YOUR INFO

Showing posts with label مختلف مصائب و بیمایوں سے بچاؤ کی چند دعائیں. Show all posts
Showing posts with label مختلف مصائب و بیمایوں سے بچاؤ کی چند دعائیں. Show all posts

Sunday, 16 June 2013

غم اور پریشانی کا شرعی علاج

0 comments


غم اور پریشانی کا شرعی علاج
------------------------------------

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 

(1) کسی پر جو غم ہوتا ہے اس کے ازالے کے لیے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ،اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي،وَأخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَ
(مسلم)
========
(2) غمگین انسان کو اپنا غم دور کرنے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے 
(ابن مسعودمرفوعا)اللہ اس کے غم کو دور کرئے گا 
اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَأَمَتِكَ، نَاصِيَتِي فِي يَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ،أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي،إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا
(مستدرک حاکم )
==========
(3) دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ:اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو،فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ،وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ،لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
(صحیح ابن حبان ،سنن ابو داؤد )
===========
(4) مَا كَرَبَنِي أَمْرٌ إِلَّا تَمَثَّلَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا
(مستدرک حاکم)
(5) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کو سکھلایا کہ ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تو تکلیف اور پریشانی وغم کے وقت کہے أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
(ابو داؤد )
=========
(6) حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ 
ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پھینکے جاتے وقت پڑھی۔
(بخاری)
============
(7) مشکل کام میں آسانی کے لیے پڑھیں غم نہ کریںاللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلاً وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلاً
(ابن حبان)
==========
(8) لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ 
یونس علیہ السلام کی طرح غم دور ہوگا۔(ترمذی )
===========
(9) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہےکہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام گھر والوں کو جمع کیا فرمایا جب تم میں سے کسی کو غم دکھ پہنچے ،نقصان یا صدمے کا سامنا ہو تو یہ کلمات پڑھا کرو 
أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
(ابن حبان )ابو داؤد سات مرتبہ صبح شام پڑھو۔
=========
(10) لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ،لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ
(بخاری )
=========
غم اور پریشانی کے خاتمہ کے لیے چند عملی اقدامات
(1) صبر ہو، بے صبری اورجلد بازی نہ ہو
(2) امید ہو ،مایوسی نہ ہو
(3) اللہ پر راضی رہو ،ناراضی نہ ہو
(4) حسن ظن ہو،بدگمانی نہ ہو
(5) اللہ کے ہاں فریاد ہو ،غیر اللہ سے اور عاملوں سے فریاد نہ ہو
(6) اعتدال ومیانہ روی ہو،حد سے تجاوز نہ ہو
(7)دشمن کو معاف کردینا ہو ،انتقام نہ ہو 
(8) توکل وبھروسہ ہو، اپنے آپ پر دارومدار نہ ہو

Saturday, 23 February 2013

چند منتخب قرآنی ضرب الامثال

0 comments

چند منتخب قرآنی ضرب الامثال

۱۔ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ (سورۃ البقرۃ : 19)

اور اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرنے والا ہے


۲۔ اِنََّاللَّهَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرۃ :20 )

بیشک اللہ ہر چیز پر قدر ت رکھنے والاہے۔


۳۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ (البقرۃ : 152)

اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا۔


۴۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ : 153)

اللہ تعالیٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔


۵۔ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : 4)

اور بیشک آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر ہیں۔


۶۔ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ : 191)

اور(سنو) فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔

۷۔ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ : 256)

دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔


۸۔ لاَ يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا (سورۃ البقرۃ : 286)

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا۔


۹۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ(العمران 185 )

ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے۔


۱۰۔ وَكَفَى بِاللّهِ وَكِيلاً (النساء : 81)

اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔


۱۱۔ لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : 39)

اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔

۱۲۔ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (الرحمٰن : 26)


زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں ۔

۱۳۔ لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 79)

جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔


۱۴۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ (البقرۃ : 156)

ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔


۱۵۔ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذٰاریٰت : 19)

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا ۔


۱۶۔ وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ (العمران 103 )

اور سب مل کر اللہ کی رسّی کو تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔


۱۷۔ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (سورۃ ق : 16)

اور ہم اسکی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس سےقریب ہیں۔


۱۸۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (سورۃ الحجرات : 13)

بیشک اللہ کے نزدیک تم سب میں سےبا عزت وہ ہے جو زیادہ ڈرنے والا ہے۔

۱۹۔ هَلْ جَزَاءُ الإِحْسَانِ إِلاَّ الإِحْسَانُ (سورۃ الرحمٰن : 60)


احسان کی جزا سوائے احسان کے نہیں۔

Thursday, 21 February 2013

مختلف مصائب و بیمایوں سے بچاؤ کی چند دعائیں

0 comments


حترم بہن بھائیو! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ملک جو کلمہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ، طرح طرح کی آفات و مصائب اور عذابوں سے دوچار ہے۔ کہیں زلزلہ تو کہیں سیلاب کہیں قتل و غارت اور کہیں خود کش حملے اور کہیں لسانی، علاقائی، قومیت اور فرقہ واریت کی بناء پر لڑائیاں اور فساد برپا ہے اور کہیں پر مختلف عجیب و غریب بیماریاں۔


خالق و مالک رب العالمین نے ہمیں ان آزمائشوں میں کیوں ڈالا ہوا ہے؟ قرآن حکیم میں سورۂروم کی آیت نمبر41 اور سورۂشوریٰ کی آیت نمبر 30میں اللہ تبارک و تعالیٰ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں۔ بحر وبر میں جو فسادات برپا ہوتے ہیں وہ تمہارے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہیں اور رحمت العالمین کا ارشاد ہے۔ "جب کسی قوم میں فحاشی و عریانی عام ہو جائے تو ان لوگوں کو اللہ ایسی ایسی بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں جس کا انکے آباؤ اجداد میں نام و نشان بھی نہیں ہوتا"۔ (سنن ابن ماجہ جلد نمبر تین)


ہم ذرا اپنے رب سے پوچھیں تو سہی کہ اس کا علاج کیا ہے؟ تو رب کائنات ارحم الراحمین اسکا علاج توبہ و استغفار اور گناہوں کی زندگی کو ترک کر کے اسلامی طرز زندگی اپنانے کا حکم دیتے ہیں۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے توبہ اور استغفار اور مختلف مصائب و آلام کا علاج مختلف دعاؤں میں بیان فرمایا ہے۔ ان دعاؤں کو ہم اپنا معمول بنائیں اور گناہوں والی زندگی ،شرک و بدعات ،شریعت کی نا فرمانی کو یکسر ترک کر دیں ۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین۔ چند دُعائیں درج ذیل ہیں۔ 
(ذیشان اکرم رانا)



مختلف آفات، مصائب، وباؤں، بیماریوں، عذاب سے بچنے کی مسنون دعائیں۔


اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ 
(سنن ابوداؤد:جلد اول)
"اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں برص کی بیماری سے، پاگل پن سے، کوڑھ کی بیماری سے، اور تمام نقائص سے اور تمام بیماریوں سے۔"



اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ
(سنن نسائی:جلد سوم)
"یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جنون جذام برص اور دوسری (مہلک) بیماریوں سے۔"



اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
(مسند احمد: 290/2، صحیح ترمذی: 3604)
"میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔"
روزانہ صبح و شام تین دفعہ پڑہیں



بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآ ءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
(صحیح ابن ماجہ: 332/2)
"اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین اور آسماں میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔"
روزانہ صبح و شام تین دفعہ پڑہیں



اَلّٰہُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَ لَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَ عَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔
اے اللہ نہ مار ہمں اپنے غصے کے ساتھ اور نہ ہلاک کر ہمیں اپنے عذاب کے ساتھ اور ہمارے سابقہ گناہ معاف فرما۔



اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَ فُجَآءَۃِ نِقْمَتِکَ وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ۔
(مشکوٰۃ باب الاستعاذہ) 
اے اللہ میں تیری پنا ہ میں آتا ہوں تیری دی ہوئی نعمت کے زائل ہونے سے اور تیری عافیت کے پھیرنے سے اور تیری اچانک پکڑ سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے۔



اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا اُحْصِيْ ثَنَآءً عَلَيْكَ اَنْتَ كَمَا اَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ
(ابو داؤد: 1427، مسند احمد: 96/1، صحیح الترمذی: 180/3، صحیح ابن ماجہ: 194/1، ارواء الغلیل: 175/2)
"اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں، میں تیری پوری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔"