YOUR INFO

Showing posts with label ام المومنین. Show all posts
Showing posts with label ام المومنین. Show all posts

Friday, 1 March 2013

ام المومنین سیّدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا

0 comments
ام المومنین سیّدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا
از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
ام المومنین سید ہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ازواج مطہرات رضی اللہ علیھن میں کئی ایک امتیازی خصوصیات حاصل ہیں:
٭وہ حرمِ نبویۖ میں آنے والی واحد مصری خاتون تھیں۔
٭ان کا آبائی تعلّق عیسائی مذہب سے تھا۔
٭وہ شاہی گھرانے سے تعلّق رکھتی تھیں۔
٭انہیں ایک بادشاہ نے نبی کریم ۖ کی خدمت میں بھیجا تھا۔
٭نہ صرف یہ بلکہ ان کا ذکرِ مبارک اشارے کنایوں ہی میں سہی ''زبور''میں بھی آیا ۔ چنانچہ نبی کریم ۖ کے حوالے سے جومختلف پیشین گوئیاں بائبل کے مختلف مقامات پر آئی ہیں ان میں سے ایک پیش گوئی یہ بھی ہے:
''تیری معزز خواتین میں شاہزادیاں ہیں۔ملکہ تیرے دہنے ہاتھ اوفیر کے سونے سے آراستہ کھڑی ہے۔''(زبور:٤٥:٩-١٠)

قاضی سلیمان سلمان منصور پوری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
''داہنے ہاتھ کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے یہ ''ملکِ یمین کا ترجمہ ہے'' سب مؤرخین ماریہ خاتون (رضی اللہ عنہا)کو ملک یمین بتاتے ہیں پیش گوئی بالا میں پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ شاہزادی ہونگی اور ان کا آنا ملک یمین کی شان میں ہوگا۔'' ]رحمة اللعالمین ۖ :٢/٩٩(حاشیہ) 
زبور کی عبارت سے یہی عیاں ہوتا ہے کہ ایک خاتون جو خانوادئہ شاہی سے تعلّق رکھتی ہونگیں وہ نبی کریم ۖ کی خدمت میں پیش کی جائیں گی ۔چنانچہ یہی ہوا شاہِ مقوقس نے نبی کریمۖ کے نام اپنے نامۂ مبارک میں لکھا:
'' بعثتُ الیک بجاریتین لھما فی القبط مکان عظیم ۔''
''میں نے دو لڑکیاں آپ(ۖ) کے پاس بھیجی ہیں۔ جن کامرتبہ قبطیوں میں عظیم ہے۔''
جاریہ کا اطلاق صرف کنیزوں پر نہیں ہوتااور کنیز کے لیے یہ کہنا کہ وہ صاحبِ مرتبہ ہے محض تفنن ہی تو ہے۔پھر معاملے کے سیاسی پہلو بھی پیشِ نظر ہونے چاہئیں۔ایک سربراہِ مملکت دوسرے سربراہِ مملکت کو کنیز روانہ کرے اور وہ اس کنیز کو اپنے لیے مخصوص کرلے یہ ایک عام سی بات ہوسکتی ہے،تاہم ایک عام بادشاہ بھی کنیز کو اپنی ملکہ نہیں بنائے گا۔ مقام نبوت تو اس سے کہیں بلند ہے کہ نبی کریم ۖ نہ صرف یہ کہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ازواجِ مطہرات جتنادرجہ دیں بلکہ فیصلۂ الٰہی بھی یہ قرار پائے کہ کل عرصہ نبوت میں صرف ان ہی کے بطن سے نبی کریم ۖکی اولاد ہو۔

بایں ہمہ اپنااپنا زاویۂ فکر و نظر ہے اگر شاہِ مقوقس کے خط سے کہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ ماریہ ایک کنیز ہیں تو یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خانوادئہ شاہی کی رکن بھی ہیں جو قبطیوں میں عظیم المرتبہ ہیں۔ان کا شاہزادی بن کر کسی بادشاہ کے حرم میں جانے سے کہیں برتر یہی تھا کہ وہ کنیز بن کر نبی کریم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔لیکن قدرت الٰہی نے نہ صرف انہیں نبی کریم ۖ کے حقیقی فرزند کی ماں بنایا بلکہ انہیں مومنین کی ماںکا درجہ بھی عطا فرمایا۔
افسوس تو اس امر کا ہے کہ مسلمان مورخینِ سیرت بھی حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کو محض ایک ''لونڈی /کنیز''قرار دیتے رہے۔

اس حقیقت سے بھی نظر یں نہیں چرائی جاسکتی کہ اگر سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا سیدنامحمد بن عبد اللہ ہاشمی ۖ کے اولاد کی والدئہ مکرمہ ہیں تو سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سیدنا محمد رسول اللہ ۖ کے فرزندِ ارجمند کی والدئہ ماجدہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شرف ہے جو صرف انہی کو حاصل ہے۔

گو بعض مورخینِ سیرت کی تحقیق کے مطابق سیدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا بعثتِ نبوت کے بعد پیدا ہوئی ہیں تاہم یہ امر مختلف فیہ ہے ۔جبکہ حضرت ابراہیم کا عہدِ رسالت میں پیدا ہونا قطعاً محتاجِ ثبوت نہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭
یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان مصنفینِ سیرت بھی سارا زور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ''شرفِ کنیزی''پر لگاتے ہیں۔انہیں معاملے کے دوسرے پہلو نظر نہیں آتے ہیں یا شاید وہ قصداً اعراض کرتے ہیں ۔

حضرت صفیہ، حضرت جویریہ اور حضرت ریحانہ رضی اللہ علیھنَّ یہ تمام ہی مختلف غزاوت میں مغلوب ہوکر آئیں تھیں۔نبی کریم ۖ نے انہیں اپنی زوجیت کا شرف بخشا۔تمام مسلمان ہی انہیں ام المومنین کا درجہ دیتے ہیں۔اس کے برعکس یہ خیال رہے کہ ام المومنین ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کسی غزوے میں قیدی کی حیثیت سے نہیں آئی ہیں۔معلوم نہیں ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک رَوا رکھنے کی کیا وجہ رہی؟
گو مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے ''تفہیم القرآن''میں لکھا ہے:
''حضرت ماریہ سے بربنائے مِلک یمین تمتّع فرمایا، ان کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ آپ ۖ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کیا ہو۔'' ]تفہیم القرآن :٤/١١٤[
لیکن کیا نبی کریم ۖ کی بقیہ ازواج سے کیے گئے نکاح کی بھی کوئی تفصیل ملتی ہے؟کیا تقاریبِ ولیمہ اوردیگر پیام و قبول کی جزئیات سے بھی آگاہی ہوتی ہے؟
ہمارے نزدیک نبی کریمۖ کا سیّدہ ماریہ قبطیہ کو اپنے حرم میں شامل کر لینا اور ان کے ساتھ بعینہ وہی سلوک رَوا رکھنا جو دوسری ازواج کے ساتھ تھا ،انہیں ازواج مطہرات کی صف میں شامل کرنے کے لیے کافی ہے۔
پھر مولانا مودودی کا یہ دعویٰ بھی ہرلحاظ سے کامل نہیں ہے ۔چنانچہ امام حاکم نے اپنی ''مستدرک''میں مصعب بن عبداللہ الزبیری سے روایت کیا ہے : 
'' ثم تزوج رسول اللّٰہ ماریة بنت شمعون و ھی التی اھداھا الیٰ رسول اللّٰہ المقوقس صاحب الاسکندریة ۔''
''پھر شادی کی رسول اللہ ۖنے ماریہ بنت شمعون سے اور یہ وہی ہیں جن کو ''رخصت'' کیا تھا مقوقس والیِ اسکندریہ نے رسول اللہۖ کی طرف ۔'' ] 
المستدر ک للحاکم:٤/٤١ 
گو یہ روایت اسناداً موقوف ہے مگر اسے پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ دعویٰ کہ سیدہ ماریہ سے نکاح کا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا، درست نہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭

سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے '' شرفِ کنیزی ''کے ثبوت میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بھی خاصی مشہور ہے:
'' لما ولدت ماریة القبطیة ابراھیم ابن النبی ۖ قال رسول اللّٰہ ۖ : أعتقھا ولدھا۔''
''جب ماریہ قبطیہ سے نبی کریم ۖ کے صاحبزادے ابراہیم کی ولادت ہوئی تو رسول اللہۖنے فرمایا کہ اس کے لڑکے نے اسے آزاد کردیا ۔'' 
سیدناابن عباس رضی اللہ عنہماکی یہ روایت مختلف کتبِ احادیث میں موجود ہے ۔ جن میں سنن ابن ماجہ، سنن دارقطنی،مستدرک حاکم،سنن بیہقی وغیرہا شامل ہیں۔ امام دارقطنی نے اسے متعدد طرق سے روایت کیا ہے۔تاہم یہ تمام روایتیں محدثین کی جرح سے محفوظ نہیں،بلکہ اسناداً ضعیف ہیں۔امام ابن عبد البر الاندلسی کا فیصلہ ہے کہ 
'' و اسنادہ لا تقوم بہ حجة لضعفہ۔'']الاستیعاب[
اب ان روایتوں کے ضُعف کی تفصیل ملاحظہ ہو:
سنن ابن ماجہ میں یہ روایت کتاب العتق ، باب: الامھات الاولاد میں ہے ۔ ابن ماجہ کی سند کا ایک راوی حسین بن عبد اللہ متکلم فیہ ہے ۔بقول حافظ ابن حجر عسقلانی :'' ھو ضعیف جداً''] التلخیص الحبیر [۔مزید براں شیخ ناصر الدین البانی کی تحقیق کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے ۔
امام دارقطنی نے سنن دارقطنی کے کتاب المکاتب میں اس سلسلے کی ٧ روایتیں نقل کی ہیں۔
دارقطنی کی پہلی روایت محدث عظیم آبادی کی ترقیم کے مطابق حدیث نمبر ٤١٨٨ کے دو راوی ابوبکر بن ابی سبرہ اور حسین بن عبد اللہ ضعیف ہیں۔ اوّل الذکر پر وضع حدیث کا الزام ہے ، امام بخاری نے اسے منکر الحدیث قرار دیا ہے امام نسائی کے نزدیک متروک ہے ۔
دارقطنی کی دوسری روایت نمبر ٤١٨٩ کی سند میں بھی حسین بن عبد اللہ ہے ۔
دارقطنی کی تیسری روایت نمبر ٤١٩٠ کی سند میں ابن ابی سارہ مجہول ہے ۔
دارقطنی کی چوتھی روایت نمبر ٤١٩٢ کی سند میں حسین بن عبد اللہ ہے ۔
دارقطنی کی پانچویں اور چھٹی روایت نمبر ٤١٩٣ اور ٤١٩٤کی سند میں ابوبکر بن ابی سبرہ ہے ۔
دارقطنی کی ساتویں روایت نمبر ٤١٩٥ کی سند میںحسین بن عبد اللہ ہے ۔
مستدرک حاکم کی کتاب البیوعمیں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کی بحیثیت امّ ولد والی روایت موجود ہے تاہم بقول حافظ الذہبی اس کا ایک راوی حسین متروک ہے ۔
سنن بیہقی میں اس سلسلے کی دو روایتیں ہیں تاہم ان کی اسناد میں بھی ایسے راوی ہیں جو خود امام بیہقی کی تصریح کے مطابق ضعیف ہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭

اس بات سے تو یقینا کسی کو انکار نہ ہوگا کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم ۖ نے پردے میں رکھا ۔اُس معاشرے میں پردہ شرف و بزرگی کی کیسی علامت تھی ؟ اس سلسلے میں بخاری کی ایک اہم روایت ،جس کا تعلّق گو کہ سیدہ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے ہے ،کا اہم ترین حصہ پیش کیا جاتا ہے ۔
'' فقال المسلمون : احدیٰ امّھات المؤمنین ، أو ممّا ملکت یمینہ ؟ فقالوا : ان حجبھا فھی من امّھات المؤمنین ، و ان لم یحجبھا فھی ممّا ملکت یمینہ ، فلمّا ارتحل وطّالھا خلفہ و مدّ الحجاب بینھا و بین النّاس ۔''
صحیح بخاری ، کتاب النکاح ، باب: اتخاذ السّراری و من اعتق جاریتہ ثمّ تزوّجھا 

''بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ حضرت صفیہ امہات المومنین میں سے ہیں ( یعنی آپ ۖ نے ان سے نکاح کیا ہے ) یا لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر آنحضرت ۖ ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو وہ امہات المومنین میں سے ہیں اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ فرمائیں تو وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ پھر جب کوچ کا وقت ہوا تو آنحضرت ۖ نے ان کے لیے اپنی سواری میں بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان پر پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو نظر نہ آئیں۔'' 
امام ابنِ کثیرکی یہ روایت بھی اہمیت کی حامل ہے :
'' قال یونس بن بکیر عن محمد بن اسحاق عن ابراہیم بن محمد بن علی بن ابی طالب عن أبیہ عن جدہ علی بن أبی طالب قال : اکثروا علی ماریة أمّ ابراہیم فی قبطی ابن عم لھا یزورھا و یختلف الیھا فقال رسول اللّٰہ ۖ خذ ھذا السیف فانطلق فان وجدتہ عندھا فاقتلہ قال قلتُ یارسول اللّٰہ ۖ أکون فی أمرک اذا ارسلتنی کالسکة المحماة لا یثنینی شیٔ حتی أمضی لما أمرتنی بہ أم الشاھد یری ما لا یری الغائب فقال رسول اللّٰہ ۖ بل الشاھد یری ما لا یری الغائب فاقبلت متوشحا السیف فوجدتہ عندھا فاخترطت السیف فلما رآنی عرف أنی أریدہ فأتی نخلة فرقی فیھا ثم رمی بنفسہ علی قفاہ ثم شال رجلیہ فاذا بہ أجب أمسح مالہ مما للرجال لا قلیل و لا کثیر فأتیت رسول اللّٰہ ۖ فأخبرتہ فقال الحمد للّٰہ الذی صرف عنّا أھل البیت ۔'' ]البدایة و النھایة : ٥/٣٠٤[ 
(خلاصۂ کلام )'' جب سیدہ ماریہ پر ان کے عمّ زاد برادر مابور کے ساتھ تہمت تراشی کی گئی تو نبی کریم ۖ نے سیدنا علی کو بھیجا ، سیدنا علی نے مابور کو نامرد پایااور نبی کریم ۖ کی خدمت میں عرض حال کیا۔ جس پر نبی کریم ۖ نے فرمایا:سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہم اہلِ بیت سے اس تہمت کو رفع فرمادیا۔'' 
یہاں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کا شمار نبی کریمۖ نے اہلِ بیت میں فرمایا۔
علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق :
'']مقوقس نے [ دو لڑکیاں جو بھیجی تھیں ان میں سے ایک ماریہ قبطیہ تھیں جو حرم نبوی میں داخل ہوئیں ، دوسری سیرین تھیں جو حضرت حسّان کی ملک میں آئیں۔........ ...اس واقعہ کو اس حیثیت سے دیکھنا چاہیے کہ یہ دونوں عورتیں لونڈیاں نہ تھیں اور اسلام قبول کرچکی تھیں اس لیے آنحضرت ۖ نے ماریہ سے نکاح کیا ہوگا نہ کہ لونڈی کی حیثیت سے وہ آپۖ کی حرم میں آئیں۔'' ]سیرت النبی ۖ : ١/٢٧٣[
علّامہ شبلی ،مقوقس کے خط کی روشنی میں لکھتے ہیں:
'' ہم نے جاریہ کا ترجمہ لڑکی کیا ہے عربی میں جاریہ لڑکی کو بھی کہتے ہیں اور لونڈی کو بھی ۔ اربابِ سیرت ماریہ قبطیہ کو لونڈی کہتے ہیں لیکن مقوقس نے جو لفظ ان کی نسبت لکھا ہے یعنی کہ '' مصریوں میں بڑی عزت ہے '' یہ لونڈیوں کی شان میں استعمال نہیں کیے جاسکتے ۔'']سیرت النبی ۖ : ١/٢٧٣[
حضرت مولانا عبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق:
'' یہ دو لڑکیاں جن کا نام ماریہ اور سیرین تھا۔راہ میں ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوگئی تھیں یہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان میں سے ماریہ سے تو آپ ۖ نے خود نکاح کرکے حرم میں شامل کرلیا اور اسی کے بطن سے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے اور سیرین سیدنا حسّان بن ثابت کے حبالۂ عقد میں آئیں اور یہ دونوں حقیقی بہنیں تھیں۔'' ]تیسیرالقرآن : ٣/٦٣٩[
ڈاکٹر حمید اللہ کی تحقیق بھی ملاحظہ ہو:
'' حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بخوشی اور برضا و رغبت اسلام قبول کرلیا تھا۔ جس کی بناء پر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفےٰ ۖ نے انہیں اپنی زوجہ ہونے کا اعزاز و افتخار بخشا۔'' ]محمد رسول اللّٰہ ۖ مترجم خالد پرویز :١٨٦،بیکن بکس لاہور ٢٠٠٥ء [
ڈاکٹر صاحب ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : 
'' محمد رسول اللہ ۖ نے مصری سردار مقوقس کی طرف سے آنے والی لونڈی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گھر ہی میں رکھا اور بعدازاں وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ۖ کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ بنی مگر آپۖ کے یہ بیٹے دو سال کی عمر ہی میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے ۔ حضرت امام زہری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق محمد رسول اللہ ۖ نے نہ صرف حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہ کی آزادی کا حکم دیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ :اگر میرے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے تو میں تمام قبطی عیسائیوں کا جزیہ معاف کردیتا ۔'' ]محمد رسول اللّٰہ ۖ :٢٥٣-٢٥٤[
٭…٭…٭…٭…٭

سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا مصر کے علاقہ ''انصنا''کی بستی ''حفن''کی رہائشی تھیں۔ سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ حکومت میں اس بستی کا خراج سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کی تعظیم میں معاف کردیا تھا۔]سیرت النبی (از ابنِ کثیر):٣/٢٢٦[
''حضرت ماریہ کے والد کانام شمعون ہے،جوکہ ایک مصری قبطی شخص تھے ،جب کہ حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ایک رومن خاتون تھیں۔'']خاندان نبوی ۖ کے چشم وچراغ ترجمہ''ابناء النبی ۖ ''از شیخ ابراہیم محمد حسن الجمل :٧٨-٧٩ [
سیّدہ ماریہ کی والدہ رومن تھیں اوریہ امر قطعاً غیر اہم نہیں ہے۔کیونکہ سیاسی اعتبار سے مصر اس وقت روم کے زیرِ نگیں تھا۔کسی برتر قوم کی عورت کا اپنے باجگزار قوم کے مرد سے نکاح یقینا معاشرتی اعتبار سے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔شاہِ مقوقس کے خط سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سیّدہ ماریہ کے والدِ گرامی بھی مصر کے بااثر شخص تھے۔
٦ ہجری میں نبی کریم ۖ نے مختلف ممالک کے اربابِ اختیار کے نام اپنے مکاتیب روانہ کیے۔شاہِ مقوقس (والیِ مصر)کے نام مکتوب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ لے کر گئے۔شاہِ مقوقس نے سفیرِ رسول ۖ کا اعزاز و اکرام کیا اوربیش قیمت تحائف نبی کریم ۖ کی خدمت میں روانہ کیے۔اس کے ساتھ ہی مشہور روایات کے مطابق دو اور ایک غیر معروف روایت کے مطابق تین معزز خواتین کو بھی بھیجا۔انہی معزز خواتین میں سے ایک سیّدہ ماریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔

سیّدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم ۖ نے اپنی شرفِ زوجیت میں لیا۔ ذی الحجہ ٨ ھ کو سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے حضرت ابراہیم کی ولادت ہوئی ۔حضرت ابراہیم کی رضاعت کا شرف بنو نجار سے تعلق رکھنے والے صحابی براء بن اوس کی اہلیہ ام بردہ خولہ بنت منذر کو حاصل ہوا۔''ام بردہ رضی اللہ عنہا حضرت ابراہیم کو اپنے بیٹے کے حصہ کا دودھ پلایا کرتی تھیں اور دودھ پلاکر بچہ کو اس کی ماں کے حوالہ کردیتی تھیں۔رسول اللہ ۖ نے اَنَّا (مرضعہ)کو کھجور کا ایک درخت عطا کیاتھااور انہیں سات بکریاں بھی عطا کی تھیں تاکہ وہ جب بچہ کی خوراک کو پورا نہ کرسکیں تو ان کے ذریعہ کمی کو پورا کرلیں۔ام بردہ رضی اللہ عنہا بچہ کو مستقل طور پر دودھ پلانے کا انتظام نہ کرسکیں لہٰذا ان کے بعد ام سیف رضی اللہ عنہا نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے کی ذمہ داری سنبھال لی۔'']خاندان نبوی ۖ کے چشم وچراغ :٩١-٩٢ [
نبی کریم ۖ اکثر اپنے صاحبزادے کو دیکھنے کے لیے ام سیف کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
علّامہ سیّد سلیمان ندوی لکھتے ہیں :
'' قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ امّ سیف اور امّ بردہ ایک ہی ہیں۔ یہ تاویل کچھ مستبعد نہیں ، لیکن ان کے شوہر کا نام براء بن اوس بتایا جاتا ہے اور وہ ابو سیف کی کنیت کے ساتھ مشہور نہیں ، امّ سیف حوالی مدینہ میں رہتی تھیں۔ آنحضرت ۖ فرطِ محبت سے وہاں جاتے ، حضرت ابراہیم کو گود میں لیتے اور چومتے ، امّ سیف کے شوہر لوہار تھے ۔ اس لیے گھر دھویں سے بھرا رہتا تھا۔ لیکن آنحضرت ۖ باوجود نظافتِ طبع گوارا فرماتے ۔''
سیرت النبی ۖ :٢/٢٨٠-٢٨١
قاضی عیاض رحمہ اللہ کا یہ خیال درست نہیں کہ امّ سیف اور امّ بردہ ایک ہی شخصیت ہیں ۔ حافظ ابنِ حجر العسقلانی رحمہ اللہ کی ''الاصابة فی تمیز الصحابة '' سے حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ امّ بردہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں حافظ نے ابو موسیٰ کا یہ قول بھی نقل فرمایا ہے کہ
'' المشہور انّ التی أرضعتہ ام سیف و لعلھما جمیعا ارضعتاہ ۔'']الاصابة فی تمیز الصحابة : ٨/١٧٥[ 
''مشہور یہ ہے کہ ام سیف نے حضرت ابراہیم کی رضاعت کی تھی ، شاید ان دونوں ہی نے رضاعت کی ہو۔''
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب بیماری نے آگھیرا تو ام المومنین ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا پریشان ہوگئیں''اپنی بہن سیرین کو مدد کے لیے بلایا،وہ دونوں بچہ کی دیکھ بھال اور تیمارداری کرنے لگیں،اس کے لیے دوائی تلاش کی۔بچہ کو ''نخیل العالیہ''لے گئے ،لیکن مرض شدت اختیار کرتا گیا۔دوا اور علاج معالجہ کسی کام نہ آیا۔اچانک انہیں بچہ کا سانس اکھڑتا ہو ا محسوس ہوا۔وہ تیزی سے بچہ لے کر حضور ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضور ۖ کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی حالت کی خبر ہوچکی تھی ۔ آپ عبد الرحمان بن عوف کے کندھے پر سہارے لگائے ہوئے تھے۔حضور ۖ کے چہرے سے شدید غم کے آثار ظاہر ہورہے تھے ،پھر بچہ کی روح قفسِ عنصری سے جدا ہوگئی۔'']خاندان نبوی ۖ کے چشم وچراغ : ٩٣ [

ام بردہ نے حضرت ابراہیم کو غسل دیا،حضورۖ نے نماز جنازہ پڑھائی ،فضل بن عباس اور امامہ بن زیاد قبر میں اترے اور جنت البقیع میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب جگر گرشۂ رسولۖ کو مدفون کیا گیا۔
''محمود فلکی نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کادن ٢٩ شوال ١٠ ہجری بمطابق ٢٧ جنوری ٦٣٢عیسوی بتایا ہے،اس دن مدینہ میں مکمل طور پر سورج گرہن ہوا تھا۔'']خاندان نبوی ۖ کے چشم وچراغ : ٩٥ [
محرم الحرام ١٦ھ عہدِ فاروقی میں سیّدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے نمازِجنازہ پڑھایا۔لوگوں کا ایک جمّ غفیر شریکِ جنازہ تھا ۔ جنت البقیع میں مدفون کی گئیں۔


محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کا یہ مقالہ مولانا سید حسن مثنیٰ ندوی کی کتاب ’’ ام المومین سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ‘‘ میں بطور مقدمہ شامل اشاعت ہے ۔ یہ کتاب 2010ء میں مکتبہ دارالاحسن کراچی سے طبع ہوچکی ہے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عِلم وزُہد کی چند مثالیں‌

0 comments

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عِلم وزُہد کی چند مثالیں‌
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تمہت لگائےجانے کے بعد جب آیت برات نازل ہو گئی جس واقعہ سے رسول اللہ اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے تمام اہل خانہ کو شدید صدمہ پہنچا تھا ، اس وقت جب سارے لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول برات کی بشارت دی تو حضرت عائشہ کے والدین نے ان سے فرمایا بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو بوسہ دو اور آپ کا شکریہ ادا کرو، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میں صرف اپنے رب کی شکرگزاربنوں گی جس نے میری برات نازل فرمائی ، اس کے علاوہ کسی کی شکرگزاری نہیں بنوں گی ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' عرفت الحق لاهلة '' انھوں نے حق کو صاحب حق کے لئے پہچان لیا ، اس ربانی خاتوں کے پاس کونسا علم تھا ؟ اور اس خاتون سے زیادہ کس کا علم و فضل گہرا ہو سکتا تھا کہ جس کی برات آُسان سے نازل ہو رہی ہے اور اسے اس کی بشارت دی جارہی ہے ، خوش خبری سنانا امر حسن ہے ، اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ اس کے قدم چومے اور اسکی ممنون ہو جس نے خوش خبری سنائی ہے تو وہ سمجھتی ہیں اس میں سارا فضل و احسان صرا اللہ تعالیٰ کا ہے اورکوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ، اور وہ کہتی ہیں ''میں صرف اللہ کی شکرگزاری بنوں گی '' اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ان کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں '' عرفت الحق لاهلة '' انہوں نے حق صاحب ھق کے لئے پہچان لیا ـ اور اسی کو علم حقیقی کہتے ہیں ، نہ کہ آج کل کا س سطحی علم جو ڈگریوں اور ملازمتوں کے لئے حاصل کیے جاتے ہیں تاکہ ان خواتین کو پاکیزہ پر برتری کا اظہار کیا جائے جو خانہ نشین ہیں ـ 

زُہد عائشہؓ صدیقہ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی وفات کے بعد ایک دن حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ نے ایک لاکھ اسی ہزار درہم بطور ہدیہ بھیجے ، وہ اس دن روزے سے تھیں چنانچہ انہوں نے اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا ، شام ہونے تک ایک درہم بھی باقی نہیں رہ گیا تھا ، افطار کے وقت باندی سے فرمایا: میرے افطار کا انتظام کرو، چنانچہ ایک روٹی اور تھوڑا تیل لے کر حاضرہوئی اور کہنے لگی آپ نے آج جو کچھ تقسیم کیا ہے اس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اس سے افطار کر لیتیں ، عائشہؓ نے فرمایا ناراض نہ ہو ، اگرتو مجھے یاد دلاتی تو شاید میں ایسا کر لیتی ـ

کرم عائشہؓ صدیقہ 
حضرت عروہ بن زبیرؓ جو عائشہؓ کے بھانجے ہیں ، فرماتے ہیں ، میں نے عائشہؓ کو سترہزاردرہم تقسیم کرتے دیکھا ہے جو کہ وہ خود پیوند لگا کپڑا استعال کرتی تھیں اور نیا نہیں پہنتی تھیں ـ 

خشیت عائشہؓ صدیقہ 
اسی طرح قاسم بن محمد حضرت عائشہؓ کے بھتیجے ہیں ، فرماتے ہیں "کہ میں روزانہ عائشہؓ کی خدمت میں سلام کرنے جاتا تھا ، ایک دن جب پہنچا تو دیکھا کہ وہ نماز میں اس آیت کو باربار پڑھ کر رو رہی ہیں
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ''(سورة الطور: 27) ـ 
'' سو اللہ نے ہم پر بڑا حسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا '' ،
چنانچہ میں وہاں کھڑے کھڑے تھک گیا اور اپنے کام سے بازار چلا گیا جب دوبارہ واپس آیا تو دیکھا کہ اسی طرح نماز پڑھ رہی ہیں اور اس میں زار و قطار رو رہی ہیں ـ 

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خاتون اسلام کا یہ علم اور زہد اور خوف و خشیت اور جودوکرم کے اعلیٰ نمونے ہیں ، تو ائے مسلمان بہن !
آپ کیوں نہیں اپنی ماں کی اس میں نقل و تقلید کرتیں ؟

المرأة المسلمة
تالیف :: ابوبکرالجزائری ، ترجمہ :: سعید احمد قمرالزماں 

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا



ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔

ولادت :
حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔

نام :
نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔

کنیت :
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو''۔
چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔

نکاح:
ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔

فضائل وکمالات:
حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ''عائشہ'' عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔ 
رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : 
''مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر''۔
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔ 
عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔ 
1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔ 
2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔
3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔
4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔
5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔
6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔
7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔
8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔

حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔
صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔

وفات :
سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔