YOUR INFO

Showing posts with label سانحۂ کربلا. Show all posts
Showing posts with label سانحۂ کربلا. Show all posts

Thursday, 14 March 2013

سبائی سازش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سانحہ کربلا تک

2 comments

سبائی سازش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سانحہ کربلا تک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (اللہ کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں۔۔۔

١٠ محرم سن ٢١ ھجرہ کو ایک نہایت افسوس ناک حادثہ دشتِ کربلا میں پیش آیا تھا، جس میں سبط رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما اور آپ کے خانوادے کے اکثر افراد نیز آپ رضی اللہ عنہ کے اعوان وانصار کی کثیر تعداد نے جام شہادت نوش فرمایا تھا۔۔۔ اس حادثے کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کے یہ ایک اچانک ظہور پذیر ہونے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ درحقیقت اسی سبائی سازش کا ایک مظہر تھا جو پورے پچیس سال قبل اس سے بھی کہیں زیادہ افسوس ناک حادثے کو جنم دے چکی تھی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت۔۔۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ ١٨ ذی الحجہ ٣٦ ھجری کو پیش آیا۔۔۔

اولا ذہن میں یہ بات تازہ کر لیجئے کے حق اور باطل کی جو کشمکش ازل سے چلی آرہی ہے۔۔۔اس کے ضمن میں تاریخ کا کچھ ایسا نقشہ نظر آتا ہے کے زیادہ تر غلبہ باطل کا رہا حق کے غلبے کے ادوار بڑے مختصر رہے یہ بی ایک حقیقت کبرٰی ہے کہ جب کھبی حق کا غلبہ ہوا ہے تو باطل نے اسے اپنی شکت تسلیم نہیں کیا بلکہ ایسے مواقع پر وہ وقتی طور پر دبک جاتا رہا ہے اس نے منافقانہ طور پر حق کا لبادہ اوڑھ لیا یا وقتی طور پر زیر زمین چلا گیا چنانچہ وہ اندر ہی اندر اپنی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور ایسے موقع کی تاک میں رہتا ہے جب وہ حامیان حق کے درمیان کوئی شدید اختلاف وانتشار پیدا کر کے اپنے لئے راستہ بناسکے اور حق کے خلاف کھڑا ہوسکے۔۔۔

چنانچہہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ کا عظیم ترین معجزہ دنیا کو دکھایا یعنی (جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ) کا نقشہ بالفعل قافلہ انسانیت کو چشم سر سے دیکھنے کا موقع فراہم فرمادیا اور ایک وسیع وعریض خطہ زمین پر حق کو بالفعل قائم ونافذ فرما کر رہتی دنیا تک کے لئے ایک کامل نمونہ پیش فرما دیا تو ھق غالب ہوگیا اور باطل سرنگوں ہوگیا۔۔۔ لیکن باطل نے انقلاب محمدی کے آخری مرحلے میں وہی روش اختیار کی کہ وقتی طور پر شکت تسلیم کر کے وہ اس انتظار میں رہا کے موقع آئے تو میں وار کروں اور کاری وار کروں چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے فورا بعد فتنوں کا ہجوم اُٹھ کھڑا ہوا کئی کاذب مدعیان نبوت میدان میں آگئے اور ان کے ساتھ کافی جمعیت ہوگئی پھر مانعین ومنکرین زکوٰہ سے سابقہ پیش آیا اور اہل ایمان کا بیک وقت ایسے ایسے عظیم فتنوں سے نبزد آزما ہونا پڑا کہ وقتی طور پر تو محسوس ہوتا تھا کہ حق کا چراغ اب بجھا کہ بجھا۔۔۔ یہ درحقیقت وہ انقلاب دشمن قوتیں تھیں جن سے عہدہ برآ ہونے کے لئے واقعتا صدیق ہی نہیں بلکہ صدیق اکبر کی شخصیت درکار تھی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔۔۔ صدیق دراصل نبی کا عکس کامل ہوتا ہے چنانچہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ثابت کردیا کہ جس انقلاب کی تکمیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس فرمائی تھی اس کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو ردعمل ظاہر ہوا اس کی سرکوبی کرنے کی پوری صلاحیت اور عزمیت اور آہنی قوت ارادی ان کے نحیف ونزار جسم میں موجود تھی حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب کو مستحکم کیا اور زمام کار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر کے وہ بھی اپنے مالک حقیقی کی طرف مراجعت فرماگئے۔۔۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت اور جیساکے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تعلق سے اوپر ارض کرچکا ہوں کہ حضرت ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے بارہ سالہ دور خلافت میں سے بھی کم وبیش دس سال بالکل دور فاروقی ہی کی شان کے حامل تھے لہذا ان کو بھی شامل کر لیجئے تو یہ بیس سال اسلام کے استحکام اور اس کی توسیع کے سال ہیں انقلاب محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرنگیں عراق، شام وفارس (ایران) کے پورے کے پورے ملک اور شمالی افریقہ کا مصر سے مراکش تک کا وسیع علاقہ آگیا اور اس پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور اللہ کا دین غالب ونافذ ہوگیا۔۔۔ اب ظاہر بات ہے کہ اس کے خلاف بھی ایک ردعمل ہونا تھا یہ جو تاریخی پس منظر ہے اس کے کچھ غیر متبدل اصول ہیں آپ کے علم میں ہے کے جس انقلاب کی تکمیل اندورن عرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس فرمائی اس کے ردعمل میں مخالفانہ تحریکیں اُٹھ کھڑی ہوئیں تو توسیع کا جو مرحلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کے ہاتھوں انجام پایا اس کا ردعمل کیوں نہ ہوتا۔۔۔ چنانچہ باطل نے پہلا وار کیا حضرت عمر رضی اللہ کی ذات پر۔۔۔ باطل پرست یہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ پوری عمارت اسی ایک ستون پر کھڑی ہے اس کو گرا دو تو عمارت زمین بوس ہوجائے گی الحمداللہ کہ ان کی توقع غلط ثابت ہوئی اور عمارت برقرار رہی یہ خالص ایرانی سازش تھی ابولولو فیروز پارسی ایرانی غلام اور اس کی پشت پر مزان ایک ایرانی جرنیل تھا۔۔۔

اس سازش کی ناکامی کے بعد جو دوسرا وار ہوا ہو بہت کاری وار تھا اس میں یہود کی عیاری اور کیادی شامل تھی ان کا سازشی ذہن اور اس میں مہارت ضرف المثل بن چکی تھی عبداللہ بن سباء یمن کا ایک یہودی اُٹھتا ہے اسلام کا لبادہ اوڑھتا ہے مدینہ منورہ میں آکر قیام کرتا ہے اور نئے نئے شگوفے چھوڑنے شروع کردیتا ہے کہیں محبت آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پردے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق وسوسہ اندازی کرتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے استحقاق خلافت کا پروپگنڈا کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور وہی خلافت کا حق دار ہوتا ہے تو اصل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں لہذا خلافت کے حقدار وہ ہیں ان کی بجائے جو بھی مسند خلافت پر فائز ہوا یا اب ہے وہ غاصب ہے کہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کے عقیدے کا پرچار کرتا جس سے اسلام کی جڑ ‘‘ توحید ‘‘ پر کاری ضرب لگتی ہے ایرانی نو مسلم جن کی گھٹی میں نسلا بعد نسل شاہ پرستی پڑی ہوئی تھی اور جو نسب کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی کے خوگر تھے ان پر اس کا کتنا گہرا اثر ہوا ہوگا۔۔۔ کہیں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بیان کرنے کے لئے یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ثانی ہوگا تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو افضل الانبیاء ہیں وہ بھی دوبارہ واپس تشریف لائیں گے۔۔۔ اب دیکھئے کے غیر عرب نو مسلم خوش عقیدہ لوگوں کے دلوں کو یہ بات کتنی بھانے والی ہے کہ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بیان ہورہاہے یہی حربہ ہے جو اس دور میں قادیانیوں نے استعمال کیا۔۔۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور ان کے نزول کے عقیدے کی نفی کرنے کے لئے انہوں نے اسی دلیل کا رُخ اس طرف رکھا کے اس طرح تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت مجروح ہوگی۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہوگئے ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہوں اور دوبارہ تشریف لائیں۔۔۔ گویا اصل بات یہی ہے کہ عوام الناس کی اکثریت عقیدے کی بنیاد پر اس قسم کے مغالطوں میں مبتلا ہوجاتی ہے ان باتوں نے سادہ لوح لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں گھر کرنا شروع کردیا یہ شخص مدینہ سے بصرہ گیا وہاں بھی اس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا پھر کوفہ گیا، وہاں اس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا دمشق جاکر وہاں کوشش کی لیکن وہاں دال نہ گلی پھر مصر گیا وہاں اپنے ہم خیالوں کو ایک جماعت تیار کی یوں ہر طرف اس نے ایک فتنہ فساد کی فضا پیدا کردی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آخری دو سال اس فتنےوفساد کی نذر ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی جو تاریخ انسانی کی عظیم ترین مظلومانہ شہادت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ اس وقت عظیم ترین مملکت کے فرماں روا تھے لاکھوں کی تعداد میں فوجیں موجود تھیں جو ان کے اشارے پر کٹ مرنے کے لئے تیار تھیں جب مٹھی بھر باغیوں نے اس شہید مظلوم کا محاصرہ کر رکھا تھا تو مختلف صوبوں کے گورنروں کی طرف سے استدعا آرہی تھی کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم فوجیں لے کر حاضر ہوجائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں لیکن وہ آپ رضی اللہ عنہ یہ عزم کئے ہوئے تھے کہ میں اپنی جان کی حفاظت ومدافعت میں کسی کلمہ گو کا خون بہانے کی اجازت نہیں دوں گا اتنی عظیم قوت وسطوت کا حامل اور اس طرح اپنی جان دینے کے لئے آمادہ ہوجائے اور اپنی جان کی حفاظت و مدافعت میں کسی کا خون بہانے کے لئے تیار نہ ہو واقعہ یہ ہے کہ پوری تاریخ انسانی میں اس کی کوئی مثال ممکن نہیں ہے۔۔۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جو صبروثبات کے کوہ ہمالیہ ثابت ہوئے، جواب یہی تھا کہ نہیں میں اپنی مدافعت میں کسی کلمہ گو گا خون بہانے کی اجازت نہیں دوں گا حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما دورازے پر پہرے دار تھے لیکن باغی پیچھے سے دیوار پھاند کر گئے اور اس ہستی کو شہید کر دیا جس کو ذوالنورین کا لقب حاصل تھا اور جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم راضی تھے اور جس کے حق میں دعا فرمایا کرتے تھے کہ ‘‘ اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی رہیو‘‘۔۔۔

حضرت عبداللہ بن سلام جو اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک جید یہودی عالم تھے وہ آتے ہیں اور باغیوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ لوگو!۔ باز آجاؤ میں تورات کا عالم ہوں اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کے کسی نبی کو قتل کیا گیا ہو اور اس کے بعد کم سے کم سترہزار انسان قتل نہ ہوئے ہوں یا کبھی کسی نبی کے خلیفہ کو قتل کیا گیا ہو اور اس کے بعد کم از کم پینتیس ہزار انسانوں کو قتل نہ کیا گیا ہو جان لیجئے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جو فتنے کی آگ بھڑکے اس میں چوراسی ہزار مسلمان شہید ہوئے۔۔۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے پورے پونے پانچ برس باہم خانہ جنگی میں گزرے جنگ جمل ہے اور جنگ صفین ہے جنگ نہروان ہے مسلمان کے ہاتھ میں مسلمان کا گریبان ہے اور مسلمان کی تلوار مسلمان ہی کا خون چاٹ رہی ہے مسلمان کا نیزہ ہے جو مسلمان کے سینے کے پار ہو رہا ہے اور کیسے کیسے لوگ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں پھر یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا لیکن ان پروار کاری نہ پڑا اور وہ بچ گئے حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا لیکن وہ اس روز کسی وجہ سے نماز فجر کے لئے نہ آئے تھے اس لئے ان کے مغالطے میں ان کے قائم مقام شہید ہوئے پھر نہ جانے ان کے علاوہ کیسے کیسے مخلص اور شجاع مسلمان ان جنگوں میں کھپت رہے۔۔۔

لیکن اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ اس سارے فتنے کی آگ بھڑکانے والے عبداللہ بن سبا کے حواری تھے اور یہ وہ آگ تھی جو پھر ٹھنڈی نہ ہوسکی اس سبائی سازش کو سمجھنے کے لئے یہاں پر جنگ جمل کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتا ہوں جو تمام مستند تاریخوں میں موجود ہے یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فوج کے ساتھ نکلیں ہیں اور بصرہ پر ان کا قبضہ ہوا حضرت عائشہ خلافت کی مدعی نہیں تھیں معاذ اللہ۔۔۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لیا جائے اس وقت دونوں لشکر آمنے سامنے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ کے بجائے گفت شنید سے قضیہ نمٹانے پر آمادہ ہوگئے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کے وہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کے لئے بالکل بیار ہیں لیکن پہلے ان کے ہاتھ تو مضبوط کئے جائیں اگر ان کے ہاتھ پر بیعت ہوجائے اور انہیں تقویت پہنچائی جائے تو وہ فتنہ پروازوں سے پورا پورا حساب لیں گے لہذا بات چیت شروع ہوئی ایک بڑی امید افزا فضاء نظر آنے لگی کے حالات درست ہوجائیں گے لیکن عین اس وقت عبداللہ بن سبا اور مالک بن اشترنخعی رات کی تاریکی میں سازش کرتے ہیں کہ اس طرح تو ہمارا بھانڈا پھوٹے گا ہماری سازش کا پردہ چاک ہوگا یہ جو ڈرامہ کھیلنے کے لئے ہم نے اسٹیج بچھائی ہے یہ تو برباد ہوجائے گی لہذا وہ رات کی تاریکی میں کچھ لوگوں کو لے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کیمپ پر حملہ کردیتے ہیں ادھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فوجوں نے جملہ کردیا ہے اُدھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کیمپت میں یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لشکر نے جملے کی ابتداء کی ہے اور وہ اچانک ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں چنانچہ دونوں لشکر ایک دوسرے سے پوری طرح بھڑ گئے آپ اس بات کو پیش نظر رکھئے کہ جب جنگ چھڑجاتی ہے تو تحقیق کا کوئی وقت نہیں ہوتا اور یہ قطعا ممکن نہیں ہوتا کے عین اس وقت تفتیش ہو کہ اصل معاملہ کیا ہے کس نے ابتداء کی تھی اور اس کا اصل محرک کیا ہے؟؟؟۔۔۔ یہ تو وہ وقت ہوتا ہے کہ لوگ اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھے برسرپیکار ہوتے ہیں پھر جو خون یزی ہوئی ہے اور سو دو سو نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ایک دوسرے کی تلوار سے شہید ہوئے ہیں یہ ہماری تاریخ کا ایک درد ناک باب ہے اس سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ واقعتا فتنے کی آگ کو بھڑکانے والا چھوٹا ساگروہ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔کہ جو اس کو طرح بھڑکادے کہ پھر اسے بجھایا نہ جاسکے یہی معاملہ جنگ صفین کے موقع پر ہوا ہے وہاں بھی مصالحانہ گفتگو کی فضاء پیدا ہوگئی تھی لیکن سبائی سازشی گروہ نےاسے بھی ناکام بنادیا اور فتنہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں ‘‘ خوارج‘‘ کے گروہ کا اضافہ ہوگیا اور ایک نیا محاذ کھل گیا۔۔۔

یہاں پر ایک بات بڑے اختصار کے ساتھ کرنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک خارجی کے ہاتھوں ہوتی ہے اس موقع پر یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں عالم اسلام ایک وحدت کی صورت میں باقی نہیں رہا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر کی حیثیت سے اس بات کے مدعی تھے کہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لیا جانا چاہئے یہ بات بھی سمجھ لیجئے کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قطعا خلافت کا دعوٰٰ نہیں کیا تھا وہ ہرگز مدعی خلافت نہ تھے نہ حضرت علی کی خلافت کے منکر۔۔۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کے حقدار نہیں معاذ اللہ۔۔۔ اور یہ کے ان کے بدلے مجھے خلافت ملنی چاہئے ہرگز نہیں۔۔۔ وہ صرف خون عثمان کے قصاص کے مدعی تھے ان کی ایک وسیع رقبے پر بحیثیت گورنر حکومت رہی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کے قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ کو جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں شامل اور معاملات میں پیش پیش تھے سزادی جائے اس کے بعد وہ بیعت کر لیں گے ان کا موقف صحیح تھا یا غلط اس پر گفتگو کا یہ موقع محل نہیں ہے فی الوقت پیش نظر صرف اس صورت واقعی کا بیان ہے کہ اس وقت عالم اسلام ایک وحدت کی حیثیت سے موجود نہیں تھا۔۔۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی اب معلوم ہوا کے نئے سرے سے تصادم کی نوبت آنے والی ہے ادھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کوفے سے چالیس ہزار فوج لے کر چلتے ہیں ادھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دمشق سے ایک بڑی فوج لے کر روانہ ہوتے ہیں مدائن کے آس پاس دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوتی ہے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کا ہراول دستہ آگے آگے جارہا تھا اس کے متعلق یہ افواہ اڑ گئی کے اس کو شکت ہوگئی یہ افواہ کس نے اڑائی واللہ اعلم۔۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی کوفی جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے وہاں وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا کے وہ بیان سے باہر ہے بغاوت کردی خیمے لوٹ لیئے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر دست درازی کی انجناب کے کپڑے پھاڑ ڈالے ان باغی کوفیوں کے ہاتھوں اپنی جان کا خطرہ دیکھ کر آنجناب کو کسرٰٰی کے محل میں پناہ لینی پڑی اس کا نتیجہ یہ نکلا کے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ان کوفیوں کے مزاج کا بخوبی تجربہ ہوگیا۔۔۔ 

چنانچہ انہوں نے مصالح دین کی خاطر وہیں سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مصالحت کی پیشکش ارسال کردی جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فورا قبول کر لیا اور اپنی طرف سے ایک سادہ سفید کاغذ پر اپنی مہر لگا کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیج دیاکے جو شرطیں آپ چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہوں گی۔۔۔ چنانچہ مصالحت ہوگئی مصالحت نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کے ایران کے صوبے اہواز کا خراج حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ملے گا یہ ایران کا وہی صوبہ ہے۔۔۔اور دوسری شرط یہ تھی کہ بیس لاکھ درہم سالانہ میرے چھوتے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ملیں گے ایک شرط اور بھی تھی کہ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں بنی ہاشم کے حق کو دوسروں پر مقدم رکھا جائے گا ایک شرط یہ تھی کے اب تک جو کچھ ہوا ہے اس پر کسی سے باز پُرس نہیں ہوگی گویا یہ عام معافی کا اعلان تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تمام شرائط منظور کر لیں اور الحمداللہ تقریبا پانچ سال کے اختلاف اور افتراق وانتشار اور باہمی خانہ جنگی کا دروازہ بند ہوا اب پورا عالم اسلام ایک وحت بن گا واضح رہے کہ اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لی اس صلح کے واقعہ پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا کہ ‘‘ خلافت ان کا یعنی حضرت معاویہ کا حق تھی تو اُن تک پہنچ گئی اور اگر میرا حق تھی تو میں نے بھی ان کو سونپ دی جھگڑا ختم یہ وہ بات تھی جس کی پیشنگوئی اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں فرمائی تھی کے میرے اس بیٹے یعنی حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے اللہ تعالٰی ایک وقت میں مسلمانوں کے دو گروہوں میں مصالحت کرائے گا یہ خصوصی مقام ومرتبہ ہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا۔۔۔ 

یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ وہ سازشی اس صورت حال میں سخت مشتعل تھے انہوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر طعن کیا آپ کی طرح طرح سے توہین کی آپ کو ‘‘ یاعار المومنین‘‘ یعنی اے اہل ایمان کے حق میں عار اور ننگ اور شرم کے باعث انسان اور ‘‘ یا مذل المومنین ‘‘ اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے انسان تک کہا گیا۔۔۔ یہ توہیں آمیز خطابات وہ لوگ آپ کو دیتے تھے جو بظاہر آپ کے حامی تھے وہ برملا کہتے تھے کہ اے حسن رضی اللہ عنہ تم نے یہ صلح کر کے ہماری ناک کٹوادی ہے اور اہل ایمان کے لئے تم نے کوئی عزت کا مقام باقی نہیں رکھا ہے لیکن اللہ تعالٰی اس اُمت کی طرف سے ابدالاباد تک حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو جزاء خیر عطاء فرمائے کے ان کے اس ایثار کی بدولت وہ رخنہ بند ہوگیا اور وہ دراڑ پُر ہوگئی جو عالم اسلام میں اس آپس کے خلفشار کی وجہ سے پڑ گئی تھی۔۔۔
لو استقبلت ما استدبرت لاخذت فضول اموال الاغنیاء ولقسمتہ بین الناس۔۔۔۔۔ او کما قال

اب اس بات کو ذہن میں رکھئے کے پورے بیس برس عالم اسلام پھر متحد رہا۔۔۔ مگر حضرت معاویہ کے عہد حکومت کو اہلسنت دور خلافت راشدہ میں شامل نہیں کرتے اسلامی حکومت کا آئیڈیل مزاج وہ ہے جو ہمیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لیکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دس سال تک نظر آتا ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی اور کاتب وحی ہیں کسی بدنیتی کو ہم ان کی طرف منسوب نہیں کرسکتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے اور صحیح ہے کہ ان کا وہ مقام اور مرتبہ کبھی کسی نے نہیں سمجھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو بھی جھگڑے رہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں آپس میں جنگیں ہوئیں حاشاوکلا ان کا کوئی الزام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات پر نہیں ہے اس میں ان کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوتاہی۔۔۔ معاذ اللہ۔۔۔۔ بلکہ یہ تو اغیار کی سازش تھی کہ انہوں نےفتنے کی آگ کو اس طرح بھڑکایا تھا کہ اس کو بجھایا نہ جاسکا لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے یہ بیس سال امن کے سال ہیں باہمی خانہ جنگی ختم ہوگئی جادہ پیما پھر کارواں ہمارا کی کیفیت پھر سے پیدا ہوئی اور دعوت وتبلیغ اور جہاد وقتال کے عمل کا احیاء ہوا توسیع ازسر نو شروع ہوئی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا یہ بیس سال دور خلافت راشدہ کے بعد اُمت کی تاریخ میں جتنے بھی ادوار آئے ہیں ان میں سب سے افضل اور بہتر دور ہے اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے سب سے اہم بات یہ کہ سربراہ حکومت ایک صحابی ہیں ان کے بعد معاملہ آتا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کا لیکن وہ صحابی نہیں ہیں تابعی ہیں۔۔۔ اور ہم کسی غیر صحابی کو صحابی کے ہم پلہ اور ہم مرتبہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں اہلسنت کا مجمع علیہ عقیدہ ہے کہ ادنٰٰی سے ادنٰی صحابی بھی اُمت کے بڑے سے بڑے ولی سے افضل ہے۔۔۔

بہرحال میں نے عرض کیا تھا کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کے بیس سال میں امن رہا واضح رہے کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی وہی ہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی دس سال تک زندہ رہے سن ٤١ ھجری میں یہ صلح ہوئی تھی اور سن ٥١ ھجری میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ان کا انتقال زہر کے اثر سے ہوا زیر کس نے دیا؟؟؟۔۔۔ کیوں دیا؟؟؟۔۔۔ اس کا تعلق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہونا بعید از قیاس ہے ان کو کیوں ضرورت پیش آئی تھی کے وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلواتے جبکہ صلح کے بعد ان دونوں کے قریبی اور دوستانہ مراسم تھے۔۔۔ زہر دینے والا کوئی سمجھ میں اگر آسکتا ہے تو وہ وہی گروہ ہوسکتا ہے کہ جس نے آنجناب کو ‘‘عار المومنین‘‘ اور مذل المومنین‘‘ جیسے اہانت آمیز خطابات دیئے تھے اور آپ کو طرح طرح سے ذہنی اذیتیں پہنچائی تھیں ظاہر ہے کہ زیردلایا ہوگا۔۔۔تو اُسی گروہ نے دلوایا ہوگا جن سے ان کی مصالحت ہے ان کی طرف سے زہردلانے کا امکان بہرحال عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔۔۔

اس کے بعد آتا ہے امیر یزید کی بحیثیت ولی عہد نامزدگی اور پھر ان کے دور حکومت میں سانحہ کربلا کا واقعہ جو دردناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی اور جس نے بلاشک وشبہ تاریخ اسلام پر بہت ہی ناخوشگوار اثرات چھوڑے ہیں اس مسئلے پر گفتگو سے قبل میں چاہتا ہوں کے آپ سے عرض کروں کے اس موقع پر یہ بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ اگرچہ اُمت میں اختلاف اور افتراق کے افسانے بہت ہیں لیکن یہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے باقی اختلافات فقہی اختلافات ہیں عقائد کے اختلافات نہیں۔۔۔ عقائد کے اختلافات تو ہمارے ہاں کے کچھ نچلی سطح کے نام نہاد دواعظین اور مولویوں نے بنالئے ہیں کے جن کی دوکان چلتی ہی ان اختلافات کے بل پر ہے۔۔۔ ورنہ ذہن میں رکھئے کے دیوبندی ہوں۔۔۔ یابریلوی ہوں ان کے عقائد ایک ہیں عقائد کی مستند کُتب ان کے ہاں ایک ہیں ان کی فقہ بھیایک ہے پھر اہلسنت کے جو دوسرے گروہ ہیں وہ مالکی ہوں، شافعی ہوں، حنبلی ہوں، اہلحدیث ہوں، ان میں فقہی معاملات میں اختلافات ہیں عقائد ایک ہی ہیں ہاں عقائد میں جو اختلاف اور فرق واقع ہوا ہے تو وہ شیعوں اور سنیوں کے مابین ہوا ہے اس اختلاف کو واقعتا نطر انداز نہیں کیا جاسکتا تاریخی واقعات کے بارے میں رائے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جاسکتا ہے شخصیات کے بارے میں بھی اگر اختلاف ہو تو اسے بھی کسی حد تک نظر انداز کیا جاسکتا ہے کسی کا ذاتی رجحان اگر یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل سمجھتا ہے تو یہ بھی ایسی بنیادی واساسی بات نہیں بے کے جس کی بناء پر ‘‘ من دیگرم تودیگری‘‘ کا معاملہ ہوسکے البتہ یہ ضرور ہے کے پوری اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے افضل ترین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہی نہیں سمجھتی بلکہ پوری نوع انسان میں انبیاء کرام کے بعد افضل البشر سمجھتی ہے لیکن اس بھی عقیدے کا بنیادی اختلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔۔۔ 

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ۔۔۔
اگر میری طبعیت کو اس کی آزادی پر چھوڑ دیا جائے تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی قائل ہوتی نظر آتی ہے لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اقرار کروں۔۔۔

میری ناقص رائے میں خلفائے راشدین کی فضیلت میں تقدیم وتاخیر اگرچہ فی نفسہ ایک اہم مسلہ ہے تاہم اسے عقیدے کا اختلاف قرار نہیں دیا جاسکتا اصل اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک معصومیت ختم ہوچکی ہے جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر۔۔۔ ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النیین والمرسلین کے ساتھ ساتھ خاتم المعصومین بھی ہیں اور ہم اسے ایمان بالنبوت اور ایمان بالرسالت کا ایک لازمی جزء سمجھتے ہیں اور یہ بات یقینا نبیادی عقیدے سے متعلق ہے اس لئے کہ یہ عقیدہ ختم نبوت کا لازمی نتیجہ ہے چونکہ عصمت ومعصومیت خاصہ نبوت ہے نبوت ختم ہوئی تو عصمت اور معصومیت بھی ختم ہوئی اب نبوت کے بعد اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے وجی نبوت کا دروازہ بند ہے اور تاقیامت بند رہے گا تاریخ انسانی کا بقیہ سارا دور اجتہاد کا ہے اجتہاد میں مجتہد اپنی امکانی حد تک کوشش کرتا ہے کہ اس کی رائے قرآن وسنت ہی سے ماخوز ومستنبط ہو لیکن معصوم عن الخطاء نہیں ہے اس اجتہاد میں خطاء بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر نیک نیتی کے ساتھ خطاء ہے تو ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ مجتہد مخطی کو بھی ایک اجروثواب ملے گا اگرچہ اکہرا اور مجتہد اگر مصیبت ہو یونی صحیح رائے تک پہنچ گیا ہو تو اسے دوہرا اجرا ملے گا جبکہ شیعہ مکتب فکر کا عقیدہ امامت معصومہ کا ہے ہمارے نزدیک جیسا کے میں نے ابھی عرض کیا، معصومیت خاصہ نبوت ہے وہ اپنے آئمہ کو بھی معصوم مانتے ہیں اوریہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان سے خطاء کا صدمہ ممکن نہیں ہمارے اعتبار سے تو اس نوع کی امامت ایک قسم کی نبوت بن جاتی ہے اور ہر قسم کی نبوت کو ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم سمجھتے ہیں۔۔۔ لہذا بنوت کے بعد جو بھی زمانہ آیا اس میں کسی کا جو بھی اقدام ہے اس میں ہم احتمال خطاء کو بعید از امکان نہیں سمجھتے خواہ وہ اقدام حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہو خواہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہو خواہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہو یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا۔۔۔ لہذا اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کے کسی فیصلے یا اقدام کے بارے میں یہ رائے دینا چاہئے کے فلاں معاملے میں ان سے خطاء ہوئی تو اسے حق ہے وہ کہہ سکتا ہے البتہ دلیل سے بات کرے اور اُسے اجتہادی خطاء سمجھے تو یہ بات ہمارے عقیدے سے نہیں ٹکرائے گی۔۔۔ یہ دوسری بات ہے کہ پوری چودہ سوسال کی تاریخ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور سے لیکر آج تک کسی شخص نے صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی کسی خطاء کو پکڑا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ امکان خطاء موجود تھا اور وہ معصوم عن الخطاء نہیں تھے۔۔۔ لہذا کوئی شخص اگر یہ کہنا چاہے کہ ان سے خطاء ہوئی یہ نہ کرتے یا یوں کرتے تو بہتر تھا تو ہم اس کی زبان نہیں پکڑیں گے۔۔۔چونکہ ہم ان کی معصومیت کے قائل ہی نہیں ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو خود اپنی بعض اجتہادی آراء میں خطاء کا احساس ہوا جن سے انہوں نے علی الاعلان رجوع کر لیا البتہ اپنی ایک خطاء کا وہ صرف اعتراف کرسکے اس کا ازالہ نہ ہوسکا وہ یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خود انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر زور دے کر وظائف کے تعین کے معاملے میں ایک فرق رکھوایا یعنی یہ کے بدری صحابہ کو دوسروں کے مقابلے میں کافی زیادہ وظیفہ ملنا چاہئے اور اصحاب شجرہ کو بدری صحابہ رضی اللہ عنہما سے کم لیکن دوسروں سے زیادہ وظیفہ ملنا چاہئے۔۔۔ یہ فرق مراتب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رکھوایا اور اپنی حیات دنیوی کے آخری ایام میں آپ اس پر پچھتائے اس کی وجہ کیا تھی وہ بھی جان لیجئے یعنی یہ کہ اللہ تعالٰی کی نصرت اور مسلمانوں کے جوش جہاد اور شوق شہادت کی وجہ سے نہایت عظیم الشان فتوحات ہوتی چلی گئیں اور مال غنیمت بےحدوحساب دارالاسلام میں آنے لگا اب جو بڑے بڑے وظائف باقاعدگی سے ملے تو اس نے سرمایہ داری کی شکل اختیار کر لی اس لئے کے معاشرے میں بالفعل یہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی کے صدقہ خیرات لینے والا کوئی مستحق ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا تھا بنابرین ارتکاز دلت کی شکل پیدا ہونی شروع ہوگئی اور وظائف میں فرق وتفاوت نے اصحاب دولت وثروت کے مابین بھی عظیم فرق وتفاوت پیدا کردیا اگر وہ دولت کسی ہموار ومساوی طریقے پر منتقل ہوتی تو یہ صورتحال رونما نہ ہوتی یہ وہ چیزیں تھی جس کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کے۔۔۔

لو استقبلت ما استدبرت لاخذت فضول اموال الاغنیاء ولقسمتہ بین الناس۔۔۔۔۔ او کما قال
اب اگر کہیں وہ صورت حال دوبارہ پیدا ہوجائے جو اب پیچھے جاچکی ہے تو میں لوگوں کے اموال میں جو فاضل ہے وہ لے کر دوسرے لوگوں میں تقسیم کردوں۔۔۔

پس معلوم ہوا کے آپ رضی اللہ عنہ کو ایک احساس ہوا یہ بات میں نے صرف اس لئے عرض کی ہے کہ اہلسنت کا یہ موقف واضع ہوجائے کے خطاء کا احتمال و امکان صحابی کے بارے میں بھی ہوسکتا ہے لیکن ہم اس خطاء کو اجتہادی خطاء قرار دیں گے اور اسے نیک نیتی پر محمول کریں گے یہ بات ہر صحابی کے بارے میں کہی جائے گی یہی بات اور یہی رائے نہ صرف حضرت معاویہ، حضرت عمروبن العاص، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔۔۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی یہاں تک کے حضرات شیخین اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔۔۔ لہذا یہ بات پیش نظر رکھئے کہ اب گفتگو کا جو مرحلہ آرہا ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک اقدام سے متعلق ہے اس کے بارے میں بھی وہ رائیں ممکن ہیں ان کو یہ بات مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ نے سوجھائی (جو مسلمہ طور پر ایک نہایت ذہن وفہیم مدبر اور دور رس نگاہ رکھنے والے صحابی مانے جاتے ہیں)۔۔۔ کہ دیکھئے مسلمانوں میں آپس میں جو کشت وخون ہوا اور پانچ برس کا جو عرصہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں گزرا کہیں ایسا نہ ہو کے آپ کے بعد پھر وہی حالات پیدا ہوجائیں لہذا اپنی جانشینی کا مسئلہ اپنی زندگی میں ہی طے کر کے جایئے اب کوئی شخص چاہے (اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے) تو وہ بڑی آسانی سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر یہ فتوٰی لگادے کہ انہوں نے کسی لالچ اور کسی انعام کی اُمید کی وجہ سے یا چاپلوسی کے خیال سے یہ رائے دی معاذ اللہ۔۔۔
ہم یہ رائے نہیں دے سکتے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہیں جنہوں نے حدبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر وہ بیعت کی تھی جس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے اور اس بیعت پر سورہ فتح میں اللہ تعالٰی نے اپنی رضا کا اظہار فرمایا تھا۔۔۔ چنانچہ وہ اصحاب شجرہ میں سے ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پورے عہد حکومت میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے حامیوں میں رہے اور ہر مرحلے میں انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا لیکن وہ اُمت کے حالات کو دیکھ رہے تھے آپس کی خانہ جنگی کا انہیں تلخ اور دردناک تجربہ ہوا تھا۔۔۔ یہ ٦٠ ھجری کے لگ بھگ کا زمانہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پورے پچاس برس گزرنے چکے ہیں کبار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی عظیم اکثریت اللہ کو پیاری ہوچکی ہے اب تو صغار صحابہ میں بھی کچھ لوگ موجود ہیں اور یہ گویا صحابی کی دوسری نسل کے افراد ہیں جسے حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ شہید ہوچکے اب ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوچکے اب ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔۔۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اللہ کو پیارے ہوچکے اب ان کے بیٹے حضرت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ موجود ہیں اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں الغرض چند صغار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمیعن کو چھوڑ کر تقریبا ننانوے فی صد لوگ تو بعد کے ہیں پھر وہ جوش و جذبہ ایمانی بھی پچاس سال کے بعد اس درجے کا نہ رہا تھا جو خلافت راشدہ کے ابتدائی پچیس سال تک نظر آتا ہے اس ضمن میں ‘‘ جواہر اندیشہ‘‘ اور شدت احساس کا عالم تو یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک موقع پر جب کچھ عیسائی آئے اور ان کو قرآن مجید کی آیات سنائی گئیں اور شدت تاثر سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔۔۔

ھکذا حتی قست القلوب
یہی حال کبھی ہمارا ہوا کرتا تھا کہ قرآن مجید پڑھتے تھے اور سنتے تھے تو ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجایا کرتے تھے یہاں تک کے دل سخت ہوگئے۔۔۔

ذرا غور فرمائیے یہ بات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے متعلق فرمارہے ہیں کہ ہمارے دل سخت ہوگئے اسی طرح انتقال کے وقت حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ‘‘ کہ میں اگر برابر برابر پر چھوٹ جاؤں تو بہت بڑی کامیابی سمجھوں گا‘‘ پھر یہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں ‘‘ میں قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہیں میرا نام ان منافقوں کی فہرست میں تو نہیں تھا جن کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بتائے تھے؟؟؟۔۔۔ تو ان جلیل القدر صحابہ کی شدت احساس کی اگر یہ صورت تھی تو آپ سوچئے۔۔۔۔۔

لہذا ان حالات میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی سمجھ میں مصالح اُمت کا یہی تقاضا آیا کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنا کوئی جانشین نامزد فرمادیں چونکہ اس وقت فی الواقع بحیثیت مجموی امت کے حالات اس شورائی مزاج کے متحمل نہیں رہے ہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا فرمایا تھا لہذا حالات کے پیش نظر ایک سیڑھی نیچے اُتر کر فیصلہ کرنا چاہئے چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے دلائل کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اصرار کیا کہ وہ اپنا جانشین نامزد کریں اور اس کی بیعت ولی عہدی لیں پھر ان ہی نے جانشینی کے لئے یزید کا نام تجویز کیا یہاں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ جو شخس کسی بھی درجے میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدنیت قرار دے گا اس کا معاملہ اہلسنت سے جدا ہوجائے گا اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ‘‘ الصحابہ کلھم عدول ‘‘ بدنیتی کی نسبت ہم ان کی طرف نہیں کرسکتے اختلاف کرسکتے ہیں ہم انہیں معصوم نہیں مانتے ان سے خطاء ہوسکتی ہے ان کے کسی فیصلے کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ صحیح فیصلہ نہیں تھا کوئی یہ کہے تو اس سے اس کے ایمان عقیدے اور اہلسنت میں سے ہونے پر کوئی حرف نہیں آئے گا یہ رائے دی جاسکتی ہے لیکن جو شخص بدنیتی کو کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منسوب کرتا ہے تو جان لیجئے کہ وہ خواہ اور کچھ بھی ہو بہرحال اہلسنت والجماعت میں شمار نہیں ہوگا۔۔۔

اب تصویر کا دوسرا رُخ دیکھئے یعنی یہ کہ جن کی نیک نیتی ہر شبہ سے بالاتر ہے انہوں نے یہ محسوس کیا یہ عمل اسلام کے مزاج کے ساتھ مناسبت رکھنے والا نہیں ہے ان میں پانچ نام بہت مشہور ہیں تین تو اُمت کے مشہور ‘‘عبادلہ‘‘ مں سے ہیں یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایک حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالٰی عنھما اور حضرت ابوبکر کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ انہوں نے یزید کی بیعت ولی عہدی سے انکار کیا اور ذہن میں رکھئے یہ تاریخی جملہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا ہے کہ جب مدینہ کے گورنر نے ولی عہدی کی بیعت لینی چاہی تو انہوں نے بڑے غصے سے کہا کہ ‘‘ کیا اب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت کے بجائے قیصر وکسرٰی کی سنت رائج کرنا چاہتے ہو کہ باپ کے بعد بیٹا جانشین ہو‘‘۔۔۔

تیسری جانت یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ ان پانچ حضرات کو چھوڑ کر اُمت کی عظیم ترین اکثریت نے بیعت کر لی جس میں کثیر تعداد میں صحابہ بھی شامل تھے اب اس واقعے کے بعد اگر کوئی چاہے تو ان سب کو بےضمیر قرار دے دے کسی زبان کو تو نہیں پکڑا جاسکتا کہنے والے یہ بھی کہہ دیں گے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ایمان دولت کے ذریعے خرید لئے تھے لیکن ذرا توقف کر کے غور کیجئے کہ ناوک نے تیرے صیدنہ چھوڑا زمانے میں کے مصداق سب سے پہلے اس زڈ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی آئے گی گویا انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دولت کے عوض دستبرداری قبول کر کے اپنی خلافت فروخت کی تھی۔۔۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔۔۔ لیکن ایسی بات کہنے والوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اس طرح ہدف ملامت واہانت کون کون سی لائق صداحترام ہستیاں بنتی ہیں ہم ان کو نیک نیت سمجھتے ہیں جو بھی صحابہ کرام اس وقت موجود تھے ان میں سے جنہوں نے ولی عہدی کی بیعت کی اور جنہوں نے انکار کیا وہ سب کے سب نیک نیت تھے سب کے پیش نظر اُمت کی مصلحت تھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جو ایثار فرمایا تھا وہ تو تاقیامت اُمت پر ایک احسان عظیم شمار ہوگا یہ بات بھی پیش نظر رکھئے ک جو دوسرا مکتب فکر ہے وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بھی امام معصوم مانا ہے لہذا ان کا طرز عمل خود ان کےاپنے عقیدے کے مطابق صدفی صددرست قرار پایا۔۔۔

اب آئیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اہلسنت والجماعت اس معاملے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ پوری نیک نیتی سے آنجناب سمجھتے تھے کہ اسلام کے شورائی مزاج کو بدلاجارہا ہے حالات کے رُخ کو اگر تبدیل نہ کیا تو وہ خالص اسلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور وہ کامل نظام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا اس میں کجی کی بنیاد پڑجائے گی لہذا اسے ہر قیمت پر روکنا ضروری ہے یہ رائے ان کی تھی اور پوری نیک نیتی سے تھی پھر شہر کوفہ کے لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے برابر ان کو پیغامات بھیج رہے تھے اور کوفیوں کے خطوط سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بوریاں بھر گئی تھیں یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ کوفہ صرف ایک شہر ہی نہیں تھا بلکہ سیاسی اور فوجی حیثیت سے اس کی بھی بڑی اہمیت بھی لہذا آنجناب کی رائے تھی کے اہالیان کوفہ کے تعاون سے وہ حالات کا رُخ صحیح جانب موڑ سکتے ہیں۔۔۔

جیسا کے پہلے میں کہہ چکاہوں کے ایسے معاملات اجتہادی ہوتے ہیں اس رائے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے کے ولی عہدی کی جو رسم پڑگئی ہے وہ اسلام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔۔۔لیکن وہ آگے جاکر اختلاف کرتے ہیں ان کا اختلاف کامیابی کے امکانات کے بارے میں تھا وہ کوفہ والوں کو قطعی ناقابل اعتبار سمجھتے تھے ظاہر بات ہے کہ کسی اقدام سے پہلے خوب اچھی طرح جائزہ لینا ہوتا ہے کہ اقدام کے لئے جو وسائل وذرائع ضروری ہیں وہ موجود ہیں یانہیں۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان پر قتال مکہ میں فرض نہیں ہوا تھا بلکہ مدینہ میں ہوا جبکہ اتنی قوت بہم پہنچ گئی تھی کے قتال سے اچھے نتائج کی توقع کی جاسکے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مخلصانہ رائے تھی کے کامیاب اقدام کے لئے جو اسباب درکار ہیں وہ فی الوقت موجود نہیں ہیں لہذا وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں کی دعوت قبول کرنے اور وہاں جانے سے باصراروالحاح منع کرتے رہے لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ کوفہ والوں کی دعوت قبول کرنی چاہئے اصل معاملہ یہ تھا کہ جو سچا انسان ہوتا ہے وہ اپنی سارگی اور شرافت میں دوسروں کو بھی سچا ہی سمجھتا ہے اور اپنی صداقت کی بنیاد پر دوسروں سے بھی حسن ظن رکھتا ہے کوفہ کوئی معمولی شہر نہیں تھا انتہائی اسٹریجٹک مقام پر واقع تھا یہ سب سے بڑی چھاؤنی تھی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قائم کی گئی تھی اس لئے کہ یہ وہ مقام ہے جس سے اُس شاہراہ کا کنٹرول ہوتا ہے جو ایران اور شام کی طرف جاتی ہے لہذا حضرت حسین رضی اللہ عنہ یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوفہ کی عظیم اکثریت ان کا ساتھ دینے کے لئے آمادہ ہے جیسا کے ان کے خطوط سے ظاہر ہے ہوتا ہے تو اس کے ذریعے اسلامی نظام میں لائی جارہی تبدیلی کا ازالہ کیا جاسکتا ہے اور اس کا راستہ روکا جاسکتا ہے لیکن اس رائے سے اختلاف کر رہے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین یہ اختلاف بھی معاذ اللہ بدنیتی پر منبی نہیں تھا۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی اور یہ تینوں عبادلہ بھی نیک نیت تھے ان تینوں حضرات نے لاکھ سمجھایا کہ آپ کوفہ والوں پر ہرگز اعتماد نہ کیجئے یہ لوگ قطعی بھروسے کے لائق نہیں ہیں یہ لوگ جو کچھ آپ کے والد بزرگوار کے ساتھ کرتے رہے ہیں اس کو یاد کیجئے جو کچھ آپ کے برادر محترم کے ساتھ کر چکے ہیں اس کو پیش نظر رکھئے یہ عین ممکن ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہوں لیکن ان کی تلواریں آپ کی حمایت میں نہیں اُٹھیں گی بلکہ معمولی خوف یا دباؤ یا لالچ سے آپ کے خلاف اُٹھ جائیں گے لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ایک فیصلہ ہے جس پر وہ کمال استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس معاملہ میں فرمان خداوندی اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر رہے تھے یعنی فاذاعزمت فتوکل علی اللہ یعنی پہلے خوب غور کر لو سوچ لو امکانات کا جائزہ لے لو تدبر کو برؤئے کار لانا ضروری ہے سازوسامان کی فراہمی ضروری ہے یہ بھی دیکھو کہ جو صورت حال فی الواقع درپیش ہے اس کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت ہے یانہیں لیکن جب ان مراحل سے گزر جر ایک فیصلہ کر لو تو پھر اللہ پر بھروسہ رکھتے وہئے اقدام کرو۔۔۔ فاذا عزمت فتوکل اللہ یہ رہنمائی ہے قرآن وسنت میں۔۔۔ 

آپ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اسسمنٹ میں غلطی کی لیکن یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کسی بدنیتی سے یا حکومت واقتدار کی طلب میں یہ کام کیا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اہلسنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہرگز نہیٰں ہے۔۔۔ میں ذاتی طور پر اس بات سے کھلم کھلا اور سرعام اعلان براءت کرتا ہوں اگر کسی کو یہ شک و شبہ یا غلط فہمی ہو کہ معاذ اللہ میری یہ رائے ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس اقدام میں کوئی نفسانیت یا کوئی ذاتی غرض تھی تو میں اس سے بالکلیہ بری ہوں الحمداللہ ثم الحمداللہ کسی کی یہ رائے اگر ہو تو ہو لیکن اچھی طرح جان لیجئے کہ اہلسنت والجماعت کے جو مجموعی اور مجمع علیہ عقائد ہیں ان میں یہ بات شامل ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام اور مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے ضًمن میں کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بدنیتی اور نفسانیت کا حکم لگانے سے ایمان میں جانے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے بلاتخصیص ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو عدول مانتے ہیں البتہ معصوم کسی کو نہیں مانتے اور ہر ایک سے خطاء اجتہادی کے احتمال وامکان کو تسلیم کرتے ہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی سے ایک رائے تھی نیک نیتی ہی سے ایک اندازہ تھا اور جب اس پر انشراح ہوگیا تو دین ہی کے لئے عزیمت تھی۔۔۔

جب ولی عہدی کی بیعت کا مسئلہ مدینہ منورہ میں پیش ہوا تھا جو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا چند حضرات کی رائے یہ تھی کہ مکہ مکرمہ کو ہی مرکز بنایاجائے اور اصل بنیاد یہ ہی ہے۔۔۔ اور اس ولی عہدی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے اپنی قوتوں کو مجتمع کیا جائے ابھی اس سلسلے میں کوئی مؤثر کام شروع نہیں ہوسکتا تھا کہ حضڑت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا اور بحیثیت دلی عہد حکومت امیر یزید کے ہاتھ میں آگئی جس کے بعد کوفہ والوں نے خطوط بھیج بھیج کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی وفاداری اور آپ کے ہاتھ پر بیعٹ کرکے جدوجہد اور اقدام کا یقین دلایا آنجناب نے تحقیق حال کے لئے اپنے چچا ذاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا ان کی طرف سے بھی اطلاعات یہی موصول ہوئیں کے اہل کوفہ دل وجان ساتھ دینے کو تیار ہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے سفر کا ارادہ کر لیا اور کوچ کی تیاریاں شروع کردیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دونوں نے بہت سمجھایا کہ مکہ سے نہ نکلئے یہ دونوں حضرات یہ کہتے ہوئے روپڑے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر والوں کے سامنے ذبح کردیا گیا اسی طرح آپ کے اہل وعیال کے سامنے آپ کو بھی ذبح کردیا جائے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوچ کای تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اُن کی سواری کے ساتھ دوڑتے ہوئے دور تک گئے اور اصرار کرتے رہے ہیں کہ اللہ کے لئے باز آجائیں اور اگر جانا ہی ہے تو خواتین اور بچوں کو تو ساتھ لے کر نہ جائیں اور یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کون ہیں؟؟؟ِ۔۔۔ 

رشتے میں ایک جانب سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چچا لگتے ہیں تو دوسری طرف نانا اس لئے کہ والد یعنی حضرت علی کے چچا زاد بھائی ہیں اور نانا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی چچا زاد بھائی ہیں لیکن اس وقت محبت سے مغلوب ہوکر کہہ رہے ہیں اے ابن اعمم اللہ کے لئے باز آجاؤ کم از کم ان عورتوں بچوں کو مکہ مکرمہ ہی میں چھوڑ جاؤ لیکن نہیں دوسری جانب عزیمیت کا ایک کوہ گران ہے پیکر شجاعت ہے سراپا استقامت ہے نیک نیتی ہے جو فیصلہ کیا ہے اس پر ڈٹے ہوئے ہیں اس کے بعد راستے میں جب اطلاع ملی کے حضرت مسلم بن عقیل جو ایلچی اور تحقیق کنندہ کی حیثیت سے کوفہ گئے تھے وہاں شہید کردیئے گئے ہیں اور کوفہ والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔ سب کے سب نے گورنر کوفہ کے سامنے حکومت وقت کے ساتھ وفاداری کا عہد استوار کر لیا ہے ۔۔۔ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے سوچنا شروع کیا کہ سفر جاری رکھا جائے یا مکہ واپسی ہو۔۔۔

لیکن ذہن میں رکھئے کہ ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے جو انسان کی شخصیت کا جزولاینفک ہوتا ہے عرب کا مزاج یہ تھا کے خون کا بدلہ لیا جائے خواہ اس میں خود اپنی جان سے بھی کیوں نہ ہاتھ دھو لینے پڑیں چنانچہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے عزیز رشتدار کھڑے ہوگئے کہ اب ہم ان کے خون کا بدلہ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شرافت اور مروت کا تقاضا تھا کہ وہ ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں جو ان کے مشن میں ان کا ساتھ دینے کے لئے نکلے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرنے والوں کا ساتھ یہ پیکرشرافت و مروت نہ دیتا لہذا سفر جاری رہا اسی دوران حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ جو چچا زاد بھائی ہیں ان کے بیٹے حضرت اعوان اور حضرت محمد ان کا پیغام لے کر آئے ہیں کہ ‘‘ اللہ کے لئے ادھر مت آو‘‘ لیکن فیصلہ اٹل ہے ان دونوں کو بھی ساتھ لیتے ہیں اور سفر جاری رہتا ہے حتی کے قافلہ دشت کربلا میں پہنچ گیا اُدھر کوفہ سے گورنر ابن زیاد کا لشکر آگیا یہ لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا اور اس کو صرف ایک حکم تھا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ دو صورتیں پیش کریں کہ آپ نہ کوفہ کیطرف جاسکتے ہیں نہ مکہ یا مدینہ کی طرف مراجعت کرسکتے ہیں ان دونوں سمتوں کے علاوہ جدھر آپ جانا چاہیں اس کی اجازت ہے۔۔۔
یہاں ایک بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ یہ تیسرا راستہ کون سا ہوسکتا تھا۔۔۔ وہ راستہ تھا دمشق کا لیکن افسوس کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اُسے اختیار نہ کیا بلکہ آپ وہیں ڈٹے رہے اب عمروبن سعد کی قیادت میں مزید چار ہزار کا لشکر کوفہ پہنچ گیا اور یہ عمرو بن سد کون تھے؟؟؟۔۔۔ افسوس کہ ان کے نام کو گالی بنادیا گیا ہے یہ تھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتح ایران اور یکے از عشرہ مبشرہ کے بیٹے جن کی حضرت حسین رضی اللہ کے ساتھ قرابت داری بھی ہے وہ بھی مصالحت کی انتہائی کوشش کرتے ہیں اور گفت شنید جاری رہتی ہے اب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے تین صورتیں پیش ہوتی ہیں یعنی یہ کے یا مجھے مکہ واپس جانے دو یا مجھے کسی اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو کہ میں کفار کے خلاف جہاد وقتال میں اپنی زندگی گزروں یا میرا رستہ چھوڑ دو میں دمشق چلا جاوں، میں یزید سے اپنا معاملہ خود طے کرلوں گا لیکن اب گھیرا تنگ ہوگیا اور صورت حال یکسر بدل گئی ہے یہ بھی خوب جان لیجئے کہ اس کی اصل وجہ کیا تھی؟؟؟ِ۔۔۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے میدان کربلا میں ابن زیاد کے بھیجئے ہوئے لشکر کے سامنے جو خطبات دیئے اس میں انہوں نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ میرے پاس کوفیوں کے خطوط موجود ہیں جنہوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی تھی انہوں نے اس کوفی فوج کے بہت سے سرداروں کے نام لے لے کر فرمایا کے افلاں ابن فلاں یہ تمہارے خط ہیں کہ نہیں؟؟؟۔۔۔ جن میں تم نے مجھ سے بیعت کرنے کے لئے کوفہ آنے کی دعوت دی تھی اس پر وہ لوگ براءت کرنے لگے کہ نہیں ہم نے یہ خطوط نہیں بھیجے اب ان کی جان پر بنی ہوئی تھی کیونکہ مصالحت کی صورت میں حکومت وقت سے ان کی غداری کا جرم ثابت ہوجاتا ہے جنگ جمل اور جنگ صفین کے واقعات یاد کیجئے جہاں بھی مصالحت کی بات ہوگی وہیں سبائی فتنہ آڑے آئے گا جو اس سارے انتشار وافتراق اور خانہ جنگیوں کا بانی رہا ہے مصالحت کی صورت میں تو اُن کا کچا چٹھا کھل جاتا اور معلوم ہوجاتا کے دوستی کے پردوں میں رہ کر کون دشمنی کرتا رہا ہے اور وہ کون ہیں جو سادہ لوح عوام کو دھوکا دے کر اور خواص کو بہلا پھسلا کر مسلمان کو مسلمان کے خلاف محاذ آرا کرتے ہیں۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس کوفیوں کے بوریوں بھرے خطوط تھے مفاہمت کی صورت میں جب یہ سامنے آئے تو اُں کا حشر کیا ہوتا اس کو اچھی طرح آج بھی سمجھا جاسکتا ہے نتیجہ یہ ہوا کے ان سرداروں اور ان کے حواریوں نے مصالحت ومفاہمت کا سلسلہ جاری رہنے نہیں دیا اور عمروبن سعد کو مجبور کردیا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے شرط پیش کرے کہ یا تو غیر مشروط طور پر گرفتاری دے دیں ورنہ جنگ کیجئے۔۔۔ یہ سازشی لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مزاج سے اتنے ضرور واقف تھے کہ ان کی غیرت وحمیت غیر مشروط طور پر حوالگی کے لئے تیار نہیں ہوگی اور فی الواقع ہوا بھی یہی۔۔۔

یہاں یہ جان لیجئے کے معاملہ تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا اُن کی غیرت اُن کی حمیت اُن کی شجاعت اس توہیں وتذلیل کو ہرگز گوارنہ کرسکتی تھی لہذا انہوں نے غیرمشروط گرفتاری دینے سے انکار کردیا اور مسلح تصادم ہوکر رہا جس کے نتیجے میں سانحہ کربلا واقع ہوا داد شجاعت دیتے ہوئے آپ کے ساتھی شہید ہوئے آپ کے اعزہ واقارب نے اپنی جانیں نچھاور کیں اور آپ نے بھی تلوار چلاتے ہوئے اور دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔ ان اللہ وانا الیہہ راجعون۔۔۔

یہ ہے اصل حقیقت اس سانحہ فاجعہ کی اصل سازشی ذہن کو پہچانئے جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات کا افسانہ جس نے بھی تراشا ہے بڑی عیارانہ مہارت سے تراشا اور گھڑا اس افسانے سے حقائق گم کردیئے گئے ہیں اب ہوتا یہ ہے کہ بجائے اس کے اصل مجرم کو پوائنٹ آؤت کیا جائے کوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کا ہدف بناتا ہے تو کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس طرح یہ دونوں فریق اس سازشی سبائیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اس لئے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت مجروح ہوتی ہے تو بھی ان کا کام بنتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی مجروح ہوتی ہے تو بھی ان کے پوبارہ ہوتے ہیں یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کون ہیں؟؟؟۔۔۔ یہ ہیں ذوالنورین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد اور یکے بعد عشرہ مبشرہ اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کون ہیں؟؟؟۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور یکے از عشرہ مبشرہ۔۔۔ ان دونوں میں سے کسی کی بھی شخصیت مجروح ہوتی ہے تو اس کی زد پڑتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر جو ان دونوں کے مزکی ومربی تھے ان شخصیتوں میں اگر نقص اور عیب مانا جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت پر حرف آئے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت مبارکہ مجروح ہوگی افسوس کہ آج بھی اُن سبائیوں کا کام دونوں طرف سے بن رہا ہے۔۔۔

خوب جان لیجئے کہ ایسے تمام لوگ چاہے وہ اس کا شعور رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں سبائی ایجنٹ ہیں ہمارا موقف یہ ہے کہ‘‘ الصحابہ کلھم عدول‘‘ کوئی بدنیتی اور نفسانیت نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں تھی نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں نہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ میں نہ حضرت عمرو بن العاص میں تھی نہ حضرت ابوموسٰٰی العشری میں نہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ میں تھی نہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ میں یا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رضوان اللہ علیھم اجمعین میں ہاں ایک فتنہ تھا جس نے ہر مرحلے پر جب بھی مصالحت ومفاہمت کی صورت پیدا ہوتی نظر آتی اس کو تار پیڈو کیا اور اس کی بجائے ایسی نازک صورت حال پیدا کردی کے کشت خون ہو مسلمان ایک دوسرے کی گردنوں پر تلواریں چلائیں فتنہ اور بھڑکے حق کے سیلاب کے آگے بند باندھا جاسکے ‘‘ تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا ‘‘ والی صورت ختم ہوسکے چنانچہ کون انصاف پسند ایسا ہوگا جو نہ جانتا ہو کہ حضرت ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت سے لے کر کربلا کے سانحے فاجعہ تک مسلمانوں کی آپس میں جو مسلح آویزیش رہی اس میں درپردہ ان سبائیوں ہی کا ہاتھ تھا مستند تواریخ اس حقیقت پر شاہد ہیں البتہ ان کو نگاہ حقیقت بین اور انصآف پسندی کے ساتھ پڑھان ہوگا جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فتح ہوئی آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟؟؟۔۔۔ بالکل وہی جو ایک بیٹے کو ماں کے ساتھ کرنا چاہئے چالیس خواتیں اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لشکر کے معتبر ترین لوگوں کے ہمراہ پورے ادب واحترام کے ساتھ اُن کو مدینہ منورہ پہنچادیا۔۔۔ معلوم ہوا کہ نہ ذاتی دشمنی تھی نہ بغض وعناد۔۔۔ اور ادھر کیا ہوا؟؟؟۔۔۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ امیر یزید نے خاندان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین کو اپنی لونڈیوں بیایا؟؟؟۔۔۔ آخر وہ دمشق بھیجی گئیں لیکن وہاں کیا ہوا؟؟؟۔۔۔ ان کا پورا احترام کیا گیا ان کی دلجوئی کی گئی ان کی خاطر ومدارات کی گئی امیر یزید نے انتہائی تاسف کا اظہار کیا اور کہا کہ ابن زیاد اس حد تک نہ بھی جاتا تو بھی اس سے راضی رہ سکتا تھا کاش وہ حسین رضی اللہ عنہ کو میرے پاس آنے دیتا ہم خود ہی باہم کوئی فیصلہ کر لیتے۔۔۔ لیکن کربلا میں جو کچھ ہوا وہ اس فتنے کی وجہ سے ہوا جو کوفیوں نے بھڑکایا تھا۔۔۔وہ اپنی دوعملی اور مافقت کی پردہ پوشی کے لئے نہیں چاہتے تھے کے مصالحت ومفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو ان کو جب محسوس ہوا کہ ہماری سازش کا بھانڈا پھوٹ جائے گا تو انہوں نے وہ صورتحال پیدا کردی جو ایک نہایت دردناک اور الم انگیز انجام پر منتج ہوئی۔۔۔

یہ سانحہ فاجعہ انتہائی افسوس ناک تھا اس سے کون اختلاف کرسکتا ہے اس نے تاریخ پر جو گہرے اثر ڈالے ہیں وہ اظہر من الشمن ہیں اس کڑوے اور کسیلے پھل کا مزہ اُمت چودہ سوسال سے چکھتی چلی آرہی ہے ان دو واقعات یعنی شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور شہادت حسین رضی اللہ عنہما کی وجہ سے ہمارے درمیان افتراق، انتشار، اختلاف اور باہمی دست وگریباں ہونے کی جوفضا چلی آہی ہے اس پر اُن لوگوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جلتے ہیں جنہوں نے اس کی بنیاد ڈالی جہاں جہاں اس کے اثرات پہنچے درحقیقت کامیابی ہوئی ہے ان کو جو دراصل ان فتنوں کی آگ کو بھڑکانے والے تھے اب کوئی یزدی کے نام کو گالی بنائے پھرت ہے کسی نے ثمر کے نام کو گالی بنایا ہوا ہے کوئی عمربن سعد کے نام کو گالی بنائے ہوئے یہاں تک بات پہچنی ہے لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بھی توہین آمیز اور گستاخانہ انداز اختیار کرنے سے نہیں چوکتے اللہ تعالٰی ایسے سب لوگوں کو ہدایت دے اور ہمیں ان میں شامل وہنے سے بچائے اور اپنی پناہ میں رکھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک کو ہمیشہ نظر رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔

اللہ فی اصحابی لاتتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فبیغضی ابغضھم

وما علینا الالبلاغ۔۔۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

Friday, 8 March 2013

شہادت حسین کا نتیجہ

1 comments

شہادت حسین کا نتیجہ
صحابہ سے بدگمانی اور بدعات محرم کا ظہور: شہادت حسین کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقعہ مل گیا۔ چنانچہ کچھ لوگ یوم عاشوراء میں نوحہ وماتم کرتے ہیں، منہ پیٹتے ہیں، روتے چلاتے ہیں، بھوکے پیاسے رہتے ہیں، مرثیے ہیں، یہی نہیں بلکہ سلف و صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، لعنت کرتے ہیں، اور ان بے گناہ لوگوں کو لپیٹ لیتے ہیں جنہیں واقعات شہادت سے دورونزدیک کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ ((وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ )) کو بھی گالیاں دیتے ہیں پھر واقعۂ شہادت کی جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر اکاذیب واباطیل کا مجموعہ ہیں اور ان کی تصنیف واشاعت سے ان کےمصنفوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ فتنہ کے نئے نئے دروازے کھلیں۔ اور امت میں پھوٹ بڑھتی جائے۔ یہ چیز باتفاق جملہ اہل اسلام نہ واجب ہے نہ مستحب، بلکہ اس طرح رونا پیٹنا اور پرانی مصیبتوں پر گریہ و زاری کرنا اعظم ترین محرمات دینیہ میں سے ہے۔
پھر ان کے مقابلے میں دوسرا فرقہ ہے جو یوم عاشوراء میں مسرت اور خوشی کی بدعت کرتا ہے۔ کوفہ میں یہ دونوں گروہ موجود تھے۔ شیعوں کا سردار مختار بن عبید تھا اور ناصبیوں کا سرگروہ حجاج بن یوسف الثقفی تھا۔
واقعاتِ شہادت میں مبالغہ: جن لوگوں نے واقعاتِ شہادت قلم بند کیے ہیں ان میں اکثر نے بہت کچھ جھوٹ ملا دیا ہے۔ جس طرح شہادت ِ عثمان بیان کرنے والوں نے کیا اور جیسے مغازی وفتوحات کے راویوں کا حال ہے حتی کہ واقعاتِ شہادت کے مؤرخین میں سے بعض اہل علم مثلاً بغوی اور ابن ابی الدنیا وغیرہ بھی بے بنیاد روائتوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ رہے وہ مصنف جو بلا اسناد واقعات روایت کرتے ہیں توان کے ہاں جھوٹ بہت زیادہ ہے۔
دندان مبارک پر چھڑی مارنے کا واقعہ: صحیح طور پر صرف اس قدر ثابت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو آپ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے سامنے لایا گیا۔ اس نے اپ کے دانتوں پر چھڑی ماری اور آپ کے حسن کی مذمت کی۔ مجلس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ دوصحابی موجود تھے انس رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید کی اور کہا۔ "آپ رسول ا للہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔" صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ اور صحابہ کو بھی آپ کی شہادت سے از حد ملال تھا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے پوچھا کہ حالت احرام میں مکھی کا جائز ہے؟ انہوں نے خفا ہوکر جواب دیا:
"اے اہل عراق تمہیں مکھی کی جان کا اتنا خیال ہے حالانکہ تم رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو قتل کرچکے ہو۔"
بعض روائتوں میں دانتوں پر چھڑی مارنے کا واقعہ یزید کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو بالکل غلط ہے کیونکہ جو صحابی اس واقعے میں موجود تھے وہ دمشق میں نہیں تھے عراق میں تھے۔
یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا: متعدد مؤرخین نے جو نقل کیا ہے وہ یہی ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ یہ بات ہی اس کے پیش نظر تھی بلکہ وہ تو اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کی تعظیم وتکریم کرنا چاہتا تھا۔ البتہ اس کی یہ خواہش تھی کہ آپ خلافت کے مدعی ہوکر اس پر خروج نہ کریں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب کربلا پہنچے اور آپ کو اہل کوفہ کی بے وفائی کا یقین ہوگیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہوگئے تھے۔ مگرمخالفوں کی بے وفائی کا یقین ہوگیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہوگئے تھے۔ مگر مخالفوں نے نہ انہیں وطن واپس ہونے دیا، نہ جہاد پر جانے دیا اور نہ یزید کے پاس بھیجنے پر رضامند ہوئے بلکہ قید کرنا چاہا جسے آپ نے نامنظور کیا اور شہید ہوگئے۔ یزید اور اس کے خاندان کو جب یہ خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور روئے بلکہ یزید نے تو یہاں تک کہا۔
((قبح اللہ ابن مرجانۃ لو کانت بینہ وبینکم رحم أو قرابۃ ما فعل ھٰذا بکم)) (تاریخ الطبری: ۳۵۳/۴ والبدایۃ: ۱۹۳/۸)
"(عبیداللہ بن زیاد ) پر اللہ کی پھٹکار! واللہ! اگر وہ خود حسین رضی اللہ عنہ کا رشتہ دار ہوتا تو ہرگز قتل نہ کرتا۔"
اور کہا:
((قد کنت أرضیٰ من طاعۃ أہل العراق بدون قتل الحسین))
"بغیر قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بھی میں اہل عراق کی اطاعت منظور کرسکتا تھا۔"
پھراس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پسماندگان کی بڑی خاطر تواضع کی اور عزت کے ساتھ انہیں مدینہ واپس پہنچا دیا۔
یزید نے اہل بیت کی بے حرمتی نہیں کی: بلاشبہ یہ بھی درست ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرفداری بھی نہیں کی، نہ ان کے قاتلوں کو قتل کیا نہ ان سے انتقام لیا۔ لیکن یہ کہنا بالکل سفید جھوٹ ہے کہ اس نے اہل بیت کی خواتین کو کنیز بنایا۔ ملک ملک پھرایا اور بغیر کجاوہ کے انہیں اونٹوں پر سوار کیا۔ الحمد للہ مسلمانوں نے آج تک کسی ہاشمی عورت سے یہ سلوک نہیں کیا اور نہ اسے امت محمد (ﷺ) نے کسی حال میں جائز رکھا ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا گناہ عظیم: یہ بالکل درست ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت عظیم ترین گناہوں میں سے ایک گناہ تھی۔ جنہوں نے یہ فعل کیا، جنہوں نے اس میں مدد کی، جو اس سے خوش ہوئے وہ سب کے سب اس عتاب الہٰی کے سزاوار ہیں جو ایسے لوگوں کےلیے شریعت میں وارد ہے لیکن حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ان لوگوں کےقتل سے بڑھ کر نہیں جو ان سے افضل تھے۔ مثلاً انبیاء ، مؤمنین اولین، شہداء یمامہ، شہداء اُحد، شہداء بئر معونہ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاتل تو آپ کو کافر و مرتد سمجھتے اور یقین کرتے تھے کہ آپ کا قتل عظیم ترین عبادت ہے۔برخلاف حسین رضی اللہ عنہ کے کہ ان کے قاتل انہیں ایسا نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں اکثر تو آپ کے قتل کو ناپسند کرتے اور ایک بڑا گناہ تصور کرتے تھے لیکن اپنی اغراض کی خاطر اس فعل شنیع کے مرتکب ہوئے جیسا کہ لوگ سلطنت کے لیے باہمی خونریزی کرتے ہیں۔
یزید پر لعنت بھیجنے کا مسئلہ: رہا سوال یزید پر لعنت کرنے کا تو واقعہ یہ ہے یہ ہے کہ یزید بھی بہت سے دوسرے بادشاہوں اور خلفاء جیسا ہی ہے بلکہ کئی حکمرانوں سے وہ اچھا تھا۔ وہ عراق کے امیر "مختار بن ابی عبید الثقفی" سے کہیں اچھا تھا۔ جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت کا علم بلند کیا۔ ان کے قاتلوں سے انتقام لیا مگر ساتھ ساتھ یہ دعوی کیا کہ جبرائیل اس کے پاس آتے ہیں، اسی طرح یزید حجاج بن یوسف سے اچھا تھا جو بلانزاع یزید سے کہیں زیادہ ظالم تھا۔ یزید اور اس جیسے دوسرے سلاطین و خلفاء کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فاسق تھے۔
لعنت کے بارے میں مسئلہ شرعیہ: لیکن فاسق کو معین کرکے لعنت کرنا سنت نبوی ﷺ میں موجود نہیں البتہ عام لعنت وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمایا:
((لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ )) (صحیح البخاری، الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، ح:۶۷۸۳ وصحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ ونصابہا، ح:۱۶۸۷)
"چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے۔"
فرمایا:
((فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ )) (صحیح البخاری، الجزیۃ والموادعۃ ، باب إثم من عاھد ثم غدر، ح:۳۱۷۹)
"جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت۔"
یامثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص شراب پیتا تھا اور باربار نبی ﷺ کے پاس پکڑا آتا تھا یہاں تک کہ کئی پھیرے ہوچکے تو ایک شخص نے کہا:
((اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ )) 
"اس پر اللہ کی لعنت کہ باربار پکڑ کر دربار رسالت میں پیش کیا جاتا ہے۔"
آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا:
((لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ)) (صحیح البخاری، الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر۔۔۔، ح: ۶۷۸۰)
حالانکہ آپ نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں اور معلوم ہے کہ ہر مومن اللہ اور رسول سے ضرور محبت رکھتا ہے۔
یزید پر لعنت سے پہلے دو چیزوں کا اثبات ضروری ہے: صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ بالآخر دوزخ سے نجات پائے گا۔
بنابریں جو لوگ یزید کی لعنت پر زور دیتے ہیں انہیں دو باتین ثابت کرنی چاہئیں۔ اول یہ کہ یزید ایسے فاسقوں اور ظالموں میں سے تھا جن پر لعنت کرنا مباح ہے۔ اور اپنی اس حالت پر موت تک رہا۔ دوسرے یہ کہ ایسے ظالموں اور فاسقوں میں سے کسی ایک کو معین کرکے لعنت کرنا روا ہے۔ رہی آیت أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (ہود: ۱۸/۱۱) تو یہ عام ہے جیسا کہ باقی تمام آیات وعید عام ہیں۔ اور پھر ان آیتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے یہی کہ یہ گناہ لعنت اور عذاب کا مستوجب ہے؟ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے اسباب آکر لعنت وعذاب کے اسباب کو دور کردیتے ہیں مثلاً گناہ گار نے سچے دل سے توبہ کرلی یا اس سے ایسی حسنات بن آئیں جو سیئات کو مٹا دیتی ہیں۔ یا ایسے مصائب پیش آئے جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ بنابریں کون شخص دعویٰ کرسکتا ہے کہ یزید اور اس جیسے بادشاہوں نے توبہ نہیں کی، یا سیئات کو دور کرنے والی حسنات انجام نہیں دیں یا گناہوں کاکفارہ ادا نہیں کیا، یا یہ کہ اللہ کسی حال میں بھی انہیں نہیں بخشے گا۔ حالانکہ وہ خود فرماتا ہے:
إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ (النساء: ۴۸/۴)
پھر صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"سب سے پہلے قسطنطنیہ پر جو فوج لڑے گی وہ مغفور ہے۔" (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب ماقیل فی قتال الروم، ح:۲۹۲۴)
اور معلوم ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس فوج نے قسطنطنیہ پر لڑائی کی اس کا سپہ سالار یزید ہی تھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یزید نے یہ حدیث سن کر ہی فوج کشی کی ہوگی، بہت ممکن ہے کہ یہ بھی صحیح ہو لیکن اس سے اس فعل پر کوئی نکتہ چینی نہیں کی جاسکتی۔
لعنت کا دروازہ کھولنے کے نتائج: پھر ہم خوب جانتے ہیں کہ اکثر مسلمان کسی نہ کسی طرح کے ظلم سے ضرور آلودہ ہوتے ہیں اگر لعنت کا دروازہ اس طرح کھول دیا جائے تو مسلمانوں کے اکثر مردے لعنت کا شکار ہوجائیں گےحالانکہ اللہ تعالیٰ نے مردہ کے حق میں صلاۃ ودعا کا حکم دیا ہے نہ کہ لعنت کرنے کا ۔
نبی ﷺ نے فرمایا ہے:
((لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا )) (صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من سب الأموات، ح:۱۳۹۳)
"مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے۔"
بلکہ جب لوگوں نے ابو جہل جیسے کفار کو گالیاں دینی شروع کیں تو انہیں منع کیا اور فرمایا:
((لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا )) (سنن النسائی، القسامۃ، القود من اللطمۃ، ح:۴۷۷۹)
"ہمارے مرے ہوؤں کو گالیاں مت دو کیونکہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔"
یہ اس لیے کہ قدرتی طور پر ان کے مسلمان رشتہ دار برا مانتے تھے۔ امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے صالح نے کہا ألا تلعن یزید؟ آپ یزید کو لعنت کیوں نہیں کرتے؟ حضرت امام نے جواب دیا: متیٰ رأیت أباک یلعن أحداً "تو نے اپنے باپ کو کسی پر بھی لعنت کرتے کب دیکھا تھا۔"
قرآن کریم کی آیت:
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ *أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ * (محمد ۲۲/۴۸۔۲۳)
"کیا تم سے بعید ہے کہ اگر جہاد سے پیٹھ پھیرلو تو لگو ملک میں فساد کرنے اور اپنے رشتے توڑنے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔"
سے خاص یزید کی لعنت پر اصرار کرنا خلاف انصاف ہے۔ کیونکہ یہ آیت عام ہے اور اس کی وعید ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو ایسے افعال کے مرتکب ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے یہ افعال صرف یزید ہی نے نہیں کیے بلکہ بہت سے ہاشمی، عباسی ، علوی بھی ان کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگر اس آیت کی رو سے ان سب پر لعنت کرنا ضروری ہو تو اکثر مسلمانوں پر لعنت ضروری ہوجائے گی۔ کیوں کہ یہ افعال بہت عام ہیں مگر یہ فتویٰ کوئی بھی نہیں دےسکتا۔
قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات: رہی وہ روایت جو بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل آگ کے تابوت میں ہوگا۔ اس اکیلے پر آدھی دوزخ کا عذاب ہوگا اس کے ہاتھ پاؤں آتشی زنجیروں سے جکڑے ہوں گے وہ دوزخ میں الٹا اتارا جائے گایہاں تک کہ اس کی تہ تک پہنچ جائے گا اور اس میں اتنی سخت بدبو ہوگی کہ دوزخی تک اللہ سے پناہ مانگیں گے وہ ہمیشہ دوزخ میں پڑا جلتا رہے گا۔"
تو یہ روایت بالکل جھوٹی ہے اورا ن لوگوں کی بنائی ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر تہمت باندھنے سے نہیں شرماتے۔ کہاں آدھی دوزخ کا عذاب، اور کہاں ایک حقیر آدمی؟ فرعون اور دوسرے کفار ومنافقین، قاتلین انبیاء او ر قاتلین مومنین اولین کا عذاب قاتلین حسین سے کہیں زیادہ سخت ہوگا بلکہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا گناہ بھی حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے زیادہ ہے۔
اہل سنت کا مسلک معتدل: حسین رضی اللہ عنہ کی طرفداری میں اس غلو کا جواب ناصبیوں کا غُلُو ہےجو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کا مصداق قرار دے کر
((فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ )) (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین وہو مجتمع، ح:۱۸۵۲)
انہیں باغی اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ لیکن اہل سنت والجماعت نہ اس کا ساتھ دیتے ہیں نہ اس غلو کا۔ بلکہ یہ کہتےہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے اور ان کے قاتل ظالم و سرکش تھے۔ اور ان احادیث کا اطلاق ان پر صحیح نہیں جن میں تفریق بین المسلمین کرنے والے کے قتل کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ کربلا میں آپ کا قصد امت میں پھوٹ ڈالنا نہ تھا، بلکہ آپ جماعت ہی میں رہنا چاہتے تھے مگر ظالموں نے آپ کا کوئی مطالبہ نہ مانا، نہ آپ کو وطن واپس ہونے دیا، نہ سرحد پر جانے دیا۔ نہ خود یزید کے پاس پہنچنے دیا بلکہ قید کرنے پر اصرار کیا۔ ایک معمولی مسلمان بھی اس برتاؤ کا مستحق نہیں ہوسکتا کجا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۔
اسی طرح یہ روایت بھی رسول اللہ ﷺ پر سفید جھوٹ ہے۔
"جس نے میرے اہل بیت کا خون بہایا اور میرے خاندان کواذیت دے کر مجھے تکلیف پہنچائی اس پر اللہ کا اور میرا غصہ ہوگا۔"
اس طرح کی بات رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے کہیں بھی نہیں نکل سکتی تھی۔ کیونکہ رشتہ داری اور قرابت سے زیادہ ایمان اور تقوی کی حرمت ہے اگر اہل بیت میں سے کوئی ایسا شخص جرم کرے جس پر شرعاً اس کا قتل واجب ہو تو بالاتفاق اسے قتل کرڈالا جائے گا۔ مثلاً اگر کوئی ہاشمی چوری کرے تو یقیناً اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر زنا کا مرتکب ہوتو سنگسار کردیا جائے گا۔ اگر جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو قتل کرڈالے تو قصاص میں اس کی بھی گردن ماری جائے گی۔اگرچہ مقتول حبشی، رومی ، ترکی دیلمی غرض کوئی بھی ہو۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ)) (سنن أبی داؤد، الجہاد، باب فی السریۃ۔۔۔، ح:۲۷۵۱)
"یعنی تمام مسلمانوں کا خون یکساں حرمت رکھتا ہے۔"
پس ہاشمی وغیر ہاشمی کا خون برابر ہے۔
اسلامی مساوات: نیز فرمایا:
((إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا)) (صحیح البخاری،أحادیث الأنبیاء، باب:۵۴، ح:۳۴۷۵ وصحیح مسلم، الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہ۔۔۔، ح:۱۶۸۸)
"اگلی قومیں اس طرح ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو چھوڑ دیا جاتا تھا۔ لیکن جب معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی۔ واللہ! اگر فاطمہ بنت محمدﷺ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔"
اس میں نبیﷺ نے تشریح کردی ہے کہ اگر آپ کا قریب سے قریب عزیز بھی جرم سے آلودہ ہوگا تو اسے شرعی سزا ضرور ملے گی۔
کسی خاندان کی خصوصیت ثابت نہیں: پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ نبی ﷺ یہ کہہ کر اپنے خاندان کو خصوصیت دیں کہ جو ان کا خون بہائے گا۔ اس پر اللہ کا غصہ بھڑکے گا۔ کیونکہ یہ بات پہلے ہی مسلم ہے کہ ناحق قتل شریعت میں حرام ہے، عام اس سے کہ ہاشمی کا ہو یاغیر ہاشمی کا:
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً (النساء ۹۳/۴)
پس قتل کی اباحت و حرمت میں ہاشمی و غیر ہاشمی، سب مسلمان یکساں درجہ رکھتے ہیں۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینا حرام ہے عام اس سے کہ آپ کے خاندان کو تکلیف دے کر ہو یا امت کو ستا کر، یا سنت کو توڑ کر۔ اب واضح ہوگیا کہ اس طرح کی بے بنیاد حدیثیں جاہلوں اور منافقوں کے سوا کوئی اور نہیں بیان کرسکتا۔
اسی طرح یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین سے نیک سلوک کی مسلمانوں کو ہمیشہ وصیت کرتے اور فرماتے تھے۔ "یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں۔" بالکل غلط ہے۔
بلا شبہ حضرت حسن و حسین اہل بیت میں بڑا درجہ رکھتے ہیں لیکن نبی ﷺ نے یہ کبھی نہین فرمایا کہ "حسنین تمہارے پاس میری امانت ہیں۔" رسول اللہ ﷺ کامقام اس سے کہیں ارفع واعلیٰ ہے کہ اپنی اولاد مخلوق کو سونپیں۔
ایسا کہنے کے دو ہی مطلب ہوسکتے ہیں۔
۱۔ یہ کہ جس طرح مال امانت رکھا جاتاہے اور اس کی حفاظت مقصود ہوتی ہے تو یہ صورت تو ہو نہیں سکتی کیونکہ مال کی طرح آدمی امانت رکھے نہیں جاسکتے۔
۲۔ یا یہ مطلب ہوگا کہ جس طرح بچوں کو مربیوں کے سپرد کیا جاتا ہے ۔ تو یہ صورت بھی یہان درست نہیں ہوسکتی کیونکہ بچپن میں حسنین اپنے والدین کی گود میں تھے۔ اور جب بالغ ہوئے تو اور سب آدمیوں کی طرح خودمختار اور اپنےذمہ دار ہوگئے۔
اگر یہ مطلب بیان کیاجائے کہ نبی ﷺ نے امت کو ان کی حفاظت و حراست کا حکم دیا تھا تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ امت کسی کو مصیبت سے بچا نہیں سکتی۔ وہ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔
اگر کہا جائے کہ اس سے آپ کی غرض ان کی حمایت ونصرت تھی۔ تو اس میں ان کی خصوصیت نہیں۔ ہر مسلمان کو دوسرے مظلوم مسلمان کی حمایت ونصر ت کرنی چاہیے اور ظاہرہے حسنین اس کے زیادہ مستحق ہیں۔
اسی طرح یہ کہنا کہ آیت:
قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (الشوری ۲۳/۴۲)"میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتاہوں صرف رشتہ داری کی محبت چاہتا ہوں۔"
حسنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، بالکل جھوٹ ہے کیونکہ یہ آیت سورۃ شوری کی ہے اور سورۂ شوری مکی ہے اور حسنین کیا معنی ؟ حضرت فاطمہ کی شادی سے بھی پہلے اتری ہے۔ آپ کا عقد ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں ہوا اور حسن و حسین ہجرت کے تیسرے اور چوتھے سال پیدا ہوئے۔ پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔؟ (منہاج السنہ از صفحہ: ۲۳۷ تا ۲۵۶، ج: ۲، طبع قدیم)

سانحۂ کربلا اور حضرت حسین و یزید

0 comments


سانحۂ کربلا اور حضرت حسین و یزید
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی نظر میں
اقتباس از رسومات محرم الحرام اور سانحۂ کربلا 
تاليف حافظ صلاح الدين يوسف حفظہ اللہ
چسپاں موضوع


سانحۂ شہادت حسین اور واقعات کربلا کے موضوع پر آج سے کئی صدیاں قبل شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (۶۶۱۔۷۲۸ھ) نے جو کچھ لکھا تھا، وہ حق واعتدال کا ایک بہترین نمونہ، دلائل و براہین کا نادر مرقع اور خداداد فہم صحیح کا شاہکار ہے، انہوں نے اپنی تالیفات میں متعدد مقامات پر اس کو موضوع بحث بنایا ہے۔ بالخصوص "منہاج السنۃ" میں اس پر بڑی عمدہ بحث فرمائی ہے جس کی ضروری تلخیص مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی مرحوم نے اردو میں کرکے شائع کر دی تھی۔ اس کیااہمیت و افادیت کے پیش نظر ہم ذیل میں امام موصوف کی وہ ترجمہ شدہ تحریر بھی قدرے ترمیم کے ساتھ پیش کررہے ہیں ، آیات و احادیث کے عربی الفاظ کا، اصل کتاب سے مراجعت کرکے، ہم نے اضافہ کردیا ہے۔ (مرتب)
تمہید: علماء اسلام میں کوئی ایک بھی یزید بن معاویہ کو ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کی طرح خلفائے راشدین میں سے نہیں سمجھتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ:
((خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ ثم یؤتی اللہ الملک من یشآء)) (سنن أبی داؤد، السنۃ، باب فی الخلفاء، ح:۴۶۴۷)
"خلافت تیس برس تک منہاج نبوت پر رہے گی پھر سلطنت ہوجائے گی۔"
علماء اہل سنت اس حدیث کے مطابق یزید اور اس جیسے آدمی اور عباسی خلفاء کو محض فرمانروا بادشاہ اور اسی معنی میں خلیفہ خیال کرتے ہیں۔ ان کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہ ایک محسوس واقعہ ہے جس سے انکار غیر ممکن ہے کیونکہ یزید اپنے زمانے میں عملاً ایک بادشاہ، حکمران، ایک صاحب سیف اور خودمختار فرمانروا تھا۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد تخت پر بیٹھا اور شام، مصر، عراق خراسان وغیرہ اسلامی ممالک میں اس کا حکم نافذ ہوا۔ حضرت حسین قبل اس کے کہ کسی ملک پر بھی حاکم ہوں، یوم عاشوراء ۶۱ھ میں شہید ہوگئے اور یہی یزید کی سلطنت کا پہلا سال ہے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر: بلاشبہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید سے اختلاف کیا اور باشندگان مکہ وحجاز نے ان کا ساتھ دیا لیکن یہ واقعہ ہے کہ حضرت عبداللہ نے خلافت کا دعوی یزید کی زندگی میں نہیں کیا بلکہ اس کے مرنے کے بعد کیا۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ شروع شروع میں اختلاف کرنے کےباوجود عبداللہ بن زبیر یزید کے جیتے جی ہی اس کی بیعت پر رضا مند ہوگئے تھے مگر چونکہ اس نے یہ شرط لگا دی تھی کہ قید ہوکر ان کے حضور میں حاضر ہوں اس لیے بیعت رہ گئی اور باہم جنگ برپا ہوئی۔ پس اگرچہ یزید تمام بلاد اسلامیہ کا حکمران نہیں ہوا۔ اور عبداللہ بن زبیر کا ماتحت علاقہ اس کی اطاعت سے برابر گشتہ رہا، تاہم اس سے اس کی بادشاہت اور خلافت میں شبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ خلفائے ثلاثہ ابو بکر، عمر، عثمان اور پھر معاویہ بن ابی سفیان ، عبدالملک بن مروان اور اس کی اولاد کے سوا کوئی بھی اموی یا عباسی خلیفہ پورے بلاد اسلامیہ کا تنہا فرمانروا نہیں ہوا۔ حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی تمام دنیائے اسلام کی حکومت نہ تھی۔
بادشاہوں پر خلیفہ کا اطلاق؟ پس اگر اہل سنت ان بادشاہوں میں سے کسی کو خلیفہ یا امام کہتے ہیں تو اس سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں خودمختار تھا، طاقتور تھا، صاحب سیف تھا۔ عزل ونصب کرتا تھا، اپنے حکام کے اِجراء کی قوت رکھتا تھا۔ حدود شرعی قائم کرتا تھا کفار پر جہاد کرتا تھا۔ یزید کو بھی امام و خلیفہ کہنے سے یہی مطلب ہے اور یہ ایک ایسی واقعی بات ہے کہ اس کا انکار غیر ممکن ہے۔ یزید کے صاحب اختیار بادشاہ ہونے سے انکار کرناایسا ہی ہے جیسے کوئی اس واقعے سے انکار کردے کہ ابو بکر، عمر، عثمان حکمران نہیں تھے یا یہ کہ قیصر و کسریٰ نے کبھی حکومت نہیں کی۔
یہ "خلفاء معصوم نہ تھے: رہا یہ مسئلہ کہ یزید ، عبدالملک، منصور وغیرہ خلفاء نیک تھے یا بد؟ صالح تھے یا فاجر؟ تو علماء اہل سنت نہ انہیں معصوم سمجھتے ہیں نہ ان کے تمام احکام و اعمال کو عدل و انصاف قرار دیتے ہیں اور نہ ہر بات میں ان کی اطاعت واجب تصور کرتے ہیں۔البتہ اہل سنت والجماعت کا یہ خیال ضرور ہے کہ عبادت و طاعت کے بہت سے کام ایسے ہیں جن میں ہمیں ان کی ضرورت ہے ۔ مثلاً یہ کہ ان کے پیچھے جمعہ وعیدین کی نمازیں قائم کی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ کفار پر جہاد کیا جاتا ہے امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حدود شرعیہ کے قیام میں ان سے مدد ملتی ہے نیز اسی نوع کے دوسرے معاملات ہیں، اگر حکام نہ ہوں تو ان اعمال کا ضائع ہوجانا اغلب ہے بلکہ ان میں سے بعض کا موجود ہونا ہی غیر ممکن ہے۔
نصب امام کے چند اصول: اہل سنت کے اس طریقہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اعمال صالحہ انجام دینے میں اگر نیکوں کے ساتھ برے بھی شامل ہوں تو اس سے نیکوں کے عمل کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بلاشبہ یہ بالکل درست ہے کہ اگر عادل صالح امام کا نصب ممکن ہو تو فاجر و مبتدع شخص کو امام بنانا جائز نہیں، اہل سنت کا بھی یہی مذہب ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو بلکہ امامت کے دونوں مدعی فاجر اور مبتدع ہوں تو ظاہر ہے کہ حدود شرعیہ وعبادات دینیہ کے قیام کےلیے دونوں میں سے زیادہ اہلیت و قابلیت والے کو منتخب کیا جائے گا۔ ایک تیسری صورت بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی ایسا شخص موجود ہو جو صالح ہو مگر سپہ سالاری کے فرائض و واجبات ادا کرنے کا اہل نہ ہو۔ اس کے خلاف ایک فاجر شخص ہو جو بہترین طریق پر فوجون کی قیادت کرسکتا ہو تو جس حد تک جنگی مقاصد کا تعلق ہے، یقیناً اسی آخر الذکر یعنی فاجر کو سربراہ بنانا پڑے گا۔ نیکی کے کاموں میں اس کی اطاعت و امداد کی جائے گی۔ بدی اور برائی میں اس پر اعتراض و انکار کیا جائے گا۔
حفظ مصالح اور دفع مفاسد: غرض امت کی مصلحتوں کا لحاظ مقدم ہے اگر کسی فعل میں بھلائی اور برائی دونوں موجود ہوں تو دیکھا جائے گا کہ کس کا پلہ بھاری ہے اگر بھلائی زیادہ نظر آئے تو اس فعل کو پسند کیا جائے گا۔ اگر برائی غالب دکھائی دے تو اس کے ترک کو ترجیح دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے نبیٔ کریم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ مصالح کی تائید وتکمیل فرمائیں اور مفاسد مٹائیں یا کم کریں۔ یزید ، عبدالملک اور منصور جیسے خلفاء کی اطاعت اسی لیے کی گئی کہ ان کی مخالفت میں امت کےلیے نقصان ، نفع سے زیادہ تھا۔ تاریخ شاہد ہےکہ ان خلفاء پر جن لوگوں نے خروج کیا ان سے امت کو سراسر نقصان ہی پہنچا، نفع ذرا بھی نہیں ہوا۔ بلاشبہ ان خروج کرنے والوں میں بڑے بڑے اخیار وفضلاء بھی شامل تھے مگر ان کی نیکی وخوبی سے ان کا یہ فعل لازماً مفید نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اپنے خروج سے نہ دین کو فائدہ پہنچایا اور نہ دنیوی نفع ہی حاصل کیا۔ اور معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے فعل کا حکم نہیں دیتا جس میں نہ دنیا کا بھلا ہو نہ دین کا، جن لوگوں نے خروج کیا ان سے کہیں زیادہ افضل حضرت علی ، طلحہ ، زبیر، عائشہ وغیرہم صحابہ تھے مگر خود انہوں نے اپنی خونریزی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
عہد فتن میں خروج کی ممانعت: یہی وجہ ہے کہ حسن بصری حجاج بن یوسف ثقفی کے خلاف بغاوت سے روکتے تھے اور کہتے تھے "حجاج اللہ کا عذاب ہے اسے اپنے ہاتھوں کے زور سے دور کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اللہ کے سامنے تضرع و زاری کرو کیونکہ اس نے فرمایا ہے:
وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ  (المؤمنون ۷۶/۲۳)
"ہم نے ان کی عذاب کے ذریعے گرفت کی۔ انہوں نے پھر بھی اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی کا اظہار کیا اور نہ اس کے حضور گڑگڑائے۔"
اسی طرح اور اخیار وابرار بھی خلفاء پر خروج اور عہد فتنہ میں جنگ سے منع کیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر، سعید بن المسیب، حضرت زین العابدین، علی بن حسین وغیرہم اکابر صحابہ وتابعین جنگ حرہ کے زمانے میں یزید کے خلاف بغاوت کرنے سے روکتے تھے۔ احادیث صحیحہ بھی اسی مسلک کی مؤید ہیں اسی لیے اہل سنت کے نزدیک یہ تقریباً متفق علیہ مسئلہ ہے کہ عہدفتن میں قتال وجدال سے اجتناب اور جور ائمہ پر صبر کیا جائے، وہ یہ مسئلہ اپنے عقائد میں بھی ذکر کرتے رہے ہیں اور جو شخص متعلقہ احادیث اور اہل سنت کے صاحب بصیرت علماء کے طرز عمل وفکر میں تامل کرے گا اس پر اس مسلک کی صحت و صداقت بالکل واضح ہوجائے گی۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عزم عراق: اسی لیے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق جانے کا رادہ کیا تو اکابر اہل علم وتقویٰ مثلاً عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس ، ابوبکر بن عبدالرحمن حارث نے ان سے بہ منت کہا کہ وہاں نہ جائیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے آپ ضرور شہید ہوجائیں گے۔ حتی کہ روانگی کے وقت بعضوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ استودعک اللہ من قتیل "اے شہید! ہم تجھے اللہ کو سونپتے ہیں۔"
اور بعضوں نے کہا:
((لو الشناعۃ لأمسکتک ومنعتک من الخروج))
"اگر بے ادبی نہ ہوتی تو ہم آپ کو زبردستی پکڑ لیتے اور ہرگز جانے نہ دیتے۔"
اس مشورے سے ان لوگوں کےمدنظر صرف آپ کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی مصلحت تھی مگر حضرت حسین اپنے ارادے پر قائم رہے۔آدمی کی رائے کبھی درست ہوتی ہے اور کبھی غلط ہوجاتی ہے۔ بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ حضرت حسین کو عراق جانے سے روکنے والوں ہی کی رائے درست تھی کیونکہ آپ کے جانے سے ہرگز کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت حاصل نہ ہوئی بلکہ یہ مضرت پیدا ہوئی کہ سرکشوں اور ظالموں کو رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشے پر قابو مل گیا اور وہ مظلوم شہید کردیئے گئے۔ آپ کے جانے اور پھر قتل سے جتنے مفاسد پیدا ہوئے وہ ہرزگ واقع نہ ہوتے اگر آپ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے کیونکہ جس خیر وصلاح کے قیام اور شروفساد کے دفعیہ کےلیے آپ اٹھے تھے اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ برعکس اس کے شر کو غلبہ اور عروج حاصل ہوگیا۔ خیرو وصلاح میں کمی آگئی اور بہت بڑے دائمی فتنے کا دروازہ کھل گیا جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے فتنے پھیلے اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے بھی فتنوں کے سیلاب بہادیئے۔
حضرت حسین کا مقام بلند: اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ٔ کریم ﷺ کا ائمہ و خلفاء کے ظلم پر صبر کرنے اور ان سے جنگ وبغاوت نہ کرنے کا حکم مناسب اور امت کے دین ودنیا کےلیے زیادہ بہتر تھا اور جنہوں نے بالقصد یا بلا قصد اس کی مخالفت کی۔ ان کے فعل سے امت کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ یہی سبب ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تعریف میں فرمایا تھا:
((إٍنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ)) (صحیح البخاری، الصلح، ح:۲۷۰۴)
"میرا یہ فرزند سردا رہے عنقریب خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔"
لیکن اس بات پر کسی شخص کی بھی تعریف نہیں کی کہ وہ فتنہ میں پڑے گا یا خلفاء پر خروج کرے گا یا اطاعت سے برگشتہ یا جماعت سے منحرف ہوگا۔ اس حدیث سے صاف ثابت ہوتاہے کہ دو گروہوں میں صلح کرانا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں مستحسن ومحبوب ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت سے دستبردار ہوکر مسلمانوں کی خونریزی کا خاتمہ کردینا ان کے فضائل میں ایک عظیم ترین فضیلت ہے کیونکہ اگر خانہ جنگی واجب و مستحب ہوتی تو آنحضرتﷺ اس کے ترک پر ہرگز تعریف نہ فرماتے۔
یہاں یہ معلوم کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ نبی ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک ساتھ گود میں لے کر فرمایا کرتے تھے۔ "اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی محبت کر۔" چنانچہ جس طرح آپ اپنی محبت میں دونوں کو یکساں شریک کرتے تھے اسی طرح بعد میں یہ دونوں ان خانہ جنگیوں سے یکساں طور پر نفرت کرتے تھے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو جنگ صفین کے دن اپنے گھر بیٹھ رہے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے پدر برادر (حضر ت علی اور حسین رضی اللہ عنہما) کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ پھر جب خود بااختیار ہوئے تو جنگ سے دستبردار ہوگئے اور لڑنے والوں میں صلح قائم کردی۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی آخر میں یہ حقیقت روشن ہوگئی تھی کہ جنگ کے جاری رہنے سے زیادہ اس کے ختم ہوجانے میں مصلحت ہے۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی کربلا پہنچ کر جنگ سے بیزار اور سرے سے دعویٰ ٔ امارت وخلافت ہی سے دستبردار ہوگئے تھے اور کہتے تھے "مجھے وطن لوٹ جانے دو۔"
اطاعت فی المعروف: اب یہ بات صاف ہوگئی کہ یزید کا معاملہ کوئی خاص جداگانہ معاملہ نہیں بلکہ دوسرے مسلمان بادشاہوں کا سا معاملہ ہے یعنی جس کسی نے طاعت الہٰی مثلاً نماز، حج، جہاد، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اقامت حدود شرعیہ میں ان کی موافقت کی اسے اپنی اس نیکی اور اللہ ورسول کی فرمانبرداری پر ثواب ملے گا۔ چنانچہ اس زمانے کے صالح مؤمنین مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کا یہی طریقہ تھا۔ لیکن جس نے ان بادشاہوں کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم میں مددگار ہوا، وہ گناہ گار ہوا اور زجر وتوبیخ اور مذمت اور سزا کا سزاوار ۔ یہی باعث ہے کہ صحابہ ٔ کرام یزید وغیرہ امراء کی ماتحتی میں جہاد کو جاتے تھے۔ چنانچہ جب یزید نے اپنے باپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں قسطنطنیہ کا غزوہ کیا تو اس کی فوج میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی شریک تھے۔ یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی فوج ہے جس نے قسطنطنیہ کا غزوہ کیا(1) اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
((أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ )) (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم، ح:۲۹۲۴)
"جو فوج سب سے پہلے قسطنطنیہ کا غزوہ کرے گی وہ مغفور یعنی بخشی بخشائی ہے۔"
یزید کے بارے میں افراط وتفریط: اس تفصیل کے بعد اب ہم کہتے ہیں کہ یزید کے بارے میں لوگوں نے افراط وتفریط سے کام لیا ہےایک گروہ تو اسے خلفائے راشدین اور انبیائے مقربین میں سے سمجھتا ہے اور یہ سراسر غلط ہے دوسرا گروہ اسے باطن میں کافر و منافق بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے قصداً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور مدینہ میں قتل عام کرایا تاکہ ااپنے ان رشتہ داروں کے خون کا انتقام لے جو بدرو خندق وغیرہ کی جنگوں میں بنی ہاشم اور انصار ہاتھوں قتل ہوئے تھے اور یہ کہ حضرت حسین کی شہادت کے بعد اس نے یہ شعر پڑھے تھے۔
لما بدت تلک الحمول وأشرفت
تلک الرؤوس علی أبی جیرون
"جب وہ سواریاں اور سرابوجیرون کی بلندیوں پر نمودار ہوئے۔"
نعق الغراب فقلت نح أو لا تنح
فلقد قضیت من النبی دیونی
"تو کوا چلایا ۔ اس پر میں نے کہا تو نوحہ کر یا نہ کر میں نے تو نبی سے اپنا قرض پورا پورا وصول کرلیا!"
یا یہ کہ اس نے کہا:
لیت أشیاخی ببدر شھدوا
جزع الخزرج من وقع الأسل
"کاش میرے بدر والے بزرگ ، نیزوں کی مار سے خزرج وانصار کی دہشت دیکھتے۔"
قد قتلنا القرون من ساداتھم
وعدلنا ببدر فاعتدل
"ہم نے ان کے سرداروں میں چوٹی کے سردار قتل کرڈالے اور اس طرح بدر کا بدلہ اتار دیا۔"
یہ تمام اقوال سراسر بہتان اور جھوٹ ہیں۔
حقیقت حال: حقیقت یہ ہےکہ یزید مسلمان بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ اور دنیادار خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھا۔ رہے حسین رضی اللہ عنہ تو بلاشبہ وہ اسی طرح مظلوم شہید ہوئے جس طرح اور بہت سے صالحین ظلم وقہر کے ہاتھوں جام شہادت پی چکے تھے۔ لاریب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اللہ اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی ہے۔ اس سے وہ تمام لوگ آلودہ ہیں جنہوں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا یا قتل میں مدد کی یا قتل کو پسند کیا۔
شہادت کا رتبہ ٔ بلند: شہادت حسین رضی اللہ عنہ اگرچہ امت کےلیے بہت بڑی مصیبت ہے لیکن خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں ہرگز مصیبت نہیں، بلکہ شہادت، عزت اور علومنزلت ہے۔ یہ سعادت بغیر مصائب ومحن میں پڑے حاصل نہیں ہوسکتی چونکہ نبی ﷺ کے دونوں نواسے (حضرت حسین اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما ) گہوارۂ اسلام میں پیدا ہوئے، امن و امان کی گود میں پلے اور ہولناک مصائب سے دور رہے جن کے طوفانوں میں ان کے اہل بیت مردانہ وار تیرتے پھرتے تھے۔اس لیے شہداء خوش بخت کے اعلیٰ درجات ِ منازل تک پہنچنے کےلیے انہیں کٹھن مرحلے سے گزرنا ضرور تھا۔ چنانچہ دونوں گزر گئے۔ ایک کو زہر دیا گیا اور دوسرے کے گلے پر چھری پھیری گئی۔
بڑی بڑی اہم شہادتیں: لیکن یہ بھی ملحوظ رہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کسی حال میں بھی ان انبیاء کے قتل سے زیادہ گناہ اور مصیبت نہیں جنہیں بنی اسرائیل قتل کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل بھی ان کے قتل سے زیادہ گناہ اور امت کے لیے زیادہ بڑی مصیبت تھا۔
صبر، نہ کہ جزع فزع: یہ حوادث کتنے ہی دردناک ہوں بہرحال ان پر صبر کرنا، اور إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ  کہنا چاہیے کیونکہ اس سے اللہ خوش ہوتا ہے ۔ فرمایا: وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ (البقرۃ ۱۵۵/۲۔۱۵۶)
"ان صبر گزاروں کو خوشخبری دے دیجئے جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ان کی زبان پر إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ جاری ہوجاتا ہے۔"
ماتم اور بین کرنے والے ہم میں سے نہیں: حدیث صحیح میں آیا ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)) (صحیح البخاری، الجنائز، باب لیس منا۔۔۔، ح:۱۲۹۴)
"جس نے منہ پیٹا، گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے بین کیے وہ ہم میں سے نہیں۔"
نیز نبی ﷺ نے صَالِقَہ، حَالِقَہ اور شَاقَّہ سے اپنے تئیں بری بتایا ہے:
((إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ)) (صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من الحلق عند المصیبۃ، ح:۱۲۹۶)
صالقہ بین کرنے والی عورتیں" حالقہ غم سے بال منڈا ڈالنے والی اور شاقّہ گریبان پھاڑنے والی عورتیں۔
نیز فرمایا:
((النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ)) (صحیح مسلم، الجنائز، باب التشدید فی النیاحۃ، ح:۹۳۴)
"نوحہ کرنے والی عورتیں اگر توبہ کے بغیر مرجائیں گے تو انہیں قیامت کے دن خارشی قمیص اور گندھک کا جامہ پہنا کر کھڑا کیا جائے گا۔"
اس قسم کی ایک عورت حضرت عمر کے پاس لائی گئی تو آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ سزا کے دوران میں اس کا سر کھل گیا تو لوگوں نے عرض کیا۔ امیر المؤمنین اس کا سر برہنہ ہوگیا ہے۔ فرمایا کچھ پروا نہیں۔
((لا حرمۃ لھا إنہا تنہی عن الصبر وقد أمر اللہ بہ وتأمر بالجزع وقد نہی اللہ عنہ وتفتن الحی وتؤذی المیت وتبیع عبرتھا وتبکی بشجو غیرھا إنہا لا تبکی علی میتکم إنما تبکی علی أخذ دراھمکم))
"اس کی کوئی حرمت نہیں کیونکہ یہ لوگوں کو مصیبت میں صبر کرنے سے منع کرتی ہے حالانکہ اللہ نے صبر کا حکم دیا ہے، اور یہ رونے کی ترغیب دیتی ہے حالانکہ اللہ نے اس سے منع کیا ہے۔ زندہ کو فتنے میں ڈالتی ہے۔ مردہ کو تکلیف دیتی ہے۔ اپنے آنسو فروخت کرتی ہے۔ اور دوسروں کےلیے بناوٹ سے روتی ہے یہ تمہاری میت پر نہیں روتی بلکہ تمہارا پیسہ لینے کےلیے آنسو بہاتی ہے۔"
شہادت حسین کے بارے میں افراط وتفریط: جس طرح لوگوں نے یزید کے بارے میں افراط و تفریط سے کام لیا ہے اسی طرح بعضوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بے اعتدالی برتی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے۔ (معاذ اللہ!)
"ان کا قتل درست اور شریعت کے مطابق ہوا کیونکہ انہوں نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور جماعت کو توڑنے کی کوشش کی تھی اور جو ایسا کرے اس کا قتل واجب ہے کیونکہ نبی ﷺ فرما چکے ہیں:
((مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ)) (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین وہو مجتمع، ح:۱۸۵۲)
"اتفاق کی صورت میں جو تم میں پھوٹ ڈالنے آئے اسے قتل کرڈالو۔"
حضرت حسین بھی پھوٹ ڈالنا چاہتے تھے اس لیے بجا طور قتل کر ڈالے گئے۔"
بلکہ بعضوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ "اسلام میں اولین باغی حسین ہے۔"
ان کے مقابلے میں دوسرا گروہ کہتا ہے:
"حضرت حسین امام برحق تھے ان کی اطاعت واجب تھی ان کے بغیر ایمان کا کوئی تقاضا بھی پورا نہیں ہوسکتا۔ جماعت اور جمعہ اسی کے پیچھے درست ہے جسے انہوں نے مقرر کیا اور جہاد نہیں ہوسکتا جب تک ان کی طرف سے اجازت موجود نہ ہو۔"
مقابلے کا ارادہ ترک کردیا: ان دونوں نہایت غلطیوں کے درمیان اہلسنت ہیں وہ نہ پہلے گروہ کے ہمنوا ہیں اور نہ دوسرے گروہ کے۔ ان کا خیال ہے کہ حضرت حسین مظلوم شہید کیے گئے ان کے ہاتھ امت کی سیاسی باگ دوڑ نہیں آئی۔ علاوہ ازیں مذکورہ بالا احادیث ان پر چسپاں نہیں ہوتیں کیونکہ جب انہیں اپنے بھائی مسلم بن عقیل کا انجام معلوم ہوا تو وہ اپنے اس ارادے سے دستبردار ہوگئے(2)تھے اور فرماتے (3)تھے۔
"مجھے وطن جانے دو یا کسی سرحد پر مسلمانوں کی فوج سے جا ملنے دو یا خود یزید کے پاس پہنچنے دو(4) مگر مخالفین نے ان کی کوئی بات بھی نہ مانی اور اسیری قبول کرنے پر اصرار کیا جسے انہوں نے نامنظور کردیا کیونکہ اسے منظور کرنا ان پر شرعاً واجب نہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) یہ غزوہ ۵۱ھ میں ہوا جس میں حضرت حسین یزید کی ماتحتی میں شریک تھے (البدایہ، ص:۱۵۱، ج:۸) ظاہر ہے اس اثناء میں نمازیں بھی یزید کے پیچھے پڑھتےرہے۔ (ص،ی)
(2) یعنی راستے ہی سے واپس مکہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن مسلم کے بھائیوں کے اصرار کا ساتھ دینا پڑا جیسا کہ شیعہ سنی سب تاریخوں میں ہے۔ (ص،ی)
(3) یعنی منزل مقصود پر پہنچ کر جب ابن زیاد کی فوج کے سربراہ عمر بن سعد سے گفتگوئے مصالحت کے سلسلے میں حضرت حسین نے متن میں مذکور تین باتیں فرمائیں
(4) اس تیسری بات کے بارے میں تاریخ طبری ۲۹۳/۴ میں یہ الفاظ ہیں:
((فأضع یدی فی یدہ فیحکم فی ما رأیٰ)) (البدایۃ: ۱۷۱/۸)
"میں براہ راست یزید کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دوں گا (بیعت کرلوں گا) پھر و ہ جیسا کہ مناسب سمجھے کر لے گا۔"
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی ایک جگہ یہ الفاظ ذکر کیے ہیں:
((وطلب أن یردوہ إلی یزید ابن عمہ حتی یضع یدہ فی یدہ أو یرجع من حیث جآء أو یلحق الثغور)) (رأس الحسین، ص:۲۰)
مطلب وہی ہے جو متن میں ہے۔ (ص،ی)