YOUR INFO

Showing posts with label الیاس گھمن کے دلائل اور ان کا جواب. Show all posts
Showing posts with label الیاس گھمن کے دلائل اور ان کا جواب. Show all posts

Saturday, 9 March 2013

الیاس گھمن صاحب کے "رفع یدین نہ کرنے" کا جواب

0 comments

الیاس گھمن صاحب کے "رفع یدین نہ کرنے" کا جواب

حافظ زبیر علی زئی
محمد الیاس گھمن صاحب دیوبندی نے ایک اشتہار شائع کیا ہے:
"نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے دلائل"

اس اشتہار میں گھمن صاحب نے اپنے زعم میں "دس دلائل" پیش کئے ہیں، ان مزعومہ دلائل سے ایک "دلیل" بھی اپنے مدعا پر صحیح نہیں اور نہ امام ابو حنیفہ سے ان مزعومہ "دلائل" کے ساتھ استدلال ہے.درج ذیل ان گھمنی دلائل کو ذکر کر کے ان کا جواب پیش خدمت ہے:

دلیل نمبر ١
الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴿023:001﴾الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴿023:002﴾ (سورہ مومنون آیت 1-(2٢
ترجمہ: "پکی بات ہے کہ وہ ایمان لانے والے کامیاب ہو گئے جو نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں"

تفسیر: قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَا شِمَالاً وَّ لَا یَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ فِی الصَّلٰوۃِ…الخ (تفسیر ابن عباس رضی الله عنہ ص ٢١٢)
ترجمہ: حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں: خشوع کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز میں تواضح اور عاجزی اختیار کرتے ہیں اور دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں."

جواب: گھمن صاحب نے اپنی پہلی "دلیل" میں سورہ مومنون کی پہلی دو آیات لکھی، جن میں (رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے) ترک رفع الیدین کا نام و نشان تک نہیں اور پھر سیدنا بن عباس عباس رضی الله عنہ کی طرف مکزوبہ طور پر منسوب "تفسیر ابن عباس عباس رضی الله عنہ" کا حوالہ پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ تفسیر عبد الله بن عباس سے ثابت نہیں بلکہ اس کا مرکزی راوی محمد بن مروان السدی الصغیر کذاب ہے اور باقی سند بھی سلسلتہ الکزاب ہے.

آل دیوبند کے شیخ الامام محمد تقی عثمانی دیوبندی نے فتویٰ دیتے ہوئے لکھا ہے:
"رہی حضرت عبد الله بن عباس عباس رضی الله عنہ، سو اگر وہ یا تفاق مفسرین کے امام ہیں لیکن اول تو ان کی تفسیر کتابی شکل میں کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، آج کل "تنویر المقباس " کے نام سے جو نسخہ حضرت عبداللہ بن عباس عباس رضی الله عنہ کی طرف منسوب ہے اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ یہ نسخہ محمد بن مروان السدی الصغیر عن ابى صالح کی سند سے ہے، اور اس سلسلہ سند کو محدثین نے "سلسلتہ الکزاب" قرار دیا ہے." (فتاویٰ عثمانی ج ١ ص ٢١٥)
مزید تحقیق کے لئے دیکھئے میری کتاب : تحقیقی مقالات (ج ٤ ص ٤٠٨-٤١٠ ، ٥٠٣-٥٠٥) اور نور العینین (تبع جدید ص ٢٣٨-٢٤٦)
(دیکھئے جز رفع الیدین البخاری : ٢١،اور نور العینین ص ٢٤٦)

دلیل نمبر ٢ 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُبْنُ شُعَیْبِ النَّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔(سنن نسائی ج ١ ص ١٥٨ باب ترک ذلک، سنن ابی داود ج ١ ص ١١٦ باب من لم یز کر الرفع اند الرکوع) 
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے فرمایا: " کیا میں تمھیں اس بات کی خبر نہ دن کہ رسل الله صلی الله علیہ وسلم کیسے پڑھتے تھے؟ حضرت علقمہ رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ کھڑے ہوئے پہلی مرتبہ رفع یدین کیا (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) پھر (پوری نماز میں) رفع یدین نہیں کیا ."

جواب: اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
اول: امام سفیان بن سعید بن مسروق الثو ری رحمہ الله ثقہ عابد ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے، جیسا کہ احمد مدنی دیوبندی نے کہا:
"اور سفیان تدلیس کرتا ہے." الخ (تقریر ترمزی اردو ص ٣٩١، ترتیب محمد عبد القادر قاسمی دیوبندی)
ابن الترکمانی حنفی نے ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے: 
"الثوری مدلس وقد عنعن "
ثوری مدلس ہیں اور انہوں نے یہ روایت عن سے بیا ن کی ہے. (الجواہر النقی ج٨ ث ٣٦٢)
امام سفیان ثوری کو مسٹر امین اکاڑوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے. (دیکھئے تجلیات صفدر ج ٥ ث ٤٧٠)

یہ روایت عن سے ہے اور اصول حدیث کا مشہور مسلہ ہے کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے. (مثلاً دیکھئے نزہتہ النظر شرح نخبتہ الفکر ث ٦٦ مع شرح الملا علی القاری ٤١٩)

دوم: اس روایت کو جمہور محدثین نے ضعیف ، خطا اور وہم وغیرہ قرار دیا ہے، جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:
عبداللہ بن المبارک، شافعی، احمد بن حنبل، ابو حاتم الرازی، دار قطنی، ابن حبان، ابو داود السجتانی، بخاری، عبد الحق اشبیلی، حاکم منیشا پوری اور بزار وغیر ہم. (دیکھئے نور العینین ث ١٣٠-١٣٤)

دلیل نمبر ٣ 
اَ لْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُوْلُ؛کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ مَنْکَبَیْہِ لَایَعُوْدُ بِرَفْعِھِمَا حَتّٰی یُسَلِّمَ مِنْ صَلَا تِہٖ۔
(مسند أبي حنيفة بروايته أبي نعيم رحمة الله عليه سع٤٤ سنن أبي داود : ج ١ ص١١٦ )
حضرت برا ء بن عازب رضی الله عنہ فرماتے ہیں: "آپ صلی الله الیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے، (اس کے بعد پوری نماز میں) سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں رتے تھے."

جواب: امام ابو نعیم سے لیکر امام ابو حنیفہ تک اس روایت کے سارے راوی: ابو القاسم بن بالو یہ النیسا بوری، بکر بن عبداللہ الحبال الرازی، علی بن محمد بن روح بن ابی الحرش المصیصی، محمد بن روح اور روح بن ابی الحرش (چھ کے چھ) سب مجہول ہیں، لہٰذا یہ سند مردود ہے. (دیکھئے مسند ابی حنیفہ لابی نعیم الا صبھانی ص ١٥٢، ارشیف ملتقی اہل حدیث عدد ٤ ج ١ ص ٩٢٦، تحقیقی مقالات ج ٣ ص ١٢٣)

تنبیہ: گھمن صاحب نے روایت مذکورہ میں سنن ابی داود (ج١ ص ١١٦) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، حالانکہ سنن ابی داود میں امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب یہ روایت قطعاً موجود نہیں، بلکہ ساری سنن ابی داود میں ابو حنیفہ کا نام و نشان تک موجود نہیں.

سنن ابی داود میں سیدنا حضرت برا ء بن عازب رضی الله عنہکی طرف منسوب دوسری روایت دو سے موجود ہے، جس کی ایک سند میں یزید بن ابی زیاد جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے اور دوسری سند میں عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے نزدیک ضعیف ہے. (دیکھئے تحقیقی مقالات ج ٣ ص ١٢٣)

معلوم نہیں کی دیوبندیوں کی قسمت میں اتنی زیادہ ضعیف ، مردود اور موضوع روایات کیوں ہیں یاانھیں ایسی روایات جمع کرنے اور ان سے استدلال کا والہانہ جنون ہے؟!

صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعیف و مردود روایات کی طرف جانے والے آل تقلید کس زعم باطل میں اہل حدیث کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں؟

اعلان: اگر الیاس گھمن صاحب اور ان کے جعلی ذہنی دوران سب مل کر امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب یہ روایت اس سند کے ساتھ سنن ابی داود سے، حوالہ نکال کر پیش کر دیں تو ان کے نام صحیحین اور سنن اربعہ کا تحفہ روانہ کر دیا جائیگا. ہمت کریں!

دلیل نمبر ٤ 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِالْحُمَیْدِیُّ ثَنَا الزُّھْرِیُّ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) رَائیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَااَرَادَاَنْ یَّرْکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرَّکُوْعِ فَلَا یَرْفَعُ وَلَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
(مسند حمیدی ج2ص277،مسند ابی عوانۃ ج 1 ص 334 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاجب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ۔رکوع کی طرف جاتے ہوئے، رکوع سے سراٹھاتے ہوئے اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

جواب: اس استدلال میں الیاس گھمن صاحب نے سات غلطیاں کی ہیں:
  • اول: جس نسخے کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حبیب الرحمٰن اعظمی دیوبند کا شائع کردہ نسخہ ہے، جبکہ ملک شام سے مسند حمیدی کا جو نسخہ شائع کیا گیا ہے اس میں یہ عبارت نہیں بلکہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا اثبات ہے . (دیکھئے مسند حمیدی ج ١ ص ٥١٥ ح ٦٢٦)
  • دوم: مسند حمیدی کے قدیم نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں بلکہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا اثبات ہے. (دیکھئے نور العینین ص ٧٠—٧١ )
  • سوم: امام سفیان بن عیینہ رحمہ الله یہی روایت صحیح مسلم میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے اثبات سے موجود ہے. (دیکھئے صحیح مسلم ٣٩٠)
  • چہارم : اس حدیث کے مرکزی راوی سفیان بن عیینہ رحمہ الله سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین با سند ثابت ہے. (دیکھئے سنن ترمزی: ٢٥٦ تحقیق احمد شاکر رحمہ الله )
  • پنجم: المستخرج لابی نعیم الاصبہانی میں یہی حدیث امام حمیدی کی سند سے رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین سے موجود ہے. (دیکھئے ج ٢ ص ١٢)
  • ششم: مسند ابی عوانہ والے مطبوعہ نسخے سے واو رہ گئی ہے اور صحیح مسلم میں واو موجود ہے، جس سے رفع یدین کا اثبات ہے. (دیکھئے نور العینین ص ٧٦-٨١)
  • ہفتم: مسند ابی عوانہ کے قلمی نسخے میں "و" موجود ہے، جس سے دیوبندی استدلال کا "لک" ٹوٹ جاتا ہے. (دیکھئے نور العینین ص ٧٨-٧٩)
مسند حمیدی اور مسند ابی عوانہ کے محرف نسخوں سے گھمنی استدلال کے مقابلے میں عرض ہے کہ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں سے ثابت ہے کہ سیدنا ا بن عمر رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے ور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے.

حدیث السبراج اور المخلصیا ت وغیر ہم کتب حدیث سے ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر رفقیہ بیٹے امام سالم بن عبداللہ المدنی الطا بعی رحمہ الله بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے. کیا گھمن صاحب اور ان کی ساری پارٹی امام سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ الله سے ترک رفع یدین با سند صحیح یا حسن لذاتہ ثابت کر سکتے ہیں؟!

دلیل نمبر ٥
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ ابْنُ حِبَا نٍ اَخْبَرَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدِ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍعَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طُرْفَۃَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاَبْصَرَقَوْمًا قَدْرَفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَااَذْنَابُ خَیٍل شُمُسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ۔‘‘ (صحیح ابن حبان ج3 ص178 ،صحیح مسلم ج1ص181 )
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کوشریرگھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھایاہے تم نماز میں سکون اختیار کرو"

جواب:اس صحیح حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کا ذکر نہیں، بلکہ محمود حسن دیوبندی "اسیر مالٹا" نے کہا:
"باقی اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ اسلام کے بارہ میں ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز اشارہ بالید بھی کرتے تھے. آپ نے اس کو منع فرما دیا." (الورد الشذی ص ٦٣، تقاریر ص ٦٥)
محمد تقی عثمانی دیوبندی نے کہا:
"لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنیفہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے...." (درس ترمزی ٢/٣٦)
ثابت ہوا کہ محمود حسن آوٹ تقی عثمانی دونوں کے نزدیک الیاس گھمن صاحب بے انصاف ہیں.

دلیل نمبر ٦ 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِیُّ اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا۔ (صحیح بخاری؛ ج1ص114 ‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج1ص298)
ترجمہ : محمد بن عمر وبن عطاء رحمہ اللہ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں :’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نما زکاذکر کیا ( کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نمازپڑھتے تھے؟) توحضرت ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایااور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کومضبوطی سے پکڑاپھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا توسیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اورجب سجدہ کیاتو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اورنہ ہی ملایا ۔‘‘

جواب:صحیح بخاری کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں اور محمد قاسم نانوتوی (بانی مدرسہ دیوبند) نے لکھا:
"مذکور نہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہے.. جناب مولوی صاحب معقولات کے طور پر تو اتنا ہی جواب بہت ہے کہ عدم الا طلاع یا عدم الشے پر دلالت نہیں کرتا." (ہدیتہ الشیعہ ص ١٩٩،٢٠٠)
فائدہ: صحیح بخاری والی روایت دوسری سند سے سنن ابی داود اور سنن ترمزی وغیرہ میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے اثبات سے موجود ہے اور یہ سند صحیح ہے. والحمد للہ 

:دلیل نمبر٧ 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجَعْفَرٍ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ ثَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ… وَعَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ عِنْدَ الْبَیْتِ وَعَلَی الصَّفَائِ وَالْمَرْوَۃِ وَبِعَرْفَاتٍ وَ بِالْمُزْدَلْفَۃِ وَعِنْدَ الْجَمْرَ تَیْنِ۔ (سنن طحاوی ج1ص416 )
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات جگہوں پر ہاتھوں کو اٹھایا جاتاہے ٭…1 شروع نماز میں ٭…2 بیت اللہ کے پاس ٭…3 صفاء پر ٭…4 مروہ پر ٭…5 عرفات میں ٭…6 مزدلفہ میں ٭…7 جمرات کے پاس۔

جواب:اس روایت کی سند میں محمد بن عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے. (دیکھئے فیز الباری ج٣ ص ١٦٨)

ضعیف راویوں کی ضعیف و مردود روایت سے استدلال کرنا الیاس گھمن جیسے لوگوں کا ہی کام ہے.


دلیل نمبر ٨ 
قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرِ الاِسْمَاعِیْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَبُوْمُحَمَّدٍ صَاحِبُ الْبُخَارِیُّ صَدُوْقٌ ثَبْتٌ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرِ السَّھْمِیُّ عَنْ حَمَّادِ (ابْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ ) عَنْ اِبْرَاہِیْمَ (النَّخْعِیِّ ) عَنْ عَلْقَمَۃِ (بْنِ قَیْسٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ(بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَافَلَمْ یَرْفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ اِلَّاعِنْدَافْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ۔ (کتاب المعجم،امام اسماعیلی؛ ج2ص692،سنن کبریٰ امام بیہقی رحمہ اللہ ج2 ص79 )
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے پوری نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کی ۔‘‘

جواب: یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف و مردود ہے مثلاً :

١: اس کا بنیادی راوی محمد بن جابر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے.
حافظ ہیثمی نے فرماے: " وهو ضعیف عند الجمهور" (نور العینین س١خع، مجمع الزوائد ٥/١٩١)

٢: جمہور محدثین نے خاص اس روایت پر جرح کی مثلاً اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل رحمہ الله نے فرمایا: یہ روایت منکر ہے. (کتاب العلل ١/١٤٤ رقم ٧٠١)

٣: الیاس گھمن صاحب نے روایت مذکورہ میں امام بہیقی کا حوالہ بھی لکھا ہے اور اسی حوالے میں امام بہیقی نے محمد بن جابر پر جرح نقل کر رکھی ہے. مزید تفصیل کے لئے دیکھئے نور العینین (ث١٥١-١٥٤)

دلیل نمبر ٩
قَالَ الْاِمَامُ ابْنُ قَاسِمٍ (حَدَّثَنَا)وَکِیْعٌ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَطَّافِ النَّھْشَلِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔ (المدونۃ الکبریٰ؛ ج۱ص۷۱،مسند زید بن علی ص۱۰۰)
ترجمہ: ’’حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب نمازشروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر پوری نما زمیں رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔

جواب: مدونہ کبریٰ نہ قابل اعتبار اور بے سند مروی کتاب ہے اور مسند زید اہل سنت کی کتاب نہیں بلکہ زیدی شیعوں کی من گھڑت کتاب ہے، لہذا یہ دونوں حوالے غلط اور مردود ہیں.

تنبیہ: ابو بکر النہشلی والی روایت جو دوسری کتابوں میں ہے، وہ اس کے وہم و خطا کی وجہ سے ضعیف ہے. (دیکھئے نور العینین ص ١٦٥)

دلیل نمبر ١٠ 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ مَارَاَیْتُ اِبْنَ عُمَرَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِلَّافِیْ اَوَّلِ مَا یَفْتَتِحُ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص268 ) 
ترجمہ: معروف تابعی حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شروع نماز کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔

جواب: مصنف ابی شیبہ والی روایت قاری ابو بکر بن عیاش رحمہ الله کے وہم و خطا کی وجہ سے ضعیف ہے اور دو وجہ سے مردود ہے:

١: امام احمد حنبل، امام یحییٰ بن معین اور امام دار قطنی نے اس روایت کو وہم اور باطل وغیرہ قرار دیا اور کسی ایک قابل اعتماد محدث نے اس کی تصحیح نہیں کی اور اگر کسی چھوٹے سے محدث سے ثابت بھی ہو جائے تو جمہور کے مقابلے میں مردود ہے.

٢: بہت سے ثقہ راویوں اور صحیح و حسن لذاتہ سندوں سے ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے، جن میں سے ان کے چند شاگردوں کے حوالے درج ذیل ہیں:

امام نافع المدنی رحمہ الله، امام محارب بن دثار الکوفی رحمہ الله، امام طاؤس بن کیسان الیما نی رحم الله، امام سالم بن عبد الله بن عمر المدنی رحمہ الله اور امام ابو الزبیر المکی رحمہ الله. (دیکھئے نور العینین ص ١٥٩)

ثقہ راویوں کے خلاف وہم و خطا والی روایت منکر و مردود ہوتی ہے.


قارئین کرم! آپ نے دیکھ لیا کہ الیاس گھمن صاحب اور آل دیوبند کے پاس ترک رفع یدین قبل الرکوع و بعدہ کی ایک صحیح یا حسن لذاتہ روایت نہیں ہے.

رفع یدین پر خیر القرون میں مسلسل عمل:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو کندھوں تک رفع یدین کرتے، رکوع کرتے وقت بھی آپ اسی طرح کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے تھے. (صحیح بخاری ج١ ص ١٠٢ ح ٧٣٦، صحیح مسلم ٣٩٠)

اس حدیث کے راوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ بھی شروع نماز، رکوع سے پہلے ، رکوع کے بعد اور دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے تھے اور فرماتے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے. (صحیح بخاری ٧٣٩، شرح السنتہ للبغوی ٣/٢١ ح ٥٦٠ وقال: هذا حدیث صحیح)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے اس حدیث کے راوی ان کے جلیل القدر بیٹے امام سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ الله بھی شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرتے تھے. (حدیث السراج ٢/٣٤-٣٥ ح ١١٥، و سندہ صحیح)

وما علينا ألا البلاغ
(٢١ نومبر ٢٠١١ ء سرگودھا)
ماہنامہ ضرب حق - شمارہ نمبر ٢١ – صفر ١٤٣٣ھ – جنوری ٢٠١٢ء

الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات

2 comments

الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات


حافظ زبیر علی ز ئی

دلیل نمبر ١ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ ۔ (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔

الجواب: اس روایت کا ایک راوی محمد بن حمید الرازی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے اور (امام) اسحاق کوسج نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں وہ کذاب تھا."
(امین اکاڑوی کی کتاب: تجلیات صفدر ج٣ ص٢٢٤، نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو : ٧٦ ص٣٤-٣٥)
اس کا دوسرا راوی عمر بن ہارون بھی جمہور کے نزدیک مجروح ہے. (دیکھئے نصب الرایہ / ٣٥١،٣٥٥،٤/٢٧٣)

دلیل نمبر ٢ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص286؛معجم کبیرطبرانی ج5 ص433 )

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب: اس روایت کے نیادی راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارے میں قدوری حنفی نے لکھا ہے: "قا ضى واسط كذاب" واسط کا قاضی کذاب ہے. (التجرید / ٢٠٣ فقرہ: ٦٣٢، الحدیث: ٧٦ ص٣٨)
کذاب کئی منفرد روایت موضوع ہوتی ہے، لہٰذا یہ روایت موضوع ہے.

دلیل نمبر ٣ :
عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ یَصُوْمُوْنَ النَّھَارَ لَایُحْسِنُوْنَ اَنْ یَّقْرَأُ وْا فَلَوْقَرَأتَ الْقُرْآنَ عَلَیْھِمْ بِاللَّیْلِ فَقَالَ: یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ! ہٰذَا شَیْیٌٔ لَمْ یَکُنْ۔ فَقَالَ؛ قَدْعَلِمْتُ وَلٰکِنَّہٗ اَحْسَنُ۔ فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ علی المطالب العالیہ ج2ص424)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی رات میں نماز(تراویح) پڑھاؤں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ’’لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور (رات) قرأت (قرآن) اچھی نہیں کرتے۔ تو قرآن مجید کی رات کو تلاوت کرے تو اچھا ہے۔‘‘ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے امیر المومنین! یہ تلاوت کا طریقہ پہلے نہیں تھا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں جانتا ہوں لیکن یہ طریقہ تلاوت اچھا ہے۔‘‘تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔

الجواب: اس گھمنی "دلیل" کے راوی ابوجعفر الرازی کی ربیع بن انس سے روایت میں بہت اضطراب ہوتا ہے. (کتاب الثقات لابن حبان ٤/٢٢٨)
اور یہ بھی اسی سند سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے. نیز دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص ٣٩)

دلیل نمبر ٤ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْھَرِیُّ اَنَا اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۔ (مسند ابن الجعد ص413 ،معرفۃ سنن الآثار ؛بیہقی ج2 ص305)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیس رکعات (نماز تروایح ) پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سوآیات پڑھتے تھے۔

الجواب: یہ روایت شاذ ہے. (دلیل کے لئے دیکھئے الحدیث : ٧٦ ص ٤٠)
اور موطا مالک کی محفوظ روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی الله عنہ اور سیدنا تمیم الداری رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائے.
اس روایت سے طحاویٰ نے استدلال کیا، عینی نے صحیح کہا، ضیاء المقدسی نے اسے المختار میں ذکر کیا اور نیموی تقلیدی نے کہا : "واسناده صحيح" (آثار السنن ص ٢٥٠ )
یاد رہے کے اصول حدیث میں یہ مسلہ مقرر ہے کہ شاذ روایت ضعیف ہوتی ہے.


دلیل نمبر ٥ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْو ِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔ (سنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی (لاٹھیوں) پر ٹیک لگاتے تھے۔

الجواب: اس نمبر کے تحت گھمن صاحب نے وہی روایت ذکر کی ہے جو نمبر ٤ پر گزر چکی ہے اور صرف السنن الکبریٰ البہیقی کا حوالہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ ایک ہی روایت ہے. (دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص ٤٤)

دلیل نمبر ٦ : 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ نَا ھُشَیْمٌ اَنَا یُوْنُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِیْ قِیَامِ رَمْضَانَ ،فَکَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (سنن ابی داؤد ص1429،سیر اعلام النبلاء امام ذہبی ج3ص176)
ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کو بیس رکعات (نماز تراویح) پڑھاتے تھے۔

الجواب: اس ضعیف روایت میں عشرین " ركعة" کا لفظ غلط اور عشرین "ليلة" کا لفظ موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اس سند منقطع (ضعیف) ہے کیونکہ (بصری ) نے عمر رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (دیکھئے شرح سنن ابی داود للعینی ٥/٣٤٣، الحدیث : ٧٦ ص ٤٦)

حسن بصری کی ایک منقطع روایت پر جرح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی ازالتہ الریب (ص ٢٣٧)

دلیل نمبر ٧ : 
رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ زَیْدُ بْنُ عَلِیِّ الْہَاشْمِیُّ فِیْ مُسْنَدِہٖ کَمَا حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ۔ (مسند الامام زیدبن علی ص158)
ترجمہ: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا جو لوگوں کو رمضان شریف کے مہینہ میں نماز (تراویح) پڑھاتے تھے کہ وہ ان کو بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں! ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرے اور ہر چار رکعتوں کے درمیان آرام کے لیے کچھ دیر وقفہ کرے ۔

الجواب: امام زیدی علی رحمہ الله کی طرف منسوب "مسند زید" اہل سنت کی کتاب نہیں، بلکہ شیعوں کی کتاب ہے اور آل دیوبند اس کتاب سے حجت پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیوبندیہ اور زیدی شیعہ میں گہرا یارانہ ہے.
دوسرے یہ کہ "مسند زید" کا بنیادی راوی ابو خالد عمر و بن خالد الواسطی کذاب (بہت جھوٹا) راوی ہے. اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین نے فرمایا"کذاب."

  • امام اسحاق بن راہویہ نے فرمایا :" عمر و بن خالد واسطی حدیث گھڑتا تھا."
  • امام ابوز ر عہ الرازی نے فرمایا : "اور وہ حدیثیں گھڑتا تھا. "
  • امام وکیع بن الحرا ح نے فرمایا : "وہ کذاب (بہت جھوٹا) تھا." (دیکھئے تحقیقی مقالات ج ٣ ص ٥١٠)

دلیل نمبر ٨ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالَحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِی الْحَسْنَائِ اَنَّ عَلِیًّا اَمَرَ رَجُلاً یُّصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت ابو الحسناء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں!

الجواب: اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
١: ابو الحسنا ء مجہول ہے. (دیکھئے تقریب التہذیب : ٨٣٣٧)
٢: سیدنا علی رضی الله عنہ سے ابو الحسنا ء کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں.

دلیل نمبر ٩ :
عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ…کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (قیام اللیل للمروزی ص157)
ترجمہ: حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان شریف میں ہمیں نماز (تراویح) پڑھاتے اور گھرکو لوٹ جاتے تو رات ابھی باقی ہوتی تھی آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعات (تراویح ) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت بے سند ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے. (نیز دیکھئے تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص ٨١)

دلیل نمبر ١٠ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ حَسَنٍ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ کَانَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فِیْ رَمْضَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُبِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285؛ الترغیب والترھیب للاصبہانی ج2ص368 )
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رمضان کے مہینے میں لوگوں کوبیس رکعات نماز (تروایح) اور تین (رکعات ) وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت منقطع ہے. عبدالعزیز رفیع نے ابی بن کعب رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (تعداد رکعات قیام رمضان ص ٦٦ بحوالہ آثار السنن)


دلیل نمبر ١١ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍقَالَ ثَنَاوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکْلٍ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت شُتیربن شکل رحمہ اللہ (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ساتھی ہیں) رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات نماز (تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : اس روایت کی سند ابو اسحاق سبیعی مدلس اور سفیان ثوری مدلس کے عن عن کی وجہ سے ضعیف ہے.

دلیل نمبر ١٢ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ خَلْفٍ عَنْ رَبِیْعٍ وَاثْنٰی عَلَیْہِ خَیْراً عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ فِیْ رَمَضَانَ وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت ابو البختری رحمہ اللہ رمضان شریف میں (نماز تراویح) پانچ ترویحے (بیس رکعات)اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔

الجواب : یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے دو راویوں خلف اور بیع دونوں کا تعین نامعلوم ہے.

دلیل نمبر ١٣ : 
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عُبَیْدٍ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ رَبِیْعَۃَ کَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمْضَانَ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ وَّیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ رمضان شریف میں لوگوں کوپانچ ترویحے (بیس رکعات نماز تراویح) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے.

الجواب : تابعی کے اس اثر سے استدلال کئی وجہ سے غلط ہے:
١ : یہ نہ تو رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے اورر نہ کسی صحابی کا اثر ہے.
٢ : تابعی مذکور سے یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم و زیادہ جائز نہیں، لہٰذا آل تقلید کا اس سے استدلال جائز نہیں.

دلیل نمبر ١٤ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَااِبْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنْ عَطَآئٍ قَالَ اَدْرَکْتُ النَّاسَ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ ثَلَاثاً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃًبِالْوِتْرِ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: جلیل القدر تابعی حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ جیسے) لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے پایا ہے۔

الجواب : اس اثر میں لوگوں سے کون مراد ہیں؟؟ کوئی وضاحت نہیں اور عین ممکن ہے کہ تابعین مراد ہو اور بعض تابعین کا اختلافی عمل اولہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے.

دلیل نمبر ١٥ :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ اَنَّہٗ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فِیْ رَمْضَانَ بِاللَّیْلِ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت حارث رحمہ اللہ لوگوں کو رمضان شریف میں بیس رکعات نماز (تراویح) اورتین وتر باجماعت پڑھاتے تھے اور (دعائے) قنوت (جو کہ وتر میں پڑھی جاتی ہے ) رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔

الجواب : یہ روایت ابو معاویہ الضریر، حجاج بن ا رطاة اور ابو اسحاق مدلسین کے عن عن عن کی وجہ سے حارث الاعور سے ثابت نہیں اور حارث ا عور بذات خود جمہور کے نزدیک مجروح، نیز شیعہ اور بقول امام شعبی : کذاب تھا . 

(٢٧ / ستمبر ٢٠١١ سرگودھا)



ماہنامہ ضرب حق سرگودھا شعبان ١٤٣٣ھ جولائی ٢٠١٢ء