YOUR INFO

Showing posts with label محرم. Show all posts
Showing posts with label محرم. Show all posts

Monday, 4 November 2013

ماہ محرم الحرام حرمت والا مہینہ

0 comments

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
محرم الحرام حرمت والا مہینہ ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
''اِنَّ عِدَّةَ الشُّہُورِ عِندَ اللّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَة حُرُم ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ''
ترجمہ:''مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ۔اسی دن سے کہ آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ان میں سے چار (خصوصی) حرمت و ادب والے ہیں ،یہی درست دین ہے''(سورۃ التوبۃ آیت ٣٦)۔

حجۃ الوداع کے خطبہ میں اللہ کے رسول ۖ نے ارشاد فرمایا تھا،دیکھو زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آگیا جس پر اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا ۔سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں ۔تین تو لگاتار یعنی ذالقعدہ،ذی الحجہ اور محرم الحرام جبکہ چوتھا رجب مضر ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان کے درمیان میں آتا ہے۔(صحیح بخاری مترجم،حدیث ٤٦٦٢)

امام ابن کثیر مندرجہ بالا آیت کے تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
پس ان کل مہینوں میں گناہوں سے بچو خصوصاً ان چار مہینوں میں کہ یہ حرمت والے ہیں ۔ان کی بڑی عزت ہے ،ان گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجرو ثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں ۔

سیدنا قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ان حرمت والے مہینوںکی سزا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے ،گو ظلم ہر حال میں بری چیز ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ اپنے جس امر کو چاہے بڑھا دے، دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بھی (کسی کو) پسند فرمایا لیا ہے،فرشتوں میں سے ،انسانوں میں سے رسول چن لئے ،اسی طرح کلام میں سے اپنے ذکر کو پسند فرمالیا ،اور زمین میں سے مسجد کو پسند فرمالیا اور مہینوں میں سے رمضان شریف کو اور ان چاروں مہینوں کو پسند فرمالیا اور دنوں میں سے جمعۃ المبارک کو اور راتوں میں سے لیلۃ القدر کو پسند فرمالیاہے۔

پس تمہیں ان چیزوں کی عظمت کا لحاظ رکھنا چاہیئے جنہیں اللہ نے عظمت دی ہے۔امور کی تعظیم عقل مند اور فہیم لوگوں کے نزدیک اتنی ضروری ہے جتنی ان کی تعظیم اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ ان کی حرمت کا ادب نہ کرنا حرام ہے ان میں جو کام حرام ہیں ان کو حلال نہ کر لو ۔جو حلال ہیں انہیں حرام نہ بنالو جیسے کہ اہل شرک کرتے ہیں یہ ان کے کفر میں زیادتی کی بات تھی۔(تفسیر ابن کثیر جلد٢،صفحہ ٥٥٨،مکتبہ قدوسیہ)

٭شیخ علم الدین سخاوی نے اپنی کتاب ''المشہور فی اسماء الایام والشہور'' میں لکھا ہے کہ محرم کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں ۔(تفسیر ابن کثیر مترجم مکتبہ قدوسیہ)

سن ہجری کا آغاز ماہ محرم الحرام سے ہوا
ماہ محرم الحرام سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو نبی مکرم ۖ کے واقعہ ہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سال کا تقرر اور آغاز استعمال 17ہجری میں سیدنا عمر فاروق کے عہد خلافت سے ہوا۔بیان کیا جاتا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن کے گورنر تھے اور خطوط فارقی وغیرہ آپ کے پاس آتے تھے مگر ان پر تاریخ وغیرہ درج نہ ہوتی تھی تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری کے توجہ دلانے پر سیدنا عمر فاروق نے تمام صحابہ کو اس مسئلے کے حوالے سے جمع کیا اور پھر باہم مشورے سے یہ طے کر لیا کہ دن اسلامی تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت پر رکھی جائے اور اس کی ابتداہ ماہ محرم سے کی جائے ۔(دیکھئے فتح الباری ،جلد ٧،صفحہ ٣٤١،مکتبہ قدوسیہ)

ماہ محرم میں مسنون عمل
ماہ محرم میں خصوصی مسنون عمل (بطور نفل کے)روزہ رکھنا ہے۔صحیح حدیث میں رمضان المبارک کے بعد (نفلی روزوں میں )سب سے افضل روزے ماہ محرم الحرام کے قرار دیئے گئے ہیں ۔نبی مکرم ۖ نے فرمایا:

''افضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ المحرم''
ترجمہ:رمضان المبارک کے بعد شہر اللہ محرالحرام کے روزے رکھنا سب سے افضل ہے۔(صحیح مسلم مترجم،حدیث ٢٧٥٥)

عاشوراء کے روزے کی فضیلت
نبی مکرم ۖ کے فرا مین کی روشنی میں اگرچہ یہ نفلی روزہ ہے ،استحبابی عمل ہے مگر ساتھ ہی گناہوں کو اس سے ملا کر بیان کیا گیا ہے ۔

رسول اللہ ۖ سے یوم عاشورہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ۖ نے فرمایا ''یکفر السنۃ الماخیۃ''یعنی یہ (روزہ )کزرے ہوئے پورے ایک سال کا کفارہ ہے ۔(گناہوں کی معافی ہے)(صحیح مسلم ،کتاب الصیام)

ابھی یہ بات گزری ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام کے ہیں لہٰذا ہمیں اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھنے چاہیئں،خصوصاً عاشورہ کا روزہ تاکہ یہ عمل صالح ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔

ایک مسلمان تو ہر وقت اللہ اور اس کے رسول ۖ کے حکم کا پابند ہوتا ہے وہ اپنی مرضی اور کسی غیر نبی کی رائے سے نہ تو کوئی عقیدہ اختیار کرتا ہے اور نہ ہی خوشی و غمی کے انداز ۔دور فتن میں جب اختلاف دکھائی دے تو پھر رجوع الی السنة واجب ہے کہ نجات کی سبیل یہی ہے ۔

نبی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے :
''علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء راشدین المھدیین----------''
ترجمہ:(اختلاف سے نجات کی راہ یہ ہے کہ)تم میری سنت کو اور خلفائے راشدین کی سنت کو تھام لو، داڑھ کی مضبوطی سے پکڑ لو اور (دیکھنا) دین میں نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور بدعت باعث گمراہی ہے۔(ابو دائودو ترمذی وغیرہ)

اگرآج مسلمان سارے متحد و متفق ہو کر ہر ہر مہینے میں اور ہر ہر عقیدہ و عمل کے امور میں نبی ۖ اور آپ کے خلفاء کی سنت کو تلاش کر کے اسی پر عمل پیرا ہوں تو یقینا یہ بدعت و خرافات جو ہر مہینے میں نئے نئے انداز سے جنم لیتی ہیں ختم ہو جائیں گی اور مسلمان مجتمع ہو کر صراط مستقیم پر گامزن ہو جائیں گے۔ واللہ ولی التو فیق


یوم عاشوراء اور صوم عاشوراء کی وضاحت
اہل علم کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یوم عاشورہ کون سا دن ہے ؟٩محرم الحرام یا ١٠محرم الحرام نیز یہ بھی اختلاف ہے کہ آیا روزہ ٩ محرم الحرام کا رکھا جائے گا یا صرف ١٠ محرم الحرام کا یا پھر ٩ اور ١٠ دونودنوں کا رکھا جائے گا۔

راجح قول یہی ہے کہ ''یوم عاشورائ''١٠محرم الحرام کا دن ہے اور اسی دن روزہ رکھا جائے گا ۔البتہ یہودیوں کی مخالفت شرع میں مطلوب ہے اس لئے ١٠محرم الحرام کے ساتھ یا ٩ محرم کا روزہ رکھ لیا جائے یا پھر دس کے ساتھ ١١محرم الحرام کو ملا لیا جائے اور ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ٩،١٠،اور ١١ محرم الحرام یعنی تینوں دنوں کا روزہ رکھ لیا جائے ۔واللہ اعلم۔

ذیل میں اس علم کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں:
٭امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں کہ مشاہیر علمائے سلف و خلف کا مذہب یہی ہے کہ عاشورہ دسویں تاریخ ہے اور یہی قول ہے سعید بن مسیب ،حسن بصری ،امام مالک،امام احمد اور امام اسحاق کارحمہم اللہ علیہم اجمعین۔نیز ظاہر احادیث اور مقتضائے لفظ یہی ہے اس لئے عاشوراء عشر سے مشتق ہے اور عشر دس کو کہتے ہیں ۔امام شافعی اور ان کے اصحاب ،امام احمد اور امام اسحاق و دیگر علماء کا قول ہے کہ نویں اور دسویں دونوں کا روزہ رکھنا مستحب ہے اس لئے کہ آپ ۖ نے دسویں کا روزہ رکھا تھا اور نویں تاریخ کی نیت کی تھی اتنے میں وفات ہوگئی۔ اور حدیث مسلم میں گزرا ہے کہ افضل روزے رمضان کے بعد شہر اللہ محرم کے ہیں ۔علماء نے کہا ہے کہ نویں تاریخ کا روزہ ملا لینے سے غرض یہ تھی کہ اکیلے دسویں کے روزے میں یہود کی مشابہت تھی۔(مترجم صحیح مسلم مع الشرح ،صفحہ ١٣٨،جلد٣ طبع نعمانی کتب خانہ)

٭ امام شوکانی نے زین بن منیر سے نقل کیا ہے کہ اکثریت کے نزدیک عاشوراء سے مراد دسواں دن ہی ہے اور مقتضائے اشتقاق و وجہ تسمیہ بھی یہی ہے ۔

امام شوکانی مزید رکھتے ہیں کہ نبی ۖ کا یہ فرمانا ''ضما الیوم التاسع''ہم نویں د ن کا روزہ رکھیں گے''۔احتمال رکھتا ہے کہ شاید آپ ۖ دسویں کے ساتھ نویں کو ملانا چاہتے تھے احتیاطاً اور یا پھر یہود و نصاریٰ کی مخالفت میں ۔اور اس قول میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ۖشاید صرف نویں دن کا روزہ رکھتے اور اسی پر اقتصار کرتے لیکن ان لفظون میں اس احتمال کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ پہلا احتمال (یعنی دسویں اور نویں دن کا روزہ رکھنا )مئوید ہے اس حدیث سے کہ جس میں دسویں کے ساتھ ایک دن قبل اور ایک دن بعد کے روزے کو ملانے کا حکم ہے۔اور یہ حدیث امام بیہقی نے بھی نقل کی ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے تلخیص میں ذکر کر کے اس پر سکوت اختیار کیا ہے ۔بعض اہل علم نے (نبی ۖ کے وفات کے بعد)دو دن کے روزوں کو احتیاط سے تعبیر کیا ہے۔

امام شوکانی پھر لکھتے ہیں کہ بہتر اور اولی بات یہ ہے کہ تین دن کے روزے رکھ لئے جائیں ٩،١٠،اور ١١ محرم الحرام ۔اور پھر آگے چل کر امام نووی کی وہی بات نقل کی ہے جو پیچھے ہم لکھ چکے ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئے نیل الاوطار ،جلد ٤،طبع دارلجلیل)۔

٭ شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری نے بھی ''یوم عاشورائ'' کی وضاحت ''الیوم العاشر من المحرم'' سے کی ہے یعنی محرم کا دسواں دن۔ مزید لکھتے ہیں کہ اس لفظ کا اشتقاق اس کا متقاضی ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے جن میں صحابہ و اتباع صحابہ اور ان کے بعد کے لوگ شامل ہیں۔شیخ حافظ ابن حجر سے بھی نقل کرتے ہیں کہ اکثریت کا قول یہی ہے کہ دسواں دن ہے ۔نیز ابن قیم کی کتاب ''الھدیٰ''سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس نے نویں دن کو عاشوراء قرار نہیں دیا تھا۔

شیخ مزید لکھتے ہیں کہ صرف ٩ کا روزہ رکھنا در حقیقت الفاظ حدیث کو نہ سمجھنے اور اس کے الفاظ و طرق کا تتبع نہ کر نی کی وجہ سے ہے جبکہ اس سوء فہم پر لغت و شرع دال نہیں ہیں ۔

٭ امام ابن تیمیہ نے بھی ١٠ کے ساتھ ٩ کا روزہ بھی رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے (مجموع الفتاویٰ ،جلد ٢٥۔مرعاۃ المفاتیح ،جلد ٧)۔

٭ امام حافظ ابن قیم نے بھی اسی طر ح لکھا ہے ۔(دیکھئے زادالمعاد،جلد١)

٭ شیخ عطا اللہ حنیف بھوجیانی نے بھی لکھا ہے کہ (علماء کی) اکثریت عاشوراء سے ''الیوم العاشر''یعنی دسواں دن مراد لیتی ہے اور یہی جمہور علماء سلف و خلف کا موقف ہے یہی ظاہر الحدیث ہے اور مقتضی اللفظ و اشتقاق ہے ۔اور پھر شیخ نے حافظ ابن حجر و ابن قیم کے کلام ک نقل کیا ہے کہ یا تو ٩ ۔١٠۔١١تینوں روزے رکھیں یا پھر نو اور دس کا روزہ رکھیں اور یا پھر دس اور گیارہ کا روزہ رکھیں ۔(دیکھئے ردع الانام عن محد ثات عاشرالمحرم الحرام از شیخ محمد عطا اللہ حنیف )۔

٭ شیخ عبدالسلام بستوی نے بھی مذکورہ موقف کی تائید کی ہے۔(اسلامی خطبات ،جلد٩)

٭ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس موقف کا اظہار کیا ہے ۔(دیکھئے رسومات محرم اور سانحہ کربلااز صلاح الدین یوسف)

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ عاشوراء سے مراد محرم الحرام کا دسواں دن ہے اور اسی دن روزہ رکھنا چاہیئے جبکہ مخالفت یہودو نصاریٰ میں دسویں دن کے روزے کے ساتھ نویں دن کا یا گیارہویں دن کا روزہ رکھ لینا چاہیئے ۔واللہ اعلم۔

واقعہ کربلا کے تناظر میں ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ قرار دینا
یہ بات ہر عاقل و بالغ مسلمان جانتا ہے کہ ماہ محرم الحرام کی حرمت و عظمت تو اس دن سے ہے جس دن سے یہ زمین و آسمان وجود میں آئے ہیں اس میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس مظلومانہ شہادت کی آڑ لے کر اس مہینے کو سوگ اور غم کا مہینہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ کوئی خوشی بھی نہ منا سکے ۔
لیکن آج جو کچھ ہمارے سامنے ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ اس مہینے میں زیب و زینت پر پابندی لگا دی جاتی ہے ،عورتیں اپنی آرائش و زیبائش ترک کر دیتی ہیں ،لوگ گو شت نہیں کھاتے خوشی کی دعوتیں نہیں کرتے ۔اس مہینے میں عقد نکاح بھی نہیں باندھا جاتا ،جن میاں بیوی کی شادی ہوئے صرف دو مہینے ہوئے ہوں انہیں باہم ملنے سے روکتے ہیں ،کثرت سے نوحہ کیا جاتا ہے ،کپڑوں کو پھاڑا جاتا ہے ،سینہ کوبی کی جاتی ہے ،چہروں پر طمانچے مارے جاتے ہیں ،سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بہت سے عام صحابہ کرام پر شب و ستم کیا جاتا ہے ۔غیراللہ کے نام کی سبیل لگا کر پانی پلایا جاتا ہے ڈھول ڈھماکے ،طبلہ و سارنگی بجائی جاتی ہے ،جھنڈے اور تعرزیئے کھڑے کئے جاتے ہیں ۔
یقینا یہ سب خرافات و بدعات ہیں ایک مسلمان کو تو بس انہیں باتوں پر عمل کرنا چاہیئے جو قرآن و سنت میں اس کے لئے بیان کر دی گئی ہیں ۔

اسلامی تعلیمات میں غم و حزن کے سلسلے میں رہنمائی اس انداز سے کی گئی ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر فوت ہو جائے تو وہ چار مہینے دس دن عدت کے گزارے اس کے علاوہ کسی کے لئے بھی تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے۔

شریعت اسلامیہ میں صبر کی تلقین کی گئی ہے ،اور ساتھ ہی بشارت بھی دی گئی ہے کہ صابرین کو بے حد وحساب اجر دیا جائے گا اور صبر صدمے کے وقت بھی اختصار کرنا چاہیئے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
''وبشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون''
ان صبر گزاروں کو خوشخبری دیجئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ان کی زبان پر ''انا للہ وانا الیہ راجعون''جاری ہو جاتا ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو آج صدیاں بیت چکی ہیں اس کے باوجود جس طرح عشرہ محرم میں آہ و بکا ہوتا ہے وہ نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ سمجھ میں نہ آنیوالا ہے شہادت تو ایک عظیم مرتبہ ہے جو سیدنا حسین و سیدنا علی اور سیدنا عمر ول عثمان رضی اللہ عنہم حاصل کر چکے اور اگر شہیدپر بھی رویا جاتا ہے تو پھر یہ بڑی بڑی شہادتیں بھی ہوئی مگر سیدنا حمزہ ،سیدنا عمر ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم پر رونے والا کوئی کیوں نہیں ؟

واللہ اعلم بالثواب۔
والسلام۔

Friday, 8 March 2013

کربلا کی کہانی

0 comments

سم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
کربلا کی کہانی
حضرت ابو جعفر محمد باقر رحمہ اللہ کی زبانی

ترجمہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی
(ماخوز از ہفتہ روزہ ‘‘اسلام‘‘ لاہور)

روایت کے راوی عمار دہنی نے کہا کہ میں نے محمد بن علی بن الحسین رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے واقعہ قتل حسین رضی اللہ عنہ ایسے انداز سے بیان فرمائیں کہ گویا میں خود وہاں موجود تھا اور یہ سامنے ہورہا ہے اس پر حضرت محمد باقر رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھتیجا یزید کا چچیرا بھائی ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ منور کا گورنر تھا ولید نے حسب دسور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کے ان سے نئے امیر یزید کے لئے بیعت لیں ۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کے سردست آپ سوچنے کی مہلت دیں اور اس بارے میں نرمی اختیار کریں ولید نے ان کو مہلت دے دی حضرت حسین رضی اللہ عنہ مہلت پاکر مکہ تشریف لے گئے۔۔۔

دریں اثناء جب کوفہ والوں کو اس کا پتہ چلا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ تو مکہ تشریف پہنچ گئے ہیں تو اُنہوں نے اپنے قاصد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لے آئیں ہم اب آپ ہی کے ہوگئے ہیں ہم لوگ یزید کی بیعت سے منحرف ہیں ہم نے گورنر کوفہ کے پیچھے جمعہ پڑھنا چھوڑ دیا ہے اس وقت حضرت نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ یزید کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے جب اہل کوفہ کی طرف سے اس قسم کی درخواستیں آئیں تو حضڑت حسین نے اپنے چیچرے بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجنے کا پروگرام بنایا تاکہ وہاں جاکر صورت حال کا اچھی طرح جائزہ لیں اگر اہل کوفہ کے بیانات صحیح ہوئے تو خود بھی کوفہ پہنچ جائیں گے۔۔۔

حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کی کوفہ کو روانگی۔۔۔
قرارداد کے مطابق حضرت مسلم رضی اللہ عنہ مکہ سے مدینہ منورہ پہنچے وہاں سے راستہ کی رہنمائی کے لئے دو آدمی ساتھ لئے اور کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے جس راستے سے وہ لے گئے اس میں ایک ایسا لق ودق میدان آگیا جس میں پانی نہ ملنے کے سبب پیاس سے سخت دوچار ہوگئے چنانچہ اسی جگہ ایک رہنما انتقال کرگیا۔۔۔ اس صورت حال کے پیش آنے پر حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھ کر کوفہ جانے سے معذرت چاہی لیکن حضرت ممدوح رضی اللہ عنہ نے معذرت قبول کرنے سے انکار کردیا اور لکھا کے آپ ضرور کوفہ جائیں بنابریں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف چل دیئے وہاں پہنچ کر ایک شخص عوسجہ نامی کے گھر قیام فرمایا جب اہل کوفہ میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کا چرچا ہوا تو وہ خفیہ طور پر ان کے ہاں آئے اور ان کے ہاتھ پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کرنے لگے چنانچہ بارہ ہزار اشخاص نے بیعت کرلی دریں اثناء یزید کے ایک کارند عبداللہ بن مسلم بن شعبہ حضرمی کو اس کا پتہ چلا تو اس نے ساری کاروائی کی اطلاع گورنر کوفہ نعمان بن بشیر کو دے دی اور ساتھ ہی کہا کے یا تو آپ واقعتا کمزور ہیں یا کوفہ والوں نے آپ کو کمزور سمجھ رکھا ہے دیکھتے نہیں کے شہر کی صورتحال مخدوش ہورہی ہے اس پر حضرت نعمان نے فرمایا کے میری ایسی کمزوری جو بر بنائے اطاعت الٰہی ہو وہ مجھے اس طاقت سے زیادہ پسند ہے جو اس کی معصیت میں ہو مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ جس امر پر اللہ تعالٰی نے پردہ ڈالے رکھا ہے خواہ مخواہ اس پردہ کو فاش کروں اس پر عبداللہ مذکور نے یہ سارا ماجرا یزید کو لکھ کر بھیجدیا یزید نے اپنے ایک آزاد غلام سرحون نای سے اس بارے میں مشورہ لیا اس نے کہا اگر آپ کے والد زندہ ہووتے اور آپ کو کوئی مشورہ دیتے تو اُسے قبول کرتے؟؟؟۔۔۔ یزید نے کہا ضرور سرحوان نے کہا تو پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ کوفہ کی گورنری عبیداللہ بن زیادہ کے سپرد کردیں ادھر صورت حال ایسی تھی کے ان دنوں یزید عبداللہ مذکور پر ناراض تھا اور بصرہ کی گورنری سے بھی اُسے معزول کرنا چاہتا تھا مگر سرحون کے مشورے پر اس نے اظہار پسندیدگی کرتے ہوئے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی گورنری پر بھی عبیداللہ بن زیاد کو نامزد کردیا۔۔۔ اور لکھ دیا کہ کوفہ پہنچ کر مسلم بن عقیل کو تلاش کرو اگر مل جائے تو اس کو قتل کردو۔۔۔

ابن زیاد کوفہ میں افشائے راز۔۔۔
اس حکم کی بناء پر عبیداللہ بصرہ کے چند سرکردہ لوگوں کے ہمراہ اس حالت میں کوفہ پہنچا کہ اس نے ڈھٹا باندھ رکھا تھا تاکہ اسے کوئی پہچان نہ سکے وہ اہل کوفہ کی جس مجلس سے گزرتا اس پر سلام کرتا اور وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمجھ کر وعلیک السلام یا ابن رسول اللہ جواب میں کہتے اسی طرح سلام کہتا اور جواب لیتا ہوا وہ قصر امارت پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ایک غلام کو تین ہزار درہم دیئے اور کہا کے تم جاکر اُس شخص کا پتہ لگاؤ جو کوفہ والوں سے بیعت لیتا ہے لیکن دیکھو تم خود کو ‘‘حمص‘‘ کا باشندہ ظاہر کرنا اور یہ کہنا کے میں بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں اور یہ رقم بھی پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے مشن کی تکمیل میں اس کو صرف کریں چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور بہ لطائف الحیل اس تک اس کی رسائی ہوگئی جو بیعت لینے کا اہتمام کرتا تھا اور اس نے اپنے آنے اور امدادی رقم پیش کرنے کی سب بات کہہ ڈالی اس نے کہا کے مجھے یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی کے تمہیں ہدایت کا راستہ نصیب ہوا لیکن یہ محسوس کرکے دُکھ بھی ہورہا ہے کہ ہماری اسکیم ابھی پختہ نہیں ہوئی تاہم وہ اس غلام کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاں لے گیا حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے اس سے بیعت بھی لے لی اور رقم بھی اس سے قبول کر لی اب وہ یہاں سے نکلا اور عبیداللہ بن زیاد کے پاس پہنچا اور سب کچھ اُس کو بتادیا ادھر عبیداللہ کی کوفہ میں آمد کے بعد حضرت مسلم عوسجہ کا گھر چوڑ کر ہانی بن عروہ مرادی کے مکان پر فردکش تھے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجا کے لوگوں نے بارہ ہزار کی تعداد میں ہماری بیعت کر لی ہے آپ کوفہ تشریف لے آئیں۔۔۔

اور دوسری طرف جب عبیداللہ کو پتہ چل گیا کے حضرت مسلم رضی اللہ عنہ ہانی کے مکان پر ہیں تو اُس نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں سے کہا کے کیا بات ہے ہانی میرے پاس نہیں آئے اس پر حاضرین سے ایک شخص محمد بن اشعب چند ہمراہیوں کے ساتھ ہانی کے ہاں گئے تو وہ اپنے دروازے پر موجود تھے ابن اشعب نے کہا کے گورنر صاحب آپ کو یاد فرماتے ہیں اور آپ کے اب تک نہ حاضر ہونے کو بہت محسوس کرتے ہیں لہذا آپ کو چلنا چاہئے چنانچہ ان کے زور دینے پر ہانی ان کے ساتھ ہولئے اور وہ عبیداللہ کے پاس پہنچے اتفاق سے اس وقت قاضی شریح بھی ابن زیاد کے پاس موجود ھے ان سے مخاطب ہوکر اس نے کہا دیکھو اس ہانی کو چال کھوٹ کی مظہر ہے پھر اتنے میں وہ اس کے پاس آگیا تو کہا ‘‘ مسلم بن عقیل کہاں ہے ‘‘ اس نے کہا مجھے علم نہیں اس پر عبیداللہ نے تین ہزار درہم دینے والے غلام کو اس کے سامنے کردیا ہانی بالکل لاجواب ہوگئے البتہ اتنا کہا کے میں نے انہیں اپنے گھر بلایا نہیں بلکہ وہ خود میرے گھر آکر ٹھہر گئے ہیں ابن زیاد نے کہا اچھا ان کو حاضر کرو اس نے اس پریس وپیش کیا تو ابن زیاد نے ان کو اپنے قریب بلوا کر اس زور سے چھڑی ماری جس سے اس کی بھویں پھٹ گئیں اس پر ہانی نے اس کے ایک محافظ سپاہی سے تلوار چھین کر عبیداللہ پروار کرنا چاہا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا اس پر ابن زیاد نے یہ کہہ کر کہ اب تمہارا خون حلال ہے قصر امارت کے ایک حصے میں اس کو قید میں ڈال دیا۔۔۔

اس واقعہ کی اطلاع ہانی کے قبیلہ مذحج کو ہوئی تو اس نے قصر امارت پر یلغار بول دی عبیداللہ نے شور سُنا اور پوچھا تو کہا گیا کے ہانی کا قبیلہ ان کو چھڑانے کے لئے آیا ہے اس پر قاضی شریح کے ذریعہ ان کو کہلایا کہ ہانی کو مسلم بن عقیل کا پتہ کرنے اور بعض باتوں کی تحقیق کے لئے روک لیا گیا ہے۔۔۔ خطرے کی کوئی بات نہیں لیکن ساتھ ہی قاضی شریح پر بھی ایک غلام کو لگادیا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ لوگوں سے کیا کہتے ہیں قاضی شریح لوگوں کی طرف جاتے ہوئے ہانی کے پاس سے گزرے تو اس نے قاضی صاحب سے کہا کے میرے بارے میں اللہ سے ڈرنا ابن زیاد میرے قتل کے درپے ہے تاہم قاضی شریح نے ہجوم کو ابن زیاد والی بات کہہ کر مطمئن کردیا اور لوگ بھی یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے کے ہانی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔

حضرت مسلم کو جب ہنگامے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ سے کوفہ میں اعلان کرادیا جس کے نتیجہ میں چالیس ہزار لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے ان کو باقاعدہ انہوں نے ایک فوجی دستے کی شکل دے دی جس کا مقدمہ الجیش، میمنہ اور میسرہ وغیرہ سب ہی کچھ تھا خود حضرت مسلم بن عقیل اس کے قلب میں ہوگئے اس طرح چالیس ہزار کا یہ لشکر جرار قصر امارت کی طرف روانہ ہوگیا عبیداللہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے اہلیان کوفہ کو اپنے قصر میں بلایا جب یہ لشکر امارت تک پہنچ گیا تو سرداران کوفہ نے اپنے قبیلے کو دیواروں کے اوپر سے گفتگو کرکے سمجھانا شروع کیا اب تو حضرت مسلم کی فوج کے آدمی کھسکنے شروع ہوئے اور ہوتے ہوتے شام تک صرف پانچ سو رہ گئے حتی کہ رات کے اندھیرے تک وہ بھی چل دیئے جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ تنہا رہ گئے ہیں تو وہاں سے چل پڑے راستے میں ایک مکان کے دروازے پر پہنچے تو ایک خاتون اندر سے آپ کی طرف نکلی آپ نے اس کو پانی پلانے کے لئے کہا تو اس نے پانی تو پلادیا لیکن اندر واپس چلی گئی تھوڑی دیر بعد پھر باہر آئی تو آپ کو دروازے پر دیکھ کر اُس نے کہا اے اللہ کے بندے آپ کا اس طرح بیٹھنا مشکوک ہے یہاں سے چلے جائیں آپ نے کہا میں مسلم بن عقیل ہوں کیا تم مجھے پناہ دو گی؟؟؟۔۔۔ اس نے کہا ہاں آجائیے آپ اندر تشریف لے گئے لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس عورت کے لڑکے نے محمد بن اشعت مذکور کو اطلاع دے دی جس نے فورا عبیداللہ تک خبر پہنچادی اس نے اس کے ہمراہ کچھ لوگوں کو روانہ کردیا اور ان کو حضرت مسلم کی گرفتاری کا حکم دے دیا ان افراد نے جاکر مکان کا محاصرہ کر لیا جب کے حضرت مسلم کو خبر تک نہ ہوسکی تھی اب خود انہوں نے محصور پایا تو تلوار سونت کر نکل آئے اور اُن افراد کے مقابلے کی ٹھان لی لیکن اشعت نے ان کو روک کر کہا کے میں ذمہ دار ہوں آپ محفوظ رہیں گے پس وہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ابن زیاد کے پاس پکڑ کر لے گئے چنانچہ ابن زیاد کے حکم پر انہیں قصر امارت کی جھت پر لے جاکر قتل کردیا۔۔۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون)۔۔۔۔

اور اُن کی لاش بازار میں لوگوں کے سامنے پھینک دی گئی نیز اس کے حکم سے ہانی کو کوڑے کرکٹ کی جگہ تک گھسٹتے ہوئے لے جاکر سولی دی دی گئی ۔۔۔۔۔۔ ادھر کوفہ میں یہ تک ہوگیا تھا اور۔۔۔۔۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی۔۔۔
اُدھر حضرت مسلم چونکہ خظ لکھ چکے تھے کہ بارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کر لی ہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ جلداز جلد تشریف لے آئیں اس لئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ آنکہ آپ قادسیہ سے تین مل کے فاصلے پر تھے کہ حُر بن یزید تمیمی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلہ کو ملا اس نے کہا، کہا تشریف لے جارہے ہیں تو آپ نے فرمایا کوفہ اس نے کہا کہ وہاں تو کسی خٰر کی توقع نہیں آ پکو یہاں سے ہی واپس ہوجانا چاہئے پھر کوفیوں کی بےوفائی اور حضرت مسلم کے قتل کی پوری روداد آپ کو سنائی۔۔۔

سارا قصہ سُن کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تو واپسی کا ارادہ کر لیا لیکن حضرت مسلم کے بھائیوں نے یہ کہہ کر واپس جانے سے انکار کردیا کے ہم خون مسلم کا بدلہ لیں گے یا خود مارے جائیں گے اس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا "" تمہارے بغیر میں جی کر کیا کروں گا"" اب وہ سب کوفہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ کو ابن زیاد کی فوج کا ہراول دستہ نظر آیا تو آپ نے "" کربلا"" کا رُخ کر لیا اور وہاں جاکر ایسی جگہ پڑاو ڈالا جہاں ایک ہی طرف سے جنگ کی جاسکتی تھی چنانچہ خیمے نصب کر لئے اس وقت آپ کے ساتھ پینتالیس سوار اور سو کے قریب پیدل تھے۔۔۔ 

دریں اثناء عبیداللہ نے عمرو بن سعد کو جو کوفہ کا گورنر تھا بلایا اور اس سے کہا کہ اس شخص کے معاملے میں میری مدد کریں اس نے کہا مجھے تو معاف ہی رکھئے ابن زیاد نہ مانا اس پر عمربن سعد نے کہا "" پھر ایک شب مجھے سوچنے کی مہلت تو دے دیجئے"" اس نے کہا ٹھیک ہے سوچ لو ابن سعد نے رات بھر سوچنے کے بعد آمادگی کی اطلاع دے دی۔۔۔ 

اب عمروبن سعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی کے دیکھو تین باتوں میں یہ ایک بات منظور کر لو۔۔۔

١۔ یا مجھے کسی اسلامی سرحد پر چلے جانے دو۔۔۔
٢۔ یا مجھے موقع دو کہ میں براہ راست یزید کے پاس پہنچ جاوں۔۔۔
٣۔ اور یا پھر یہ کے جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلاجاؤں۔۔۔

ابن سعد نے یہ تجویز خود منظور کر کے ابن زیاد کو بھیجدی اس نے لکھا ہمیں یہ منظور نہیں ہے (بس ایک ہی بات ہے کہ) حسین رضی اللہ عنہ (یزید کے لئے) میری بیعت کریں ابن سعد نے یہی بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچادی انہوں نے فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا اس پر آپس میں لڑائی چھڑ گئی اور حضرت کے سب ساتھی (مظلومانہ) شہید ہوگئے جن میں دس سے کچھ اوپر نوجوان ان کے گھر کے تھے اسی اثناء میں ایک تیر آیا جو حضرت چھوٹے بچے کو لگا جو گود میں تھا۔۔۔ آپ اس سے خون پونچھ رہے تھے اور فرمارہے تھے "" اے اللہ ہمارے اور ایسے لوگوں کے بارے میں فیصلہ فرما جنہوں نے پہلے یہ لکھ کر ہمیں بلایا ہے کہ ہم آپ کی مدد کریں گے پھر اب وہی ہمیں قتل کررہے ہیں"" اس کے بعد تلوار ہاتھ میں لی، مردانہ وار مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے رضی اللہ عنہ۔۔۔

اور یہ شخص جس کے ہاتھ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے قبیلہ مذحج کا آدمی تھا اگرچہ اس بارے میں دوسرے اقوال بھی تاریخ میں مذکور ہیں۔۔۔ مذحج ہانی کا وہی قبیلہ تھا جس نے قصر امارت پر چڑھائی کردی تھی یہ شخص حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر سے جدا کر کے ابن زیاد کے پاس لے گیا اس نے ایک شخص کو آپ کا سرمبارک دے کر یزید کےپاس بھیجدیا جہاں جاکر یزید کے سامنے رکھ دیا گیا ادھر ابن سعد بھی حضرت کے گھردار کو لے کر ابن زیاد کے پاس پہنچے۔۔۔ ان کا صرف ایک لڑکا بچارہ گیا تھا اور وہ بچہ علی بن الحسین رضی اللہ عنہ زین العابدین تھے جو روایت کے راوی ابوجعفر الباقر کے والد تھے یہ عورتوں کے ساتھ اور بیمار تھے ابن زیاد نے حکم دیا اس بچے کو بھی قتل کردیا جائے اس پر ان کی پھوپھی حضرت زینب رضی اللہ عنہ بنت علی رضی اللہ عنہ اس کے اوپر گر پڑیں اور فرمایا کے جب تک میں قتل نہ ہوجاؤں گی اس بچے کو قتل نہ ہونے دوں گی اس صورت حال کے نتیجے میں ابن زیاد نے اپنا یہ حکم واپس لے لیا اور بعد میں اسیران جنگ کو یزید کے پاس بھیج دیا۔۔۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہ بچے کچے افراد خانہ یزید کے دربار میں پہنچے تو چند درباریوں نے حسب دستور یزید کو تہنیت فتح پیش کی ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک جسارت کر ڈالی کے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہاامیر المومنین یہ مجھے دے دیجئے یہ سُن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہ بنت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا بخدا یہ نہیں ہوسکتا بجز اس صورت کے کے یزید دین الہٰٰی سے نکل جائے پھر اس شخص نے دوبارہ کہا تو یزید نے اُسے ڈانٹ دیا۔۔۔

اس کے بعد یزید نے ان سب کو محل سرا میں بھیج دیا پھر ان کو تیار کرا کے مدینہ روانہ کروادیا۔۔۔

(اس روایت کو حافظ ابن حجر العسقلانی نے ‘‘ تہذیب التہذیب‘‘ میں نقل کیا ہے)۔۔۔۔

واللہ اعلم 
وما علینا الالبلاغ۔۔۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

نوٹ:
اس پوری تحریر کے یونیکوڈ حقوق اردو مجلس کی ملکیت ہیں لہذا ہر وہ ممبر یا مہمان اس بات کا پابند ہے کے وہ اس تحریر کو کسی دوسرے فورم پر یا اپنے بلاگ پر لگانے کی صورت میں اردو مجلس فورم کا لنک مہیا کرے۔۔۔
شکریہ۔۔۔

اللہ وحدہ لاشریک سےدعا ہے۔۔۔ آپ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں زندگی بسر کر رہے ہوں!۔۔
قارئین کرام!۔۔۔ ہر تحریر کی ایک زبان ہوتی ہے۔۔۔ جو لکھنے والے کے نظریات اور رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔۔۔ پھر تحریر کے حسن و قبح اور ردّ و قبول کی بنیاد پر اس کے قارئین یا تو اس سے بیزاری اور لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔ یا پھر پسندیدگی، اپنائیت اور والہانا لگاؤ کا۔۔۔

اوّل الذکر طبقہ عموماً تنقید کی بجائے تنقیص کا رویہ اپناتے ہیں یا پھر لا تعلقی کا۔۔ جبکہ آخر الذکر اصلاح احوال کیلئے مثبت تنقید اور حوصلہ افزائی کا۔۔۔ جو نہ صرف قابل قدر ہوتا ہے۔۔۔ بلکہ کسی بھی نظریے اور فکر کی سمت درست رکھنے کیلئے لازمی عنصر بھی۔۔۔

Thursday, 7 March 2013

محرم الحرام کی اہمیت اور واقعۂ کربلا کی حقیقت

0 comments

عطیہ انعام الٰہی

محرم الحرام کی اہمیت اور واقعۂ کربلا کی حقیقت

شریعتِ اسلامیہ میں محرم الحرام کی اہمیت کئی پہلوؤں سے ہے:
(1)قرآنِ مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۳۶ کے مطابق یہ چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔ حرمت والا مہینہ ہونے سے مرادیہ ہے کہ اس مہینے کا احترام کیا جائے۔ قتل و غارت، جنگ و جدل اور لوٹ مار نہ کی جائے بلکہ امن و سکون قائم کیا جائے۔ خود بھی امن سے رہیں اور دوسروں کوبھی امن سے رہنے کا موقع دیں۔ انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے، اسی قدر جنگ و جدل کی تاریخ بھی قدیمہے۔ رب العزّت کا مسلمانوں کو حکم ہے کہ اِن چار مہینوں میں امن وامان کو اختیار کیا جائے۔ تمدن و تہذیب کی بقا اور ترقی کے لیے اور نسل انسان کے وقار اور تحفظ کے لیے اللہ نے یہ حرمت والے مہینوں کا ضابطہ روزازل سے ہی مقرر فرما دیا۔
(2)اس مقدس مہینے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اسلامی کیلنڈر کا یہ پہلا مہینہ ہے۔ نئے سال کی ابتدا کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں خوشی اور مبارک سلامت کے جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے۔ چنانچہ اس مہینے کا یہ حق ہے کہ اسے نئی اُمنگوں، بھرپور اُمیدوں، تازہ ولولوں اور پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ شروع کیا جائے۔ مگر مسلمانوں کی اکثریت چونکہ مغرب زدگی اور اسلامی اقدار سے بیزاری کا شکار ہوچکی ہے۔ اس لیے مسلم معاشروں میں ایسا اہتمام کم ہی نظر آتا ہے۔
(3)خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکی شہادت بھی یکم محرم کی ہوئی۔آپؓ کو ايك پارسي غلام فيروز ابولؤلؤ نے شہادت سے تین دن پہلے خنجر کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔آپؓ کی شہادت کے بعد آپ کویکم محرم کو دفن کیاگیا۔محرم الحرام کا آغاز ہی اسلامی تاریخ کے اس اندوہ ناک واقعہ سے ہوتا ہے۔ آپ کی شہادت اسلام کے لئے بہت بڑا سانحہ تھی۔
(4)اس مہینے کی چوتھی اہمیت یہ ہے کہ حدیث ِمبارکہ میں اسے 'شھر اللہ' کہا گیا ہے اور رمضان کے بعد سب سے افضل محرم الحرام کو قرار دیا گیا ہے۔ اس مہینے کی دس تاریخ کو 'عاشورہ محرم' کو کہا جاتا ہے۔ عاشورۂ محرم کے دن روزہ رکھنا نبی ﷺ کی ایک مسلسل سنتِ مبارکہ ہے یعنی یہ روزہ آپ مکہ میں بھی رکھتے تھے۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو اس روزے کے رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو اختیار دے دیا۔ پھر جب آپﷺ مدینہ گئے تو وہاں یہودیوں کو عاشورہ محرم کا روزہ رکھتے پایا۔ استفسار پر اُنہوں نے بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے نجا ت دلائی تھی۔ یہ ہمارے لیے خوشی کا دن ہے اور بطورِ شکرانہ ہم اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے (شریکِ مسّرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپﷺ نے اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کا حکم دیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ کو اہل کتاب کی مشابہت سے بچنے کا حکم دیا تو آپﷺ نے دس محرم کے ساتھ مزید ایک روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا اور مختلف روایات کو جمع کرتے ہوئے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ روزہ ۹ محرم کا ہے۔ چنانچہ اب مسلمانوں کے ہاں ۹ اور۱۰ محرم کو روزہ رکھا جاتا ہے۔
(5)اس مہینے کی پانچویں اہمیت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا دردناک اور تکلیف دہ واقعہ'واقعۂ کربلا' اسی مہینے کی ۱۰ تاریخ کو پیش آیا۔ جس میں نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور بیشتر اہل بیت عظام شہید ہوگئے۔ ستم یہ کہ اُن کو شہید کرنے والے بھی مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ چونکہ محرم الحرام کی تمام اہمیتوں سے قطع نظر ، اب محرم کی ساری اہمیت اسی واقعہ فاجعہ کے حوالے سے اُمت میں باقی رہ گئی ہے، اس لیے اس پر ذرا تفصیل سے گفتگو کی ضرورت ہے۔
نبیﷺ کے بعد خلافتِ راشدہ مسلمانوں کی تاریخ کا بے مثال اور سنہرا دور ہے۔ اس دور میں مسلمانوں کو عظیم فتوحات حاصل ہوئیں۔مشرق و مغرب تک اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع ہوا۔ مسلمانوں نے صرف ملک ہی فتح نہیں کئے بلکہ اپنے اخلاقِ فاضلہ اور بے نظیر عدل و انصاف سے مفتوحہ عوام کے دل و دماغ بھی فتح کئے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ہی مفتوحہ ممالک میں بہت سے حاسدین بھی پیدا ہوگئے جن کو مسلمانوں کا عروج، اتحاد و یگانگت ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے دور سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ اسی لیے حضرت عمرؓ کی شہادت ایک ایرانی غلام ابولؤ لؤ فیروزکے ہاتھوںہوئی۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں یہ سازشیں باقاعدہ تحریک بن گئیں۔ ان سازشوں کا سرغنہ ایک یمنی یہودی 'عبداللہ بن سبا' تھا۔ اسی لیے یہ سازشی تحریک'سبائی تحریک' کہلائی۔ حضرت عثمان ؓ کو اسی سازشی جماعت نے شہید کیا۔ حضرت علی ؓ کا پانچ سالہ دورِ خلافت مسلسل خانہ جنگیوں کی نذر ہوگیا۔ ان میں مشہور جنگ جمل (حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان) ، جنگ صفین (حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان) اور جنگِ نہروان (حضرت علیؓ اور خارجیوں کے درمیان) ہیں۔ آخر کار ۴۰ ہجری میں حضرت علیؓ کو ہی ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم نے شہید کردیا۔
خلافتِ راشدہ کے بعد پہلے حکمران امیرمعاویہؓ ہیں۔ ان کا دورِ حکومت ۲۰ سال پر محیط ہے۔ اندرونی شورشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی فتوحات بھی ہوتی رہیں۔ امیرمعاویہ نے اپنی آخری عمر میں اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کردیا۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اس غیر شرعی فیصلے کو قیصر وکسریٰ کا طریقہ قرار دیتے ہوئے ردّ کردیا۔ سب سے زیادہ مخالفت پانچ اصحابؓ عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباسؓ، عبدالرحمن بن ابی بکرؓ، سیدنا حسینؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ نے کی۔ پہلے تین اصحابؓ کسی نہ کسی طرح خاموش ہوگئے مگر آخری دو اَصحاب آخر دم تک اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔
۶۰ ہجری میں امیرمعاویہ وفات پاگئے۔ نامزد خلیفہ یزید نے باپ کی وصیت کے مطابق عنانِ خلافت سنبھالتے ہوئے ہی والی مدینہ مروان بن حکم کو سیدنا حسینؓ اور سیدنا ابن زبیرؓ سے بیعت لینے کی تاکید کی۔ مگر دونوں اصحاب نے حکمت کے ساتھ انکار کرتے ہوئے مدینہ چھوڑ کر مکہ کی راہ لی تاکہ مروان کے دباؤ سے بچ سکیں۔ قیام مکہ کے دوران سیدناحسینؓ کو کوفیوں کی طرف سے پیغامات آنے شروع ہوگئے کہ خلافت اصل میں آپ کا حق ہے، آپ یہاں عراق یعنی کوفہ میں ہمارے پاس آجائیں۔ یہاں سب آپ کے حمایتی اور خیرخواہ ہیں، ہم آپ کے ہاتھ پربیعت کریں گے۔ حضرت حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلمؓ بن عقیل کو عراق بھیجا تاکہ وہ صحیح صورت حال معلوم کرکے سیدناحسینؓ کو بتائیں۔ مسلمؓ بن عقیل کوفہ پہنچے تو واقعی چندہی دنوں میں ۱۸۰۰۰ کوفی مسلمؓ بن عقیل کے ساتھ مل گئے۔ چنانچہ مسلم نے حضرت حسین ؓ کو فوراً کوفہ پہنچنے کا خط لکھ دیا۔ سیدنا حسین ؓ نے اپنے اہل بیت سمیت کوفہ جانے کا ارادہ کرلیا۔ حضرات ابن عباسؓ اور ابن زبیر کو پتہ چلا تو اُنہوں نے سیدنا حسینؓ کو بہ اصرار روکا کہ عراقی قابل بھروسہ نہیں، وہ غدار اور بے وفا ہیں۔ آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ اُنہوں نے غداری کی۔ آپ کو بھی وہاں بلا کر آپ سے علیحدہ ہوجائیں گے، ہمیں آپ کی جان کا ڈر ہے۔ دوسرے اُموی حکام سے بھی خطرہ ہے کہ وہ آپ سے بیعت لیے بغیر آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ آپ عراقیوں سے کہیں کہ پہلے وہ اُموی حکام کو بے دخل کرکے فوج اپنے قبضے میں کریں، پھر آپ کو بلائیں۔ حاکم مدینہ اور حاکم مکہ دونوں نے آپ کو اپنے ہاں قیام کی دعوت دی کہ ہم آپ کا پورا تحفظ کریں گے۔ آپ عراق نہ جائیں مگر سیدنا حسینؓ نے سب کی خیرخواہی اور پیشکش مسترد کردیں اور عراق کا قصد کرلیا۔
دوسری طرف عراق میں حالات یوں پلٹے کہ مسلم بن عقیل کے بارے میں مخبری ہوگئی اور حاکم کوفہ ابن زیاد سے ان کا ٹکراؤ ہوگیا اور توقع کے عین مطابق خطرہ دیکھتے ہوئے سارے کوفی چھٹ گئے اور مسلم کے ساتھ صرف ۳۰ لوگ باقی رہ گئے۔ آخر یہ ۳۰ بھی گھیرے میں آگئے۔ مسلمؓ بن عقیل شدید زخمی ہوئے اور وفات سے پہلے کسی قریبی شخص سے وعدہ لیا کہ میری وصیت سیدناحسینؓ تک پہنچا دینا کہ عراق ہرگز ہرگز نہ آئیں اور جہاں تک پہنچے ہیں، وہیں سے واپس لوٹ جائیں اور میری موت کا بھی پیغام دے دینا۔
ادھر مکہ سے سیدنا حسین ؓ سب کے روکنے کے باوجود عراق کے لیے اپنے ساتھیوں سمیت روانہ ہوچکے تھے کہ راستے میں اُنہیں مسلم بن عقیل کی موت اور ان کی وصیت کے پیغامات ملے تو اُنہوں نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔مگر مسلمؓ بن عقیل کے بھائی کہنے لگے کہ ہم تو اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لینے ضرور جائیں گے، چاہے ہماری جانیں چلی جائیں۔ چنانچہ سیدنا حسین ؓ نے بھی واپسی کا ارادہ جو بڑی مشکل سے بنا تھا، پھر تبدیل کردیا اور آگے کو روانہ ہوگئے۔ کوفہ میں سیدنا حسین ؓ کے بارے میں پوری مخبری ہورہی تھی۔ ابن زیاد نے ایک ہزار لشکر حر بن یزید کی سرکردگی میں بھیجا کہ امام حسینؓ کو راستے میں مل کر اِن سے بیعت لو یا اُنہیں گھیر کر میرے پاس واپس لے آؤ۔ کچھ دنوں بعد ہی ایک دوسرا لشکر جو چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ عمرو بن سعد کی سرکردگی میں پہنچ گیا۔ اُس نے بھی آکر یہی مطالبے دہرائے۔ سیدناحسین ؓ نے کہا میں بیعت نہیں کرسکتا، میں مکہ واپس چلا جاتا ہوں، آپ میرا راستہ چھوڑ دیں۔مگر اُنہوں نے انکار کیا کہ اب صرف دو ہی راستے ہیں یا بیعت کریں یا ابن زیاد کے پاس چلیں۔ آپؓ نے دونوں باتوں سے شدت سے انکار کیا۔ آخر ابن زیاد کے حکم پرقافلۂ حسینؓ پر پانی بند کردیا گیا۔ اس کے بعد شمر ذی الجوشن بھی ایک مزید دستہ لے کر آن پہنچا اور حالات میں مفاہمت اور مصالحت کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔
اب تصادم ناگزیر ہوگیا۔ سیدنا حسین ؓ بھی اپنے ۷۲ ساتھیوں کے ساتھ مقابلے کونکلے۔ ۱۰ محرم۶۱ہجری کو کربلا کے میدان میں یہ معرکہ ہوا۔ سیدنا حسینؓ کے ساتھی بہادری سے لڑتے ہوئے ایک ایک کرکے سب شہید ہوگئے۔ ایک شقی القلب'سنان بن انس' نے آگے بڑھ کر سیدناحسین ؓکا سر مبارک تن سے جدا کردیا۔ اس معرکہ میں علی بن حسینؓ کے علاوہ تمام مرد کام آئے۔ یہی علی بن حسین ؓ بعد میں 'زین العابدین' کے نام سے مشہور ہوئے۔
سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد اہل بیت کا قافلہ کوفہ بھیجا گیا۔ ابن زیاد نے اُسے آگے شام بھجوا دیا۔ یہ حادثہ عظمیٰ یزید کی لاعلمی اور غیر موجودگی میں پیش آیا۔ اس نے تو صرف بیعت لینے یا بحفاظت شام بھجوانے کا حکم دیا تھا، لڑنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یزید کو جب اس حادثے کی اطلاع دی گئی تو اس کے آنسو نکل آئے اور کہا: ''ابن زیاد! تم پر اللہ کی لعنت ہو۔ اگر میں وہاں ہوتا تو چاہے میری اولاد ہی کیوں نہ کام آجاتی، میں حسینؓ کی جان بچا لیتا۔''
یزید کا پورا کنبہ اہل بیت نبوی کا عزیز تھا۔ جیسے ہی عصمت ماب خواتینِ اہل بیت زنان خانے میں داخل ہوئیں، یزید کے گھر میں کہرام مچ گیا اور تین دن تک سوگ برپا رہا۔ یزید علی بن حسین کو اپنے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھلاتا تھا، اس نے مالی طور پر بھی اُنہیں خوب آسودہ کیا۔ جب اہل بیت کرام قدرے پرسکون ہوئے تو بڑے احترام و اہتمام اور حفاظت کے ساتھ مدینہ روانہ کیا۔ ان کے شریفانہ سلوک سے متاثر ہوکر فاطمہؓ اور زینبؓ نے اپنے زیور اتار کر اس کے پاس بطورِ ہدیہ بھیجے لیکن اس نے یہ کہہ کر واپس کردیئے کہ ہم نے تو صرف اپنا دینی فریضہ ادا کیا ہے۔
واقعہ کربلا کی یہ تاریخی حقیقت مختلف تاریخوں اور روایات سے اخذ کی گئی ہے اور شاہ معین الدین احمد ندوی اور ڈاکٹر حمید اللہ جیسے مسلم مؤرخین کی تحقیق کا نچوڑ ہے۔ عام مسلمانوں کے اندر اس حوالے سے شدید قسم کی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور تصور میں نہ آسکنے والے خود ساختہ جذباتیت پر مبنی قصے، کہانیاں تک مشہور کردی گئی ہیں جن کا تعلق چھوٹے معصوم بچوں اور اہل بیت کی عصمت ماب خواتین سے ہے۔ ان کی بھوک اور پیاس کو بڑے جذباتی انداز میں بیان کرکے جذبات کوبھڑکایا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ راستہ سیدنا حسینؓ کا خود منتخب کردہ راستہ تھا اور ان سب کو اس راہ میں آنے والی تکالیف اور مصائب کا خوب اندازہ تھا۔ وہ حق کے علمبردار، راہِ شہادت کے مسافر تھے۔ شہادت ان سب کی آرزو اور تمنا تھی۔ وہ شہادت ، جس کو پاکر مسلمان اپنے آپ کو سب سے زیادہ خوش نصیب سمجھتا ہے اور بعد والوں کے لیے باعثِ رشک اور باعثِ مبارکباد ہوتا ہے اور پھر یہ سب مبارک ہستیاں جس مقدس ہستیﷺ کے اہل بیت تھے کیا خود اُنہوں نے راہِ حق میں کم تکالیف اٹھائی ہیں۔ اُنہوں نے اپنے اُسوۂ حسنہ سے اپنے اہل بیت اور اپنی تمام اُمت کو اسی پائے استقلال سے راہِ حق کے مصائب و مشکلات برداشت کرنے کا سبق دیا اور آپﷺ کے اہل بیت ہی بجا طور پر اس بات کے مستحق اور ذمہ دار تھے کہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور اسوۂ محمدیﷺ کو اپنے عمل سے زندۂ جاوید کرجائیں۔ سو ہمیں فخر ہے کہ سیدناحسین ؓ اور ان کے اہل بیت کے اس عظیم کارنامے پر اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اُن کے اُسوہ کو اپنائیں۔ حق و باطل میں تمیز کرکے باطل سے ٹکراتے ہوئے حق کے لیے ڈٹ جائیں حتیٰ کہ جان کی بازی بھی لگانے سے دریغ نہ کریں۔
فلسفۂ شہادتِ حسینؓ تو اصل میں یہ ہے کہ جس کی روح سے آج پوری اُمت یکسر طور پر محروم ہے۔ ہر سال محرم میں دکھاوے کے طور پر کچھ رسوم ادا کرلی جاتی ہیں جس میں سے کچھ کا تعلق رونے دھونے اور سوگ منانے سے ہے اور کچھ کا تعلق کھانے پینے اور کھلانے پلانے سے ۔ کیا شہیدوں کے لیے بھی رویا جاتا ہے جن کو حیاتِ ابدی نصیب ہوتی ہے؟ کیا شہیدوں کے لیے ماتم کیا جاتا ہے یا اُن کے نقشِ قدم پر چلنا مقصدِ زندگی بنایا جاتا ہے؟ اس طرزِعمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اُمتِ محمدیہؐ کو اسی بنیاد پر دو بڑے مذہبی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا۔
یہ با ت بھی غور طلب ہے کہ واقعہ کربلا کے حوالے سے مسلمانوں کے اندر رواج پاجانے والے یہ سارے اعمال شریعت کی نظر میں کیا حیثیت رکھتے ہیں: کیا یہ سب کچھ سنت نبوی ؐہے یا سنتِ حسینی ؓہے؟ تاریخی طور پر دیکھیں تویہ پہلو بھی خوب اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے:
نبی کریمﷺ ۱۱ ہجری میں دنیاے فانی سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ دین اسلام مکمل اور تمام تھا۔اس میں نہ اب کمی ہوسکتی تھی نہ اضافہ۔ جو کچھ آپﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کئے یا احکام دیئے یا کچھ مسلمانوں کے کردہ اعمال کو دیکھ کر آپﷺ خاموش رہے (گویا آپ کی خاموشی رضا مندی تھی) وہ سب سنتِ نبویؐ بن گئے۔ یعنی سنت صرف وہ ہے جو آپﷺ کے اعمال، احکام اور آپ کی رضا مندیاں ہیں۔ اور آپﷺ نے مسلمانوں کو حکم دے دیا: «عليکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين» (سنن ابن ماجہ: 42)

''تم پر میری سنت پرعمل کرنا لازم ہے یا پھر خلفاے راشدین کی سنت۔''

مزید برآں آنحضورﷺ نے فرمایا:«فمن رغب عن سنتی فليس مني»

''جس نے میری سنت سے ہٹ کرکوئی عمل کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔'' (اور نہ ہی اس کا عمل مقبول ہے) (صحیح بخاری: 5063)

واقعہ کربلا وفات النبیﷺ سے ۵۰ سال بعد محرم ۶۱ہجری میں پیش آیا جبکہ سنتِ نبویؐ اپے دائرے میں بند اور مکمل ہوچکی تھی۔ سو واقعہ کربلا کے حوالے سے جو اعمال و افعال ثواب اور نیکی سمجھ کر انجام دیئے جاتے ہیں، وہ کسی درجے میں بھی سنت نہیں کہلائے جاسکتے کہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوں بلکہ یہ واضح طور پر شریعتِ محمدی میں اضافہ اور ابتداع ہے۔ جس کا نتیجہ صرف اور صرف غضب ِخداوندی اور ناراضگی رسول ہے اور دنیا و آخرت دونوں کے لیے باعث خسران ہے۔ اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ عامۃ المسلمین اپنے علم و عمل میں اصلاح کریں اور دنیا وآخرت کے نقصان سے بچ جائیں۔ واللہ الموفق!

٭٭٭٭٭