YOUR INFO

Showing posts with label تذکرہ محدثین علما. Show all posts
Showing posts with label تذکرہ محدثین علما. Show all posts

Tuesday, 12 November 2013

شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللّہ کےمختصر حالات

0 comments





شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللّہ 
کےمختصر حالات
………………………
حافظ زبیر علی زئی ، 25۔جون 1957ء کو حضرو ، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم حاجی مجدد خان اپنے علاقے کی معروف مذہبی و سماجی شخصیت ہیں۔
شیخ زبیر نے ایف۔اے تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی ، بعد ازاں پرائیویٹ طور پر بی۔اے اور 1983ء میں ایم۔اے (اسلامیات) اور 1994ء میں ایم۔اے (عربی) پاس کیا۔1990ء میں جامعہ محمدیہ جی۔ٹی روڈ گجرانوالہ سے دورہ حدیث کیا اور بفضل تعالیٰ سارے جامعہ میں سر فہرست رہے۔ وفاق المدارس السلفیہ فیصل آباد کا امتحان بھی پاس کیا۔1972ء میں صحیح بخاری کی پہلی جلد پڑھی تو اس وقت سے دل کی دنیا بدل گئی اور آپ عامل بالحدیث ہو گئے اور مقصد حیات تبلیغِ حدیث ٹھہرا لیا۔آپ نے حدیث کی تعلیم کی خاطر دورِ حاضر کے نامور شیوخ الحدیث سے شرف تلمذ پایا ہے جن میں سے چند اسمائے گرامی یہ ہیں :بدیع الدین شاہ راشدی (م:1996ء),عطاءاللہ حنیف بھوجیانی (م:1987ء)
حافظ عبدالمنان نورپوری(م:26feb,2012),حافظ عبدالسلام بھٹوی,مولانا عبدالغفار حسن و غیرہم۔
1982ء میں آپ کی شادی ہوئی جس سے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائی ہیں۔ ایک بیٹا عبداللہ ثاقب حافظ قرآن ہے اور دوسرا بیٹا معاذ حفظ کر رہا ہے۔ آپ کو پشتو ، ہندکو ، اردو ، انگریزی ، یونانی اور عربی میں لکھنے ، پڑھنے اور بولنے پر عبور حاصل تھا جبکہ فارسی صرف پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے۔
آپ کا ایک نمایاں کارنامہ ماہانہ مجلہ "الحدیث ، حضرو" کا اجراء ہے ۔عربی اور اردو کے موقر رسائل و جرائد میں آپ کے بیشمار تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں اور آپ کی گرانقدر علمی و تحقیقی تصانیف سے ایک زمانہ متاثر ہے اور فیضیاب ہو رہا ہے۔
وفات 10 نومبر2013 بروزاتوارطویل علالت کے بعد شیخ محترم اس دارفانی سے رحلت کرگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ پیردادحضرو، ضلع اٹک میں آپ کو سپردخاک کردیاگیا۔ اللہ تعالی موصوف کی بشری لغزشوں کو درگذرفرمائے اورآپ کی دینی خدمات کو قبول فرماکرآخرت میں نجات کو ذریعہ بنائے.آمین
شیخ کے اوصاف شیخ محترم وقت کے بہت پابند ہیں وقت پر سوتے ہیں وقت پر لکھتے ہین اور وقت پر ہی مطالعہ کرتے ہیں ،آپ بوقت تہجدبیدار ہوجاتے اورمطالعہ میں مصروف ہوجاتے۔
نماز فجر خود پڑھاتے تھے اور جمعہ بھی خود پڑھاتے تھے ،نماز فجر کے بعد لائبریری میں آجاتے تو مسلسل لکھتے رہتے اور کھانے کے وقت گھر تشریف لے جاتے پھر دوبارہ لائبریری میں آجاتے اور تقریبا گیارہ بجے تک لکھنے اور تحقیق کرنے میں مصروف رہتے پھر قیلولہ کرتے اور یہ قیلولہ بھی لائبریری سے متصل ایک چھوٹے سے ہال میں کرتے ویسے شیخ محترم کی لائبریری کے چھوٹے کمرے میں بھی ایک چارپائی موجود تھی اور آپ وہاں بھی کبھی کبھی سوتے تھے۔قیلولہ تقریبا آدھا گھنٹہ تک کرتے تھے ۔پھر ظہر تک مسلسل تحقیق اور کتب لکھنے میں مصروف رہتے نماز ظہر سے فارغ ہوکر نماز عصر تک مسلسل لکھنے میں مصروف رہتے اور نماز عصر کے بعد بھی یہی مصروفیات ہوتیں لیکن نماز مغرب سے تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے ہم اکٹھے بارہ چلتے مختصر سی سیرو تفریح کرتے اس میں علمی بحوث جاری رہتیں ۔اسی طرح نماز مغرب کے بعدشیخ محترم صرف مطالعہ کرتے اور وہ آج تک ترتیب سے کتب کا مطالہک کرتے رہے، اس میں شیخ محترم نےہزاروں کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اور شیخ محترم فوائد جمع کرنے کی غرض سے مختلف رجسٹر بنائے تھے جن میں فوائد لکھتے رہتے تھے۔نماز عشاء کے بعد فورا سو جاتے تھے ۔یعنی شیخ محترم کا اوڑھنا بچھونا علم اور لکھنا تھا والحمدللہ 
شیخ محترم حافظ زبیر علی زئی کے کلام کا ایک اقتباس میش خدمت ہے۔ شیخ محترم لکھتے ہیں:’’ہم جب کسی راوی کو ثقہ و صدوق یا حدیث کو صحیح و حسن لذاتہ قرار دیتے ہیں تو اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے، تناقض و تعارض سے بچتے ہوئے، غیر جانبداری سے اور صرف اللہ کو راضی کرنے کے لئے کسی راوی کو ثقہ و صدوق حسن الحدیث اور حدیث کو صحیح و حسن قرار دیتے ہیں۔ ایک دن مر کر اللہ کے دربار میں ضرور بالضرور اور یقینآ پیش ہونا ہے۔ یہ نہیں کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
اگر کوئی شخص میری کسی تحقیق یا عبارت سے تضاد و تعارض ثابت کر دے تو اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ علانیہ رجوع کروں گا، توبہ کروں گا اور جو بات حق ہے برملا اس کا اعلان کروں گا۔ لوگ ناراض ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، بس اگر اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے تو اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے ۔ اے اللہ! میری ساری خطائیں معاف کر دے۔آمین
صحیح بخاری و صحیح مسلم اور مسلکِ حق : مسلکِ اہلِ حدیث کے لئے میری جان بھی حاضر ہے۔ یہ باتیں جذباتی نہیں بلکہ میرے ایمان کا مسئلہ ہے۔‘‘ (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات: ج 2 ص 259۔260)
شیخ محترم نے فرق باطلہ کے تعاقب پربہت کچھ لکھا جواگر مستقل الگ جمع کیاجائے تو کئی جلدوں پر محیط زبر دست کتاب تیار ہو جائے۔ہر بات کی تحقیق کرنا شیخ محترم نے اس کی بنیاد ڈالی اگرچہ حدیث کی تحقیق کرنے والے تو بے شمار لوگ تھے لیکن رواۃ کی تحقیق میں بھی شیخ نے اسانید کی تحقیق کی ۔بے شمار کتب کے ترجمے کئے اور انھیں قبول عام حاصل ہے ۔بے شمار قیمتی کتب کی تحقیق و تخریج کر چکے ہیں ۔اللہ تعالی شیخ محترم کی تمام دینی خدمات قبول فرمائے ۔آمین
شیخ کی تصنیفی اورتالیفی خدمات 
1/ اہل حدیث ایک صفاتی نام
2/ فضائل صحابہ صحیح روایات کی روشنی میں (تحقیق وتخریج)
3/ امین اوکاڑوی کا تعاقب
4/ شرعی احکام کا انسائیکلو پیڈیا قرآن مجید اوراحادیث صحیحہ کی روشنی میں 5/ تحقیقی،اصلاحی اورعلمی مقالات 3 جلد
6/ ہدیۃ المسلمین نمازکے اہم مسائل مع مکمل نمازنبوی 
7/ اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح (ترجمہ،تخریج،تحقیق، فوائد)
8/ امت اورشرک کا خطرہ (تقریظ)
9/ توفیق الباری فی تطبیق القرآن وصحیح البخاری (اردو)
10/ فضائل درودوسلام
11/ تعدادرکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ
12/ محبت ہی محبت
13/ نمازنبوی صحیح احادیث کی روشنی میں (تحقیق وتخریج)
14/ دین میں تقلید کا مسئلہ
15/ غالی بدعتی کے پیچھے نمازکاحکم
16/ بدعتی کے پیچھے نمازکاحکم (جدید)
17/ کیابدعت کبری والے یعنی غالی بدعتی کے پیچھے نمازہوجاتی ہے ؟
18/ رمضان المبارک کے بعض مسائل 
19/ مختصرنمازنبوی تکبیرتحریمہ سے سلام تک
20/ حاجی کے شب وروز (ترجمہ وتحقیق)
21/ انوارالصحیفہ فی الاحادیث الضعیفہ فی السنن الاربعہ (عربی)
22/ انوارالطریق فی ردظلمات فیصل الحلیق
23/ نورالعین فی مسئلہ رفع الیدین
24/ سیف الجبارفی جواب ظھورونثار(اردو)
25/ قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے 
26/ آل دیوبندکے تین سو(300) جھوٹ
27/ آل دیوبند سے دوسو دس (210) سوالات
28/ القول المتین فی الجھربالتامین (اردو)
29/ کتاب الاربعین (ترجمہ)
30/ اہل حدیث اورجنت کا راستہ
31/ امامت کے اہل کون ؟
32/ فضائل صحابہ رضی اللہ عنھم صحیح روایات کی روشنی میں (تحقیق وتخریج)
33/ جزء رفع الیدین فی الصلاۃ (ترجمہ وتحقیق)
34/ نصرۃ الباری فی جزء القرآۃ للبخاری (ترجمہ وتحقیق)
35/ عبادات میں بدعات اورسنت بنوی سے ان کا رد(ترجمہ وتحقیق)
36/ اہل سنت سے فتنوں کو دورکرنا (ترجمہ)
37/ شرح حدیث جبریل (ترجمہ وتحقیق) 
شیخ محترم کی ساری زندگی کتب کی تالیف ،ترجمہ اور تحقیق میں صرف ہوئی ہے تمام کتب ہی قیمتی ہیں لیکن نور العینین بلا مبالغہ اپنے موضوع پر انسائیکلوپیڈیا ہے اسی طرح ماہنامہ الحدیث ایک جدید طرز کا خالصۃ تحقیقی رسالہ ہے .شیخ محترم کی بے شمار کتب وتحقیقات پہلے اس رسالے میں شائع ہوئی ہیں لیکن بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع کی گئیں ،اور انوار الصحیفۃ بھی قیمتی کتاب ہے اس میں مختصر انداز میں روایات کی تحقیق کردی گئی ہے. فجزاہ اللہ خیرا۔
ستاد محترم حافظ زبیر زئی رحمہ اللّہ نے تو الحدیث رسالے کی پشت پر (ہمارا عزم ) بالکل صاف لکھا ہے کہ قرآن و حدیث اور اجماع کی برتر ی سلف صالحین کے متّفقہ فہم کا پرچار۔ اتباع کتاب و سنّت کی طرف والہانہ دعوت ۔قرآن و حدیث کے ذریعے اتّحاد امّت کی طرف دعوت بشکریہ محدث فورم (مختصرا)

Tuesday, 12 March 2013

الشيخ محمد صالح المنجد کے حالات زندگی

0 comments

الشيخ محمد صالح المنجد کے حالات زندگی
تاريخ پيدائش:
شيخ حفظہ اللہ 30 / 12 / 1380 ہجرى ميں پيدا ہوئے.
تعليم و تربيت:
شيخ نے پرائمرى مڈل اور ميٹرك كى تعليم سعودى عرب كے شہر رياض ميں حاصل كى.
پھر وہ سعودى عرب كے شہر ظہران منتقل ہوئے اور يونيورسٹى كى تعليم وہيں مكمل كى.
شيخ كے اساتذہ:
شيخ حفظہ اللہ شيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ كے دروس اور مجالس ميں شريك ہوتے رہے.
ان كے علاوہ شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ كے دروس اور مجالس ميں بھى شريك ہوتے رہے ہيں.
ان كے اساتذہ ميں جناب شيخ عبد اللہ بن عبد الرحمن جبرين رحمہ اللہ بھى شامل ہيں، ان كے دروس ميں بھى شريك رہتے تھے.
جن اساتذہ كے سامنے انہوں نے كتابيں پڑھيں ان ميں شيخ عبد الرحمن بن ناصر البراك شامل ہيں، اكثر كتابيں آپ نے انہيں پڑھ كر سنائيں.
تلاوت قرآن مجيد كى تصحيح جناب شيخ سعيد آل عبد اللہ سے كى.
اور جن مشائخ اور علماء كرام سے استفادہ كيا ان ميں درج ذيل علماء كرام كے نام بھى شامل ہيں:
جناب شيخ صالح بن فوزان آل فوزان. جناب شيخ عبد اللہ بن محمد الغنيمان، شيخ محمد ولد سيدى الحبيب شنقيطى، شيخ عبد المحسن الزامل، الشيخ عبدالرحمن بن صالح المحمود.
سوالات كے جوابات ميں جن علماء سے استقادہ كيا ان ميں سب سے زيادہ جوابات ميں استفادہ آپ نے جناب شيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ سے كيا، بن باز رحمہ اللہ سے ان كا تعلق پندرہ برس تك قائم رہا، شيخ رحمہ اللہ ہى ان كى تدريس كا باعث بنے، اور انہوں نے دمام كے مركز الدعوۃ و الارشاد كو خط لكھا كہ انہيں دروس و محاضرات اور ليكچر اور خطبات وغيرہ ميں متعاون بنايا جائے، شيخ بن باز رحمہ اللہ كے سبب ہى آپ ايك خطيب اور ليكچرار اور امام بنے.
دعوتى سرگرمياں:
جامع مسجد عمر بن عبد العزيز خبر كے امام اور خطيب ہيں.
شيخ كے كئى ايك علمى دروس ہيں مثلا:
تفسير ابن كثير.
صحيح بخارى كى شرح.
شيخ الاسلام ابن تيميہ كے فتاوى جات.
سنن ترمذى كى شرح.
محمد بن عبد الوہاب كى كتاب و التوحيد كى شرح.
فقہ ميں حافظ عبد الغنى مقدسى كى كتاب عمدۃ الاحكام كى شرح.
شيخ سعدى رحمہ اللہ كى كتاب شرح منھج السالكين.
ہر بدھ كے روز تربيتى موضوع پر ليكچر ہوتا ہے، اور رياض اور جدہ شہر ميں ماہانہ ليكچر ہوتے ہيں، اور اسى طرح قرآن كريم ريڈيو سعودى عرب ميں " ہر ہفتہ دوپہر دو بجكر پانچ منٹ پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كے مابين تعلقات " كے موضوع پر ليكچر ہوتا ہے، اور ہر بدھ كو دوپہر ايك بجے راہ اصلاح طريقے " كے موضوع پر درس ہوتا ہے جو سوموار كے روز شام چھ بجكر پينتاليس منٹ پر دوبارہ نشر ہوتا ہے.
اسى طرح كئى ايك ٹى وى پروگراموں ميں بھى شريك ہوتے ہيں، اور ماريكيٹ ميں ساڑھے چار ہزار ( 4500 ) كيسٹ ہيں جو تئيس برس كى دعوتى سرگرميوں پر مشتمل ہيں.
تاليفات:
شيخ كى كئى ايك مؤلفات ہيں جن ميں سے چند ايك ذيل ميں بيان كى جاتى ہيں:
كونوا على الخير اعوانا.
ابعون نصيحۃ لاصلاح البيوت.
33 سببا للخشوع.
الاسليب النبويۃ فى علاج الاخطاء.
سبعون مسئلہ فى الصيام.
علاج الھموم.
المنھيات الشرعيۃ.
محرمات استھان بھا كثير من الناس.
ماذا تفعل فى الحالات التاليۃ.
ظاھرۃ ضعف الايمان.
وسائل الثبات على دين اللہ.
اريد ان اتوب و لكن.
شكاوى و حلول.
صراح مع الشھوات.
( 1996 ميلادى ) ميں (www.islamqa.com ) كے نام سے انٹرنيٹ پر ويب سائٹ بنائى جو آج تك كام كر رہى ہے.
(www.islam.ws ) كے نام سے كئى ايك ويب سائٹ مجموعہ كے نگران اعلى ہيں جس ميں آٹھ ويب سائٹس ہيں.
اس كے علاوہ مجموعۃ زاد العلميۃ ( علمى زاد راہ گروپ ) كے نام سے ايك دعوتى سيٹ اپ كے نگران اعلى ہيں، جس ميں موبائل ٹيلى فون اور ريڈيو اور ٹى وى اور نشر و اشاعت كے دعوتى پروگرام شامل ہيں.

Saturday, 9 March 2013

مولانا محمد ابراہيم مير سيالکوٹي

0 comments
مولانا محمد ابراہيم مير سيالکوٹي رحمہ اللہ اور تحريکِ پاکستان

برصغير پاک و ہند کي اہلحديث تاريخ ميں ايک طويل عرصہ ايسا گزرا ہے کہ جب ان کا کوئي اہم جلسہ، کوئي کانفرنس، کوئي بلند پايہ علمي و ديني مجلس اور کوئي محفل مناظرہ شيخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسري رحمہ اللہ ( م 1948 ء ) مولانا ابوالقاسم سيف بنارسي رحمہ اللہ( م 1949ء ) اور امام العصر مولانا محمد ابراہيم مير سيالکوٹي رحمہ اللہ( م 1956 ء ) کے بغير مکمل نہ ہوتي تھي۔ يہ تينوں علمائے کرام اپنے علم و فضل، جلالت شان، ذوق تحقيق، وسعت مطالعہ، اور تحرير و تقرير ميں صاحب کمال اور فن مناظرہ ميں امام تسليم کئے جاتے تھے۔
مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ کثير المطالعہ عالم تھے۔ تفسير، حديث، فقہ، اصول فقہ، تاريخ و سير، ادب و لغت، فلسفہ اور تقابل اديان وغيرہ علوم سے متعلق ان کا دائرہ بہت وسيع تھا۔ برصغير ( پاک و ہند ) ميں اسلام اور پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وسلم کے خلاف ہر اٹھنے والے فتنے کا تحرير و تقرير سے مقابلہ کيا۔ تفسير قرآن ميں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔
مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ کا حافظہ بہت قوي تھا۔ قدرت کي طرف سے بڑا اچھا دل و دماغ لے کر پيدا ہوئے تھے۔ آپ نے قرآن مجيد ايک ماہ رمضان المبارک ميں زباني ياد کر ليا تھا۔ دن کو روزہ کي حالت ميں ايک پارہ ياد کرتے تھے۔ اور رات کو بلاتکلف اسے تراويح ميں سنا ديتے تھے۔ آپ نے اپني تصنيف ” نجم الہديٰ“ کے ديباچہ ميں اس کا ذکر کيا ہے۔
قيمتي مطالعہ ان کا سرمايہ علم تھا۔ عربي و فارسي کي بلند پايہ کتابيں ان کے زير مطالعہ رہتي تھيں۔ ان کا کتب خانہ برصغير کے چوٹي کے کتب خانوں ميں شمار ہوتا تھا۔ يہ کتب خانہ آج بھي محفوظ ہے۔ اور علامہ پروفيسر ساجد مير امير مرکزي جمعيت اہلحديث پاکستان جو مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ کے پوتے ہيں کي تحويل ميں ہے۔
مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ بلند پايہ عالم اور مناظر ہونے کے ساتھ ساتھ ملکي سياست سے بھي پوري طرح باخبر تھے اور عالمي سياست پر بھي ان کي معلومات وسيع تھيں۔ برصغير ( پاک و ہند ) کي تمام قومي و ملي اور سياسي و غير سياسي تحريکات سے مکمل واقفيت تھي۔ اور ہر تحريک کے قيام اور پس منظر سے آگاہ تھے۔ اور ہر تحريک کے بارے ميں اپني ايک ناقدانہ رائے رکھتے تھے۔
1916
ءميں مسلم ليگ سے وابستہ ہوئے اور اپنے انتقال1956 ءتک مسلم ليگ ہي سے وابستہ رہے۔ 1930ءکے اجلاس مسلم ليگ الہ آباد جس کي صدارت علامہ اقبال رحمہ اللہ نے فرمائي تھي۔ شريک ہوئے اور 1940 ءکے اجلاس لاہور جس ميں قرارداد پاکستان منظور ہوئي تھي۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ نے شرکت کي تھي۔ تحريک پاکستان کي تائيد کے سلسلہ ميں پورے برصغير کا دورہ کيا۔ اور مسلمانوں کو تحريک پاکستان سے روشناس کرايا۔ تحريک پاکستان کے سلسلہ ميں بے شمار مضامين روزنامہ نوائے وقت لاہور ميں لکھے۔ جو بعد ميں ” پيغام ہدايت“ اور ” تائيد مسلم ليگ“ کے نام سے کتابي صورت ميں شائع ہوئے۔
مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ شروع ہي سے دوقومي نظريہ کے حامي تھے۔ دوقومي نظريہ کي حمايت ميں مضامين بھي لکھے، تقريريں بھي کيں اور واضح الفاظ ميں اس کا پرچار بھي کيا کہ مسلمانوں کي بقاءاسي ميں ہے کہ وہ اپنا عليحدہ خطہ برصغير ميں بنائيں۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ نے تحرير و تقرير دونوں طرح مسلم ليگ کي تنظيم اور قيام پاکستان کے لئے جدوجہد کي۔
جب جمعية العلماءہند نے قيام پاکستان کي مخالفت کي اور دوقومي نظريہ کے بجائے متحدہ قوميت کا نعرہ لگايا۔ تو مولانا محمدابراہيم مير سيالکوٹي رحمہ اللہ نے مولانا شبير احمد عثماني رحمہ اللہ کے ساتھ مل کر ” جمعية علمائے اسلام“ کے نام سے ايک جماعت بنائي۔ اس جماعت کي تشکيل کا مقصد قيام پاکستان تھا۔ جمعية علماءاسلام کا پہلا تاسيسي اجلاس اکتوبر 1945 ءميں کلکتہ ميں ہوا۔ اور اس کي صدارت مولانا محمد ابراہيم سيالکوٹي رحمہ اللہ نے کي۔ مولانا شبير احمد عثماني رحمہ اللہ ناسازي طبع کے سبب شريک نہ ہو سکے۔ مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ نے ” تمدن و معاشرت اسلاميہ“ کے عنوان سے صدارتي خطبہ ارشاد فرمايا۔ جس ميں کتاب و سنت کي روشني ميں آزاد خود مختار مملکت کے قيام کے لئے پاکستان کو اسلاميان ہند کي سياسي، اقتصادي، معاشرتي، ديني اور ملي ضرورت قرار ديا۔ اور اس کے ساتھ ہندو ذہنيت کا پوسٹ مارٹم کيا۔ اور گاندھي جي کے تعصب اور اس کے کردار کو بھي بے نقاب کيا۔
مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ کا يہ خطبہ کلکتہ کے ” عصر جديد“ کي اشاعت نومبر 1954ءميں شائع ہوا۔ بعد ميں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فيڈريشن نے کتابي صورت ميں چھاپ کر وسيع پيمانے پر تقسيم کيا۔
مولانا ابوالقاسم سيف بنارسي رحمہ اللہ کا شمار برصغير کے ممتاز علمائے اہلحديث ميں ہوتا ہے، سياسي اعتبار سے کانگرس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے قيام پاکستان کے سلسلہ ميں دوقومي نظريہ کے بجائے متحدہ قوميت کي حمايت کي۔ اور اس سلسلہ ميں ايک مضمون اخبار ميں شائع کرايا۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ نے فورا اپنے دوست کے مضمون کا جواب ديا۔ اور قيام پاکستان کے خلاف اعتراضات کو غير حقيقت پسندانہ قرار ديتے ہوئے ثابت کيا کہ اہل اسلام کي قوميت کي بنياد دين اسلام ہے۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ کا يہ مضمون ” روزنامہ احسان لاہور“ ميں دسمبر 1945 ءميں شائع ہوا۔
1946
ءکے انتخابات ميں جو قيام پاکستان کے نام پر لڑے گئے تھے متحدہ قوميت کے حامي علماءمولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اور مولانا حسين احمد مدني رحمہ اللہ قيام پاکستان کي مخالفت ميں پيش پيش تھے۔ دوسري طرف مولانا محمد ابراہيم مير سيالکوٹي رحمہ اللہ اور مولانا شبير احمد عثماني رحمہ اللہ دو قومي نظريہ کے حامي اور متحدہ قوميت کے مخالف تھے۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ اور مولانا عثماني رحمہ اللہ نے پورے ملک کا دورہ کيا جس کا نتيجہ يہ ہوا کہ دو قومي نظريہ کے حامي علماءکامياب رہے۔ اور مسلم ليگ نے قيام پاکستان کے نام پر اليکشن ميں بھاري اکثريت حاصل کي۔
پروفيسر حکيم عنائت اللہ نسيم سوہدروي رحمہ اللہ برصغير ( پاک و ہند ) کے نامور اديب اور طبيب حاذق تھے۔ اور برصغير کي سياست ميں ان کو خاصا دخل تھا۔ مولانا ظفر علي خاں رحمہ اللہ کے ديرينہ رفيق تھے۔ ان کو برصغير کي بے شمار سياسي، علمي، ديني اور ادبي شخصيات سے اپني زندگي ميں ملنے کا اتفاق ہوا۔
مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ کے بارے ميں فرمايا کرتے تھے کہ:
” 
ميں نے مولانا محمد ابراہيم مير سيالکوٹي جيسا جيد عالم دين اور وسيع معلومات رکھنے والا عالم نہيں ديکھا۔ سياسي اعتبار سے مسلم ليگ سے وابستہ تھے۔ مسلم ليگ کي تائيد اور قيام پاکستان کي حمايت ميں ان کے مضامين نوائے وقت لاہور ميں شائع ہوئے۔ ان مضامين کے مطالعہ سے يہ بات روز روشن کي طرح واضح ہوتي ہے کہ مولانا محمد ابراہيم مير کٹر مسلم ليگي تھے۔ اور دوقومي نظريہ کے تحت حامي تھے۔ ان کا خطبہ صدارت ” تمدن و معاشرت اسلاميہ“ ايک سنگ ميل کي حيثيت رکھتا ہے۔ “مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ 1875ء ميں سيالکوٹ ميں پيدا ہوئے۔ ان کے والد سيٹھ غلام قادر رحمہ اللہ کا شمار سيالکوٹ کے روسا ميں ہوتا تھا۔ سيٹھ غلام قادر گو خود عالم نہيں تھے۔ مگر علمائے کرام کي صحبت کے شائق تھے۔ علمائے کرام کو گھر بلاتے۔ ان کے ارشادات عاليہ سے مستفيض ہوتے۔ اور ان کي ميزباني کا شرف حاصل کرتے تھے۔
مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ نے ہوش سنبھالا۔ تو انہيں مشن ہائي سکول ميں داخل کرا ديا گيا۔ جہاں سے آپ نے ميٹرک کا امتحان پاس کيا۔ اس کے بعد مرے کالج سيالکوٹ ميں داخل ہو گئے۔ 1896ءميں آپ نے ايف اے کا امتحان پاس کيا کالج ميں علامہ اقبال آپ کے کلاس فيلو تھے۔
سيٹھ غلام قادر کے استاد پنجاب حافظ عبدالمنان وزير آبادي رحمہ اللہ سے ديرينہ تعلقات تھے۔ حافظ صاحب نے سيٹھ غلام قادر کو مشورہ ديا کہ آپ ابراہيم کو ديني تعليم دلوائيں۔ سيٹھ غلام قادر نے حافظ صاحب کے مشورہ کو قبول کيا۔ اور محمد ابراہيم کو حافظ صاحب رحمہ اللہ کے سپرد کر ديا۔ مولانا محمد ابراہيم نے ديني تعليم کا آغاز مولانا ابوعبداللہ عبيداللہ غلام حسن سيالکوٹي رحمہ اللہ سے کيا۔ اس کے بعد جملہ علوم اسلاميہ کي تحصيل محدث وزير آبادي رحمہ اللہ سے کي۔ اس کے بعد شيخ الکل مولانا سيد محمد نذير حسين محدث دہلوي رحمہ اللہ کي خدمت ميں حاضر ہوئے۔ اور ان سے تفسير، حديث اور فقہ ميں استفادہ کيا۔ مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ حضرت محدث دہلوي رحمہ اللہ کے آخري دور کے شاگرد ہيں۔
فراغت تعليم کے بعد واپس سيالکوٹ تشريف لائے اور ” دارالحديث“ کے نام سے ايک ديني مدرسہ قائم کيا۔ اور درس و تدريس کا سلسلہ شروع کيا۔ آپ سے بيسيوں علماءنے استفادہ کيا۔ آپ کے مشہور تلامذہ مولانا محمد اسمٰعيل سلفي رحمہ اللہ ( گوجرانوالہ ) مولانا عبدالمجيد خادم سوہدروي رحمہ اللہ ، مولانا عبداللہ ثاني امرتسري رحمہ اللہ اور مورخ اہلحديث مولانا محمد اسحاق بھٹي حفظہ اللہ شامل ہيں۔ مولانا محمد ابراہيم مير رحمہ اللہ بلند پايہ مناظر، مفسر، مبلغ، محقق، مؤرخ اور مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ ايک نامور مصنف بھي تھے۔ آپ کي تصانيف کي تعداد ايک سو کے قريب ہے۔
مولانا سيالکوٹي رحمہ اللہ نے12جنوري 1956ءکو سيالکوٹ ميں وفات پائي حضرت العلام مجتہد العصر مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑي رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائي۔ راقم آثم کو بھي جنازہ ميں شرکت کي سعادت حاصل ہے۔ 

شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل سلفی

0 comments
شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل سلفی رحمہ اللہ
مقالہ نگار: عبد الرشید
شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل سلفی رحمہ اللہ کی ذات محتاج تعارف نہیںَ آپ کا شمار ان جلیل القدر علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ جو اپنے شجر علمی کے اعتبار سے جامع الکمالات تھے۔ آپ بیک وقت مفسر قرآن بھی تھے۔ اور محدث بھی، مجتہد بھی تھے۔ اور فقیہہ بھی، محقق بھی تھے اور مورخ بھی، معلم بھی تھے، اور متکلم بھی، نقاد بھی تھے اور مبصر بھی، ادیب بھی تھے، اور دانشور بھی، خطیب بھی تھے، اور مقرر بھی! مصنف بھی تھے، اور واعظ بھی، اور اس کے علاوہ آپ پاکیزہ ذہن کے سیاستدان بھی، تمام علوم اسلامیہ یعنی تفسیر قرآن، حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، اصول تفسیر و حدیث، فقہ و اصول فقہ، تاریخ و سیر، ادب، لغت، معانی، فلسفہ، منطق، غرضیکہ تمام علوم پر ان کو یکساں قدرت حاصل تھی۔ حدیث اور تاریخ پر ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ تاریخ پر تنقیدی نظر رکھتے تھے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو والہانہ محبت اور عشق تھا۔ حدیث کے معاملہ میں معمولی سی مدانیت بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ اس کا ثبوت ان کی تصانیف سے ملتا ہے۔ ان کی تمام تصانیف حدیث کی حمایت و تائید اور نصرت و مدافعت میں ہیں۔ خطابت میں بھی ان کا مقام بہت بلند تھا۔ عوامی تقریر کرنے میں ان کو خاصملکہ حاصل تھا۔ اور علمی و تحقیقی تقریر کرنے کے بھی شہسوار تھے۔ حالات حاضرہ پر ان کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ برصغیر کی تمام قومی و ملی اور علمی و دینی تحریکات کے بارے میں ان کو مکمل آگاہی حاصل تھی۔ اور ہر تحریک کے بارے میں اپنی ایک ناقدانہ رائے رکھتے تھے۔ ملکی تحریکات کی ساتھ ساتھ عالم اسلام کے تحریکات کے بارے میں بھی وسیع معلومات رکھتے تھے۔ 

مولانا محمد اسمعیل سلفی کا شمار اکابر علمائے اہلحدیث میں ہوتا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس سے وابستہ تھے۔ اور مجلس عاملہ کے رکن تھے۔ تقسیم ملک سے آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس سے تعلق منقطع ہو گیا، آپ نے مولانا سید محمد داؤد غزنوی، حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمد عطاءاللہ حنیف بھوجیانی، مولانا عبدالمجید سوہدروی اور دوسرے علمائے کرام کے تعاون سے مغربی پاکستان میں جماعت اہلحدیث کو منظم اور فعال بنانے میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ 1955ءمیں الجامعہ السلفیہ لائل پور ( فیصل آباد ) کے قیام میں بھی آپ کی خدمات سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ملکی سیاست میں بھی آپ کی خدمات جلیلہ کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ کئی بار تحریک استخلاص وطن میں اسیر زنداں ہوئے۔
علم و فضل کے اعتبار سے مولانا سلفی مرحوم جامع الکمالات تھے۔ حکومت پاکستان نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں 33 علماءکا ایک بورڈ تشکیل دیا۔ اور اس بورڈ کا صدر علامہ سید سلیمان ندوی کو بنایا گیا۔ مولانا سلفی رحمہ اللہ بھی اس بورڈ کے رکن تھے۔
مولانا محمد اسمعیل سلفی 1895 ءمیں وزیر آباد کے نواحی قصبہ ڈھونیکی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مولانا حکیم محمد ابراھیم تھا۔ جو استاد پنجاب شیخ الحدیث حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی کے فیض یافتہ تھے۔ مولانا محمد اسمعیل سلفی نے علوم اسلامیہ کی تحصیل جن علمائے کرام سے کی۔ ان کے نام یہ ہیں۔
مولانا عمر الدین وزیر آبادی، استاد پنجاب شیخ الحدیث حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی، مولانا عبدالجبار عمرپوری، مولانا سید عبدالغفور غزنوی، مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولوی حکیم محمد عالم امرتسری، مولانا محمد ابراھیم میر سیالکوٹی ۔ دہلی کے قیام میں مولانا حافظ عبداللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ کے درس قرآن میں شرکت کی سعادت بھی انہیں حاصل تھی۔ 1921ءمیں مولانا سلفی نے علوم اسلامیہ سے فراغت حاصل کی۔ اور مولانا محمد ابراھیم میر سیالکوٹی کی تحریک پر گوجرانوالہ میں حاجی پورہ کی مسجد مٰں ان کا تقرر بحیثیت خطیب ہوا، کچھ مدت بعد مولانا علاؤ الدین خطیب مسجد چوک نیائیں گوجرانوالہ کا انتقال ہوا۔ تو آپ کو ان کی جگہ خطیب مرکزی مسجد مقرر کیا گیا۔ جہاں آپ اپنے انتقال فروری 1968 تک توحید و سنت کی اشاعت میں مصروف رہے۔
آپ نے ایک دینی درسگاہ جامعہ محمدیہ کے نام سے قائم کی۔ یہ درسگاہ اب بھی آپ کی یہ یادگار قائم ہے۔ اور قرآن و حدیث کی اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔ مولانا سلفی مرحوم ایک کامیاب مصنف بھی تھے۔ آپ کی تمام تصانیف تقریبا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت اور مدافعت میں ہیں۔ آپ کی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔
ترجمہ و شرح مشکوٰۃ المصابیح ( ربع اول ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز۔ تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی۔ زیارۃ القبور۔ حدیث کی تشریعی اہمیت۔ مسئلہ حیات النبی۔ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا مسلک۔ حدیث کا مقام قرآن کی روشنی میں۔ اسلامی نظام حکومت کا مختصر خاکہ۔ حجیت حدیث۔ خطبات سلفیہ۔ مولانا محمد اسمٰعیل سلفی نے 20 فروری 1968 ءکو گوجرانوالہ میں انتقال کیا۔ مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اور قبرستان کلاں میں دفن ہوئے۔ راقم آئم کو بھی جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہے۔ اللھم اغفرہ وارحمہ۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی کی وفات کو قومی پریس اور اکابر علمائے کرام نے ایک عظیم دینی و علمی و قومی سانحہ قرار دیا۔
روزنامہ نوائے وقت لاہور نے اپنی اشاعت21فروری 1928 ءمیں لکھا۔ مرحوم صرف جید عالم دین، باکمال خطیب اور جادوبیان مقرر ہی نہ تھے۔ بلکہ وہ ایک خاموش سیاسی کارکن اور اتحاد اسلامی کے زبردست داعی تھے۔ ضبط وتحمل، رواداری ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ وہ نہ صرف فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف تھے۔ بلکہ انہوں نے مختلف فرقوں کے مابین فروعی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ دین کو سیاست سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے زندگی بھر دینی خدمت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست کو بھی اسلامی رنگ دینے کی مخلصانہ کوشش کی۔
جناب شورش کاشمیری نے اپنے رسالہ ہفت روزہ چٹان کی اشاعت 22 فروری 1968 ءمیں لکھا کہ
” 
مولانا بظاہر ایک دھان پان اور منکسر المزاج انسان تھے۔ لیکن حقیقتاً وہ علم کا سرچشمہ اور غیرت کا پہاڑ تھے۔ بادشاہوں کو خاطر میں لانے والے نہیں تھے۔ انہوں نے مسجدوں اور مدارس کے وقار کو دو چند کیا۔ وہ بادشاہوں کی ثنا خوانی کو اپنے سجاوے کی آبرو نہیں گردانتے تھے۔ “
مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی نے اپنے ایک مکتوب بنام ایڈیٹر الاعتصام لکھا:
” 
حضرت مولانا محمد اسمعیل کی وفات سے دل کو سخت رنج و غم ہوا۔ مرحوم برصغیر کے ممتاز عالم، وسیع النظر محقق، مفکر اور مصنف تھے۔ درس و تدریس اور خطابت کے ذریعہ آپ نے دین و ملت کی طویل عرصہ تک جو خدمات انجام دیں۔ وہ ہمیشہ یادگار رہیں گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ وحدت امت کے سب سے بڑے داعی تھے۔ اور فرقہ وارانہ تنگ نظری کے شدید مخالف تھے۔ ان کے انتقال سے علماءکی صفوں میں شدید خلا محسوس کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے دامان رحمت میں جگہ دے۔ اور آپ کی جماعت کے صاحبان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر نے ہفت روزہ الاعتصام کی اشاعت 8مارچ1967 ءمیں لکھا

” 
مولانا محمد اسمعیل سلفی کی پوری زندگی دین و علم کی خدمت میں گزری ان کا ایک ایک لمحہ عزیمت و جہاد کا علمبردار تھا۔ 

حضرت علامہ احسان الٰہي ظہير شہيدؒ

0 comments

حضرت علامہ احسان الٰہي ظہير شہيدؒ
مارچ کا مہينہ ميري نحيف سي جان پر بہت گراں گزرتا ہے۔ دل غمگين ہو جاتا ہے۔ احساسات جگمگا اُٹھتے ہيں۔ دل کے آنگن ميں عجيب سے خيالات رقص کرنے لگتے ہيں۔ اشک بار آنکھيں ساون کا سماں پيدا کر ديتي ہيں۔ ذوق والے ہي جانتے ہيں کہ آنسؤوں کے قطروں کا دل کے تاروں پہ ناچ کتنا دلربا اور دلفريب ہوتا ہے۔ 
آج سے 23 برس قبل 23 مارچ 1987ء کو فرزندان توحيد کا قافلہ لٹا، پاسبانانِ قرآن و سنت کا کارواں تاراج ہوا۔ اور دنيائے اسلام کے مايہ ناز خطيب، بے مثال اديب، لاکھوں دِلوں کي دھڑکن، شہيد راہِ حق، علامہ احسان الٰہي ظہير رحمۃ اللہ عليہ ہم سے جدا ہو گئے۔ 
يہ وہ شخصيت ہے جس نے تيس برس تک مسلمانوں کي خدمت کي، وہ عالم بھي تھا اور مقرر تھي، سپاہي بھي تھا اور قائد بھي۔ پُراميد بھي تھا اور پُر دل بھي۔ اس کي تقرير کے چند فقرے لوگوں ميں نئي روح پھونک ديتے تھے۔ وہ ساکن سطح کو طوفاني موجوں ميں بدل ديتا تھا۔ وہ اپنے ساتھيوں کو کبھي مايوس نہيں ہونے ديتا تھا، يہ اسي کا کام تھا کہ 1970ء سے مرتے دم تک عرب و عجم چھان مارا تھا۔ تقريباً تيس برس کي محنت شاقہ کے بعد موت نے سپاہي کي کمر کھول دي اور وہ ابدي نيند سو گيا۔ 
ياد ماضي بن گئيں ساغر وہ ساري محفليں۔۔۔۔۔۔رہ گيا آرزؤں کا کفن ميرے لئے 
افسوس کہ وہ پُر درد آواز جو 1960ء سے 1987ء تک پاکستان اور دنيائے اسلام کے ہر قيامت آفرين سانحہ ميں صدائے صور بن کر بلند ہوتي رہي ہميشہ کے لئے خاموش ہو گئي، وہ بے قرار دل جو اسلام اور مسلمانوں کي ہر مصيبت کے وقت بے تاب ہو جاتا تھا اور اوروں کو بے تاب کرتا تھا۔ صد افسوس کہ قيامت تک کے لئے ساکن ہو گيا۔ 
وہ اشک آلود آنکھيں جو دين و ملت کے ہر غم ميں آنسوؤں کا دريا بن جاتي تھيں، حسرت کہ ان کي رواني ہميشہ کے لئے بند ہو گئي، وہ مترنم لب جو ہر بزم ميں خوش نوا بلبل بن کر چہکتے تھے، ان کے ترانے اب ہمارے کان نہ سنيں گے، وہ آتش زبان جو ہر رزم ميں تيغ براں بن کر چمکتي تھي، اس کي تابش اب کسي معرکہ ميں ہماري آنکھوں کو نظر نہ آئے گي۔ 
يہ پر جوش سينہ جو ہمارے مصائب کے پہاڑوں کو سيلاب بن کر بہا لے جاتا تھا، اس کا تلاطم ہميشہ کے لئے تھم گيا۔ وہ پر زور دست و بازو جو شب و روز کي خدمت گزاري اور نبرد آزمائي ميں مصروف تھے اب ايسے تھکے کہ پھر نہ اُٹھيں گے، افسوس کہ قافلہ حريت کا وہ آخري سپاہي جو دشمن کے نرغے ميں تنہا لڑ رہا تھا آخر زخموں سے چور ہو کر ايسا گرا کہ پھر قيامت تک کھڑا نہ ہو گا۔ 
کليوں کو ميں سينے کا لہو دے کے چلا ہوں۔۔۔۔۔۔صديوں مجھے گلشن کي فضا ياد کريگي 
پاکستان کا ماتم دار، طرابلس کا سوگوار، عراق کے لئے غمزدہ، بلقان کے لئے اشک بار، شام پر گرياں، کشمير و افغان پر مرثيہ خواں، حجاز کا سوختہ غم اور بيت المقدس کے لئے وقف الم۔ اے وطن پاک کے مسافر۔۔۔! تيرا حق سر زمين اسلام کے چپہ، چپہ پر تھا، مناسب يہي تھا کہ تو جنت البقيع کے دامن ميں سما جائے۔ 
احسانِ الٰہي ظہيرؒ عجم ميں پيدا ہوا ليکن عرب کي آب و ہوا ميں نشوونما پائي۔ پاکستان کي مٹي سے جنم ليا ليکن حجاز کے ہتھياروں سے اس نے اپنا جسم سجايا۔ اس کا دماغ پاکستاني مگر دل عربي تھا۔ وہ مشرق کي حمايت ميں مغرب سے لڑا۔ بيت المقدس کي محبت ميں يہود کو آنکھيں دکھائيں۔ اے مشرق و مغرب کے مالک۔۔۔۔! تو اپني رضا منديوں کے پھولوں سے اس کا دامن بھر دے کہ وہ انہي کا طلبگار تھا۔ خداوند۔۔۔! اس دل شکستہ کو جو دين و ملت کے غم سے رنجور تھا اپني خصوصي نوازشوں سے مسرور فرما کہ ہم اس کي روح سے شرمندہ ہيں۔ اس کي عمر فاني گو ختم ہو گئي۔ ليکن اس ي زندگي کا ہر کارنامہ جاويد نامہ بن کر باقي رہے گا۔ ان شاء اللہ تعاليٰ۔ 
تو کيا گيا کہ رونق بزم چمن گئي۔۔۔۔۔۔رنگِ بہار ديد کے قابل نہيں رہا 
احسانِ الٰہي ظہير يگانہ روز اور عبقري زماں تھے، اللہ تعاليٰ کي بے پاياں رحمت ان کا مقدر بني کہ بچپن ہي ميں قرآن مقدس کو حفظ کر ليا تھا۔ ان ميں حافظہ اور ذہانت بلا کي تھي۔ نو سال کے تھے کہ احسانِ الٰہي سے حافظ احسان الٰہي بن گئے۔ جامعہ اسلاميہ گوجرانوالہ اور پھر جامعہ سلفيہ فيصل آباد سے ہوتے ہوئے جامعۃ اسلاميہ مدينہ منورہ (مدينہ يونيورسٹي) جا پہنچے،موہاں سے لوٹے تو حافظ احسان الٰہي ظہير ہو گئے اور پھر مسلکي و مذہبي رسالوں کي ادارت، مختلف زبانوں ميں لاجواب تصانيف و نگارش، اور شاہين نگاہ خطابت نے علامہ احسان الٰہي ظہير بنا ديا۔ 
وہ واقعي علامہ کہلانے کے سزاوار تھے، مسجد چينياں والي لاہور سے خطابت کا آغاز کيا۔ اور ديکھتے ہي ديکھتے پورے ملک پر چھا گئے، سالہا سال ’’اہلحديث‘‘ اور ’’ترجمان اہل حديث‘‘ کے ايڈيٹر رہے، عرب، عالم اسلام، يورپ اور امريکہ ميں براہِ راست پہنچ کر اہل حديث کا مشن پہنچايا۔ جنوبي ايشياء کے متعدد ممالک ميں تبليغ اسلام کا مشن لے کر پہنچے۔ 
وہ بيک وقت اديب، خطيب، مترجم، مؤلف مصنف، مبلغ سياستدان اور تاجر انسان تھے، ديانت و امانت، خلوص و للّٰہيت ان کے ماتھے کا جھومر تھے۔ 
فاضل عربي، فاضل فارسي، فاضل اردو، يعني السنہ شرقيہ کے عظيم سکالر تھے۔ چھے مضامين ميں ايم اے کر چکے تھے۔ لفظ ’’علامہ‘‘ ان کے نام کے ساتھ بہت خوبصورت لگتا تھا اور وہ واقعي علامہ تھے۔ 
علامہ صاحب سياست ميں قدم زن ہوئے تو خدادا صلاحيتوں، جرأت و بے باکي کي وجہ سے ملک کے مرکزي سياست دانوں ميں شمار ہونے لگے۔ 
سياست ميں نوابزادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو اپنا مربي قرار ديتے تھے۔ اور نواب زادہ صاحب کي لاہور ميں سياسي شام غريباں ميں پوري باقاعدگي سے شموليت فرمايا کرتے تھے۔ تحريک استقلال ميں رہنے کے باوجود نواب زادہ نصر اللہ خان کا پورا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ ائر مارشل اصغر خان اور ان کے بلند مرتبت رفقاء کار علامہ صاحب کو اپني آنکھوں کا تارا سمجھتے تھے۔ کچھ عرصہ تک تحريک استقلال کے جنرل سيکرٹري رہے پھر خود ہي اسے ترک کر ديا۔ 
بھٹو سے خوب ٹکر لي اور پوري بہادري سے ان کے مقابل ڈٹے رہے۔ جنرل ضياء الحق کے حامي بھي رہے اور مخالف بھي۔ امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ کے بعد برصغير ميں بے باک، جرأت مند، عزم و استقلال کا شہسوار حضرت علامہ کے علاوہ کوئي نہيں نظر آتا۔ ضياء الحق کي حمايت اس لئے کي کہ شايد يہ شخص اسلام کا نفاذ کر دے۔ مخالفت اس لئے کي کہ ضياء الحق اپنے دس سالہ اقتدار ميں اسلام کا نفاذ کر سکا نہ ہي جمہوريت نافذ کر سکا اور نہ ہي فحاشي و عرياني کو بند کر سکا۔ علامہ صاحب کا موقف تھا کہ
اسلام پہ چلنا سيکھو يا اسلام کا نام نہ لو 
اور جنرل ضياء الحق کي مخالفت اس بے باکي اور جرأت سے کي کہ دنيا دنگ رہ گئي۔ حقيقت يہ ہے کہ اس دور کي کيسٹيں جب ہم سنتے ہيں تو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہيں۔ 
اللہ تعاليٰ نے علامہ صاحب کو بے پناہ صلاحيتوں سے نوازا تھا۔ جب لکھتے تو بے مثال لکھتے، بولتے تو بولتے ہي چلے جاتے۔ بقول شخصے الفاظ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے جس پر جي آتا منتخب کر ليتے۔ اُردو، عربي اور فارسي ميں رواني سے بولتے تھے۔ بقول مجيب الرحمٰن شامي وہ آغا شورش کاشميري کے بعد ايشياء کے سب سے بڑے خطيب تھے۔ 
علامہ صرف ايشياء ہي کے نہيں بلکہ عالم عرب کے بھي بہت عظيم خطيب تھے۔ وہ جب عربي ميں تقرير کرتے تو ان کا لب و لہجہ اور زبان و بيان ہر قدر ايک لمحے کے لئے بھي يہ احساس نہيں ہونے ديتے تھے کہ موصوف عربي ہيں يا عجمي۔۔۔۔
مدينہ يونيورسٹي ميں قيام کے دوران ايک مرتبہ مسجد نبوي کے باب السعود ميں نماز مغرب کے بعد عربي ميں ايک جاندار تقرير فرمائي۔ فلسطين، کشمير، اور اريٹريا کے پس منظر ميں آپ نے ماضي کو آواز دي۔ بھيڑ بڑھتي اور آنکھيں بھيگتي چلي گئيں۔ سسکياں آہوں اور کراہوں ميں بدل گئيں۔ پورا حرم اُمڈ آيا۔ اذان عشاء نے سلسلہ تقرير منقطع کرنے پر مجبور کر ديا۔ نماز کھڑي ہو گئي۔ ادھر سلام پھري ادھر لوگ پل پڑے۔ اظہارِ محبت ميں ماتھے کو چومنے لگے۔ کچھ بھيڑ چھٹي تو عرب دھرتي کے بہت بڑے خطيب، دمشق يونيورسٹي کے سابق وائس چانسلر، اور اسلام کے مايہ ناز فرزند ڈاکٹر مصطفيٰ سباعي کو سامنے کھڑا پايا۔ فرزند پاکستان کي نظريں ادباً جھک گئيں، ڈاکٹر صاحب آگے بڑھے اور کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں سے ہو نوجوان؟ (احسانِ الٰہي ظہير) بولا: پاکستان سے، پاکستان سے۔۔۔؟ انہوں نے حيرت و استعجاب سے سوال دہرايا! جي ہاں پاکستان سے، نوجوان (احسان الٰہي ظہير) کو سينے سے لگايا اور بولے ’’انا اخطب في العرب ولکن انا اقول انت اخطب مني‘‘ لوگ مجھے کہتے ہيں کہ ميں عالم عرب کا سب سے بڑا خطيب ہوں ليکن ميں تمہيں کہتا ہوں کہ تم مجھ سے بھي بڑے خطيب ہو (سفر حجاز صفحہ نمبر 53
علامہ صاحب کي يہ خاصيت تھي کہ جس زبان ميں گفتگو کرتے، مدلل گفتگو کرتے۔ ايک آن ميں مجمع کو شعلہ بنا ديتے تھے۔ جس عنوان کو چھيڑتے اس کو پورا کرتے تھے۔ سيرت النبي ﷺ اور فضائل صحابہ ان کے پسنديدہ موضوعات ہوتے تھے۔ جب صحابہ کے ابتدائي حالات اور رسول اللہ ﷺ پر آنے والي مشکلات کا تذکرہ کرتے تو اشک بار ہو جاتے تھے۔ لوگوں کي دھاڑيں نکل جاتي تھيں۔ اور جب حسن مصطفيٰ ﷺ کا تذکرہ کرتے تو محسوس ہوتا کہ بلبل چہک رہا ہے۔ رياض رسول ﷺ ميں غالب جيسے قادر الکلام شاعر نے کہا تھا
ديکھنا تقرير کي لذت کہ جو اس نے کہا ميں نے يہ جانا کہ گويا يہ بھي ميرے دل ميں ہے 
علامہ صاحب قدرت سے جري دل، روشن دماغ، اور جانثارانہ جذبہ لے کر پيدا ہوئے تھے۔ بظاہر حالات کي تنگي سے کبھي مرعوب نہ ہوتے۔ ہميشہ اللہ تعاليٰ پر کامل بھروسہ رکھتے تھے۔ جب فرق ضالہ کا تعارف کراتے تو برجستہ گوئي اور بے باکي و جرأت سے اظہار حق فرماتے تھے۔ 
وہ جہاں جاتے اہل حديثيت ان کے ہمراہ جاتي تھي۔ جلسہ ہو يا نجي محفل، عام گفتگو ہو يا سياسي مجلس، ہر مقام پر اپنا مسلکي تشخص برقرار رکھتے تھے۔ لفظ اہلحديث پر جرح و نقد برداشت نہ کرتے تھے۔ اگر کہيں کوئي اہل حديث کے خلاف کوئي بات کر ديتا، تو اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دلائل و براہين سے اہل حديث کي عظمت و رفعت کو ثابت کرتے اور منواتے تھے۔ 
علامہ صاحب سيد داؤد غزنويؒ، ابراہيم مير سيالکوٹيؒ اور مولانا اسماعيل سلفيؒ کے مشن کو لے کر آگے بڑھے۔ ليکن ہر عظيم شخصيت کي طرح انہوں نے اپنا ايک عليحدہ تعارف بھي قائم کيا۔ جو يقيناً ان کا حق بھي تھا۔ جس طور پر اہل حديث کے لئے انہوں نے خدمات سر انجام ديں، برصغير کي پاکستاني تاريخ ميں اس کي مثال پيش کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے لفظ اہل حديث کو گالي سمجھ کر قبول کيا اور تيس برس کي جاں بلب محنت کے بعد اسے (لفظ اہلحديث) سعادت کے طور پر دنيا والوں سے منوايا۔ 
خود فرمايا کرتے تھے: ۔
گو اپنے دوستوں کے برابر نہيں ہوں ميں۔۔۔۔۔۔ليکن کسي حريف سے کم تر نہيں ہوں ميں 
اللہ تعاليٰ نے بے شمار خصوصيات کے ساتھ ساتھ تاليف و تصنيف کا شاندار ذوق بھي وافر مقدار ميں عطا فرمايا تھا۔ مختلف مذاہب و مسالک پر بے شمار کتابيں لکھيں۔ جو لاکھوں کي تعداد ميں شائع ہو کر نہ صرف عالم اسلام، عالم عرب، بلکہ دنيا بھر ميں پھيل چکي ہيں۔ علامہ صاحب کا سب سے بڑا کمال يہ ہے کہ انہوں نے براہِ راست عربي ميں لکھا ہے اگر عمر وفا کرتي تو وہ عيسائيت، يہوديت، بدھ مت اور ديگر اديان باطلہ پر سير حاصل لکھتے۔ اسي طرحح ديو بنديت پر بھي مدلل لکھنا ان کے پروگرام ميں شامل تھا۔ علامہ صاحب کي بہت سي کتابوں کے اردو، فارسي، انگريزي اور ديگر متعارف عالمي زبانوں ميں تراجم ہو چکے ہيں۔ 
بقول مولانا محمد اسحاق بھٹي حفظہ اللہ تعاليٰ مذاہب و مسالک پر ان کے عقائد و نظريات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے بڑھ کر کوئي نہيں لکھ سکا۔ اس ميدان ميں وہ يکتا و تنہا تھے۔ (ہفت اقليم
کتابوں کي تصنيف و تاليف، ذاتي کاروبار، غير ملکي دورے، ملکي سياسيات، قاديانيوں، شيعوں اور بريلويوں سے آنکھ مچولياں، جمہوريت کي بحالي ميں بھرپور انداز سے شرکت، سب ان کي عزيميت و حميت کا برملا ثبوت ہيں۔ 
يوں معلوم ہوتا ہے۔ جو کام پچاس ساٹھ برس ميں ہونا تھا اللہ تعاليٰ نے ان سے چند سالوں ميں لے ليا۔ ہائے وہ شعلہ مستعجل ثابت ہوئے۔ حاسدوں کا حسد، شيطانوں کي شيطنت، خبيثوں کي خباثت، سازشيوں کي سازش اپنے منصوبے ميں کامياب ہو گئي۔ 22 اور 23 مارچ 1987ء کي درمياني شب قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کي اہلحديث کانفرنس ميں تقرير کرتے ہوئے جب موصوف کے منہ سے نکلا۔۔۔۔ 
کافر ہے تو شمشير پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تيغ بھي لڑتا ہے سپاہي 
يہ الفاظ ابھي ادا نہ ہو پائے تھے کہ تباہي پھيل گئي۔ اہلحديثوں کي بساط الٹ گئي۔ مولانا قدوسيؒ، مولانا محمد خان نجيبؒ يکے بعد ديگرے اور مولانا حبيب الرحمٰن يزدانيؒ دوسرے روز شہيد ہو گئے۔ 
اور علامہ صاحب شديد زخمي ہو گئے، ميو ہسپتال ميں علاج معالجہ کے بعد شاہ فہد کي فرمائش پر علامہ صاحب کو رياض ملٹري ہسپتال (سعودي عرب) پہنچا ديا گيا۔ ليکن قضا و قدر کو کچھ اور ہي منظور تھا۔ جنت الفردوس کا راہي اب زيادہ دير عالم دنيا ميں نہيں ٹھہرنا چاہتا تھا۔ آخر موت و حيات کي کشمکش کي چند ساعتوں کے بعد علامہ صاحب نے دنيائے فاني کو الوداع کہہ ديا۔ بالآخر تھکے ماندے مسافر کو قرار ہو گيا۔ 
اللہ تعاليٰ نے اپنے دين کے متوالے، توحيد کے رکھوالے، اور سنت کے ديوانے کو ديارِ حبيب ميں بلوا کر شہادت کے خلعت سے سرفراز فرمايا۔ 30 مارچ 1987ء کو ان کے جسد خاکي سے روح پرواز کر گئي۔ رياض کي شاہي مسجد ميں ان کے مشفق استاذ سماحۃ الشيخ عبد العزيز بن باز (رحمۃ اللہ عليہ) نے رو رو کر ان کي نماز جنازہ پڑھائي۔ رياض ميں تاريخي جنازوں ميں سے يہ ايک تاريخي جنازہ تھا۔ جس ميں ہزاروں اہل علم لوگوں نے شرکت کي تھي۔ 
دوسرا جنازہ مسجد نبوي کے امام نے لاکھوں کے مجمع ميں بڑي آہ و زاري اور رقت قلبي سے پڑھايا۔ اور پھر حضرت علامہ شہيدؒ کو صحابہؓ، تابعين، تبع تابعين، محدثين، مفسرين، مجاہدين اور اولياء کرام کے قبرستان جنت البقيع ميں دفن کيا گيا۔ 
بے تاب آرزو ہے کہ اللہ تعاليٰ يہ مقام رفيع ہر سچے، صادق اور درد دل رکھنے والے مسلمان کو عطاء فرمائے (آمين) پاکستان کا افتخار، احسان الٰہي ظہيرؒ اسلامي دنيا کا ہيرو، احسان الٰہي ظہيرؒ، فضل و کمال کا پيکر احسان الٰہي ظہيرؒ، حکمت و معرفت کا دانا احسان الٰہي ظہيرؒ، کاروان اہلحديث کا رہنما احسان الٰہي ظہيرؒ، رخصت، ہوا۔۔۔۔ 
چھيڑ خوبان سے چلي جائے اسد۔۔۔۔۔۔گر نہيں وصل تو حسرت ہي سہي

Thursday, 7 March 2013

بابائے تبلیغ مولانامحمد عبداللہ گورداسپوری

0 comments


بابائے تبلیغ مولانامحمد عبداللہ گورداسپوری

بابائے تبلیغ حضرت مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری﷫ برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم دین تھے۔ اُنہوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں اپنی واعظانہ صلاحیتوں، بلند آہنگ خطابت اور حکیمانہ اسلوب تبلیغ سے لوگوں کو توحید و سنت کا عامل بنایا اور انہیں'صراط مستقیم' دکھا کر نیک نام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا محمدعبداللہ صاحب کو علم و عمل کا حظ ِوافر عطا کیا اور بے پناہ اوصاف و کمالات سے نوازا تھا۔ آپ اہل اسلام بالخصوص جماعت اہلحدیث کے لیے عظیم سرمایہ تھے۔ گذشتہ صدی کی جماعتی تاریخ انہیں نہ صرف یہ کہ اَزبر تھی بلکہ بہت سے واقعات کے آپ عینی شاہد بھی تھے۔ جب زبان کو حرکت دیتے تو اکابر کے واقعات بیان کرتے چلے جاتے۔
شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ اَمرتسری﷫ کے تربیت یافتہ اور ان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔اسی پر بس نہیں بلکہ ان سے متعلق نادر معلومات اور واقعات بھی فراہم کرتے۔ بلاشبہ ہمارے یہ بزرگ معلومات کا بحرذخار اور ہماری جماعتی تاریخ کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ بڑے ہی شگفتہ مزاج، لطیف گو، مرنجا مرنج اور باغ و بہار طبیعت کے انسان تھے۔ عبوست و یبوست سے کوسوں دور رہتے، ان کی بذلہ سنجی اور خوش طبعی کے قصے زبان زد عام ہیں۔
آپ نہایت بااخلاق، بلند کردار، نیک طینت، شریف النفس ، خوش گفتار، مہمان نواز اور منکسر مزاج عالم دین تھے۔ وہ میرے بہت ہی پیارے اور محترم بزرگ دوست تھے۔ ان سے عقیدت و محبت کا ناطہ ربع صدی تک قائم رہا۔ میں نے پہلی بار انہیں 1988ء کے ماہ ستمبر کے وسط میں دیکھا تھا۔ وہ مولانا بشیر احمد صدیقی﷫ کی تعزیت کے سلسلے میں منعقدہ کانفرنس میں تشریف لائے تھے۔ یہ تعزیتی جلسہ سمن آباد فیصل آباد کے بلال پارک (کوئلے والی گراونڈ) کے مشرقی کونے پر مولانا بشیر صدیقی کے گھر کے قریب منعقد ہوا تھا۔ میں سٹیج کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ مولانا عبداللہ صاحب مائیک پر آئے۔ میانہ قد، متناسب جسم، سفید داڑھی، نظر کے چشمے کے پیچھے ذہانت کی غماز چمکتی آنکھیں، سر پر کلّے کے اوپر سفید طرے دار پگڑی، سفید شلوار اور قمیص، اوپر سے واسکٹ زیب تن ،پاؤں میں کھسّہ۔ انہوں نے اپنی کڑک دار آواز میں السلام علیکم کہا ۔ کچھ دیر بعد ان کا وعظ شروع ہوا۔ خطبہ مسنونہ پڑھ کر انہوں نے علم اور عالم دین کی عظمت بیان کرتے ہوئے مولانا بشیر صدیقی مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی دینی خدمات کو سراہا۔ پھر گویا ہوئے کہ لوگو! اپنے بچوں کو دین پڑھاؤ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ اثنائے گفتگو انہوں نے اپنی دینی تعلیم کے متعلق بتایا کہ وہ نویں کلاس میں پڑھتے تھے کہ مولانا ثناء اللہ امر تسری﷫ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری﷫ کی تقاریر سے متاثر ہو کر دینی تعلیم کی طرف آئے اور آج اللہ نے یہ مقام دیا ہے۔ مولانا عبداللہ صاحب کا یہ وعظ کوئی گھنٹہ بھر جاری رہا، لوگ اَز حد متاثر ہوئے اور انہوں نے بھی دوران تقریر اپنی شیرینی گفتار سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ان کا وعظ سنا اور ان سے متاثر ہوا۔
وہ فیصل آباد تشریف لاتے تو ٹیلی فون سے اپنی آمد کی اطلاع دیتے۔ اور مکتبہ رحمانیہ پر تشریف لا کر ملاقات کا شرف بھی بخشتے۔ نومبر 2001ء میں وہ فیصل آباد تشریف لائے۔ کلیہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی میں تقریبِ بخاری کے موقع پر رات کو ان کی تقریر تھی۔ میں بھی سامعین میں تھا۔ مولانا دورانِ تقریر تاریخی واقعات سنا رہے تھے کہ کہنے لگے:'' رمضان سلفی یہاں ہے؟'' میں نے ہاتھ بلند کر کے اپنی موجودگی کو ظاہر کیا، مولانا فرمانے لگے :''سلفی سٹیج پر آ کر بیٹھو، یہ سلفیوں کا اسٹیج ہے۔
1950ء کی دہائی میں ایک بار جماعت غرباء اہل حدیث کے امام مولانا حافظ عبدالستار محدث دہلوی﷫ اپنے ارادت مندوں سے ملنے بورے والا تشریف لائے۔ مولانا عبداللہ صاحب کو اُن کی آمد کا معلوم ہوا تو وہ بنفس نفیس امام صاحب کی خدمت میں پہنچے اور اصرار کر کے ان کو اپنی مسجد میں لے آئے اور کئی دن تک اُنہیں نہایت عزت اور احترام سے اپنے ہاں رکھا۔ مرحوم کے صاحبزادے محترم ڈاکٹر محمد سلیمان اظہر (المعروف ڈاکٹر بہاؤ الدین ﷾) نے راقم کو بتایا کہ ان دنوں مجھے امام عبدالستار ﷫ کی خدمت کا موقع ملا تھا۔بلا شبہ وہ اَسلاف کی یاد گار تھے ۔ میرے دوستانہ مراسم ان سے بھی تھے، ان کے بیٹے ڈاکٹربہاؤ الدین سے بھی ہیں اور ان کے پوتے سہیل اَظہر سے بھی۔اب آئیے ان کے حالات و واقعات کی طرف ۔ یہ وہ معلومات ہیں جو ہمیں یا تو مولانا عبداللہ صاحب سے بالمشافہ ملاقاتوں سے حاصل ہوئی ہیں اور کچھ باتیں ہم نے اپنے مرشد عالی قدر مولانا محمد اسحٰق بھٹی﷾ کی'بزمِ ارجمنداں' سے مستعارلی ہیں:
اِبتدائی حالات
مولانا عبداللہ صاحب 1916ء میں ضلع گورداس پور (بھارت) کے ایک مقام'وڑائچ' میں پیدا ہوئے۔ والد کا اِسم گرامی حکیم امام الدین تھا۔ جو علماے کرام اور واعظین عظام کی عزت وتوقیر میں اس نواح میں خاص شہرت رکھتے تھے۔ نیک اور صالح تھے۔ ان کا یہ بچہ کچھ بڑا ہوا تو اُنہوں نے اسے سرکاری سکول میں داخل کرا دیا۔ جہاں بچے نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔بعد اَزاں خالصہ ہائی اسکول بھاگووال میں داخل کرا دیا گیا۔ مولانا عبداللہ صاحب نویں جماعت کے طالب علم تھے کہ اُن کے علاقے میں ایک بہت بڑا تبلیغی جلسہ ہوا۔ وہ اس میں شریک ہوئے اور اُنہوں نے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری اور سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریریں سنیں۔ اُنہوں نے اس قدر تاثر لیا کہ سکول کی تعلیم چھوڑ کر دینی تعلیم کی طرف راغب ہو گئے۔ اُنہیں بٹالہ میں قائم مدرسہ دارالسلام میں داخل کرا دیا گیا۔
یہ مدرسہ وہاں کی انجمن خادم المسلمین کے زیر انتظام تھا اور اس میں حضرت مولانا عطاء اللہ شہید﷫ جو اس علاقے کے جید عالم دین تھے، فریضہ تدریس اَدا کرتے تھے۔ ان نیک اور متقی عالم دین کو اگست 1947ء میں سکھوں نے شہید کر دیا تھا۔ یہ بزرگ عالم دین تفسیر،حدیث، منطق، صرف ونحو اور دیگر اسلامی علوم میں کامل درک رکھتے تھے۔ ان سے کئی طلبا نے اکتسابِ علم کیا اور پھر وہ نامور ہونے کے ساتھ نیک نام بھی ہوئے۔ مولانا عطاء اللہ شہیدؒ کے شاگردوں میں مولانا عبدالعزیز سعیدی، مولانا اسماعیل ذبیح، مولانا عبدالعظیم انصاری، حافظ عبدالحق صدیقی اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف جیسے علما کے نام ملتے ہیں۔
ہمارے ممدوح حضرت مولانا محمدعبداللہ صاحب بھی اسی یگانۂ روزگار عالم دین کے نہایت لائق اور چہیتے شاگردِ رشیدتھے۔ اُنہوں نے درسِ نظامی کی مکمل تعلیم مولانا عطاء اللہ شہید سے حاصل کی۔ ذہین طباع طالب علم تھے، ذہن رساپایا تھا جوپڑھتے ازبر ہو جاتا۔ نیک طینت اُستاد کو اپنے اس شاگرد پر ناز تھا اور وہ اسے اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے۔ مولانا عطاء اللہ شہید﷫ کے صاحبزادے حافظ محمد سلیمان میرے نہایت پیارے بزرگ دوست تھے۔ وہ میرے قریبی محلہ میں ہی اقامت پذیر تھے، ان سے اکثر ملاقات رہتی، وہ تصنیف و تالیف کا بڑا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ عرصہ دراز تک محکمہ تعلیم میں آفیسر رہے۔ انہوں نے 29؍اگست 2008ء کو فیصل آباد میں وفات پائی۔ اُنہوں نے تین کتابیں: درود و سلام، توحید پر ایمان، شرک سے بیزاری، اور سیرت النبیﷺ پر ایک کتاب تصنیف کی۔ ان کا بیان ہے کہ ''مولانا عبداللہ صاحب میرے والد مولانا عطاء اللہ صاحب کے لاڈلے شاگرد تھے اور اُنہیں ہمارے گھر کا فرد ہی سمجھا جاتا تھا۔ مدرسہ میں دوسرے طلبا سے ان کو ذہانت و فطانت اور علمی استعداد کے باعث امتیازی حیثیت حاصل تھی اور یہ اپنی ہنس مکھ طبیعت سے رونق لگائے رکھتے تھے۔''
مو لا نا محمد عبد ا للہ آخر میں حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے اور اُن کے دورہ تفسیر میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کی۔ تحصیل علم کے بعد وہ دعوتِ و تبلیغ کے میدان میں جت گئے اور جو علم اُنہوں نے حاصل کیا تھا اسے لوگوں تک پہنچانا اپنے اوپر فرض کر لیا۔
1937ء میں انہوں نے ولن مل دھاریوال سے اپنی خطابت کا آغاز کیا۔ اور 1947تک دس سال آپ ولن مل دھاریوال کی مسجد کے امام و خطیب رہے۔ 14؍اگست 2002ء کو میں بورے والا مولانا عبداللہ صاحب کی خدمت میں ان کے صاحبزادے حافظ لقمان سلفی مرحوم کی تعزیت کے لئے حاضر ہوا۔ نمازِ ظہر پڑھ کر ان کی خدمت میں سلام عرض کیا، خیر و عافیت کے تبادلے کے بعد وہ پرانے واقعات سنانے لگے۔ ان کی بہت بڑی خوبی تھی کہ انہیں سینکڑوںواقعات من و عن یاد تھے اور 60،70 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ واقعات ان کے ذہن پر نقش تھے۔
ہجرت اور توحیدکی اشاعت
مولانا محمدعبداللہ صاحب 1937 ء سے 1947ء تک ولن مل دھاریوال کی مسجد میں فریضہ خطابت اَدا کرتے رہے۔ اگست 1947ء میں مشرقی پنجاب کے سکھوں نے مسلمانوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ براستہ ڈیرہ بابا نانک پاکستان میں داخل ہوئے۔ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے رائے ونڈ آئے۔ یہاں ان کے برادرِ نسبتی قیام پذیر تھے۔
مولانا محمد اسحٰق بھٹی صاحب'بزمِ ارجمنداں' میں لکھتے ہیں:
''مولانا کاقافلہ پچاس ساٹھ اَفراد پر مشتمل تھا۔ ایک بہت بڑی حویلی ان کے برادر ِنسبتی کے قبضے میں تھی۔ مولانا عبداللہ اور ان کے ساتھیوں نے اسی حویلی میں پڑاؤکیا۔ اس وقت عیدالاضحیٰ میں چار دن باقی تھے۔ مولانا نے چالیس روپے میں قربانی کے لئے گائے خریدی۔ رائے ونڈ میں اس وقت ایک ہی مسجد تھی،جس کی رجسٹری حاجی محمد عاشق کے نام تھی اور وہ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ مولانا عید کی نماز پڑھنے مسجد میں گئے تو ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ حاجی محمد عاشق کو کسی نے کہہ دیا کہ یہ عالم دین ہیں۔ حاجی صاحب اُن کے پاس آئے اور عید پڑھانے اور خطبہ اِرشاد فرمانے کی درخواست کی۔ چنانچہ انہوں نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔ خطبے کا موضوع حضرت ابراہیم کا واقعہ ہجرت اور ان کا جذبہ قربانی تھا۔ سامعین میں اکثریت مشرقی پنجاب سے آنے والے لوگوں کی تھی اور ترکِ وطن کے زخم ابھی تازہ تھے۔ تقریر کے اَلفاظ و انداز کی اَثر پذیری سے ہر آنکھ پرنم تھی اور ہر دل تڑپ رہا تھا۔ نمازِ عید کے بعد مولانا اپنی رہائش گاہ پر تشریف لائے اور گائے کی قربانی میں مصروف ہو گئے ۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حاجی محمد عاشق ریڑھی لئے کھڑے ہیں، جس پر ایک بوری آٹے کی اور ایک بوری چاولوں کی ہے۔ کہا:یہ حقیر سی خدمت قبول فرمائیے۔ ساتھ ہی پانچ سو روپے نقد عنایت کئے۔ یہ بہت بڑی مدد تھی جو اس وقت اُنہوں نے فرمائی اور لٹے پٹے قافلے کو سہارا دیا۔''1
مولانا محمدعبداللہ صاحب کچھ عرصہ رائے ونڈ میں قیام پذیر رہے اور کچھ عرصہ جامع مسجد فریدیہ اہل حدیث قصور میں خطابت کے فرائض سراَنجام دیئے۔ 1949ء میں آپ جماعت اہل حدیث بورے والا کے اِصرار پر بورے والا تشریف لے آئے۔ اُنہوں نے بورے والا کی جامع مسجد اہل حدیث میں جو پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، اس میں سورۃ العصر کی تفسیر بیان کی جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔ ان دنوں یہ مسجد بہت چھوٹی تھی، مولانامحمد عبداللہ صاحب کی کوششوں سے اب بہت وسیع ہو گئی ہے۔ اور اسے چند سال پہلے اَز سر نو خوب صورت تعمیر کیا گیا ہے۔ نیز بورے والا اور اس کے گر دو نوا ح میں اہل حدیث کی ایک در جن سے زا ئد مسا جد تعمیر ہو چکی ہیں۔
مولانا محمدعبداللہ صاحب بلند آہنگ خطیب تھے۔ ان کے وعظ کی اثر آفرینی سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آ چکے ہیں۔ وہ عام فہم انداز میں بڑی پیاری گفتگو کرتے اور علم و حکمت کے موتی بکھیرتے چلے جاتے۔ عالم پیری میں بھی ان کی خطابت کی بڑی دھوم تھی۔ لوگ ان کا وعظ سننے دور دور سے دیوانہ وار چلے آتے۔
قرآنی خدمات
اللہ تعالیٰ نے مولانا محمدعبداللہ صاحب کو علم و عمل کے ساتھ تفقہ فی الدین اور قرآن فہمی سے بھی خوب نوازا تھا۔ آپ نے نماز ِفجر کے بعد چار بار درسِ قرآن میں قرآن مجید کی مکمل تفسیر بیان کی۔ آپ صبح کے درسِ قرآن کے لئے باقاعدہ تیاری کر کے آتے تھے۔ مولانامحمد عبداللہ صاحب کا بیان ہے کہ
''بندہ نومبر1949ء کو رائے ونڈ سے بورے والا آ گیا۔ زادِ سفر ایک تفسیر ابن کبیر مصری کی جلد اول تھی۔ ان دنوں بورے والا میں صرف جھگی نما ایک چھوٹی کچی مسجد تھی۔ بجلی وغیرہ بھی یہاں نہیں تھی، دیسی سرسوں کے تیل کے دیے کی روشنی میں بعد نماز فجر قرآن پاک کا درس شروع کیا گیا۔ بلاناغہ درس کے باوجود 10سال میں درسِ قرآن اللہ کی توفیق سے ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے اس اِحسان کے شکریہ کے طور پر حاضرین کی دعوت کی گئی۔ اور دودھ ، چائے اور مٹھائی سے تواضع کی گئی۔ الحمد للہ''
دوسری بار 1959ء میں درسِ قرآن کا آغاز کیا گیا۔ اب کتابوں کی فراہمی بھی کچھ آسان ہو گئی تھی۔ مالی طور پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی برکت سے خوش حالی عطا کر دی۔ تفسیر خازن، تفسیر کبیر، تفسیر ابن جریر، فتح القدیر،جلالین، جامع البیان اور دیگر مکاتب فکر کے علما کے تراجم بھی مہیا ہو گئے تھے۔ اَب تفسیر ابن کثیر اوردیگر تفاسیر و تراجم کی معاونت سے بارہ سال میں1971ء میں دوسری بار درسِ قرآن میں قرآن پاک کو مکمل کیا۔
تیسری بار 1972ء میں ابتدا سے درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تبلیغی پروگراموں میں مصروفیت کے باوجود 1985ء میں تکمیل کو پہنچا۔
چوتھی بار 1985ء میں ترتیب سے درسِ قرآن کا آغاز ہوا۔ اَب مولانا محمدعبداللہ صاحب کی بینائی بھی کم زور ہو چکی تھی۔ اُنہوں نے آنکھوں کا آپریشن کروایا اور نظر کا چشمہ لگا کر درسِ قرآن ارشاد فرماتے رہے اور 1997ء میں درس قرآن میں مکمل قرآن مجید ختم کیا۔
مولانا محمدعبداللہ صاحب عالم پیری میں نظر کی کمزوری، بڑھاپے، نقاہت اور دیگر کچھ عوارض کے باوجود عزمِ جواں رکھتے تھے۔ قرآن کریم سے محبت ان کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے تھی ۔اُنہوں نے پانچویں بار ترتیب سے درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو آخر عمر تک جاری رہا۔ ان کا یہ درسِ قرآن اب نماز فجر کے بعد کی بجائے نماز عصر کے بعد ہوتا تھا۔ بلاشبہ یہ بہت بڑی خدمتِ قرآن ہے جو مولانا عبداللہ صاحب نے انجام دی ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے کے سات سال اور ایک سال رائے ونڈ ضلع قصور کے درسِ قرآن کو بھی شامل کیا جائے تو یہ مدت 72سال بنتی ہے اور خادم قرآن کی حیثیت سے یہ عظیم خدمتِ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔آمین!
مولانامحمد عبداللہ صاحب کو تحریر ونگارش سے بھی خاص شغف تھا۔ اُنہوں نے کوئی کتاب تو مرتب نہیں کی البتہ ان کے علمائے اہل حدیث کے بارے مضامین جماعتی رسائل میں اشاعت پذیر ہو کر ہمارے مطالعے میں آتے۔ وہ خوب صورتی سے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتے اور پیارے اسلوب میں اکابرین جماعت کا تذکرہ کرتے تھے۔ چند سال پہلے انہوں نے شیخ الاسلام، فاتح قادیان، مولانا ثناء اللہ امر تسری﷫ کے بارے ہفت روزہ اہل حدیث لاہور میں متعدد مضامین لکھے تھے اور ان میں حضرت شیخ الاسلام کی زندگی کے بعض گوشوں کو اجاگر کیا تھا۔ ضرورت ہے کہ مولانا عبداللہ صاحب کے تمام مضامین کو یکجا کر کے شائع کر دیا جائے۔ اس سے جماعتی تاریخ کے بہت سے واقعات محفوظ ہو جائیں گے۔
تحریکی خدمات
مولانا محمدعبداللہ صاحب نے سیاست میں تو زیادہ حصہ نہیں لیا، البتہ مذہبی تحریکوں میں سرگرم عمل رہے۔ فتنہ مرزائیت کے خلاف اُنہوں نے قیام پاکستان سے پہلے بھی خوب کام کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی وہ قادیانیوں کے خلاف پیش پیش رہے۔ اس راہ میں اُنہیں مصائب و آلام سے بھی دو چار ہونا پڑا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ وہ ہر موقع پر ثابت قدم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے دھڑلے سے قادیانی نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کے ڈھول کا پول کھولا۔ مولانا عبداللہ صاحب نے 1935ء میں جب وہ مولانا عطاء اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں زیر تعلیم تھے توقادیانیت کے خلاف پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا تھا ۔پون صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مولانامحمد عبداللہ سال میں ایک بار اس خطبے کی تجدید کرتے تھے۔
مولانا محمدعبداللہ صاحب پہلی بار 1939ء میں جیل گئے تھے۔ اُنہوں نے بٹالہ سے چھ میل دور دیال گڑھ کے قریبی گاؤں 'ہرسیاں'میں مرزائیوں کے خلاف تقریر کی تھی۔ اس کی پاداش میں اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور ایک ہفتے بعد ان کی ضمانت ہوئی۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی مولانا محمدعبداللہ صاحب سرگرم عمل رہے اور انہیں کراچی جیل میں ایک ماہ گزار نا پڑا۔ 1955ء میں اُنہوں نے خانیوال میں تقریر کی اور ختم نبوت کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ اس ضمن میں قادیانی مذہب بھی زیر بحث لائے۔ اس جرم میں اُنہیں جیل بھیج دیا گیا اور ایک ماہ دس دن بعد ضمانت ہوئی۔ مولانامحمد عبداللہ اس دور کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''بٹالہ اور امر تسر قریب قریب ہونے کی وجہ سے اکثر فاتح قادیان کی زیارت و ملاقات ہوتی رہی اور ان کے بیانات اور مناظرات دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ تقریباً زندگی کا گیارہ سالہ بہترین دور اُن کی رفاقت اور قرب میں بسر کرنے کا موقع ملا۔ الحمد للہ!''
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے دس سالہ دورِ خطابت ، توحید و سنت، اصلاح معاشرہ اور سیرتِ مصطفی ﷺ کی تبلیغ اور ردّ قادیانیت میں بسر کرنے کا موقع ملا، اس دوران کئی مرزائیوں سے مناظرےبھی ہوئے۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی حصہ لینے کا موقع ملا، بوریوالا ضلع ملتان(حال ضلع وہاڑی) ختم نبوت کے پروانوں کا جو پہلا قافلہ کراچی روانہ ہوا، اس میں بحیثیت ِقائد قافلہ جانے کا موقع ملا۔ کراچی جیل میں ایک ماہ تک قیام پذیر ہو کر اللہ تعالیٰ نے سنتِ انبیا کی اتباع کا موقع فراہم کیا۔کیونکہ دین کی خاطر جیل میں جانا بھی انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔
پھر اس کے بعد 1995ء میں ردّ قادیانیت کے سلسلہ میں خانیوال ضلع ملتان (اب خانیوال خود ایک ضلع ہے) ایک تقریر کی وجہ سے ملتان جیل میں جانا پڑا، جب مجھے خانیوال کی پولیس گرفتار کر کے اور ہتھکڑی لگا کر ملتان لے کر گئی تو ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبل ساتھ تھے۔ پھر وہ مجھے جیل کے دفتر میں لے گئے ۔یہاں سے اُنہوں نے مجھے کسی بارک میں بھیجنا تھا میں وہاں کلرک کے پاس کھڑا ہو گیا اور وہ اپنے رجسٹر کھول کر دیکھنے لگا اور اسی دوران اس کے میز پر پڑے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون اٹھایا اور فون پر کسی سے بات کرنے لگا، بات کرتے کرتے کہنے لگا کہ مولوی صاحب! آپ کے لیے فون آیا ہے، فون پکڑیں اور بات سنیں، میں نے جب ٹیلیفون کان سے لگایا تو وہ سپرنٹنڈنٹ جیل کا فون تھا۔ اس نے کہا :مولوی صاحب السلام علیکم۔ میں نے جواب میں وعلیکم السلام کہا، کہنے لگا میں سپرنٹنڈنٹ جیل بول رہا ہوں۔ میں نے کہا: حکم کریں، کہنے لگا حکم نہیں گذارش ہے کہ ہمارے خطیب صاحب جو جیل میں خطبہ جمعہ دینے آیا کرتے، ان کی آج درخواست آ گئی ہے کہ وہ بیمار ہیں اس لیے جمعہ کی خطابت کا انتظام کر لیں۔اس دن چونکہ جمعہ تھا اور سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے شیشے کی کھڑکی میں سے دیکھ لیا تھا، اس لیے مجھے ایک عالم دین سمجھ کر ٹیلیفون کیا۔ دفتر میں کلرک کے پاس میں ابھی پہنچا تھا۔ کہنے لگا:مولوی صاحب آج آپ خطبہ جمعہ ارشاد فرما دیں۔ میں نے ان سے انکار کیا اور کہاکہ جون کا مہینہ گرم ترین مہینہ ہے میں کئی دن حوالات میں رہا ہوں، میرے کپڑے بھی پسینے سے خراب ہیں اور جسم بھی گندا ہے اس لئے میں جمعہ نہیں پڑھا سکتا۔ اس نے کہا: مولوی صاحب ! گذارش قبول فرمائیں، میں کپڑے بھی نئے بھیجتا ہوں، اور پانی بھی غسل کرنے کے لئے اور آپ کے لئے ناشتہ وغیرہ بھی بھیجتا ہوں آپ میری گذارش قبول کریں اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں، کلرک مجھے آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا کہ صاحب کی بات مان جائیں، میں نے کہا: آپ مجبور کرتے ہیں تو آپ کے کہنے پر خطبہ جمعہ دے دیتا ہوں۔ میں ابھی وہاں ہی بیٹھا تھا ایک قیدی اپنے سر پر پانی کا ٹین رکھ کر لا رہا تھا اور صابن دھنیا کا تیل بھی ساتھ تھا، اس کے بعد ایک قیدی کپڑوں کا نیا جوڑا اور اس کے ساتھ 376کی ململ کی پگڑی، کرتا، بنیان، ملتانی لاچہ ، جرابیں وغیرہ لے کر آ گیا۔ پھر اس کے بعد ایک اور قیدی آ گیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بڑی ٹرے تھی جس میں دو پراٹھے، تین انڈے ، دہی، مکھن اور چائے تھی۔ کہنے لگا کہ یہ آپ کا ناشتہ ہے۔ میں نے کلرک سے کہا کہ دیکھو جب میں جیل میں داخل ہونے لگا تو آپ کے پولیس والوں نے میری مکمل تلاشی لی اور پان بھی نکال لیا، لیکن وہ میرے سینے سے قرآن نہ نکال سکے ، اور یہ سب قرآن کی برکت سے ہے۔
میں نے غسل کیا، نئے کپڑے پہنے، پھر ناشتہ کیا تو جمعہ کی اذان ہو گئی، میری عمر اس وقت تقریباً چالیس سال تھی، جیل کے تمام قیدی اور افسران بڑی تعداد سے جمعہ کی نمازپڑھنے کے لئے آئے۔میں نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری﷫ سے سنا تھا کہ سورہ یوسف جیل میں پڑھنے کا بڑا مزا آتا ہے۔ میں نے خطبہ جمعہ میں ﴿رب السجن أحب إلی مما یدعوننی إليه﴾ کی تشریح کی، اللہ تعالیٰ نے اس قدر توفیق بخشی کے پونے دو گھنٹے خطبہ جمعہ دیا جو اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ قیدی نعرے مار رہے تھے اور سورہ یوسف کا ترجمہ اور تفسیر سن کر رو رہے تھے، جیل کی فضا نعرہ تکبیر سے گونج رہی تھی۔ اب جیل کے افسران پریشان تھے کہ قیدی کہیں بغاوت نہ کر دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے عزت عطا کر دی، اور یہ سب کچھ قرآن کی برکت ہے۔جب نماز جمعۃ المبارک ادا کی تو میرے پیچھے ملتان کے دو نوجوان رئیس زادے بھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے اور وہ کسی کے قتل کے جرم میں قید تھے اور انہوں نے اپنا کھانا گھر سے منظور کروایا ہوا تھا۔ وہ بڑے احترام سے ملے اور پوچھا مولانا کہاں سے آئے ہیں؟ اور کس سلسلہ میں جیل میں آ گئے؟
میں نے کہا کہ میں بورے والا کی مرکزی جامع مسجد اہلحدیث کا خطیب ہوں اور خانیوال میں ختم نبوت کے موضوع پر ایک تقریر کی اور جس میں کھل کر مرزائیت کی تردید کی ہے۔ وہاں کا تھانیدار مرزائی تھا اور رپورٹر بھی مرزائی۔ انہوں نے رات ہی کو میرے وارنٹ گرفتاری جاری کروا کر مجھے گرفتار کروا لیا، اگلے دن انتظامیہ جلسہ نے ضمانت کی درخواست دی، لیکن اس وقت پتہ چلا کہ ملتان کا سیشن جج بھی مرزائی ہے اور اُس نے میری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جس کی وجہ سے پولیس مجھے آج ہی جیل لائی ہے او ریہ میری اور آپ کی ملاقات کا سبب بنا ہے۔ وہ دونوں نوجوان حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے مقتدی تھے۔ وہ کہنے لگے مولوی صاحب آپ کھانا ہمارے ساتھ کھایا کریں ۔ہمارا کھانا گھر سے آتا ہے میں نے انکار کیا، لیکن ان کا اصرار غالب آ گیا میں نے ان کی دعوت قبول کر لی، ان میں سے ایک پھر کہنے لگا کہ مولوی صاحب آپ تو پان بھی کھاتے معلوم ہوتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں پان کھاتا ہوں، لیکن جب پولیس والوں نے تلاشی لیتے وقت میرا پان نکال لیا تو میں نے اپنے نفس سے کہا تھا کہ دیکھو یہاں کتنی پابندی ہے، اب پان مت مانگنا، کہنے لگے ان سے مانگیں کیوں؟ ہمارے دونوں بھائیوں کے سولہ پان روزانہ گھرسے آتے ہیں۔ اب آج سے آٹھ پان آپ کے بھی آیا کریں گے ۔ میں ایک ماہ اور تین دن ملتان ڈسٹرکٹ جیل میں رہا اور ان نوجوانوں کا صبح کا ناشتہ ، دوپہر کو کھانا، بعد نماز عصر چائے، رات کا کھانا آتا اور بہت پُرتکلّف کھانا ہوتا۔ جیل میں میرے ساتھ ملاقات کرنے جو بھی آتا، میں کہتا کہ ابھی دو چار ماہ میری ضمانت نہ کروانا، کیونکہ یہاں بہت آرام ہے۔ لیکن آخر کار حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنوی﷫ نے میاں محمود علی صاحب قصوری﷫ کو کہہ کر میری لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کروا دی۔ اسی طرح پوری زندگی اسی انداز سے گزری ہے،یہ ایک مختصر سا تعارف ہے۔''2
یاد رہے کہ تحریک ختم نبوت کی اب پندرہ جلدیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ الحمد للہ
کسی دور میں نصرت ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں لاہور سے فیصل آباد چلتی تھیں۔ فیصل آباد میں اس کمپنی کا بس اڈا کارخانہ بازار کے باہر ہوا کرتا تھا اور یہ بس کمپنی مرزائیوں کی تھی ۔ ایک بار مولانامحمد عبداللہ صاحب لاہور سے نصرت ٹرانسپورٹ کی بس کے ذریعے لائل پور آئے۔ رات کو اُنہو ں نے دورانِ تقریر تذکرہ کیا کہ میں لاہور سے نصرت بس پر بیٹھ کر ساڑھے تین گھنٹہ میں لائل پور پہنچا ہوں۔ قادیانیوں نے اس بات پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ مولانا عبداللہ صاحب پیشی پر عدالت میں حاضر ہوئے اور اپنا بیان دیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد اُنہوں نے کہا کہ آئندہ پیشی پر میں یہ بھی بتاوں گاکہ نصرت بس کمپنی پر بیٹھ کر مجھے کتنا لطف آیا اور سفر کتنا آرام دہ رہا، ان کی یہ بات بھی مرزائیوں کو چبھ گئی۔ اب ان کو کسی نے مشورہ دیا کہ اس مولوی سے جان چھڑا لو، ورنہ یہ آئندہ تمہیں عدالت میں بڑا رسوا کرے گا۔ لہٰذا مرزائیوں نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا۔
1974ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی بھرپور کردار ادا کیا اور بورے والا کی مذہبی قیادت میں ان کا کام اور نام نمایاں تھا۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ میں بھی مولانا محمدعبداللہ صاحب کی خدمات قابل قدر ہیں۔ جس طرح ان کی عمر طویل تھی اسی طرح ان کی خدمات کا دائرہ بھی وسعت پذیرتھا۔ مولانا محمدعبداللہ صاحب بڑے وضع دار اور پُروقار عالم دین تھے۔ ہمیشہ اپنی عزت و وقار کا خیال رکھتے۔ ایک بار انہوں نے قصور کی جامع مسجد فریدیہ اہل حدیث میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ رات کو ان کا قیام بھی قصور میں ہی تھا۔ مشہور مغنیہ ملکہ ترنم نور جہاں کا تعلق بھی قصور سے ہے اور اس کا آبائی گھر بھی وہیں ہے۔ ان دنوں نور جہاں قصور میں تھی، اس کو مولانامحمد عبداللہ صاحب کی قصور آمد کا پتہ چلا تو اُس نے اپنا خادم بھیجا کہ باباجی !صبح ناشتہ ان کے ہاں کریں۔ مولانامحمد عبداللہ صاحب نے انکار کر دیا۔ بعض لوگ کہنے لگے آپ اس کی دعوت قبول کر لیتے اس میں حرج ہی کیا تھا؟ لیکن مولانا محمدعبداللہ صاحب فرمانے لگے میں نہیں جاوں گا۔ اور مولانا محمدعبداللہ صاحب نور جہاں کے لاکھ اصرار پر ان کے ہاں ناشتہ کرنے نہیں گئے اور ایک عالم دین ہونے کی حیثیت سے اپنے مقام و مرتبے کو بلند رکھا۔
مولانا محمدعبداللہ صاحب کا اِمتحان لینے کے لئے بسا اَوقات انہیں مختلف طریقوں سے آزمایا گیا۔ مولانا بتایا کرتے :''ایک بار منڈی بہاؤالدین سے خط آیا کہ فلاں تاریخ کو آپ تشریف لائیں اور اپنے خطاب سے سامعین کو مستفید فرمائیں۔ خط پڑھ کر میں منڈی بہاؤالدین گیا، رات کو تقریر کی اور واپس آ گیا ، انہوں نے واپسی پر پوچھا تک نہیں۔ تھوڑے دن گزرے ان کی طرف سے پھر خط آیا کہ تشریف لائیں اور تقر یر کریں۔ مولانا بیان کرتے ہیں کہ خط پڑھ کر میں نے خود سے کہا :''مولوی! یہ تیری آزمائش ہے۔ کہیں پھسل نہ جانا۔ وہ آزمانا چاہتے ہیں کہ کیا مولوی کرایہ کے بغیر بھی آ سکتے ہیں۔'' چنانچہ میں وقت مقررہ پر منڈی بہاؤ الدین پہنچا اور تقریر کی۔ جن لوگوں نے مجھے بلایا تھا، ان کا صابن کا کارخانہ تھا۔ وہ صبح اپنی گاڑی میں مجھے بتی چوک لاہور چھوڑ گئے اور جاتے ہوئے ایک پیٹی صابن کی اور گیارہ سو روپے میری واسکٹ کی جیب میں ڈال گئے، یہ سستے زمانے کی بات ہے۔''
اس واقعہ سے مولانامحمد عبداللہ صاحب کی تبلیغی مساعی میں خلوص کو دیکھا جا سکتا ہے۔ لالچ، طمع و حرص سے کوسوں دور رہ کر انہوں نے خدمت دین کا فریضہ اَدا کیا اور اپنی عزت اور علما کی عظمت و وقار کو ہمیشہ قائم و دائم رکھا۔ اصل میں مولانا محمدعبداللہ صاحب نے جن لائق اَساتذہ کرام اور عالی قدر بزرگان دین کے زیر سایہ رہ کر تعلیم و تربیت کی منزلیں طے کیں،یہ اسی کا اثر ہے۔ مولانا محمدعبداللہ صاحب، شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری﷫ کے خاص ارادت مند اور شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
بلا شبہ مولانامحمد عبداللہ صاحب پرانے دور کی یاد گار تھے۔ اُنہوں نے نیک لوگوں کا ساتھ پایا۔ وہ جس دور میں پلے بڑھے اور جس ماحول میں تعلیم و تربیت کی منزلیں طے کیں، اسے سنہری دور سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں مختلف تحریکیں اور جماعتیں میدان کارِ زار میں سرگرمِ عمل تھیں۔ ہندو سکھ عیسائی اور مسلمان اپنے اپنے مذہب کی اِشاعت میں لگے ہوئے تھے۔ اور اس سلسلے میں وہ ایک دوسرے سے مناظرے اور مباحثے بھی کرتے تھے اور دوسری طرف مل کر انگریزسے آزادی کے لئے کام بھی کر رہے تھے۔
مولانا محمدعبداللہ صاحب نے ان حالات کا بغور جائزہ لیا اورپھر ان کا علاقہ بٹالہ بھی قادیانی فتنہ کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں مولانا عبداللہ صاحب نے اِسلام کی نشر و اشاعت کے لئے اہل حدیث اسٹیج سے کام کرنا شروع کیا۔ قادیانی مذہب کے خلاف انہوں نے تقریر و تحریر سے کام کیا اور دیگر مذاہبِ باطلہ کے خلاف بھی انہوں نے زبان و بیان سے جہاد کیا۔ تقسیم ملک سے پہلے آپ 'آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس' سے منسلک رہے جس کے ناظم اعلیٰ مولانا ثناء اللہ اَمر تسری﷫ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جب 24؍جولائی 1948ء کو 'مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان'کا قیام عمل میں آیا تو آپ اس سے منسلک ہو گئے اور تاحیات 'مرکزی جمعیت اہل حدیث' کے ساتھ ہی رہے۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ اَمر تسری، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی﷭ ان پر بہت اعتماد کیا کرتے تھے اور ان اَکابرین جماعت کے ساتھ مل کر مولانامحمد عبداللہ صاحب نے جماعت کی تعمیر و ترقی کے لئے دن رات کام کیا۔
مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری دوستوں کے دوست اور یاروں کے یار تھے۔ جن حضرات کے ساتھ ان کا ذرا سا بھی تعلق رہا ،انہیں یاد رکھتے۔ اپنے اَساتذہ کرام کا ذکر خیر عقیدت سے کرتے ، چھوٹوں پر شفقت فرماتے۔فیصل آباد تشریف لاتے تو ان کی کوشش ہوتی کہ دوستوں سے ضرور ملاقات کی جائے۔ ان کی خواہش پر کئی بار ہم ان کے اُستاد زادے حافظ سلیمان مرحوم کو ان کے گھر سمن آباد جا کر ملے۔ اس موقع پر ہمارے مرحوم دوست علی اَرشد چودھری اپنی گاڑی سمیت ہمراہ تھے۔
مولانامحمد عبداللہ صاحب بذلہ سنج اور باغ و بہار طبیعت کے انسان تھے۔ وہ اپنی گفتگو اور شرینی گفتار سے خوب محظوظ کرتے۔ ایک بار فیصل آباد تشریف لائے اور مجھے ٹیلی فون کیا۔ حال اَحوال پوچھ کر کہنے لگے :''اَرشد مرشد کہاں ہیں؟'' میں نے عرض کیا:اس وقت تو وہ گھر پر سو رہے ہوں گے، نمازِ ظہر کے بعد ہی شہر آئیں گے۔ پھر پوچھنے لگے:'' حکیم عبدالستار کے بیٹے حافظ حبیب الرحمٰن کہاں ہوں گے؟ ''میں نے بتایا کہ حافظ صاحب نمازِ فجر کے بعد سو جاتے ہیں نماز ظہر میں ہی مسجد میں آئیں گے۔ بابا جی میرا یہ جواب سن کر برجستہ کہنے لگے:'' یہ سارے اَصحابِ کہف ہی ہیں جو سوئے ہوئے ہیں۔'' ان کی اس برجستہ گوئی نے بڑا لطف دیا۔
1957ء میں مولانا محمدعبداللہ صاحب نے مرکزی جامع مسجد اہل حدیث بورے والا میں'مدرسہ محمدیہ' کی بنیاد رکھی۔ بطل حدیث حضرت مولاناسید محمد داؤد غزنوی﷫ نے اس کا افتتاح فرمایا تھا۔مولانا محمد عبداللہ صاحب اس مدرسہ میں عرصہ دراز تک طلبہ اور طالبات کو ترجمۃ القرآن اور ناظرہ قرآن پڑھاتے رہے۔ شعبہ حفظ القرآن کے لئے بھی استاد تھا۔ اس مدرسہ سے حافظ عبدالستار شیخ الحدیث کوٹ ادو (وفات 19؍جنوری 2009ء)،قاری محمد رمضان سینئر مدرّس جامعہ سلفیہ فیصل آباد ، پروفیسر عبدالرحمٰن لدھیانوی اور حافظ محمد لقمان سلفی(وفات 10جون 2002) جیسے نامور علما نے تعلیم حاصل کی۔
اولادِخانہ
اللہ تعالیٰ نے ان کو چار بیٹوں اور چھ بیٹیوں سے نوازا، بیٹوں کے نام یہ ہیں:
1.  ڈاکٹر محمد سلیمان اظہر : دینی و دنیوی تعلیم سے آراستہ ہیں۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق اچھا ہے۔ 1970ء کے عشرے میں جامعہ سلفیہ میں اَنگریزی کے اُستاد رہے۔ جامعہ اِسلامیہ بہاولپور اور بعض دوسرے سرکاری کالجز میں پروفیسر رہے۔ 1987ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ 'تحریک ختم نبوت، اور 'تاریخ اہل حدیث' ان کی شاہکار تصانیف ہیں جو پاک و ہند سے شائع ہو کر اہل علم سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے تفصیلی حالات میں نے ان کی' تحریک ختم نبوت' کی جلد نمبر 9کے شروع میں تفصیل سے لکھے ہیں۔
2.  حافظ محمد لقمان غضنفر سلفی: جید عالم دین تھے۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد اور جامعہ اِسلامیہ مدینہ منورہ سے اِکتساب علم کیا۔ 18،17سال میاں چنو ں کی جامع مسجد اہل حدیث میں خطیب رہے۔ 10؍جون 2002ء کو اُنہوں نے میاں چنوں میں ہی وفات پائی۔ بڑے خلیق، ملنسار اور خوش طبع عالم دین تھے۔ ان کے تفصیلی حالات جاننے کے لئے راقم کا مضمون ہفت روزہ اہل حدیث لاہور کے 14؍اَپریل 2003ء کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیے۔
3. ریاض قدیر: بورے والا میں رہتے اور اپنا کاروبار کرتے ہیں، نیک اور صالح اِنسان ہیں۔
4.  زبیر احمد: مستندعالم دین ہیں، بورے والا کے ایک سرکاری سکول میں پڑھاتے ہیں اور مسجد میں خطیب بھی ہیں۔
بابائے تبلیغ مولانا عبداللہ صاحب سے متعلق یادوں اور ملاقاتوں کے یہ چند ناقابل فراموش نقوش ہیں جو میں نے قارئین کے رُوبرو پیش کئے ہیں۔ مجھ سے کہیں زیادہ بابا جی سے متعلق واقعات ان لوگوں کے دل و دماغ میں محفوظ ہوں گے جن کو راقم سے زیادہ مولانا کی محفل میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ تاہم میرے دل کا تقاضا اور روح کی پکار تھی کہ بابا جی سے متعلق یادوں کو کاغذ کے سینے پر ثبت کیا جائے۔
شا عر اہل حد یث جناب علیم نا صری مر حو م نے مو لا نامحمد عبد اللہ گورداسپوری کے بارے میں ایک نظم ان کی زند گی میں لکھی تھی جو قریباً ایک عشرہ قبل ہفت روزہ ا لاعتصا م لا ہور میں شائع ہو ئی تھی، موقع کی مناسبت سے اسے بھی نذرِ قا رئین کیا جا تا ہے ۔ جنا ب علیم نا صری فرماتے ہیں:
نام ہے لب پر مر ے اک مردِ حق آ گاہ کا        یارِ خیر اندیش ، مو لا نا ئے عبد اللہ کا
وہ مرے مسلک ، مرے نطق و نوا کا ہم صفیر     ہم خیال و ہم زبا ن و دل ر با و دل پذ یر
ہم نوا ئے ہمنوا یا ن ، ہم نشینِ ہم دما ں         دوست دارِ دوستداراں، خیر خواہِ ہم رہا ں
نر م خو و گر م جو، شا ئستہ خو ، شا ئستہ رو       حق پرستو ں کا مصا حب ، اہل با طل کا عدو
خوش کلام و خوش خرا م و خوش بیان و خوش زبا ن       پاک پوش و پا ک نوش و پا ک چشم و پا ک جا ن
عالمِ نکتہ شنا س و فا ضلِ ر مز آ شنا                   اک ادیب علم پر ور ، اک خطیب خوش نوا
محفلو ں میں زعفرا نی ر نگ بھر دیتا ہے وہ        خشک جا نو ں کو بھی لا لہ زار کر دیتا ہے
غم ز دو ں کی دور کر دیتا ہے وہ افسر د گی         فصل گل بنتی ہے اس کو د یکھ کر پژمر د گی
اس کی تقریریں شگفتہ، بزم آ را ، دل نشیں        چٹکلو ں میں بھی سبق آ موز، معنی آ فر ین
منبر و محرا ب میں رو حا نیت کی آ بشار        بز م یا را ں میں شگو فو ں کی بہار اندر بہار
چھو ٹتی ہے بورے وا لا سے جو اس کی پھلجھڑی       بنتی ہے لا ہور کے وہ گل کدو ں کی پنکھڑی
آ ج بھی با نکا ہے میرا سا ل خوردہ دوستدار         شا ہ با لا ئے مسیحا کا بھی ہے امید وار
اس کا فر زندِ گرا می دا نش و بینش مآ ب         ملکِ عر فا ن کا سلیما ن صا حبِ کلک و کتا ب
میرے بھا ئی کی ہو سب او لاد یا ر ب شا د ما ن       ان پہ بر سا ر حمتی اے ما لک کو ن و مکا ن
دین اور دنیا رہے اس کی متین و تا بدار         وہ رہے اپنے عزا ئم میں ہمیشہ کا مگار
مولانا محمدعبداللہ صاحب کی زندگی دعوت و تبلیغ سے عبارت تھی اور اُنہوں نے اس مشن میں عمر گزار دی۔ ایک عرصے سے وہ شوگر اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے ،لیکن عوارض سے زیادہ بڑھاپا اُن پر غالب تھا۔ کمزوری، نقاہت اور بڑھاپے کے باوجودوہ تبلیغی پروگراموں میں شوق و عزم سے شریک ہوتے اور اپنی خطابت کی تمام تر رعنائیوں سے سامعین کو محظوظ کرتے۔ 16؍اور 17؍مارچ کو مامو ں کانجن میں آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت مولانا محمدعبداللہ صاحب نے فرمائی اور سترہ مارچ کی رات اُنہوں نے اپنا خطبہ صدارت ارشاد فرمایا جو ان کے مخصوص طرزِ فکر کا آئینہ دار تھا۔ اسی روز دن کے وقت ان کا قیام فیصل آباد میں تھا اور انہوں نے فون کے ذریعے راقم کی خیریت دریافت کی تھی اور اپنی صحت کے بارے بتایا تھا۔ اس کے بعدبھی ان سے گاہے بگاہے رابطہ رہا۔
مئی کے اِبتدائی دنوں برادر محمد سہیل اَظہر چودھری نے بابا جی کی بیماری کے متعلق بتایا اور کچھ تشویش کا اِظہار کیا۔ ان کا علاج جاری تھا کہ 7؍مئی کو دوپہر ایک بج کر چالیس منٹ پر نہایت افسردہ لہجے میں سہیل صاحب نے اپنے پیارے بابا کی موت کی اِطلاع دی۔ جسے سن کر نہایت صدمہ ہوا۔ تھوڑی دیر بعد ہفت روزہ 'الاعتصام' لاہور کے دفتر سے مولانا محمد سلیم چنیوٹی نے بھی یہی خبر سنائی۔
مولانامحمد عبداللہ صاحب کی شدید خواہش تھی کہ وہ بورے والا میں ہی فوت ہوں اور اسی شہر میں انہیں دفن کیا جائے جہاں وہ 63؍سال سے مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں خطابت و امامت کا فریضہ اَدا کر رہے تھے۔مولانا محمدعبداللہ صاحب کی وفات کی خبر منٹوں میں پورے ملک اور بیرون ملک پہنچ گئی۔ اور لوگ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے بورے والا پہنچنا شروع ہو گئے۔ 8؍مئی کو صبح پونے گیارہ بجے مولانا اِرشادالحق اَثری﷾ کی اِقتدا میں نمازِ جنازہ اَدا کی گئی اس میں ہزاروں علما اور عوام بلا تفریق مسلک شریک ہوئے۔ اور بورے والا میں ہی تدفین عمل میں آئی۔ بورے والا کی تاریخ میں مولانا محمدعبداللہ صاحب کا جنازہ مثالی تھا۔ ان کی وفات کے سوگ میں انجمن تاجران نے مارکیٹیں اور بازار بند رکھے جبکہ سرکاری و نیم سرکاری دفاتر اور سکول و کالج بھی بند رہے۔ اس علاقے کے ایم پی اے خالد محمود بھٹی نے سیکورٹی اور دیگر انتظامات میں بھرپور تعاون کیا۔ دیگر یہ کہ مقامی جماعت نے بھی آنے والوں کے لئے ٹھنڈے پانی اور کھانے کا خاطر خواہ انتظام کر رکھا تھا۔ بلا شبہ مولانامحمد عبداللہ صاحب اپنے دور کے رفیع المرتبت عالم دین تھے۔ جو اپنے پیچھے بہت سی خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرما کر جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین!

حوالہ جات

1. 'بزم ارجمنداں' از مولانا محمد اسحٰق بھٹی: 608

2. ماہنامہ ضیائے حدیث لاہور ختم نبوت نمبر بنام 'قندیل' اپریل مئی 2009ء