YOUR INFO

Showing posts with label اصول حدیث. Show all posts
Showing posts with label اصول حدیث. Show all posts

Wednesday, 13 March 2013

اصول السنۃ

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


اصول السنۃ

امام اہلسنت والجماعت احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ)


عبدوس بن مالک العطار (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں میں نے سنا کہ:
[امام اہلسنت والجماعت] ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:[1]
ہمارے نزدیک اصول السنۃ (سنت کے اصول) یہ ہیں:
1- جس چیز پر رسول اللہ (ﷺ) کے صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) تھے اس سے تمسک اختیار کرنا۔[2]
2- ان کی اقتداء کرنا۔
3- بدعات کو ترک کردینا۔
4- ہر بدعت گمراہی ہے۔
5- اصحاب اہوا (خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں یا بدعتی لوگوں) سے بحث مباحثہ ترک کرنا۔
6- اور ان(بدعتیوں) کے ساتھ بیٹھنا بھی ترک کردینا۔
7- دین میں جھگڑنا، جدال کرنا اور (بےجا) بحث مباحثے (مناظروں)کو ترک کرنا۔
8- سنت ہمارے نزدیک رسول اللہ (ﷺ) کے آثار ہیں۔
9- سنت قرآن کریم کی تفسیر کرتی ہے اور یہ (سنتیں) قرآن کریم کے دلائل ہیں۔
10- سنت میں قیاس نہیں، اور اس کے لئے مثالیں بھی بیان نہیں کرنا، اور اسے عقل یا خواہشات سے نہیں پایا جاسکتا بلکہ یہ (سنت) تو محض اتباع اور خواہش نفس کو ترک کرنے کا نام ہے۔
11- ان لازمی سنتوں میں سے جن میں سے کسی ایک خصلت کو بھی کوئی اس طور پر ترک کرے کہ نہ تو اسے قبول کرے[3] اور نہ ہی اس پر ایمان رکھے تو وہ ان (اہلسنت والجماعت) میں سے نہیں:
12- اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا اور اس بارے میں آئی احادیث کی تصدیق کرنااور ان پر ایمان لانا۔ یہ نہیں کہنا کہ (کیوں؟) اور (کیسے؟)، بلکہ محض اس کی تصدیق کرنا اور ایمان لانا ہے۔ جو کسی حدیث کی تفسیر نہیں جانتا ہومگر اس کی عقل اسے سمجھ جائے، تو یہی (محض اس کا معنی سمجھ جانا ہی) اس کے لئے کافی ہے اور وہ اس کے حق میں محکم کے حکم میں ہے۔ اسے چاہیے کہ اس پرایمان لائے اور اسے مکمل طور پر تسلیم کرلے۔جیسا کہ "الصادق المصدوق"[4] والی حدیث، اور اس جیسی دوسری تمام احادیث جو تقدیراور(بروز قیامت)روئیت باری تعالی کے بارے میں ہیں، اگرچہ وہ سننے میں عجیب لگیں اور سننے والا ان سے حیران ہوجائے، اس پر بس ایمان لانا واجب ہے، اور ان میں سے کسی ایک حرف[5] کا یا احادیث کا جو ثقہ راویوں سے ماثور چلی آرہی ہیں انکار نہ کرے۔
13- اور نہ کسی سے جھگڑے اور نہ ہی مناظرہ کرے، اور نہ ہی جدال کرنا سیکھے، کیونکہ تقدیر، روئیت باری تعالی اور قرآن کریم وغیرہ کے بارے میں کلام کرنا مکروہ وممنوعہ طریقوں میں سے ہے، ایسا کرنے والا اگرچہ اپنے کلام سے سنت کو پابھی لے اہلسنت میں سے نہیں یہاں تک کہ جدال کو ترک کرکے آثار کو تسلیم کرے اور ان پر ایمان لائے۔
14- قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے مخلوق نہیں اور یہ کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کرو کہ: (اللہ کا کلام) مخلوق نہیں اور کہا کہ کلام اللہ(اللہ تعالی کا کلام) اس (اللہ)سے الگ نہیں اور جو اس (اللہ تعالی)سےہے(الگ نہیں)وہ مخلوق نہیں۔ تمہیں ان لوگوں سے مناظرہ کرنے سے بچنا چاہیے جنہوں نے اس میں نئی باتیں ایجاد کیں، اور جو "اللفظ" وغیرہ کہے۔ جو اس میں توقف کرے اور کہے کہ یہ اللہ تعالی کاکلام توہے مگرمجھے نہیں معلوم کہ مخلوق ہے یا غیرمخلوق تو ایسا شخص اسی طرح بدعتی ہے جسطرح جو کہے کہ وہ (قرآن مجید)مخلوق ہے۔ بلکہ (صحیح بات یہ ہے کہ)یہ اللہ تعالی کا کلام ہی ہے جو ہرگز مخلوق نہیں۔
15- بروز قیامت روئیت باری تعالی پر ایمان لانا جیسا کہ نبی کریم (ﷺ) سے صحیح احادیث میں روایت کیا جاتا ہے۔
16- بیشک نبی کریم (ﷺ) نے اپنے رب کا دیدار فرمایا تھا، اور وہ آپ (ﷺ)سے صحیح طور سے ماثور (مروی)ہے۔قتادہ نے روایت فرمائی عکرمہ سے انہو ں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے ، اور الحکم بن ابان نے روایت فرمائی عکرمہ سے انہوں نے روایت کی ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے، اور اسی طرح علی بن زید نے یوسف بن مہران سے انہوں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سےروایت فرمائی۔ ہمارے نزدیک یہ حدیث اپنے اسی ظاہری معنی میں ہی سمجھی جائے گی جیسا کہ نبی اکرم (ﷺ) سے مروی ہے۔ اس بارے میں کلام کرنا بدعت ہے، لیکن ہم صرف جو اس کا ظاہر معنی بیان ہوا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں ، اور اس بارے میں کسی سے مناظرہ بھی نہیں کرتے۔
17- ہم یوم قیامت کے(قائم ہونے والے) میزان پر ایمان لاتے ہیں، جیسا کہ (حدیث میں) آیا ہے 
"يوزن العبد يوم القيامة فلا يزن جناح بعوضة"[6] (ایک بندہ بروز قیامت تولا جائے گا تو اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا)، اور بندوں کے اعمال بھی تولے جائیں گے جیسا کہ اثر میں آیا ہے، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسکی تصدیق کرتے ہیں، اور ان سے اعراض برتتے ہیں جو اس کاانکار کرے، اور اس سے مجادلہ(جھگڑا، بحث ومباحثہ) بھی نہیں کرتے۔
18- اللہ تعالی یوم قیامت اپنے بندوں سے اس طرح ہم کلام ہوگاکہ ان کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا، اس پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا۔
19- حوض پر ایمان لانا، اور رسول اللہ (ﷺ) کا یوم قیامت حوض ہوگا جس پر ان کی امت حاضر ہوگی، اس کا عرض اس کے طول کے مساوی ہے جو ایک مہینے کی مسافت ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی تعداد کی طرح ہیں، اس بارے میں خبر ایک سے ذیادہ طریقوں سے صحیح طور پر ثابت ہیں۔
20- عذاب قبر پر ایمان لانا۔
21- اس امت کی آزمائش ان کی قبروں میں کی جاتی ہے، اور ان سے ایمان، اسلام اور اس کا رب کون ہے؟ اور ان کا نبی کون ہے؟ سوالات پوچھے جاتے ہیں، اور ان کے پاس منکر ونکیر آتے ہیں جسطرح اللہ تعالی چاہتے ہیں، اور ارادہ فرماتے ہیں، اس پر ایمان لانا اور تصدیق کرنا ہے۔
22- نبی اکرم (ﷺ) کی شفاعت پر ایمان لانا، اور اس قوم پر جو آگ جہنم سے جل جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گےپھر اس سے باہر نکلے گیں۔ پس انہیں ایک نہر کی جانب جانے کا حکم دیا جائے گا جو جنت کے دروازے پر ہے جیسا کہ اثر (حدیث)سے یہ ثابت ہے، جیسے اور جسطرح اللہ تعالی چاہے، ہمیں تو صرف ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ہے۔
23- مسیح دجال کے نکلنے پر ایمان لانا، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، اور اس بارے میں وارد احادیث پر ایمان لانا، اور یہ ایمان لانا کہ ایساضرور ہونا ہے۔
24- بیشک عیسی (علیہ الصلاۃ والسلام) نازل ہوں گے اور اس (دجال) کو بابِ لد کے پاس قتل فرمائیں گے۔
25- ایمان قول وعمل کا نام ہے، جو بڑھتا اور گھٹتا ہے، جیسا کہ خبر[7] (حدیث) میں آیا:
 "أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً"[8] (ایمان کے اعتبار کے سے اکمل ترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں)
26- جس نے نماز کو چھوڑا اس نے کفر کیا، اور اعمال میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کا چھوڑنا کفر ہو سوائے نماز کے، جس نے اسے ترک کیا وہ کافر ہے، اور اللہ تعالی نے اس کا قتل حلال ٹھہرایا ہے۔
27- اس امت میں اس کے نبی (ﷺ) کے بعد سب سے افضل ابو بکر صدیق ہیں، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہم)ہیں۔ ہم ان تینوں کو مقدم کرتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے انہیں مقدم فرمایا، اس میں کوئی اختلاف نہیں کرتے۔ پھر ان تینوں کے بعدپانچ اصحابِ شوری ہیں: علی بن ابی طالب، طلحہ،زبیر، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہم) یہ سب خلافت کے لئے اہل تھے، اور یہ سب اما م تھے۔ اس بارے میں ہم حدیث ابن عمر (رضی اللہ عنہما)پر چلتے ہیں:
 "كنا نعد – ورسول الله (ﷺ) حي وأصحابه متوافرون: أبو بكر، ثم عمر، ثم عثمان، ثم نسكت"[9] (رسول اللہ (ﷺ) کی زندگی میں جب آپ (ﷺ) کے صحابہ (رضی اللہ عنہم)وافر مقدار میں موجود تھے ہم کہا کرتے تھے (بلحاظِ فضیلت ومرتبہ)ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان پھر خاموش ہوجاتے تھے)۔ ان اصحاب شوری کے بعد اصحاب رسول اللہ (ﷺ) میں سے مہاجرین میں سے اہل بدر پھر انصار میں سے اہل بدر اور پھر جو ہجرت وایمان لانے میں سبقت کرنے میں اول تھے پس وہ (مرتبے میں بھی)اول ہیں۔
28- ان اصحاب رسول اللہ (ﷺ) کے بعد افضل ترین لوگ اس دورونسل کے ہیں جس میں رسول اللہ (ﷺ) مبعوث ہوئے۔ جس کسی نے بھی رسول اللہ (ﷺ) کی صحبت اختیار کی خواہ ایک سال ہو، ایک مہینہ، ایک دن، ایک گھنٹہ یا صرف دیکھا بھی ہو تو وہ آپ (ﷺ) کے صحابہ میں سے ہے۔ اس کا صحابیت میں سے اتنا ہی حصہ ہے جتنی اس کی رسول اللہ (ﷺ)سے صحبت رہی، ان کے ساتھ سبقت کی، ان سے کچھ سنا، اور آپ (ﷺ) کی ایک جھلک بھی دیکھی ہو۔ پس ان میں سے جو ادنی ترین صحبت کا بھی حامل ہو وہ اس دورونسل سے بہتر ہے جس نے انہیں نہ دیکھا ہو چاہے وہ (بعد میں آنے والے) اللہ تعالی سے تمام اعمال خیر کے ساتھ ملاقات کریں۔ جنہوں نے نبی کریم (ﷺ) کی صحبت اختیار فرمائی اور ان کا دیدار فرمایا اور ان سے سماعت فرمایا، جنہوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان پر ایمان لائے اگرچہ ایک ساعت کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی صحبت کے اعتبار سے تابعین سے افضل ہے چاہے وہ (تابعین) تمام اعمال خیر ہی کیوں نہ بجالائیں۔
29- امیر المؤمنین جو خلافت پر والی ومتمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں، یاپھر جو تلوار کے زور پر غالب ہوجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے، اور امیر المؤمنین (مسلمانوں کا حکام) کہلایا جانے لگےتو اس کا حکم سننا اور اطاعت کرنا ہے خواہ نیک ہو یا بد۔
30- امراء(حکام)خواہ نیک ہویابدکےساتھ مل کر(ان کی سربراہی میں)تاقیام قیامت غزوہ (جہاد)باقی رہے گا، اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔
31- اسی طرح مال فئ کی تقسیم اور اقامتِ حدود ان آئمہ (حکام) کے ساتھ باقی رہے گی۔ کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان پر طعن کرے یا ان سے (حکومت کے معاملے میں) تنازع برتے۔ انہیں صدقات (زکوۃ) ادا کرنا جائز ونافذ رہے گا۔ جو اس (زکوۃ)کو ان (حکام)کو ادا کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔ (یہ تمام باتیں ان حکام کے حق میں باقی رہیں گی)خواہ نیک ہو یا بد۔
32- ان (حکام) کے پیچھے اور جنہیں یہ امام مقرر کریں ان کے پیچھے نماز جمعہ جائز ہےاورباقی ہے مکمل دو رکعتیں۔ جس نے اپنی نماز کو (ان کے پیچھے پڑھنے کے بعد)لوٹایا تو وہ بدعتی، آثار کو ترک کرنے والا اور سنت کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ نیک وبد آئمہ کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا تو اس کے لئے جمعہ کی فضیلت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں۔ سنت یہ ہےکہ ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھو، اور یہ یقین رکھو کہ یہ مکمل ادا ہوگئی ہے، اور تمہارے دل میں اس بارے میں کوئی شک بھی نہ ہو۔
33- جو آئمہِ مسلمین(مسلمانوں کے حکام) پر خروج کریں جبکہ لوگ اس پر مجتمع ہوچکے ہوں اور اس کی خلافت (حکومت) کا اقرار کرتے ہوں کسی بھی طور پر چاہے رضامندی سے ہو یا (جبراً) غلبہ حاصل کرکے (تو ایسے حکام پر بھی خروج کرنے والا) مسلمانوں کی حکومت واتحاد کو پارہ پارہ کرنے والا ہے، اور رسول اللہ (ﷺ) سے ثابت شدہ آثار (احادیث) کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ اسی خروج کی حالت میں موت پاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
34- سلطان (حاکم) سے قتال کرنا (تختہ الٹنا)جائز نہیں، اور نہ ہی کسی انسان کے لئے ان پر خروج جائز ہے۔ جس نے ایسا کیا تو وہ بدعتی ہے نبی کریم (ﷺ)کی سنت اور ان کےطریقے پر نہیں۔
35- چوروں (ڈاکوؤں) اور خوارج سے قتال کرنا جائز ہے اگرو ہ کسی شخص کی جان ومال کے درپے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنی جان ومال کی حفاظت کے لئے ان سے لڑے اور ان کا دفاع کرے جس قدر بھی اس کی طاقت ہو۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جائیں تو انہیں طلب کرے یا ان کا پیچھا کرےیہ حق سوائے مسلمانوں کےحکمرانوں کے اور کسی کا نہیں۔ اسے بس چاہیے کہ وہ اپنے جگہ پر اپنا دفاع کرے اور اپنی اس کوشش کے بارے میں یہ نیت رکھے کہ کسی کو قتل نہیں کرنا، لیکن اگر اس کے ہاتھوں اپنا دفاع کرتے ہوئے لڑائی میں کوئی قتل ہوجائےتو اللہ تعالی نے اس مقتول (چور وغیرہ) کو رفع دفع کردیا، اور اگر یہ دفاع کرنے والا اس حالت میں کہ وہ اپنی جان ومال کا دفاع کررہا تھا قتل ہوجائے تو اس کی شہادت کی امید کی جاتی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث اور تمام آثار آئے ہیں ان میں صرف اس سے (موقع پر) لڑنے کا حکم ہے، اس کے (لازمی) قتل کرنے یا اس کا پیچھا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی اس پر خود حملہ آور ہونے کا اگر وہ گر جائے یا زخمی ہوجائے، یاپھر اسے بطور قیدی قید کرلے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اسے قتل کردے، اور نہ ہی اس پر حد قائم کرے، بلکہ اس کا معاملہ اس حاکم تک لے جائے جسے اللہ تعالی نے اس کا ذمہ دار بنایا ہے، اور وہی اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
36- (امام احمد نے)فرمایا کہ ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کے بارے میں اس کے عمل کی بناء پر جو وہ کرتا ہے (قطعی طور پر) جنت یا جہنم کی گواہی نہیں دیتے، (بلکہ) نیکوکار کے لئے (جنت کی) امید رکھتے ہیں اور گنہگار کے لئے (جہنم) کا خدشہ رکھتے ہیں، اور (ساتھ ہی)اس کے لئے اللہ تعالی کی رحمت کی امید بھی رکھتے ہیں۔
37- جس نے ایسا گناہ کیا جس سے جہنم واجب ہوتی ہےمگر اس پر اصرار نہ کرتے ہوئے تائب ہوگیا اور اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کی تو اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرماتے ہیں۔ وہی اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماتے اور گناہوں سے درگزر فرماتے ہیں۔
38- جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس کی حد اس پر دنیا میں قائم ہوچکی ہو اور اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کی تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) سےمروی خبر(حدیث) میں وارد ہوا۔
39- (لیکن) جس نے ایسا گناہ کیا جس پر عقوبت وسزا مقرر ہے اور وہ اس پر اصرار کرتا ہےاور توبہ نہیں کرتااور اسی حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کی تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے چاہے تو اسے عذاب فرمائے اور چاہے تو اسے بخش دے۔
40- (مگر) جو اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے کہ وہ کافر ہو تو اللہ تعالی اسے عذاب فرمائیں گے اور مغفرت نہیں فرمائیں گے۔
41- رجم (سنگسار ) کرنا برحق ہے اس شخص کو جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب وہ اعتراف کرے یا اس پر دلیل وگواہی قائم ہوجائے۔
42- رسول اللہ (ﷺ) نے بھی رجم فرمایا۔
43- اور آئمہ (خلفائے) راشدین نے بھی۔
44- جس نے کسی ایک بھی صحابئ رسول اللہ (ﷺ) کی شان میں تنقیص کی یا ان سے کسی واقعے کی بناء پر جو ان سے صادر ہوا بغض کیا یا پھر ان کی برائیاں بیان کیں، تو وہ اس وقت تک بدعتی رہےگا جب تک کہ تمام (صحابہ) پر رحم نہ فرمائے اور اس کا دل ان کے بارےمیں (کسی بھی قسم کے کینے سے)صاف وسلیم نہ ہوجائے۔
45- نفاق کفر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کا کفر کرے اور غیر کی عبادت کرے، (لیکن) ظاہر میں اسلام کا اظہار کرے، جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے دور میں منافقین تھے۔
46- رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے:
 "ثلاث من كُنَّ فيه فهو منافق" (تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں تو وہ منافق ہے) یہ تغلیظ وسختی کے پیش نظر فرمایا گیا جسے ہم بلا تفسیرکےاسی طرح مروی کردیتے ہیں جیسی یہ بیان ہوئی ہے۔
47- اور رسول اللہ (ﷺ) کا یہ فرمان کہ: "لا ترجعوا بعدي كفارا ضلالا يضرب بعضكم رقاب بعض"[10] (میرے بعد کافر و گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے (قتل کرنے) لگ جانا) یا جیسے 
فرمایا: "إذا التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار"(اگر دو مسلمان تلوار سونتے آمنے سامنے مد مقابل ہوں تو قاتل ومقتول دونوں آگ میں ہیں) یا جیسے فرمایا: "سباب المسلم فسوق وقتاله كفر"[12] (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے) یا جیسے فرمایا: "من قال لأخيه يا كافر فقد باء بها أحدهما"[13] (جس کسی نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کہا اے کافر! تو یہ (تکفیر) ان میں سے ایک پر لوٹ آئے گی) یا جیسے فرمایا: "كفر بالله تبرؤ من نسب وإن دق"[14] (اپنے نسب سے خواہ اس کا نسب کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہو برئ الذمہ ہونا اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنا ہے)
48- اور اس جیسی دیگراحادیث جو صحیح ومحفوظ ہیں ہم انہیں تسلیم کرتے ہیں اگرچہ ہم اس کی تفسیر نہ بھی جانتے ہوں، اس کے خلاف کلام یا جدال نہیں کرتے، اور ان کی تفسیر نہیں کرتے مگر اسی طرح جیسے یہ بیان ہوئی ہیں اور اسے اس کے سب سے برحق[15] مفہوم کی طرف پھیرتے ہیں۔
49- جنت اور جہنم اللہ تعالی کی دو مخلوق ہیں جو پیدا کردی گئی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) سے روایت آئی ہے:
 "دخلت الجنة فرأيت قصراً"[16](میں جنت میں داخل ہوا اور ایک محل دیکھا)اور فرمایا: "رأيت الكوثر" (اور نہر کوثر دیکھی)، "اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها. . . . . . كذا"(میں جنت پر مطلع ہوا تو میں نے ان کی اکثریت کو۔۔۔ایسا ایسا پایا) اور "اطلعت في النار فرأيت. . . . . . كذاوكذا" (میں جہنم پر مطلع ہوا اور ۔۔ایسا ایسا دیکھا)، جو یہ گمان کرتا ہے کہ یہ دونوں (جنت وجہنم) ابھی تخلیق نہیں کی گئی ہیں، تو وہ قرآن مجید اور احادیث رسول (ﷺ) کو جھٹلانے والا ہے، میں اسے جنت وجہنم پر ایمان رکھنے والا شمار نہیں کرتا۔
50- جو کوئی اہل قبلہ میں سے توحید پر وفات پائے اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور اس کے لئے مغفرت کی دعاء کی جائے گی، اس سے استغفار چھپی ہوئی نہیں۔ اس کے گناہ کے سبب چاہے صغیرہ ہویا کبیرہ ہم اس پر نماز جنازہ کو ترک نہیں کرتے ، اور اس کا (آخری) معاملہ تو اللہ تعالی ہی کے حوالے ہے۔

والحمدللہ وحدہ وصلواتہ علی محمد وآلہ وسلم تسلیما
-----------------------------
حاشیہ

[1] تینوں نسخوں کی روایت کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
امام اللالکائی کی روایت: امام لالکائی اصول اعتقاد اہل سنت والجماعت بتحقیق احمد بن حمدان (1/156) میں فرماتے ہیں: ہمیں خبردی عبداللہ بن السکری نے فرمایا: ہمیں بیان کیا عثمان بن احمد بن عبداللہ بن برید الدقیقی نے فرمایا: ہمیں بیان کیا ابو محمد الحسن بن عبدالوہااب ابو العنبر نے انہوں نے ان کی کتاب میں سے ربیع الاول کے مہینے میں سن 293ھ میں قرات کی، فرمایا: ہمیں ابو جعفر محمد بن سلیمان المنقری نے تنیس میں بیان فرمایا، فرمایا: ہمیں عبدوس نے بیان فرمایا۔۔۔
طبقات الحنابلہ کی روایت: فرمایا محمد بن ابی یعلی نے طبقات الحنابلہ بتحقیق عبدالرحمن العثیمین (2/166) میں فرمایا: میں نے المبارک پر پڑھا اور ان سے کہا: آپ کو خبر دی عبدالعزیزالازجی نے، ہمیں خبر دی علی بن بشران نے، ہمیں خبر دی عثمان جو ابن سماک کے نام سے معروف ہے نے، ہمیں بیان کیا حسن بن عبدالوہاب نے، ہمیں بیان کیا محمد بن سلیمان المنقری نے، وہ فرماتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدوس نے۔۔۔
شیخ البانی کا تحقیق شدہ نسخہ: (یہ وہ نسخہ ہے جس پر ولید بن سیف النصر بھائی نے اعتماد کیا اور اس کی تقدیم شیخ عید عباسی نے فرمائی): شیخ امام ابو المظفر عبدالملک بن علی بن محمد الہمدانی نے فرمایا: ہمیں بیان کیا شیخ ابو عبداللہ یحیی بن ابی الحسن بن البنا نے، فرمایا: ہمیں خبر دی میرے والد ابو علی الحسن بن احمد بن البنا نے، فرمایا: ہمیں خبردی ابو الحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران المعدل نے، فرمایا: ہمیں خبردی عثمان بن احمد بن السماک نے، فرمایا: ہمیں خبردی ابو محمد الحسن بن عبدالوہاب بن ابی العنبر نے کہ ان پر ان کی کتاب میں سےقرات کی گئی ربیع الاول کے مہینے سن 293ھ میں، فرمایا: ہمیں بیان کیا ابو جعفر محمد بن سلیمان المنقری البصری نے نے تنیس میں، فرمایا: مجھ سے بیان فرمایا عبدوس نے۔۔۔
[2] یہ نمبر وار ترتیب اصل متن میں نہیں سہولت کی خاطر انٹرنیٹ پر موجود ایک نسخے سے لی گئی ہے۔ (مترجم)
[3] لالکائى کے نسخے میں (یقلھا) نہ کہے ہے۔
[4] عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے مروی قضاء وقدر سے متعلق مشہور حدیث، مکمل حدیث یہ ہے کہ: ہمیں خبر دی رسول اللہ (ﷺ) نے جو صادق و مصدوق ہیں کہ: "تم میں سے ہرایک کی خلقت یہ ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس (40) روز نطفہ بن کر رہتا ہے، پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: کہ وہ اس کا رزق، موت، عمل، نیک بخت وبدبخت ہونا لکھے۔ پس اللہ تعالی کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بالشت بھر فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس کی لکھت اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کرنے لگتا ہے اور آخرکار اس میں داخل ہوجاتا ہے، اور تم میں سے کوئی جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان بالشت بھر فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی لکھت اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنتیوں والے عمل کرنے لگتا ہے، اور آخرکار اس میں داخل ہوجاتا ہے " (متفق علیہ)
[5] لالکائی نے حرف کے بجائے جزاء (ایک جزء) نقل فرمایا ہے۔

[6] البخاري: كتاب التفسير, باب (أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ) [الكهف: 105]، حدیث رقم (4729)۔ مسلم: کتاب صفة القيامة والجنة والنار، حدیث رقم (2785)
[7] طبقات الحنابلۃ میں "اثر" کا لفظ ہے۔
[8] سنن أبي داؤد: كتاب السنة، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث رقم (4682)۔ سنن ترمذی: کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق المراۃ علی زوجھا، حدیث رقم (1162)۔ شیخ البانی نے اس کو صحیح فرمایا۔
[9] مسند احمد (تحقیق احمد شاکر): مسند عبداللہ بن عمر، حدیث رقم (4626) اور احمد شاکر نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔ بخاری: کتاب فضائل الصحابہ، باب فضل ابی بکر بعدالنبی (ﷺ)، حدیث رقم (3655) اس میں [ثم نسکت] کے الفاظ نہیں اور حافظ ابن حجر نے اس کی شرح کے وقت اس کی اسانید کی طرف اشارہ فرمایا ہے، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب عثمان بن عفان ابی عمرو القرشی (رضی اللہ عنہ)، حدیث رقم (3697) اس میں بھی [ثم نسکت] کے الفاظ نہیں ہے مگر یہ اضافہ ہے [ثم نترک اصحاب النبی (ﷺ) لا نفاضل بینھم] (پھر ہم رسول اللہ (ﷺ) کے صحابہ کوچھوڑ دیتے تھے اور ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتتے تھے)۔ سنن ترمذی: کتاب المناقب، باب فی مناقب عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ)، حدیث رقم (3707)، اور اس میں بھی [ثم نسکت] کے الفاظ نہیں، اور امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہےاور اس طور سے یہ حدیث عبیداللہ بن عمرکی حدیث سے عجیب ہے، اور یہ حدیث ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی حدیث سے مختلف طریقے سے بھی مروی ہوئی ہے۔ شیخ البانی نے اسے صحیح فرمایا۔
[10] مسند احمد (تحقیق احمد شاکر وحمزہ الزین)، حدیث رقم (16644)۔اور جو
 "ضلالا" (گمراہ نہ ہوجانا) کے لفظ کےبغیر روایت ہوئی وہ بخاری: کتاب العلم، باب الفتن، باب قول النبی (ﷺ): "لاترجعوا۔۔"،حدیث رقم(7077)۔ مسلم: کتاب الایمان، باب معنی فول النبی (ﷺ): "لاترجعوا بعدی کفارا۔۔"، حدیث رقم (65)۔
[11] بخاری: کتاب الایمان، باب "وان طائفتان من المؤمنین اقتتلو فاصلحوا بینھما" فسماھم المؤمنین، حدیث رقم (31)۔ مسلم: کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب اذا تواجہ المسلمان بسیفیھما، حدیث رقم (2888)۔
[12] بخاری: الایمان، باب خوف المؤمن من ان یحبط عملہ وھو لایشعر، حدیث رقم (48)۔ مسلم: کتاب الایمان، باب بیان قول النبی (ﷺ): "سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر"، حدیث رقم (64)۔
[13] بخاری: کتاب الادب، باب من اکفر بغیر تاویل فھو کما قال، حدیث رقم (6103، 6104)۔ مسلم: کتاب الایمان، باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ یاکافر، حدیث رقم (60)۔
[14] اسے ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے اپنی کتاب الایمان میں ذکر کیا، اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا۔
[15] لالکائی میں "بالحق" ہے اور طبقات الحنابلہ میں "باجود" (سب سے بہتر) کے الفاظ ہیں۔
[16] بخاری: کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ، حدیث رقم (3242)۔ مسلم: کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل عمر (رضی اللہ عنہ)، حدیث رقم (2394، 2395)


Thursday, 7 March 2013

التحقیق والتنقیح في مسئلۃ التدلیس

0 comments

التحقیق والتنقیح في مسئلۃ التدلیس






علم اُصولِ حدیث کے ذریعے محدثینِ عظام نے ۱۴ صدیوں پہلے نبی کریم1 کی طرف ہرمنسوب بات کی غلطی وصحت جانچنے کے لئے ایسے بہترین اُصول وضع کئے جن میں آج تک کوئی اضافہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کسی بھی قول کے مستند ہونے کے لئے راویوں کا سلسلۂ اسناد متصل ہونا ازبس ضروری ہے اور یہ اتصالِ سند کسی حدیث کے صحیح ہونے کی پہلی شرط ہے۔سند میں یہ انقطاع اگر ظاہری ہو یعنی کسی مرحلہ پر راویوں کا سلسلہ منقطع ہو تو اس کو عام علمابھی جان سکتے ہیں۔ تاہم بعض راویانِ حدیث سند کے مخفی عیب؍انقطاع کو دانستہ یا نادانستہ طور پر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اس طرزِ عمل کو اُصولِ حدیث کی اصلاح میں 'تدلیس' سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کی متعدد اقسام کی بنا پر اس کا حکم بھی مختلف ہے۔

مگر بعض حضرات جبلِ علم امام شافعیؒ کے قول ( چند صفحات کے بعد ملاحظہ کریں) کو اَساس قرار دے کر سبھی مدلِّسینکی مرویات سے مساوی سلوک کرتے ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک جس راوی نے بھی زندگی میں صرف ایک بار تدلیس کی تو اس کی ہر مُعنعن روایت ناقابل قبول ہوگی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اسے 'جمہور محدثین' کا منہج باور کراتے ہیں جو سراسر حقیقت کے منافی ہے۔درج ذیل تحریر میں مدلسین کے بارے میں صحیح موقف کے تعین کی کوشش کی گئی ہے اور جمہورمحدثین کے اصل موقف کو پیش کیا گیا ہے۔

تدلیس کے لغوی معنی

'تدلیس' کے لغوی معنی پوشیدگی اور پردہ پوشی کے ہیں۔ اسی سے الدَلس (دال اور لام کی زبر کے ساتھ) ہے جس کا مطلب ہے: اختلاط النور بالظلمَۃ یعنی ''اندھیرے اور اُجالے کا سنگم'' دلس البائع کے معنی:بائع کا خریدار سے سودے کے عیب کو چھپانا ہے۔

(مزید تفصیل:الصحاح للجوھري:۲؍۹۲۷،لسان العرب:۷؍۳۸۹، تاج العروس: ۴؍۱۵۳ )

اِصطلاحی تعریف

اگر راوی اپنے ایسے اُستاد جس سے اس کا سماع یا معاصرت ثابت ہے وہ روایت عَن، أنَّ،قَال،حدَّث وغیرہ الفاظ سے بیان کرے، جسے درحقیقت اُس نے اپنے اُستاد کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے سنا ہے اور سامعین کو یہ خیال ہو کہ اس نے یہ حدیث اپنے اُستاد سے سنی ہوگی تو اسے 'تدلیس' کہا جاتا ہے۔ (معرفۃ أنواع علم الحدیث لابن الصلاح:ص۶۶)

تدلیس کی مرکزی قسمیں دوہیں:

A تدلیس الاسناد

اس کی دو تعریفیں ہیں:

a راوی کا اپنے اُستاد سے ایسی اَحادیث بیان کرنا جو دراصل اُس نے اِس اُستاد کے علاوہ کسی اور سے سنی ہیں۔

b راوی کا اپنے ایسے معاصر سے روایت کرنا جس سے اس کی ملاقات ثابت نہیں ہوتی اور ایسے صیغوں سے بیان کرنا جس سے یہ شبہ پیدا ہو کہ راوی نے مروی عنہ سے اس حدیث کی سماعت کی ہے۔

پہلی صورت کی تفصیل یہ ہے کہ راوی نے اپنے کسی شیخ سے چند اَحادیث بالمشافہ سماعت کی ہوتی ہیں مگر اس کے ہاں کچھ ایسی بھی اَحادیث ہوتی ہیں جنہیں اس شیخ سے بالمشافہ سماعت نہیں کیا ہوتا بلکہ اُس راوی سے سنا ہوتا ہے جس نے مدلس کے شیخ سے سنی ہوتی ہیں۔ وہ اس واسطہ کو گرا کر اپنے شیخ سے براہِ راست ایسے صیغوں سے بیان کرتا ہے جو صراحتاً اتصال پر دلالت کرتے ہیں اور نہ صراحتاً عدمِ اتصال پر ، مگر عرفِ عام میں وہ سماع پر محمول کیے جاتے ہیں۔اس صورت کے تدلیس ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔

دوسری صورت کی توضیح یہ ہے کہ راوی اپنے ایسے معاصرجس سے اس نے کچھ سنا نہیں ہوتا اور بسا اوقات اس کی مروی عنہ سے ملاقات ہی ثابت نہیںہوتی،سے ایسے ہی صیغوں سے بیان کرتا ہے جن میں سماع اور عدمِ سماع دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ اگر یہ مدلسین کوئی ایسا صیغہ استعمال کریں جو تحدیث یا سماع پر دلالت کرے اور اس میں تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہ ہو تو وہ صیغہ جھوٹ ہوگا جس کا مرتکب متروک درجے کا راوی ہوگا۔

حافظ ابن حجرؒ اور ان کے مابعد محدثین نے تدلیس الاسناد کی اس دوسری صورت کو 'اِرسال خفی' قرار دیتے ہوئے تدلیس سے خارج قرار دیا ہے۔ (النکت لابن حجر: ۲؍۶۱۴، ۶۲۲ تا۶۲۴)

مگر معلوم ہوتا ہے کہ 'ارسالِ خفی' بھی تدلیس کی ذیلی قسم ہے،مستقل قسم نہیں جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ فرمارہے ہیں۔

تدلیس الاسناد کی اس مختصر وضاحت کے بعد اب ہم اس کی ذیلی اَقسام کی طرف چلتے ہیںجس میں تدلیس التسویۃ، تدلیس السکوت، تدلیس القطع، تدلیس العطف اور تدلیس الصیغ شامل ہیں۔

a تدلیس التسویۃ

اس کی تعریف ہے کہ مدلس راوی اپنے کسی ایسے ثقہ اُستاد سے حدیث سنتا ہے جس نے وہ حدیث ضعیف راوی سے سنی ہوتی ہے اور وہ ضعیف راوی آگے ثقہ یا صدوق راوی سے اس حدیث کو بیان کرتا ہے۔گویا دو ثقہ راویوں کا درمیانی واسطہ ایک ضعیف راوی ہوتا ہے۔

مدلس راوی ان دونوں ثقہ راویوں کے درمیان سے ضعیف راوی کو گرا کر ثقہ کو ثقہ سے ملا دیتا ہے اور سند کو بظاہر عمدہ بنا دیتا ہے،کیونکہ پہلے ثقہ راوی کا دوسرے ثقہ راوی سے سماع ثابت ہوتا ہے یا کم از کم وہ دونوں ہم عصر ہوتے ہیں۔دیکھئے:( الکفایۃ :۲؍۳۹۰)

ایسا فعل صفوان بن صالح الدمشقي اور محمد بن مصفّٰی سے منقول ہے۔

تدلیس التسویۃ تدلیس کی بدترین قسم ہے۔ محدثین نے تدلیس کی جو شدیدمذمت کی ہے، ان اَسباب میںسے ایک سبب تدلیس التسویۃ بھی ہے۔

b تدلیس السکوت

تدلیس الاسناد کی ذیلی اقسام میں دوسری قسم یہ ہے کہ مدلس راوی حدثنا وغیرہ کہہ کر خاموش ہوجاتا ہے اور دل ہی میں اپنے شیخ کا نام لیتا ہے، پھر روایت آگے بیان کرنا شروع کردیتا ہے جس سے سامعین کو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حدثنا کا قائل وہی ہے جومدلس نے بہ آواز بلند ذکر کیا ہوتا ہے۔ ایسا فعل عمر بن عبید طنافسی سے مروی ہے۔ (النکت لابن حجر:۲؍۶۱۷) ابن حجرؒ نے مذکورہ کتاب میں اسے تدلیس القطع قرار دیا ہے۔

c تدلیس القطع

تدلیس الاسناد کی تیسری قسم تدلیس القطع ہے جس میں مدلس راوی صیغۂ اَدا حذف کردیتا ہے اور بطورِ مثال الزہري عن أنس پر اکتفا کرتا ہے۔ (تعریف أھل التقدیس لابن حجر :ص۱۶) اس تدلیس کو تدلیس الحذف بھی کہا جاتا ہے۔

d تدلیس العطف

چوتھی قسم تدلیس العطف ہے جس میں مدلس راوی اپنے دو اساتذہ، جن سے اس کا سماع ثابت ہوتا ہے، سے روایت بیان کرتاہے۔مگر وہ روایت اس نے صرف پہلے اُستاد سے سنی ہوتی ہے، اس لیے اس سے سماع کی تصریح کردیتا ہے اور دوسرے استاد کو پہلے اُستاد پر عطف کردیتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ میں نے یہ روایت ان دونوں اساتذہ سے سماعت کی ہے۔ جیسے ہشیم بن بشیر نے کہا:حدثنا حصین ومغیرۃ حالانکہ ہُشیم نے اس مجلس میں بیان کردہ ایک حرف بھی مغیرہ سے نہیں سنا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص۱۰۵،جزء في علوم الحدیث لأبي عمرو الداني: ص۳۸۲، ۳۸۳ رقم ۹۴)

e تدلیس الصیغ

پانچویں قسم یہ ہے کہ مدلس راوی اپنے شیخ سے روایت کرنے میں ایسے صیَغ اَدا استعمال کرتا ہے جس کے لیے وہ اصطلاحات وضع نہیں کی گئیں۔ مثلاً غیر مسموع روایت پر حدثنا کا اطلاق کرنا جیسے فطر بن خلیفہ کا طرزِ عمل تھا۔ (الضعفاء الکبیر للعقیلي:۳؍۴۶۵، فتح المغیث للسخاوي: ۱؍۲۱۱،۲۱۲)

اسی طرح إجازۃ بدون سماع والی روایت کو أخبرناسے بیان کرنا جیسے امام ابونعیمؒ اور دیگر اَندلسیوں کا یہی طریقہ تھا۔ (سیرأعلام النبلاء للذہبي:۱۷؍۴۶۰)

اسی طرح وِجادۃ پر حدَّثنا کا اطلاق کرنا جیسے اسحق بن راشد کا رویہ تھا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص۱۱۰)

یہ بات بھی فائدہ سے خالی نہیںہے کہ علامہ الشریف حاتم نے (المرسل الخفي:۱؍ ص۵۳۰،۵۳۱)میںاس نوع کے آٹھ مدلسین ذکر کیے ہیں اور شرح الموقظۃ للذہبيمیں نویں مدلس مسیب بن رافع کابھی اضافہ کیا ہے۔ (شرح موقظۃ الذہبي للعوني:ص۱۲۴)

Bتدلیس الشیوخ

مدلس راوی نے جس اُستاذ سے حدیث سنی ہوتی ہے، اس کا ایسا وصف بیان کرتا ہے جس سے اس کی شخصیت مجہول ہوجاتی ہے یا پھر سامعین کی توجہ اسی نام کے کسی دوسرے شیخ کی طرف مائل ہوجاتی ہے مثلاً وہ اس کا غیر معروف نام، کنیت، قبیلے یا پیشے کی طرف نسبت کردیتا ہے۔ تدلیس کی اس نوع میں صیغ اَدا میں تدلیس نہیں ہوتی اور نہ ہی سند سے کسی راوی کا اسقاط ہوتا ہے، محض شیخ کا نام وغیرہ تبدیل کردیا جاتا ہے۔ بنابریں ایسی تدلیس میںمدلس کا عنعنہ اور صراحت ِسماع دونوں یکساں ہیں۔

(معرفۃ أنواع علم الحدیث لابن الصلاح:ص۶۶، إرشاد طلاب الحقائق للنووي:۱؍۲۰۷،۲۰۸)

تدلیس الشیوخ کی ذیلی قسم تدلیس البلدان ہے جس کی تفصیل یہ ہے:

تدلیس البلدان

حافظ ابن جوزیؒ اس کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''بغداد میں ایک طالب ِحدیث داخل ہوا۔ وہ شیخ کو لے جاکر رقّہ میں بٹھاتا ہے، یعنی اس باغ میں جو دریاے دجلہ کے دونوں کنارے چلا گیا ہے اور شیخ کو حدیث سناتا ہے۔ پھراپنے حدیث کے مجموعے کو یوں لکھتا ہے کہ مجھ سے رقّہمیں فلاں فلاں شخص نے حدیث بیان فرمائی۔ اس سے وہ لوگوں کو وہم میں ڈالتا ہے کہ رقّہ سے وہ شہر مراد ہے جو ملک ِشام کی طرف ہے تاکہ لوگ یہ سمجھیںکہ اس محدث نے طلب ِحدیث میں دوردراز کے سفر کیے ہیں۔''

(تلبیس ابلیس لابن جوزی:ص۱۱۳)

مدلس کی روایت کا حکم او رامام شافعیؒ کے موقف کی توضیح

اب امام شافعیؒ اور دیگر محدثین کا مدلس کی روایت کے بارے میں موقف ملاحظہ فرمائیں:

امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

a '' جس شخص کے بارے میں ہمیںعلم ہوجائے کہ اس نے صرف ایک ہی دفعہ تدلیس کی ہے تو اس کا باطن اس کی روایت پر ظاہر ہوگیا۔

b اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مدلس کی حدیث اتنی دیر تک قبول نہیں کرتے جتنی دیر تک وہ حدثني یا سمعتُ (صراحت ِسماع ) نہ کہے۔''

(الرسالۃ للإمام الشافعي: ص۳۷۹، ۳۸۰، فقرہ:۱۰۳۳،۱۰۳۵)

امام شافعیؒ کے مذکورہ بالا کلام کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں فرمایا کہ جو راوی صرف ایک ہی بار تدلیس کرے، اس کی ہر معنعن روایت قابل ردّ ہوگی۔ گویا امام موصوف کے ہاں راوی کے سماع کی تتبع کے بعد تدلیس کا مکرر ہونا یا اس کی مرویات پر تدلیس کا غالب آنا شرط نہیں ہے بلکہ محض ایک بار تدلیس کا پایا جانا ہی کافی ہے۔

حافظ ابن رجبؒ نے بھی امام شافعیؒ کے اس قول کی یہی تعبیر کی ہے۔ (شرح علل الترمذي:۲؍۵۸۲-۵۸۳)

مدلس کی ایک ہی بار تدلیس کے حوالے سے حافظ ِمشرق خطیب بغدادیؒ کا بھی یہی موقف ہے۔(الکفایۃ للخطیب البغدادي: ۲؍۳۸۹-۳۹۰)

مدلس کی ایک بار تدلیس کے حوالے سے ان دونوں ماہر محدثین کے علاوہ کسی اور کا یہ موقف معلوم نہیں ہوسکا۔

امام شافعیؒ نے اپنے کلام کے دوسرے حصہ میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ مدلس راوی کی معنعن روایت قابل قبول نہیں ہے۔ یہی موقف متعدد محدثین کا بھی ہے،مگر ان کا یہ موقف کثیر التدلیس راوی کے بارے میںہے، صرف ایک بار والے مدلس راوی پر نہیں۔

ï بعض لوگوں نے حافظ ابن حبانؒ کا بھی یہی موقف بیان کیاہے۔ بلا شبہ حافظ ابن حبانؒ نے اسی مسلک کو اپناتے ہوئے یہ صراحت بھی فرمائی ہے کہ یہ امام شافعیؒ اور ہمارے دیگر اساتذہ کا موقف ہے۔ (مقدمۃ المجروحین لابن حبان:۱؍۹۲)

مگر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ ابن حبانؒ کا یہ موقف مطلق طور پر نہیں ہے،کیونکہ ان کے ہاں جو مدلس صرف ثقہ راوی سے تدلیس کرتا ہے، اس کی روایت سماع کی صراحت کے بغیربھی قبول کی جائے گی۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

''ایسا مدلس جس کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ صرف ثقہ ہی سے تدلیس کرتا ہے تو اس کی روایت عدمِ صراحت ِسماع کے باوجود قبول کی جائے گی۔ دنیا میں صرف سفیان بن عینیہ ایسے ہیں جو ثقہ متقن سے تدلیس کرتے ہیں۔ سفیان بن عینیہ سے مروی کوئی حدیث ایسی نہیںہے جس میںوہ تدلیس کریں اور اسی حدیث میںان کے اپنے جیسے ثقہ راوی سے سماع کی وضاحت موجود ہوتی ہے۔'' (مقدمہ صحیح ابن حبان:۱؍۹۰، الاحسان)

امام ابن حبانؒ کے قول سے یہ اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ موصوف کے ہاں جو صرف ثقہ سے تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ابنِ عیینہ ہیں۔ حالانکہ یہ مفہوم درست نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام ابن عیینہؒ اپنے ہی جیسے ثقہ متقن راوی سے تدلیس کرتے ہیں۔ عام ثقات سے تدلیس نہیںکرتے اور یہ عمومی قاعدہ ہے، اس سے وہ روایات مستثنیٰ ہوں گی جن میں تدلیس پائی جائی گی۔

دیگر محدثین کا امام شافعی وبغدادی سے اختلاف

a امام شافعیؒ اور حافظ بغدادیؒ کا مذکورۃ الصدر موقف محل نظر ہے بلکہ جمہور محدثین اور ماہرینِ فن کے خلاف ہے۔ جیسا کہ حافظ بدر الدین زرکشیؒ ۷۹۴ھ امام شافعیؒ کے اس قول کا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:''وھو نص غریب لم یحکمہ الجمہور''

(النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح للزرکشي:ص۱۸۸)

''یہ انتہائی غریب دلیل ہے، جمہور کا یہ فیصلہ نہیں۔''

b حافظ ابن عبدالبرؒ نے بھی امام شافعیؒ کے اس موقف کو اپنانے والوں پرافسوس کا اِظہار کیا ہے۔مشہور مالکی امام ابن عبدالبرؒ نے امام قتادہ بن دعامہ،جو تدلیس کرنے میں مشہورہیں، کے عنعنہ کومطلق طور پر ردّ کرنے والوں کا تعاقب فرمایا ہے۔ چنانچہ لکھتی ہیں:

''قال بعضھم قتادۃ إذا لم یقل: سمعتُ أو حدثنا فلا حجۃ في نقلہ وھٰذا تعسف'' (التمہید لابن عبدالبر:۱۹؍۲۸۷)

''بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ قتادہ جب سمعتُ یا حدثنا وغیرہ سے اپنے سماع کی صراحت نہ کریں تو ان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں، یہ انتہائی افسوس ناک موقف ہے۔''

یعنی حافظ ابن عبدالبرؒ کے ہاں امام قتادہؒ ایسے مشہور مدلس بھی جب روایت ِعنعنہ سے بیان کریں تو وہ مقبول الروایہ ہیں۔ ان کا عنعنہ اسی وقت ردّ کیا جائے گا جب اس میں تدلیس پائی جائے گی۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبرؒ دوسرے مقام پر رقم طراز ہیں :

''قتادۃ إذا لم یقل: سمعت وخُولف في نقلہ، فلا تقوم بہ حجۃ لأنہ یدلس کثیرًا عمن لم یسمع منہ، ورُبّما کان بینھم غیر ثقۃ''

'' قتادہ جب (سمعتُ) نہ کہیں اور ان کی حدیث دوسروں کے مخالف ہو توقابل حجت نہیں ہوگی،کیونکہ وہ بکثرت ایسوں سے بھی تدلیس کرتے ہیں جن سے سماع نہیں ہوتا اور بسا اَوقات اس (تدلیس) میں غیر ثقہ راوی بھی ہوتا ہے۔'' (التمہید لابن عبدالبر:۳؍۳۰۷)

حافظ صاحب کی ان دونوں نصوص کو سامنے رکھنے سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ امام ابن عبدالبر، قتادہ کے عنعنہ کو رد کرنے میںتدلیس شرط قرار دے رہے ہیں، بالفاظِ دیگر اِمام شافعیؒ کے موقف کی تردید بھی کررہے ہیں۔

امام شافعیؒ کا مدلسین کی روایات سے استدلال

اوپر آپ امام شافعیؒ کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ جو راوی ایک بار تدلیس کرے، اس کی سبھی معنعن روایات ناقابل قبول ہوں گی۔مگر اس اُصول کی انہوں نے خود مخالفت کی ہے:

a امام صاحب نے ابن جریج کی معنعن روایت سے استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے کتاب الرسالۃ للشافعی :ص۱۷۸ فقرہ ۴۹۸، ص۳۲۵ فقرہ۸۹۰ ،ص۳۳۰ فقرہ ۹۰۳ ،ص ۴۴۳ فقرہ۱۲۲۰)

حالانکہ ابن جریج سخت مدلس ہیں اور مجروحین سے بھی تدلیس کرتے ہیں۔ان کی ضعفا اور کذابین سے تدلیس کی وجہ سے محدثین ان کی مرویات کی خوب جانچ پرکھ کیا کرتے تھے۔جس کی تفصیل مُعجم المدلسین للشیخ محمد بن طلعت :ص۳۱۱ تا۳۲۰، التدلیس في الحدیث للشیخ مسفر:ص۳۸۳ تا ۳۸۶،بھجۃ المنتـفع للشیخ أبي عبیدۃ: ص۴۱۶تا۴۲۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔

bاسی طرح دوسری جگہ مشہور مدلس ابوالزبیر محمدبن مسلم بن تدرس کی معنعن روایت سے اِستدلال کیا ہے۔ دیکھئے کتاب الرسالۃ :ص۱۷۸ فقرۃ۴۹۸ ، ص۳۲۴ فقرۃ۸۸۹

یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ امام شافعیؒ نے ان دونوں اور دیگر مدلسین کی معنعن روایات سے استدلال کیوں کیاہے؟

امام شافعیؒ کے موقف کی وضاحت

امام شافعیؒ کے موقف کے بارے میں شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن سعد فرماتے ہیں:

''یہ کلام صرف نظریات کی حد تک ہے بلکہ ممکن ہے کہ امام شافعیؒ نے خود اس پر عمل نہ کیا ہو۔ اُنھوں نے اپنی اسی کتاب (الرسالۃ) میں متعدد مقامات پر ابن جریج کی معنعن روایت سے احتجاج کیا ہے۔اس حدیث میںامام شافعیؒ نے ابن جریج کی اپنے شیخ سے صراحت ِسماع ذکر نہیں کی،ایسے ہی ابوالزبیر کا معاملہ ہے۔''

اسی طرحشیخ ناصر بن حمد الفھد رقم طراز ہیں :

'' ائمۂ حدیث امام شافعیؒ کے اس قول کی موافقت نہیںکرتے جیسا کہ امام احمد، امام ابن مدینی، امام ابن معین اور امام فسوی رحمہم اللہ اجمعین کا موقف ہے۔ امام شافعیؒ اُمت کے فقہا اور علماے اسلام میں سے ہیں، مگر حدیث کے بارے میں ان کی معرفت ان حفاظ جیسی نہیں ہے، اور اگر ہم امام شافعیؒ کے قول کا اعتبار کریں تو ہمیں ایسی صحیح احادیث بھی ردّ کرنا ہوں گی جنہیں کسی نے بھی ردّ نہیں کیا یہاں تک کہ (امام شافعیؒ کی موافقت میں) شوافع نے بھی ردّ نہیں کیں بلکہ اُنہوں نے مدلسین کے مراتب قائم کیے ہیں۔''(معجم المدلسینشیخ محمد طلعت: ص۲۱۶،۲۱۷)

امام شافعیؒ کے قول کے جواب میں شیخ ابوعبیدہ مشہور بن حسن نے بھی اسی قسم کا جواب دیا ہے۔ دیکھئے التعلیق علی الکافی فی علوم الحدیث للأردبیلی:ص۳۸۹

ï علامہ زرکشیؒ کا نقد آپ اوپر پڑھ آئے ہیں کہ اُنہوں نے امام شافعیؒ کے اس قول کو غریب کہا ہے۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شافعیؒ کا یہ موقف محل نظر ہے۔

اس کے مزید دلائل درج ذیل ہیں:

پہلی دلیل:تدلیس کا حکم

تدلیس کا حکم لگانے سے قبل یہ متعین کرنا ضروری ہے کہ اس کی تدلیس کی نوعیت کیا ہے؟ اس بنا پرتدلیس اور اس کے حکم کو چار حصوں میںمنقسم کیا جائے گا:

پہلی قسم:یہ ہے کہ راوی اپنے استاد سے وہ اَحادیث بیان کرتا ہے جو اس نے مروی عنہ (جس سے روایت کررہا ہے) سے سنی نہیںہوتی، جب کہ مطلق طور پر اس کا سماع متحقق و یقینی ہوتاہے۔اس قسم کا حکم یہ ہے کہ مدلس کی ہر حدیث میں اس کے شیخ سے سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی، کیونکہ وہ جس حدیث کوبھی محتمل صیغہ سے بیان کررہا ہے، اس میں احتمال ہے کہ اس نے یہ حدیث اپنے اُستاد سے نہیں سنی۔ یہ حکم کثیر التدلیس مدلسین کا ہے۔

دوسری قسم:راوی اپنے ایسے ہم زمانہ سے حدیث بیان کرے جس سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی، مگر وہ جس صیغے سے بیان کرتا ہے، اس سے یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث بھی اس کی مسموعات میں سے ہے۔ تدلیس کی اس قسم کو حافظ ابن حجرؒ اِرسالِ خفی قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کے حکم کے بارے میں علامہ حاتم بن عارف الشریف رقم طراز ہیں:

''میں راوی کا عنعنہ اتنی دیر تک قبول نہیں کرتا جب تک اس کی مروی عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہوجاتی۔ اگرچہ یہ ملاقات یا سماع حدیث صرف ایک ہی حدیث سے ثابت ہوجائے تو میں اس راوی کی اس شیخ سے بقیہ اَحادیث سماع پر محمول کرتا ہوں، کیونکہ اس میں تدلیس کی جو قسم پائی جاتی ہے وہ ایسے معاصر سے روایت کرتا ہے جس سے سماع ثابت نہیں، اس لیے اگر ایک ہی حدیث میں سماع ثابت ہوجائے تو اس مخصوص شیخ سے تدلیس کا الزام ختم ہوجائے گا۔''

(شرح موقظۃ الذہبي للعوني:ص۱۲۶)

تیسری قسم:اس قسم میں 'تدلیس الشیوخ'ہے جس میں صیغِ اَدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کا حکم مدلس راوی کی معرفت پر موقوف ہوتاہے۔اگر وہ ثقہ ہے تو اس کی نقل کردہ چیز مقبول ہوگی اور اگر وہ ضعیف ہو تو اس کا نقل کردہ قول بھی لائق التفات نہیں ہوگا اور جو ہر مدلس کے عنعنہ کو رد کرتے ہیں، وہ تدلیس الشیوخ کے مرتکب مدلس اگرچہ وہ ثقہ ہوں کی عنعنہ کوبھی رد کردیں گے جو کہ درست نہیں۔

چوتھی قسم:اس میں تدلیس الصیغ (صیغوں میںتدلیس)ہے۔اس قسم میں بھی تدلیس کی نوع متعین کرنا ہوگی اور اس کے مرتکبین کوبھی ذہن نشین رکھنا ہوگا۔اس تدلیس کی تاثیر تدلیس الاسناد کی تاثیر سے مختلف ہے، کیونکہ تدلیس الاسناد میں تو راوی کا عنعنہ مردود ہوتا ہے اور جو آدمی تحمل حدیث میں روایت بالاجازۃ کو قبول نہیںکرتا، اس کے ہاں ایسے مدلس کی تصریح سماع قابل رد اور عنعنہ مقبول ہوگا۔ اس تدلیس کے حکم میں ان لوگوں کا بھی ردّ موجود ہے جو محض تدلیس سے موصوف ہر شخص کے عنعنہ کو مردود سمجھتے ہیں۔

دوسری دلیل:طبقاتِ مدلسین

امام شافعیؒ کے موقف کے برخلاف دوسری دلیل مدلسین کی طبقاتی تقسیم ہے۔ جواس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سبھی مدلسین کی تدلیس کا حکم یکساں نہیں۔بنابریں ان کی مرویات سے بھی جداگانہ سلوک کیا جائے گا۔ موصوف اور صفت کے تفاوت کی وجہ سے دونوں کا حکم بھی متغیر ہوگا۔اسی تفاوت کے پیش نظر امام حاکم ؒ نے مدلسین کی چھ اَقسام مقرر کی ہیں۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص۱۰۳ تا۱۱۲، نوع:۲۶)

امام حاکم کی پیروی دو محدثین نے کی،پہلے امام ابونعیمؒ صاحب ُالمستخرج ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے ذکر کیا ہے۔ (النکت لابن حجر:۲؍۶۲۲) دوسرے امام ابوعمروعثمان سعید دانی مقریؒ(۴۴۴ھ)ہیں۔دیکھئے جزء في علوم الحدیث: ص۳۸۱ تا۴۹۱ مع شرحہ القیم بھجۃ المنتفع از شیخ مشہور حسن

پھر حافظ علائیؒ نے مدلسین کے پانچ طبقے بنائے۔ (جامع التحصیل للعلائي:ص۱۳۰،۱۳۱)

انکی متابعت میں حافظ ابن حجرؒ نے طبقات المدلسین پرمشتمل کتاب تعریف أہل التقدیس میں اُنہیں جمع فرما دیا۔ حافظ ابن حجرؒ کی اس طبقاتی تقسیم کو اَساس قرار دے کر ڈاکٹرمسفربن غرم اﷲ دمینی نے کتاب التدلیس في الحدیث لکھی جو مطبوع اور متداول ہے۔بلکہ جنہوں نے بھی مسئلہ تدلیس کے بارے میں لکھا، اُنہوں نے ان پہلوؤں کو فراموش نہیں کیا۔یہاںاس غلط فہمی کا اِزالہ کرنا بھی ضروری ہے کہ حافظ ابن حجرؒ وغیرہ نے فلاں راوی کو فلاں طبقے میںذکر کیاہے حالانکہ وہ اس طبقے کا راوی نہیں، لہٰذا یہ طبقاتی تقسیم بھی درست نہیں۔

عرض ہے کہ کسی خاص راوی کے طبقے کی تعیین میں اختلاف ہوناایک علیحدہ بات ہے۔ اس سے مدلسین کی طبقاتی تقسیم پر کوئی زَد نہیں پڑتی بلکہ خود حافظ ابن حجرؒ نے النکت علی کتاب ابن الصلاح میں اپنی کتاب تعریف أھل التقدیسکے برخلاف رواۃ کے طبقات میںتبدیلی کی ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ معاملہ اجتہادی نوعیت کا ہے۔ گویا مدلسین کی اس تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مدلسین کی معنعن روایت مقبول ہوتی ہے اور بعض کی ردّ۔

تیسری دلیل:تدلیس کی کمی و زیادتی کی تاثیر

امام شافعیؒ کے موقف کے خلاف تیسری دلیل یہ ہے کہ محدثین حکم لگاتے ہوئے تدلیس کی قلت اور کثرت کا بھی اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ مدلسین کی معنعن روایات کا عمومی حکم اوپر بیان ہوچکا ہے کہ ایسی مرویات ضعیف ہوں گی، اِلا یہ کہ وہ مدلس راوی اپنے شیخ سے سماع کی صراحت کردے یا اس کا کوئی متابع یا شاہد موجود ہو۔مگر جو راوی قلیل التدلیس ہو،اس کی معنعن روایت مقبول ہوگی، بشرطیکہ وہ خود ثقہ ہو اور اس روایت میں نکارت نہ پائی جائے۔ اگر نکارت موجود ہو اور اس کا بظاہر کوئی اور سبب نہ ہو تو وہ (نکارت) تدلیس کا شاخسانہ قرار دی جائے گی۔ گویا ثقہ مدلس راوی کے عنعنہ کو تبھی تدلیس قرار دیا جائے گا جب اس کی سند یا متن میں نکارت پائی جائے گی۔ یہی فہم ناقدینِ فن کے اقوال سے مترشح ہوتا ہے۔

aامام ابن معینؒ کا فیصلہ

è امام یعقوب بن شیبہؒ (م ۲۶۲ھ) نے امام العلل یحییٰ بن معینؒ (م۲۳۳ھ) سے تدلیس کی بابت اِستفسار کیا تو امام ابن معینؒ نے تدلیس کو معیوب اور مکروہ جانا۔ امام ابن شیبہؒ نے امام العلل سے سوال کیا:

اگر مدلس اپنی روایت میں قابل اعتماد ہوتاہے یا وہ 'حدثنا' یا 'أخبرنا'کہے؟ یعنی اپنے سماع کی صراحت کرے۔امام صاحب نے انتہائی لطیف جواب ارشاد فرمایا جو اُن کے اس فن کے شہسوار ہونے پر دلالت کرتا ہے، فرمایا: لایکون حجۃ فیما دلَّس''جس روایت میں وہ تدلیس کرے گا، اس میں قابل اعتماد نہیں ہوگا۔'' (الکفایۃ البغدادي:۲؍۳۸۷ اِسنادہ صحیح، الکامل لابن عدی: ۱؍۴۸، التمہید لابن عبدالبر:۱؍۱۷،۱۸)

قارئین کرام! ذرا غور فرمائیں کہ امام ابن معینؒ نے مدلس کی روایت کے عدمِ حجت ہونے میں یہ قاعدہ بیان نہیں فرمایا کہ جب وہ روایت عنعنہ سے کرے تو تب وہ حجت نہیں ہوگا،بلکہ فرمایا کہ اس کی عنعنہ مقبول ہے مگر اس شرط پر کہ اس عنعنہ میںتدلیس مضمر نہ ہو۔ بصورتِ دیگر وہ روایت منکر اور ناقابل اعتماد ہوگی۔ یہی سوال امام یعقوبؒ نے امام ابن معینؒ کے ہم عصر امام علی بن مدینیؒ سے کیا۔

bامام ابن المدینیؒ کے ہاں تاثیر

è إمام العلل وطبیبھا علی بن مدینیؒ امام ابن شیبہ کے استفسار پر فرماتے ہیں:

''إذا کان الغالب علیہ التدلیس فلا، حتی یقول: حدثنا''

''جب تدلیس اس پر غالب آجائے تو تب وہ حجت نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنے سماع کی توضیح کرے۔'' (الکفایۃ للبغدادي:۲؍۳۸۷، اسنادہ صحیح، التمہید لابن عبدالبر:۱؍۱۸)

امام علی بن مدینیؒ نے اس جوابی فقرہ میں دو باتوں کی طرف نشاندہی فرمائی ہے:

اولاً: مدلَّس روایت حجت نہیں۔

ثانیاً: اس راوی کی جتنی مرویات ہیں، ان کے تناسب سے وہ بہت زیادہ تدلیس کرتاہے یعنی اس کی تدلیس مرویات پر غالب ہے تو اس کی روایت کے قبول کرنے میں یہ شرط لاگو کی جائے گی کہ وہ اپنے سماع کی صراحت کرے۔

امام ابن المدینیؒ کے کلام کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ قلیل التدلیس راوی کا عنعنہ مقبول ہوگا اِلا یہ کہ اس میں تدلیس ہو۔جیسا کہ امام سخاویؒ نے امام ابن مدینیؒ کے اس قول کی توضیح میں فرمایا ہے۔دیکھئے فتح المغیث للسخاوي:۱؍۲۱۶

cحافظ ابن رجبؒ کا موقف

èحافظ ابن رجبؒ امام شافعیؒ کا قول:''ہرمدلس کی عنعنہ مردود ہوگی'' ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

''امام شافعیؒ کے علاوہ دیگر محدثین نے راوی کی حدیث کے بارے میں تدلیس کے غالب ہونے کا اعتبار کیا ہے۔جب تدلیس اس پر غالب آجائے گی تو اس کی حدیث اسی وقت قبول کی جائے گی جب وہ صراحت ِسماع کرے۔ یہ علی بن مدینیؒ کا قول ہے جسے یعقوب بن شیبہؒ نے بیان کیا ہے۔'' (شرح علل الترمذي لابن رجب:۲؍۵۸۳)

حافظ ابن رجبؒ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کا رجحان بھی امام علی بن مدینیؒ وغیرہ کی طرف ہے۔

dامام احمدؒبن حنبل کا نظریہ

امام احمدؒ بھی اس مسئلہ میں دیگر ناقدین کے ہمدم ہیں، کیونکہ ہشیم بن بشیر الواسطی ابومعاویہ کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

''ثقۃ ثبت کثیر التدلیس والإرسال الخفي'' (التقریب:۸۲۳۲)

ان سے قبل حافظ علائیؒ نے اُنہیں مشہور بالتدلیس قرار دیاہے۔ (جامع التحصیل للعلائي:ص۱۲۸، رقم۵۷)

بلکہ امام احمدؒ نے اس کی مدلس روایات کی بھی بخوبی انداز میں نشان دہی فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو: کتاب العلل ومعرفۃ الرجال للامام احمد:فقرۃ:۶۴۴،۷۲۳، ۱۴۵۹،۲۱۲۷، ۲۱۲۹، ۲۱۳۲ تا۲۱۴۰ وغیرہ

یہاں تک کہ ہشیم خود فرماتے ہیں:

''جب میں تمہیں حدثنا یا أخبرنا سے بیان کروں تو اسے مضبوطی سے تھام لو۔'' (علل الامام احمد:فقرہ۲۱۳۴) مگر اس کے باوجود امام احمدؒ نے ہشیم کے عنعنہ پر توقف بھی کیا ہے۔ چنانچہ امام ابوداؤد فرماتے ہیں، میں نے امام احمدؒ سے سنا: حدیث ابن شبرمۃ،قال رجل للشعبي: نذرت أن أطلّق امرأتی لم یقل فیہ ہشیم: أخبرنا، فلا أدري سمعہ أم لا'' کہ'' اس حدیث میں ہشیم نے أخبرنا نہیںکہا،مجھے نہیںمعلوم کہ اس نے عبداللہ بن شبرمہ سے اس حدیث کو سنا ہے یا نہیں۔'' (مسائل الإمام أحمد تالیف ابی داؤد:ص۳۲۲)

اگرہرمدلس کا عنعنہ مردود ہوتا بالخصوص ہشیم ایسے راوی کا، تو امام احمدہشیم کے عنعنہ کے بارے میں کیوں توقف کرتے؟جس طرح بیسیوں روایات میںاس کی تدلیس کوواضح کیا ہے، جیسا کہعلل الإمام أحمد سے معلوم ہوتا ہے،اسی قاعدہ کی رُو سے ابن شبرمہ والی حدیث کے بارے میں فیصلہ کن نقد فرما دیتے،مگر امام احمدؒ نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ امام ابوداؤدؒ نے امام احمدؒ سے اس شخص کے بارے میںدریافت کیا جو تدلیس کی وجہ سے معروف ہے کہ جب وہ'سمعت' نہ کہے تو وہ قابل اعتماد ہوگا؟

امام احمدؒ نے فرمایا: ''مجھے نہیںمعلوم!''

میں نے پوچھا:اعمش کی تدلیس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس کے لیے کیسے الفاظ تلاش کیے جائیں گے (انکی ان مرویات کو کیسے اکٹھا کیا جائے گا جن میں سماع کی صراحت نہیں)

امام احمدؒ نے جواباً فرمایا: ''یہ کام بڑا مشکل ہے۔''

امام ابوداؤد نے فرمایا: أي إنک تحتج بہ ''آپ اعمش کی معنعن روایات کو قابل اعتماد گردانتے ہیں!'' (سؤالات أبي داؤد للامام احمدؒ:ص۱۹۹ ، فقرہ:۱۳۸)

گویا امام احمدؒ کا مقصود یہ ہے کہ ایسا راوی جو اپنی مرویات کے تناسب سے بہت کم تدلیس کرتا ہے تو اس کے عنعنہ کو محض اس وجہ سے ردّ نہیں کیا جائے گا کہ وہ مدلس راوی ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو بہت ساری مقبول اَحادیث بھی ردّ کرنا ہوں گی جو تشدد اور بے موقع سختی کا اِظہار ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اعمش اور ان جیسے دوسرے مدلسین کی معنعن روایات کو مطلق طور پر قبول کریں یہاں تک کہ کسی دلیل سے اس مخصوص حدیث میں تدلیس معلوم ہوجائے۔ مثلاً صحیح سند کے باوجود متنِ حدیث میں نکارت آجائے یا پھر کسی دوسری روایت میں اس شیخ سے عدمِ سماع کی صراحت کرے وغیرہ تو وہ مخصوص روایت ناقابل اعتبار ہوگی۔

مزید برآں امام احمدؒ کے قول: 'میں نہیں جانتا'سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سبھی مدلسین سے یکساں سلوک نہیں کیا جائے گا۔ سائل خواہش مند تھے کہ امام احمدؒ اس حوالے سے کوئی کلی قاعدہ بیان فرما دیں مگر امام احمد نے کوئی قاعدہ کلیہ نہیں بتا دیا۔

امام احمدؒ اِن دونوں(ہشیم اور اعمش) کی عنعنہ کا ردّ نہیں کررہے جو مشہور بالتدلیس ہیںتو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ قلیل التدلیس راوی کے عنعنہ کو بالاولیٰ سماع پر محمول کرتے ہیں۔ اِلا یہ کہ قلیل التدلیس راوی کی روایت میں تدلیس ثابت ہوجائے۔گویا یہ وہی منہج ہے جو امام ابن معینؒ، امام ابن مدینیؒ وغیرہ کا ہے۔جس پر امام یعقوب بن شیبہ نے سکوت فرما کر شیخین کی تائید کی ہے اور امام بخاری کا مذہب ہے۔

eامام بخاریؒ

امام بخاریؒ، سفیان ثوریؒ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

''ولا أعرف لسفیان الثوري عن حبیب بن أبي ثابت ولا عن مسلمۃ بن کھیل ولا عن منصور وذکر مشائخ کثیرۃ،ولا أعرف لسفیان عن ھولاء تدلیساً ما أقل؟؟ تدلیسہ (علل الترمذي:۲؍۹۶۶،التمہید لابن عبدالبر: ۱؍ ۳۵،جامع التحصیل للعلائي:ص۱۳۰، النکت لابن حجر:۲؍۶۳۱)

امام بخاریؒ کا یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ تدلیس کی کمی اور زیادتی کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ امام بخاریؒ نے یہ نہیں فرمایا کہ سفیان ثوریؒ جن اَساتذہ سے تدلیس نہیںکرتے، ان سے معنعن روایت بھی بیان نہیں کرتے۔بلکہ یہ فرمایا:

''سفیان ثوری کی ان شیوخ سے تدلیس کو میں نہیں جانتا۔''

اور یہ بات بھی انتہائی بعید ہے کہ سفیان ثوری کی ان شیوخ سے سبھی مرویات جو امام بخاریؒ تک پہنچی ہیں، وہ سماع یا تحدیث کی صراحت کے ساتھ ہوں،بلکہ سفیان ثوری کی ان شیوخ سے معنعن روایات کا موجود ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ مگر اس کے باوجود امام بخاریؒ نے سفیان ثوری کی ان سے معنعن روایات پر تنقید نہیں کی۔بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امام صاحب نے سفیان کی ان سے معنعن روایات کو اتصال پرمحمول کیا ہے۔

امام بخاریؒ نے مدلس (تدلیس والی) روایات کا تتبع کیا ہے ۔ ایسی مرویات کا نہیں جن میں سماع اور تدلیس دونوں کا احتمال ہو۔اگر امام بخاریؒکا مذکورہ بالا کلام تدلیس اور تدلیس کے احتمال دونوں کامحتمل ہوتا تو امام صاحب کا یوں کہنا زیادہ مناسب تھا:''سفیان ثوری نے ان شیوخ سے سماع اور تحدیث کی صراحت کی ہے۔''مگر امام صاحب نے ایسا نہیںفرمایا۔

ïیہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ نے ثوریؒ کی ان شیوخ سے روایات میں اصل 'اتصالِ سند' کو رکھا ہے تاآنکہ کسی روایت میںصراحتاً تدلیس ثابت ہوجائے؟یاپھر ثوری کی ان سے روایات میں اصل انقطاع ہے یہاں تک کہ ہرہر حدیث میں سماع یا تحدیث کی صراحت موجود ہو؟

اوّلا:اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے امام ثوری کی ان شیوخ سے روایات کو سماع پر محمول کیا ہے تاآنکہ کسی قرینے سے معلوم ہوجائے کہ یہ روایت مدلس ہے جیسا کہ دیگر ماہرین فن کا اُسلوب ہے۔

ثانیاً :چونکہ سفیان ثوری کو امام بخاریؒ سے قبل متعدد محدثین نے مدلس قرار دیا ہے جن میں امام یحییٰ بن سعید القطان بھی شامل ہیں۔ (التاریخ لابن معین:۳؍۳۷۴، فقرہ ۱۸۲۲، روایۃ الدوري،العلل ومعرفۃ الرجال للامام احمد: ۱ ؍۲۴۲، فقرہ۳۱۸)

جس بنا پر امام بخاریؒ جانتے تھے کہ ثوری مدلس ہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ ان کی تدلیس کی ماہیت کیا ہے؟ جس کے پیش نظر امام صاحب نے ثوری کی سبھی روایات کا استقرا کیا اور پھر ِٖ نتیجہ نکالا کہ ثوری قلیل التدلیس ہیں، لہٰذا ان کا عنعنہ سماع پر محمول کرتے ہوئے قبول کیا جائے گا۔ مدلس روایت اس سے مستثنیٰ ہوگی۔

ثالثا ً:امام بخاریؒ کے اس قول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام ثوری ان نامزد اور دیگر متعدد شیوخ سے بھی تدلیس نہیںکرتے۔

امام بخاریؒ کے شاگرد امام مسلم ؒ کا قول اس مسئلہ میں دلیل قطعی ہے۔

fامام مسلمؒ کی صراحت

امام مسلمؒ رقم طراز ہیں:

إنما کان تفقد من تفقد منھم سماع رواۃ الحدیث ممن روی عنھم إذا کان الراوي ممن عرف بالتدلیس في الحدیث وشھر بہ، فحینئذ یبحثون عن سماعہ في روایتہ ویتفقدون ذلک منہ،کي تنزع عنہم علۃ التدلیس

''محدثین نے جن راویوں کے اپنے شیوخ سے سماع کا تتبع کیا ہے، وہ ایسے راوی ہیں جو تدلیس کی وجہ سے شہرت یافتہ ہیں۔ وہ اس وقت ان کی روایات میں صراحت ِسماع تلاش کرتے ہیں تاکہ ان سے تدلیس کی علت دور ہوسکے۔'' (مقدمہ صحیح مسلم:ص۲۲، طبع دارالسلام)

امام مسلمؒ کا یہ قول اس بارے میں نص صریح ہے کہ صراحت ِسماع صرف ان راویوں کی تلاش کی جائے گی جو بکثرت تدلیس کرتے ہیں اور ان کی شہرت کی وجہ ان کامدلس ہونا ہی ہے۔ گویا قلیل التدلیس راوی کا عنعنہ مقبول ہوگا ماسوائے مدلس (تدلیس والی) روایت کے۔

حافظ ابن رجبؒ امام مسلمؒ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اس قول میں احتمال ہے کہ امام صاحب کامقصود یہ ہے کہ اس راوی کی حدیث میںتدلیس کی کثرت ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ امام صاحب اس قول سے مراد تدلیس کا ثبوت اور صحت لے رہے ہوں۔ اس صورت میں امام مسلمؒ کا قول امام شافعیؒ کے قول کے مترادف ہوگا۔''

(شرح علل الترمذي لابن رجب:۲؍۵۸۳)

حافظ ابن رجبؒ کے اس قول کے حوالے سے عرض ہے کہ ان کا ذکر کردہ پہلا احتمال امام مسلمؒ کے منہج کے عین مطابق ہے، کیونکہ تدلیس کی بنا پر راوی اسی وقت مشہور ہوگا جب وہ کثرت سے کرے گا۔ رہا ایک حدیث میںتدلیس کرنا یا ایک ہی بار تدلیس کرنا تو اس سے تدلیس میں شہرت نہیںمل سکتی۔

ان متقدمین کے علاوہ متعدد متاخرین بھی تدلیس کی کمی اور زیادتی کا اعتبار کرتے ہیں۔ امام حاکمؒ، امام ابونعیمؒ، امام ابوعمرو الدانیؒ، حافظ علائیؒ اور حافظ ابن حجرؒ وغیرہ کے حوالے سے ہم ''دوسری دلیل: طبقاتی تقسیم'' کے تحت عرض کرچکے ہیں۔ جبکہ حافظ ابن حجرؒ کے حوالے سے مزید عرض ہے:

gحافظ ابن حجرؒ

موصوف بھی تدلیس کی کمی اور زیادتی کا اعتبار کرتے ہیں۔ جس کی تائید ان کی مدلسین کی طبقاتی تقسیم بھی کرتی ہے۔ بلکہ اُنہوں نے مقدمہ کتاب طبقات المدلسین اور النکت علی کتاب ابن الصلاح(ج۲ ص۶۳۶تا۶۴۴) میںاس کی صراحت بھی فرمائی ہے۔

حافظ ابن حجرؒ یحییٰ بن ابی حیہ کلبی کے بارے میں محدثین کی جرح کی تلخیص کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ضعفوہ لکثرۃ تدلیسہ ''محدثین نے کثرتِ تدلیس کی بنا پر اسے ضعیف قرار دیا ہے۔'' (التقریب:۸۴۸۹)

اس قول سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کثرتِ تدلیس بھی باعث ِجرح ہے۔ یادرہے کہ حقیقی مدلس وہی ہوتا ہے جو تدلیس کثرت سے کرے۔یہی رائے دیگر بہت سے معاصرین کی ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی نشاندہی بھی کردی جائے گی۔

قارئین کرام! ان ناقدین کے اقوال سے یہ بات بخوبی سامنے آچکی ہے کہ تدلیس کا حکم لگانے سے پہلے یہ تعیین کرنا ضروری ہے کہ وہ راوی قلیل التدلیس تو نہیں، کیونکہ اس کی معنعن روایت قبول کی جائے گی، الا یہ کہ کسی خاص حدیث میںتدلیس کا وجود پایا جائے۔

یہ اَقوال ان لوگوں کے موقف کی ترجمانی نہیںکرتے جو ایک ہی بار کی تدلیس کی وجہ سے ہر معنعن روایت کو قابل ردّ قرار دیتے ہیں اور جو مطلق طور پر ہرمدلس کی معنعن روایت کو لائق التفات نہیںسمجھتے۔ اب امام شافعیؒ کے موقف کے خلاف چوتھی دلیل ملاحظہ ہو:

چوتھی دلیل:ثقات سے تدلیس کی تاثیر

محدثین کے ہاں جس طرح تدلیس کی کمی اور زیادتی کی بنا پر معنعن روایت کا حکم بدل جاتا ہے، اسی طرح ثقہ یا ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرنے کی وجہ سے حکم مختلف ہوجاتا ہے۔ جو مدلسین صرف ثقہ راویان سے تدلیس کریںتو ان کی عنعنہ مقبول ہوگی۔

a یہی موقف حافظ ابوالفتح الازدیؒ (الکفایۃ للخطیب البغدادي: ۲؍۳۸۶،۳۸۷ رقم ۱۱۶۵، النکت للزرکشي:ص۱۸۹،النکت لابن حجر:۲؍۶۲۴، فتح المغیث للسخاوي: ۱؍۲۱۵)

b حافظ ابو علی الحسین بن علی بن زید الکرابیسیؒ۲۴۸ھ (شرح علل الترمذی لابن رجب: ج۲ص۵۸۳)

c حافظ بزارؒ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح للزرکشي:ص۱۸۴، فتح المغیث للعراقي:ص۸۰-۸۱،النکت لابن حجر:۲؍۶۲۴،فتح المغیث للسخاوي:۱؍ ۲۱۵، تدریب الراوی للسیوطي:۱؍۲۲۹)

d ابوبکر صیرفیؒ نے الدلائل والأعلام میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (النکت للزرکشي: ص۱۸۴،فتح المغیث للعراقي:ص۸۱،النکت لابن حجر:ج۲؍ ص۶۲۴) وغیرہ

e حافظ ابن عبدالبرؒ (التمہید : ج۱؍ ص۱۷)

f قاضی عیاضؒ (مقدمۃ إکمال المعلم بفوائد مسلم:ص۳۴۹)

g حافظ علائیؒ (جامع التحصیل:ص۱۱۵)

h امام ذہبیؒ (الموقظۃص۱۰۷، مع شرحہ للشیخ الشریف حاتم العونی)

i شیخ الشریف حاتم بن عارف العونی (المرسل الخفي وعلاقتہ بالتدلیس:ج۱ ص۴۹۲)

j شیخ صالح بن سعید الجزائری (التدلیس واحکامہ و آثارہ النقدیۃ:ص۱۱۳،۵۰)

گویا جو حضرات ہر مدلس کا عنعنہ کو ردّ کرتے ہیں، ان کا یہ موقف محل نظر ہے۔

ان کے موقف کے خلاف پانچویں دلیل پیش خدمت ہے۔

پانچویں دلیل:طویل رفاقت کی تاثیر

جو مدلس راوی کسی استاد کے ساتھ اتنا طویل زمانہ گزارے جس میں وہ اس کی تقریباً سبھی مرویات سماعت کرلے، اگر کچھ مرویات رہ بھی جائیں اور وہ انتہائی تھوڑی مقدار میں ہوں۔ ایسے مدلس کی ایسے شیخ سے تدلیس انتہائی نادر بلکہ کالمعدوم ہوتی ہے۔ کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میںتدلیس کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس کے عنعنہ کو سماع پر محمول کیا جاتاہے، الا یہ کہ کسی خاص روایت میں تدلیس ثابت ہوجائے۔

امام حاکم ؒ نے مدلسین کی پانچویں جنس میں اِنہیں مدلسین کاتذکرہ کیا ہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث:ص۱۰۸،۱۰۹)

مذکورہ بالا دعویٰ کی دلیل امام حمیدیؒ کی عبارت ہے:

''اگر کوئی آدمی کسی شیخ کی مصاحبت اور اس سے سماع میں معروف ہو جیسے a ابن جریج عن عطا b ہشام بن عروۃ عن ابیہ c اور عمرو بن دینارعن عبید بن عمیر ہیں۔ جو اِن جیسے ثقہ ہوں اور اکثر روایات میں اپنے شیخ سے سماع غالب ہو تو کوئی ایسی حدیث مل جائے جس میںاس نے اپنے اور اپنے شیخ کے مابین کسی غیر معروف راوی کو داخل کیا ہو یا پہلے سے موجود ایسے راوی کو گرایا ہو تو اس مخصوص حدیث، جو اس نے اپنے اُستاد سے نہیں سنی، کو ساقط الاعتبار قرار دیا جائے گا۔ یہ تدلیس اس حدیث کے علاوہ دیگر احادیث میںنقصان دہ نہیں ہوگی، یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے کہ موصوف نے اس میں بھی تدلیس کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر یہ مقطوع کی مانند ہوگی۔'' (الکفایۃ للخطیب البغدادي:۲؍۴۰۹رقم ۱۱۹۰،اسنادہ صحیح باب فی قول الراوی حدثنا عن فلان)

امام حمیدیؒ کے قول کا مدلول واضح ہے البتہ ان کی پیش کردہ تین مثالوں پرتبصرہ ناگزیر ہے:

پہلی مثال اور ابن جریج کی تدلیس:امام حمیدیؒ کی ذکر کردہ پہلی مثال (ابن جریج عن عطا) کی توضیح یہ ہے کہ عطا بن ابی رباح سے ان کی روایت سماع پر محمول کی جائے گی۔(التاریخ الکبیر لابن أبی خیثمۃ :ص۱۵۷ تحت رقم:۳۰۸) بلکہ عطاء سے روایت کرنے میں یہ أثبت الناس ہیں۔ (التاریخ یحییٰ بن معین: ۳؍۱۰۱ فقرہ:۴۱۷۔ روایۃ الدوري، مزید دیکھئے: معرفۃ الرجال لابن معین: رقم۵۵۴، ۱۴۴۷۔ روایہ ابن محرز)

امام احمدؒ نے ابن ابی رباح سے روایت کرنے میں عمرو بن دینار کو ابن جریج پرمقدم کیا ہے۔ جیسا کہ ان کے بیٹے امام عبداللہ (العلل و معرفۃ الرجال: ج۲ ص۴۹۶ فقرہ :۳۲۷۲) اور شاگرد امام میمونیؒ [العلل ومعرفۃ الرجال:ص۲۵۰ فقرہ:۵۰۵] اور صاحب السنن امام ابوداؤد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ (سؤالات أبي داؤد للامام احمد:ص۲۲۹، فقرہ۲۱۴)

گویا امام احمدؒ کے ہاں عمرو بن دینار اور ابن جریج دونوں ہی عطا بن ابی رباح کے اخص شاگرد ہیں۔اس کے سبب کے بارے میں خود ابن جریج فرماتے ہیں کہ میںنے عطا کے ساتھ ستر برس کا طویل عرصہ گزارا۔(تہذیب التہذیب لابن حجر:۶؍۴۰۴،التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمۃ :ص۱۵۲ تحت رقم۲۹۸) میں ابن جریج کا قول مذکور ہے کہ میں نے حضرت عطا کی بائیں جانب بیٹھ کر بیس برس تک زانوے تلمذ تہہ کیا۔

حالانکہ ابن جریج زبردست مدلس ہیں۔حافظ ابن حجرؒ نے اُنہیں مدلسین کے تیسرے طبقے میں ذکر کیا ہے۔ (طبقات المدلسین :ص۵۵،۵۶۔الظفر المبین) ان کے بارے میں محدثین کے اقوال ملاحظہ ہوں: (معجم المدلسین للشیخ محمد طلعت:ص۳۱۱ تا۳۲۰، بھجۃ المنتفح للشیخ أبي عبیدہ: ص۴۱۶- ۴۲۰)

مگر اس کے باوجود امام حمیدیؒ ابن جریج عن عطا کو سماع پرمحمول کررہے ہیں جو ہمارے دعویٰ کی دلیل ہے۔

دوسری مثال:امام حمیدیؒ نے دوسری مثال ہشام بن عروۃ عن ابیہ کی بیان کی ہے۔ ہشام کو حافظ ابن حجرنے مدلسین کے پہلے طبقے میں شمار کیا ہے یعنی جن کی تدلیس نادر ہوتی ہے۔(طبقات المدلسین لابن حجر:ص۳۰،ترجمہ۳۰)مگر راجح قول کے مطابق وہ مدلس نہیں ہیں۔(التنکیل للمعلمی:ج۱ص۵۰۳)

عدمِ نشاط کی وجہ سے کبھی کبھار اپنے والد محترم سے ارسال کرلیا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو: اسلام اور موسیقی پر'اشراق' کے اعتراضات کا جائزہ از اُستاد ارشاد الحق اثری (ص۲۰ تا۲۳)

ہشام بن عروۃ عن أبیہ انتہائی معروف سلسلۂ سند ہے۔

تیسری مثال:امام حمیدیؒ نے تیسری مثال عمرو بن دینار عن عبید بن عمیر کی بیان کی ہے۔ عمرو بن دینار کے جس عمل کو تدلیس قرار دیا گیا ہے، وہ درحقیقت ارسال ہے۔

(التنکیل للمعلمي: ج۲ ص۱۴۶،۱۴۷)

مگر امام حمیدیؒ کی بیان کردہ اس مثال کی دلالت واضح نہیں ہوسکی، کیونکہ امام عبید کی وفات کے وقت امام عمرو بن دینار کی عمر بائیس برس تھی۔ ممکن ہے کہ وہ آٹھ، دس برس اپنے شیخ کی رفاقت میں رہے ہوں۔ مگر اس کی صراحت نہیں مل سکی تاہم امام حمیدیؒ کا قول اس پر دلالت کرتا ہے۔

بہرحال امام حمیدیؒ کی ذکر کردہ تینوں مثالوں میں سے پہلی مثال ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے کہ جو مدلس راوی کسی شیخ کی رفاقت میں معروف ہو تو اس شیخ سے معنعن روایت سماع پر محمول کی جائے گی اگرچہ وہ کثیرالتدلیس مدلس ہی کیوں نہ ہو اور اس کی تدلیس والی روایت قابل اعتبار نہیں ہوگی۔

امام شافعی کے موقف کے خلاف چھٹی دلیل یہ ہے:

چھٹی دلیل: مخصوص اَساتذہ سے تدلیس

کچھ مدلسین مخصوص اَساتذہ سے تدلیس کرتے ہیں۔ اس لیے ان مدلسین کی مخصوص اَساتذہ سے روایت میں سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی، باقی شیوخ سے روایات سماع پر محمول کی جائیں گی۔ اس کی معرفت کے ذرائع دو ہیں:

a کوئی ناقد ِفن یہ صراحت کردے کہ یہ راوی صرف فلاںفلاں سے تدلیس کرتا ہے۔ یا یہ کہ فلاں سے تدلیس نہیںکرتا۔

b محدثین ناقدین کے تعامل کی روشنی میں یہ بات طے کی جائے کہ یہ فلاں سے تدلیس کرتا ہے اور فلاں سے نہیںکرتا۔

تنبیہa: صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات صحیح ہیں۔

تنبیہb:بعض مدلسین سے ان کے مخصوص شاگردوں کی معنعن روایت سماع پرمحمول کی جاتی ہے۔جس طرح امام شعبہ کی قتادۃ بن دعامہ سے۔ ( مسند ابی عوانہ:۲؍۳۸)

خلاصہ

ہماری اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ امام شافعیؒ کے ہاں جس راوی نے بھی زندگی میں ایک بار تدلیس کی یا کسی حدیث میںتدلیس ثابت ہوگئی تو اس کی عنعنہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی، یہی موقف خطیب بغدادیؒ کا ہے۔

مگر یہ موقف ناقدین فن کے موقف کے برعکس ہے۔اس لیے مرجوح ہے، کیونکہ:

a محدثین کے ہاں تدلیس کی متعدد صورتیں ہیں جس کے متعدد احکام ہیں۔

b مدلسین کی طبقاتی تقسیم اس کی مؤید ہے۔

c تدلیس کی کمی وزیاتی کا اعتبار کرنا ضروری ہے۔

d ثقہ اور ضعیف راویوں سے تدلیس کرنے کا حکم یکساں نہیں۔

e مدلس راوی کسی ایسے شیخ سے عنعنہ سے بیان کرے جس سے اس کی صحبت معروف ہو تو اسے سماع پر محمول کیا جائے گا۔

f جو مدلس راوی مخصوص اساتذہ سے تدلیس کرے تو اس کی باقی شیوخ سے روایت سماع پر محمول قرار دی جائے گی۔

g اگر کثیر التدلیس مدلس روایت کو عنعنہ سے بیان کرے تو اس کے سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی۔یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہئے کہ محدثین بعض کثیر التدلیس مدلسین کی عنعنہ کو بھی قبول کرتے ہیں جب اس عنعنہ میں تدلیس مضمر نہ ہو۔

h جس مدلس کی روایت میںتدلیس ہوگی تو وہ قطعی طور پرناقابل قبول ہوگی۔ اس نکتہ پرجمہور محدثین متفق ہیں۔خواہ وہ مدلس قلیل التدلیس ہو، صرف ثقات یا مخصوص اساتذہ سے تدلیس کرنے والا ہو، وغیرہ

یاد رہے کہ تدلیس کے شک کااِرتفاع صراحتِ سماع سے زائل ہوجائے گایامتابع یاشاہد تدلیس کے شبہ کو زائل کرے گا۔یہی متقدمین ومتاخرین کا منہج ہے جس پرانکے اقوال اور تعاملات شاہدہیں۔