى كى علامت ہے، اور اس كام كے موانع كا پايا جانا اور معاملے ميں آسانى پيدا نہ ہونا اس بات كى دليل ہے كہ اللہ تعالى نے اپنے بندے سے اس كام كو دور كر ديا ہے.
اور جب ہم جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث استخارہ ميں غور اور تدبر كرينگے تو يہى معنى بالكل واضح ہو گا:
حديث ميں ہے:
فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ [ واصرفه عني ] وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "
الہى اگر تو جانتا ہے كہ يہ كام اس كام كا نام لے ( جس كا ميں ارادہ ركھتا ہوں ) ميرے ليے ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے ميرے مقدر ميں كر اور آسان كر دے، پھر اس ميں ميرے ليے بركت عطا فرما، اور اگر تيرے علم ميں يہ كام ميرے ليے اور ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے برا ہے تو اس كام كو مجھ سے اور مجھے اس سے پھير دے اور ميرے ليے بھلائى مہيا كر جہاں بھى ہو، پھر مجھے اس كے ساتھ راضى كردے.
ابن علان ـ انس رضى اللہ تعالى عنہ والى حديث كا ضعف بيان كرنے كے بعد ـ كہتے ہيں:
اور اس بنا پر يہ كہا جا سكتا ہے كہ: بہتر يہ ہے كہ اس نے جو ارادہ كيا ہے وہ استخارہ كرنے كے بعد اسے سرانجام دے ( يعنى: اگر وہ اس ميں شرح صدر محسوس نہ بھى كرے ) كيونكہ اس ( يعنى نماز استخارہ ) كے بعد واقع ہونے والا ہى بہتر ہے. .
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
حافظ زين الدين عراقى كا ( استخارہ كرنے كے بعد كام كرنے ميں ) كہنا ہے: " اس نے جو بھى كيا اسى ميں خير و بھلائى ہے، اس كى تائييد دوسرى حديث جو عبد اللہ بن مسعود سے مروى ہے ميں موجود الفاظ" ثم يعزم " پھر وہ عزم كرے كے الفاظ سے ہوتى ہے. اھـ عراقى كى كلام ختم ہوئى.
ميں كہتا ہوں: ( يعنى حافظ ابن حجر ) پيچھے جو كچھ ميں نے بيان كيا ہے كہ اس ( يعنى ثم يعزم ) كے الفاظ بيان كرنے والا راوى ضعيف ہے، ليكن يہ اس حديث كے راوى ( يعنى پھر جو تمہارے دل ميں آئے اسے ديكھو ) والى حديث كے رواى سے كچھ بہتر حالت ميں ہے. اھـ ابن حجر كى كلام ختم ہوئى.
ديكھيں: الفتوحات الربانيۃ ( 3 / 355 ).
اور لوگوں ميں منتشر خرافات ميں استخارہ كے بعد سونا بھى شامل ہے كہ خواب ميں جو خير اور شرح صدر ديكھيں اس كا معنى ہے كہ آپ كا يہ كام بہتر ہے اور اگر نہ ديكھيں تو اس ميں بہترى نہيں ( اور سائل كا اس قول" اسے پيغام ملا " سے بھى يہى مراد ہے، ہمارے علم كے مطابق تو اس كى كوئى صحيح دليل نہيں ہے.
اوپر جو كچھ بيان ہوا اس كا معنى يہ نہيں كہ شرح صدر علامات ميں شامل نہيں، ليكن اسے كسى كام كى بہترى كے ليے قطعى اور اكيلى يہى علامت ہى نہيں بنا لينا چاہيے، كيونكہ انسان بہت سے ايسے معاملات ميں استخارہ كرتا ہے جو اسے پسند ہوتے ہيں اور اس پر اس كا شرح صدر بھى ہوتا ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى شرح صدر كے مسئلہ ميں كہتے ہيں:
جب وہ اللہ سے استخارہ كرے تو اس كے ليے جو شرح صدر ہو اور امور ميں سے جو ميسر ہو تو وہى اللہ تعالى نے اس كے اختيار كيا ہے. اھـ
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 10 / 539 ).
تو اس طرح فرق يہ ہے كہ: اكيلے شرح صدر علامت ہونا، اور يہ بھى ايك علامت ہے.
اور استخارہ كے ليے كوئى مدت مقرر نہيں، ايك بار سے زيادہ بار بھى استخارہ كرنا جائز ہے، اور اس كى تعداد بھى مكرر نہيں، نماز كے ليے سلام پھيرنے سے قبل بھى دعاء كرنا جائز ہے، اور سلام كے بعد بھى.
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد

كيا اجبارى معاملات ميں مسلمان استخارہ كرے ؟

0 comments

كيا اجبارى معاملات ميں مسلمان استخارہ كرے ؟
مجھ سے ايك بھائى نے كسى بھى پراجيكٹ يا كام كے ليے استخارہ كے جواز كے متعلق دريافت كيا، ہميں جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى مندرجہ ذيل حديث كا علم تو ہے:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں سب امور ميں استخارہ كى تعليم ديتے تھے .... " يہ حديث بخارى شريف ميں ہے.
ليكن اگر كوئى شخص الزامى كام كے ليے استخارہ كرے تو پھر ! كيونكہ ميں حديث ميں وارد لفظ كلہا يعنى سب امور كو نہيں سمجھ سكا، آيا سب امور كو شامل ہے يا كہ بطور اغلبيت ذكر ہوا ہے، كيونكہ ميرى سمجھ كے مطابق عربى لغت ميں كل سے مراد اغلبيت ہے.
تو كيا جناب فضيلۃ الشيخ آپ حديث ميں وارد كلمہ " كلہا " كى كچھ وضاحت فرمائيں گے؟ اور كيا اجبارى معاملات ميں بھى استخارہ كيا جا سكتا ہے ؟


الحمد للہ :
واجبات سرانجام دينے ميں كوئى اختيار نہيں ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے يہ ہم پر لازم كيے ہيں، اور اسى طرح حرام اشياء اور كاموں كو ترك كرنے ميں بھى كوئى اختيار نہيں، لھذا ايسا عمل جسے كيے بغير كوئى چارہ نہ ہو اس ميں استخارہ كا كوئى معنى نہيں، اور اس ميں استخارہ مشروع نہيں ہے.
بلكہ استخارہ تو مباح كاموں ميں سے ايك كى ترجيح كے ليے ہے، اور اسى طرح كئى ايك مستحبات ميں سے ايك مستحب كى تعيين كے ليے استخارہ كيا جاتا ہے، مثلا يہ كہ وہ كونسے ملك اور شہر ميں علم حاصل كرنے كے ليے جائے، يا پھر كس استاد اور شيخ سے علم حاصل كرے، يا كونسے درس ميں بيٹھے، تو اس ميں مشورہ كرے اور پھر جو اسے راجح لگے اس ميں استخارہ كر لے.
اور اسى طرح كسى خاص اور معين عورت سے شادى كرنے كے ليے استخارہ كر سكتا ہے، يا پھر اس برس يا اس كے بعد نفلى حج كرنے ميں استخارہ كر سكتا ہے، اور اسى طرح ہر اس چيز ميں جس ميں اسے تردد ہو، تو يہ اس قول " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں سب امور ميں استخارہ كرنے كى تعليم ديتے تھے" ميں داخل ہو گا.
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد

Tuesday, 16 July 2013

نماز استخارہ

0 comments

نماز استخارہ
ميں نماز استخارہ كے متعلق مزيد معلومات حاصل كرنا چاہتا ہوں، مثلا اس ميں تلاوت كيا كروں، اور كونسى دعاء كروں، ركعات كى تعداد كتنى ہے اور اس كا اجروثواب كيا ہےاور كيا حنبلى، اور شافعى اور حنفى مسلك ميں نماز كا يہى طريقہ ہے ؟


الحمد للہ :
اگر كوئى شخص كوئى كام كرنا چاہے اور وہ اس ميں متردد ہو تو اس كے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز استخارہ مشروع كى ہے اور يہ سنت ہے، نماز استخارہ كے متعلق ان سطور ميں درج ذيل آٹھ نقاط ميں بحث كى جائے گى:
1 - نماز استخارہ كى تعريف.
2 - نماز استخارہ كا حكم
3 - اس كى مشروعيت كى حكمت كيا ہے.
4 - نماز استخارہ كا سبب كيا ہے.
5 - استخارہ كب كيا جائے گا.
6 - استخارہ كرنے سے قبل مشورہ كرنا.
7 - نماز استخارہ ميں كيا پڑھا جائے گا.
8 - استخارہ كى دعاء كب كى جائے گى.
نماز استخارہ كى تعريف:
استخارہ كى لغوى تعريف: كسى چيز ميں سے بہتر كو طلب كرنا، كہا جاتا ہے: استخر اللہ يخر لك، اللہ تعالى سے استخارہ كرو وہ تمہارے ليے بہتر اختيار كر دے گا.
استخارہ كى اصطلاحى تعريف:
اختيار طلب كرنا. يعنى نماز يا نماز استخارہ ميں وارد شدہ دعاء كے ساتھ اللہ تعالى كے ہاں جو بہتر اور اولى و افضل ہے اس كى طرف پھرنے اور وہ كام كرنا طلب كرنا.
نماز استخارہ كا حكم:
نماز استخارہ كے سنت ہونے ميں علماء كرام كا اجماع ہے، اور اس كى مشروعيت كى دليل بخارى شريف كى مندرجہ ذيل حديث ہے:
جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے ہميں سارے معاملات ميں استخارہ كرنے كى تعليم اس طرح ديا كرتے تھے جس طرح ہميں قرآن مجيد كى سورۃ كى تعليم ديتے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرماتے:
" جب تم ميں سے كوئى ايك شخص كام كرنا چاہے تو وہ فرض كے علاوہ دو ركعت ادا كر كے يہ دعاء پڑھے:
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ [ واصرفه عني ] وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "
اے اللہ ميں ميں تيرے علم كى مدد سے خير مانگتا ہوں اور تجھ سے ہى تيرى قدرت كے ذريعہ قدرت طلب كرتا ہوں، اور ميں تجھ سے تيرا فضل عظيم مانگتا ہوں، يقينا تو ہر چيز پر قادر ہے، اور ميں ( كسى چيز پر ) قادر نہيں، تو جانتا ہے، اور ميں نہيں جانتا، اور تو تمام غيبوں كا علم ركھنے والا ہے، الہى اگر تو جانتا ہے كہ يہ كام ( جس كا ميں ارادہ ركھتا ہوں ) ميرے ليے ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے ميرے مقدر ميں كر اور آسان كر دے، پھر اس ميں ميرے ليے بركت عطا فرما، اور اگر تيرے علم ميں يہ كام ميرے ليے اور ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے برا ہے تو اس كام كو مجھ سے اور مجھے اس سے پھير دے اور ميرے ليے بھلائى مہيا كر جہاں بھى ہو، پھر مجھے اس كے ساتھ راضى كردے.
اور وہ اپنى ضرورت اور حاجت يعنى كام كا نام لے.
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1166 ) يہ حديث كئى ايك جگہ ميں امام بخارى رحمہ اللہ نے ذكر كي ہے.
نماز استخارہ كى مشروعيت كى حكمت:
استخارہ كى مشروعيت ميں حكمت يہ ہے كہ اللہ تعالى كے حكم كے سامنے سر خم تسليم كيا جائے، اور طاقت و قدرت سے نكل كر اللہ تعالى كى طرف التجاء كى جائے، تا كہ وہ دنيا و آخرت كى خير و بھلائى جمع كر دے، اور اس كے ليے اس مالك الملك سبحانہ وتعالى كا دروازہ كھٹكھٹانے كى ضرورت ہے، اور اس كے ليے نماز اور دعاء سے بڑھ كر كوئى چيز بہتر اور كامياب نہيں كيونكہ اس ميں اللہ تعالى كى تعظيم اور اس كى ثناء اور اس كى طرف قولى اور حالى طور پر محتاجگى ہے، اور پھر استخارہ كرنے كے بعد اس كے ذہن ميں جو آئے وہ اس كام كو سرانجام دے.
استخارہ كا سبب:
( جن ميں استخارہ كيا جاتا ہے ) اس كا سبب يہ ہے كہ: مذاہب اربعہ اس پر متفق ہيں كہ استخارہ ان امور ميں ہوگا جن ميں بندے كو درست چيز كا علم نہ ہو، ليكن جو چيزيں خير اور شر ميں معروف ہيں اور ان كے اچھے اور برے ہونے كا علم ہے مثلا عبادات، اور نيكى كے كام اور برائى اور منكرات والے كام تو ان كاموں كے ليے استخارہ كرنے كى كوئى ضرورت نہيں.
ليكن اگر وہ خصوصا وقت كے متعلق مثلا دشمن يا فتنہ كے احتمال كى صورت ميں اس سال حج پر جائے يا نہ اور حج ميں كس كى رفاقت اختيار كرے تو اس كے ليے استخارہ ہو سكتا ہے.
تو اس بنا پر كسى واجب، يا حرام يا مكروہ كام ميں استخارہ نہيں كيا جائے گا، بلكہ استخارہ تو مندوب اور جائز اور مباح كاموں ميں كيا جائے گا اور پھر مندوب كام كے اصل كے ليے استخارہ نہيں كيونكہ وہ كام تو اصل ميں مندوب ہے بلكہ استخارہ اس وقت ہو گا جب تعارض ہو، يعنى جب اس كے پاس دو كاموں ميں تعارض پيدا ہو جائے كہ وہ كونسے كام سے ابتداء كرے يا دونوں ميں سے پہلے كام كونسا كرے؟ ليكن مباح كام كے اصل ميں بھى استخارہ كيا جاسكتا ہے.
استخارہ كب كيا جائے؟
استخارہ اس وقت كيا جائے جب استخارہ كرنےوالا شخص خالى الذہن ہو اور كسى معين كام كو سرانجام دينے كا عزم نہ ركھے، كيونكہ حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:
" جب اسے كوئى كام درپيش ہو " اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ استخارہ اس وقت ہو گا جب ابھى اس كے دل ميں كوئى كام آيا ہو، تو پھر نماز اور دعاء استخارہ كى بركت سے اس كے ليے اس كام كى بہترى ظاہر ہو گى.
بخلاف اس كے كہ جب اس كے نزديك كوئى كام كرنا ممكن ہو اور وہ اسے سرانجام دينے پر پختہ عزم اور ارادہ كر چكا ہو، تو پھر وہ اپنے ميلان اور محبت كى طرف ہى جائے گا، تو اس سے خدشہ ہے كہ اس كے ميلان اور پرعزم كے غلبہ كى بنا پر اس سے بہترى كى راہنمائى مخفى رہے.
اور يہ بھى احتمال ہے كہ حديث ميں ھم يعنى درپيش سے مراد عزم ہو كيونكہ ذہن ثابت اور ايك پر نہيں ٹھرتا، تو وہ ايسا ہى نہيں رہے گا الا يہ كہ جب اسے سرانجام دينے كا عزم ركھنے والا شخص بغير كسى ميلان كے سرانجام دے، وگرنہ اگر وہ ہر حالت اور ذہن ميں استخارہ كرے گا تو پھر وہ ايسے كاموں ميں بھى استخارہ كرتا پھرے گا جس كا كوئى فائدہ نہيں تو اس طرح وہ وقت كے ضياع كا باعث ہو گا.
استخارہ كرنے سے قبل مشورہ كرنا:
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
استخارہ كرنے سے قبل كسى ناصح اور شقفت اور تجربہ كار اور دينى اور معلوماتى طور پر بااعتماد شخص سے اس كام ميں مشورہ كرنا مستحب ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
﴿اور معاملے ميں ان سے مشورہ كرو﴾.
اور مشورہ كرنے كے بعد جب اسے يہ ظاہر ہو كہ اس كام ميں مصلحت ہے تو پھر وہ اس كام ميں اللہ تعالى سے استخارہ كرے.
ابن حجر الھيتمى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
حتى كہ تعارض كے وقت بھى ( يعنى پہلے مشورہ كرے ) كيونكہ مشورہ دينے والے كے قول پر اطمنان نفس سے زيادہ قوى ہے، كيونكہ نفس پر نصيب غالب ہوتے اور ذہن بكھرا ہوتا ہے، ليكن اگر اس كا نفس مطمئن اور سچا ارادہ ركھتا ہو اور خالى الذہن ہو تو پھر استخارہ كو مقدم كرے.
نماز استخارہ ميں كيا پڑھا جائے گا:
- نماز استخارہ ميں قرآت كے متعلق تين قسم كى آراء ہيں:
ا ـ احناف، مالكى اور شافعى حضرات كہتے ہيں كہ سورۃ فاتحہ كے بعد پہلى ركعت ميں " قل يا ايہا الكافرون" اور دوسرى ركعت ميں " قل ھو اللہ احد " پڑھى جائے.
امام نووى رحمہ اللہ تعالى نے اس پر تعليق ذكر كرتے ہوئے كہا ہے:
ان دونوں سورتوں كو پڑھنا اس ليے مناسب ہے كہ يہ نماز ايسى ہے جس سے رغبت ميں اخلاص اور صدق اور اللہ تعالى كے سپرد اور اپنى عاجزى كا اظہار ہے، اور انہوں اس كى بھى اجازت دى ہے كہ: ان سورتوں كے بعد قرآن مجيد كى وہ آيات بھى پڑھ لى جائيں جن ميں خيرو بھلائى اور بہترى كا ذكر ہے.
ب ـ بعض سلف حضرات نے مستحسن قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ نماز استخارہ كى پہلى ركعت ميں سورۃ الفاتحہ كے بعد مندرجہ ذيل آيات تلاوت كى جائيں:
﴿ وَرَبُّك يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ﴾ .
اور تيرا رب جو چاہتا ہے پيدا كرتا اور اختيار كرتا ہے.
﴿ مَا كَانَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ .
ان كے ليے كوئى اختار نہيں اللہ تعالى پاك اور بلند و بالا ہے اس چيز سے جو وہ شرك كرتے ہيں.
﴿وَرَبُّك يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ﴾ .
اور تيرا رب جانتا ہے جسے ان كے سينے چھپاتے ہيں اور جو ظاہر كرتے ہيں.
﴿ وَهُوَ اللَّهُ لا إلَهَ إلا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ "
اور وہ ہى اللہ ہے، اس كے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں، پہلے اور آخر ميں اسى كى تعريفات ہيں، اور اسى كے ليے حكم ہے اور اسى كى طرف لوٹائے جائيں گے.
اور دوسرى ركعت ميں يہ آيات پڑھے:
﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا﴾
جب اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كسى امر ميں فيصلہ كر ديں كو كسى مومن مرد اور مومن عورت كو اپنے معاملہ ميں كوئى اختيار باقى نہيں رہتا، اور جو كوئى اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى نافرمان كرے گا وہ واضح گمراہى ميں جا پڑا.
ج ـ ليكن حنابلہ اور بعض دوسرے فقھاء نے نماز استخارہ ميں معين قرآت كرنے كا نہيں كہا.
دعاء استخارہ پڑھنے كى جگہ:
احناف، مالكى ، شافعى اور حنابلہ حضرات كا كہنا ہے كہ:
استخارہ كى دعاء دو ركعت كے بعد پڑھى جائيگى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت شدہ حديث كى نص كے موافق بھى يہى ہے.
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 3 / 241 ).
شيخ الاسلام ابن تيميہ كا كہنا ہے:
دعائے استخارہ كے متعلق مسئلہ:
كيا دعاء نماز ميں مانگى جائيگى يا كہ نماز سے سلام پھيرنے كے بعد؟
جواب:
نماز استخارہ اور دوسرى نماز ميں سلام سے قبل دعاء كرنى جائز ہے، اور سلام كے بعد بھى، اور سلام پھيرنے سے قبل دعاء كرنى افضل ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ كى اكثر دعائيں سلام پھيرنے سے قبل ہوا كرتى تھيں اور سلام سے قبل نمازى نماز سے فارغ نہيں ہوتا تو يہ بہتر ہے.
ديكھيں: فتاوى الكبرى ( 2 / 265 ).
واللہ اعلم .

نماز استخارہ كى كيفيت اور دعاء استخارہ كى شرح

0 comments

نماز استخارہ كى كيفيت اور دعاء استخارہ كى شرح
نماز استخارہ كس طرح ادا كى جائے گى ؟ 
اور اس ميں كونسى دعاء پڑھى جائيگى ؟


الحمد للہ :
نماز استخارہ كا طريقہ جابر بن عبد اللہ تعالى عنہما كى مندرجہ ذيل حديث ميں بيان كيا گيا ہے:
جابر بن عبد اللہ السلمى رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے صحابہ كرام كو سارے معاملات ميں استخارہ كرنے كى تعليم اس طرح ديا كرتے تھے جس طرح انہيں قرآن مجيد كى سورۃ كى تعليم ديتے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرماتے:
" جب تم ميں سے كوئى ايك شخص كام كرنا چاہے تو وہ فرض كے علاوہ دو ركعت ادا كر كے يہ دعاء پڑھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ [ واصرفه عني ] وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "
اے اللہ ميں ميں تيرے علم كى مدد سے خير مانگتا ہوں اور تجھ سے ہى تيرى قدرت كے ذريعہ قدرت طلب كرتا ہوں، اور ميں تجھ سے تيرا فضل عظيم مانگتا ہوں، يقينا تو ہر چيز پر قادر ہے، اور ميں ( كسى چيز پر ) قادر نہيں، تو جانتا ہے، اور ميں نہيں جانتا، اور تو تمام غيبوں كا علم ركھنے والا ہے، الہى اگر تو جانتا ہے كہ يہ كام ( جس كا ميں ارادہ ركھتا ہوں ) ميرے ليے ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے ميرے مقدر ميں كر اور آسان كر دے، پھر اس ميں ميرے ليے بركت عطا فرما، اور اگر تيرے علم ميں يہ كام ميرے ليے اور ميرے دين اور ميرى زندگى اور ميرے انجام كار كے لحاظ سے برا ہے تو اس كام كو مجھ سے اور مجھے اس سے پھير دے اور ميرے ليے بھلائى مہيا كر جہاں بھى ہو، پھر مجھے اس كے ساتھ راضى كردے.
صحيح بخارى حديث نمبر ( 6841 ) ترمذى اور نسائى اور ابو داود اور ابن ماجہ اور مسند احمد ميں اور بھى احاديث ہيں.
ابن حجر رحمہ اللہ تعالى اس حديث كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:
الاستخارۃ: اسم ہے، اور استخاراللہ كا معنى يہ ہے كہ اللہ تعالى سے اس نے بہتر چيز اور خير طلب كى، اس سے مراد يہ ہے كہ ضرورت كے وقت دو كاموں ميں سے بہتر اور اچھا كام طلب كرنا.
قولہ: " ہميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سب معاملات ميں استخارہ كرنا سكھاتے تھے "
ابن ابى جمرہ كہتے ہيں: عام كہہ كر خاص مراد ليا گيا ہے، كيونكہ كسى واجب اور مستحب كام كرنے كے ليے استخارہ نہيں كيا جائےگا اور نہ ہى كسى حرام اور مكروہ كام كو ترك كرنے كے ليے استخارہ ہو گا، بلكہ جب كوئى مباح اور مستحب كام ميں سے دو معاملے ايك دوسرے كے معارض ہوں كہ اسے كونسے عمل سے ابتدا كرنى چاہيے اور كس كام پر اقتصار كرنے كے ليے استخارہ ہو گا.
ميں كہتا ہوں: يہ عموم ہر حقير اور عظيم كام كو شامل ہے، ہو سكتا ہے كسى حقير اور چھوٹے سے كام كرنے كے نتيجہ ميں امر عظيم حاصل ہو جائے.
قولہ: " اذا ھم " جب اسے كوئى كام درپيش ہو.
ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كى روايت ميں يہ الفاظ ہيں: " جب تم ميں كوئى كام كرنا چاہے تو وہ يہ كہے"
قولہ: " تو وہ فرض كے علاوہ دو ركعت ادا كرے"
اس ميں نماز فجر سے احتراز كيا گيا ہے، امام نووى رحمہ اللہ تعالى " الاذكار " ميں كہتے ہيں: مثلا اگر كسى نے نماز ظہر كے فرضوں يا دوسرى سنت مؤكدہ كے بعد دعاء استخارہ كہى، ... اور ظاہر يہ ہوتا ہے ايسا كہا جائے:
اگر اس نے بعينہ اس نماز اور نماز استخارہ كى نيت كى تو يہ كافى ہو گى، ليكن اگر نيت نہ كى تو پھر نہيں.
اور ابن ابى جمرہ كہتے ہيں: نماز كو دعاء سے مقدم كرنے ميں حكمت يہ ہے كہ: استخارہ سے مراد دنيا اور آخرت كى خيروبھلائى جمع كرنا ہے، اس ليے مالك الملك كا دروازہ كھٹكھٹانے كى ضرورت ہے، اور اس كے ليے نماز سے بہتر اور افضل اور نفع مند چيز كوئى نہيں، اس ميں اللہ تعالى كى تعظيم اور اس كى حمد و تعريف اور ثناء، اور مالى اور حال كے اعتبار سے اللہ تعالى كى طرف محتاجگى ہے.
قولہ: " ثم ليقل" پھر يہ كہے" ظاہر يہ ہے كہ يہ دعاء دو ركعت نماز سے فارغ ہونے كے بعد پڑھى جائيگى، اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس ميں نماز كے اذكار اور دعاء كى ترتيب ہو تو اس طرح فراغت كے بعد اور سلام پھيرنے سے قبل دعاء پڑھے.
قولہ: " اللہم انى استخيرك" يہاں باء تعليل كے ليے ہے، يعنى اس ليے كہ اے اللہ تو زيادہ علم والا ہے.
اور اسى طرح " بقدرتك" ميں بھى باء تعليل كے ليے ہے، اور يہ بھى احتمال ہے كہ باء استغاثہ كى ہو.
قولہ: " استقدرك" اس كا معنى يہ ہے: ميں تجھ سے طلب كرتا ہوں كہ مطلوبہ عمل اور كام پر مجھے قدرت عطا كر، اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس كا معنى يہ ہو: ميں تجھ سے اس كام ميں آسانى اور سہولت كا طلبگار ہوں، يعنى ميرى قدرت ميں كردے.
قولہ: " و اسئلك من فضلك " يہ اس كى طرف اشارہ ہے كہ رب كى جانب سے عطاء اس كى جانب سے فضل ہے، اور كسى ايك كو بھى اس كى نعمتوں ميں اس پر حق حاصل نہيں، جيسا كہ اہل سنت كا عقيدہ ہے.
قولہ: " فانك تقدر و لا اقدر، و تعلم و لا اعلم" تو قدرت اور طاقت ركھتا ہے اور ميں طاقت نہيں ركھتا، تو علم والا ہے اور مجھے علم نہيں.
يہ اس طرف اشارہ ہے كہ يقينا علم اور قدرت صرف اللہ وحدہ كے ليے ہى ہے، اور اس ميں سے بندے كے ليے وہى ہے جو اللہ تعالى نے اس كے مقدر ميں ركھا ہے.
قولہ: " اللہم ان كنت تعلم ان ھذا الامر" اے اللہ اگر تجھے علم ہے كہ يہ كام.
اور ايك دوسرى روايت ميں ہے: " پھر اس كام كا بعينہ نام لے" اس كا ظاہر سياق يہى ہے كہ اسے زبان سے ادا كرے، اور يہ بھى احتمال ہے كہ وہ دعاء كرتے وقت اس كام كو اپنے ذہن ميں ركھے.
قولہ: " فاقدرہ لى " يعنى اسے ميرے ليے پورا كر دے، اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ اس كا معنى ہے: ميرے ليے اس كام كو آسان كر دے.
قولہ: " فاصرفہ عنى و اصرفنى عنہ " اسے مجھ سے اور مجھے اس سے دور كر دے.
يعنى اس كام كو چاہنے كے باوجود اس كام كو نہ كر سكنے كى حالت ميں اس كے دل ميں كچھ باقى نہ رہے.
قولہ: " و رضنى " يعنى مجھے اس پر راضى كر دے، تا كہ ميں اسے طلب كرنے اور نہ ہى اسے كرنے پر نادم نہ رہوں، كيونكہ مجھے اس كے انجام كى خبر نہيں، اگرچہ ميں اس كام كو كرنے كى خواہش كے وقت اس پر راضى تھا.
اس ميں راز يہ ہے كہ اس كا دل اس كام كے ساتھ معلق نہ رہے اور وہ كبيدہ خاطر نہ ہو، بلكہ اس كا دل مطمئن ہو جائے، اور فيصلہ اور قضاء پر راضى اور سكون نفس حاصل ہو سكے.
حافظ ابن حجر رحمہ تعالى كى شرح كى تلخيص ختم ہوئى، ديكھيں: كتاب الدعوات و كتاب التوحيد صحيح البخارى.
واللہ اعلم .